حیاایمان کا حصہ اور انسان کا فطری جذبہ ہے۔
دین اسلام مکمل ضابطۂ حیا ت ہے جو زندگی کے انفرادی اوراجتماعی تمام گوشوں کے ساتھ خاص طور پر سماجی سطح پرایک صالح معاشرہ کے قیام کےلئے بھر پور رہنمائی عطا کرتا ہے ۔ بدقسمتی سے مغربی تہذیب کی نقالی نے ہمارے معاشرہ کو اسلامی ہی نہیں مشرقی اقدار سے بھی دور کر دیا ہے۔ اسلامی معاشرہ کے قیام کے لیے درج ذیل اقدامات لازمی ہیں:
1۔ ستر و حجاب کے اسلامی احکامات کی پابندی کرتے ہوئے باوقار لباس کا اہتمام کیا جائے۔
2۔ قرآن کریم کے حکم کے مطابق مرد و عورت دونوں نگاہوںکی حفاظت کا اہتمام کریں۔
3۔ مخلوط محافل سے اجتناب اور شرعی پردہ کا اہتمام کیا جائے۔
4۔ عورت ، جس کا ایک اہم کردار ماں کا ہے، اُسے باوقار حیثیت دی جائے، تجارت کی افزائش کے لیے اشتہاری شے نہ بنایا جائے۔
5۔ مین سٹریم اور سوشل میڈیا فحاشی کی تشہیر میں سرفہرست ہیں۔لیکن جب اِس کے نتیجہ میں کوئی بے راہرو انسان کسی بچی کے ساتھ درندگی کامظاہرہ کرتاہےتویہی میڈیاچیخ وپکارکرتاہے۔ گویااصلاًمیڈیاکی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔
6۔ جنسی اشتہا پید اکرنے والے اشتہارات پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ یہ جسمانی اور روحانی حادثوں کا باعث بنتے ہیں۔
7۔ تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم ختم کر کے طلبہ و طالبات کی الگ الگ تعلیم کا اہتمام کیا جائے۔
8۔ نکاح کو آسان بنایا جائے تاکہ نوجوانوں میں بے راہ روی پیدا نہ ہو۔
9۔ جسم عورت کا ہو یا مرد کا اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اس پر مرضی بندہ کی نہیں ، ر ب کی چلنی چاہئے۔
10۔ قرآن و سنت سے متصادم عائلی قوانین کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔
در حقیقت حیاوقار کی علامت ہے۔ بے حیاقوم بالآخر بے وقعت اور پستی کا شکار ہو جاتی ہے۔ عوام کی ذمہ داری ہے کہ ذاتی حیثیت اور اپنے دائرہ اختیار میں دین اسلام کی عطا کردہ تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر شرم و حیا کی حفاظت کریں۔ حکومت کا فرض ہے کہ آئین کے آرٹیکل 31کے مطابق پاکستان کے مسلمانوں کو ایسی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت رسولﷺ کے مطابق زندگی گزار سکیں تاکہ ایک صالح معاشرہ قائم ہو اور حیا اور ایمان کی حفاظت ہوسکے ۔
مرکز تنظیم اسلامی، 23 کلو میٹر، ملتان روڈ، چوہنگ لاہور فون: 04235473375
Email:[email protected] www.tanzeem.org
tanzeemdigitallibrary.com © 2026