(الہدیٰ) حضرت موسیٰ ؑ کی ایک ناقابل ِ انکار دلیل - ادارہ

1 /

الہدیٰ

حضرت موسیٰ ؑ کی ایک ناقابل ِ انکار دلیل

آیت ۲۶{قَالَ رَبُّکُمْ وَرَبُّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَZ} ’’اُس ؑ نے کہا کہ وہ تمہارا بھی ربّ ہے اور تمہارے پہلے آباء و اَجداد کا بھی ربّ ہے۔‘‘
آیت ۲۷{قَالَ اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْٓ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌa} ’’فرعون نے (درباریوں سے) کہا کہ تمہارا یہ رسول جسے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یقیناً مجنون ہے۔‘‘
گویافرعون مسلسل حضرت موسیٰ ؑ سے آنکھیں چرا رہا ہے۔ آپؑ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کے بجائے وہ پھر اپنے درباریوں سے ہی مخاطب ہوا ہے۔ اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے اب اس نے طنزیہ انداز اختیار کیا ہے کہ مجھے تو یہ صاحب جو تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں مجنون لگتے ہیں‘ ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں لگتا۔ حضرت موسیٰdاس کی اس بات کو بھی نظرانداز کر کے اپنی گفتگو اسی جوش اور بے باکی کے ساتھ جاری رکھتے ہیں:
آیت ۲۸{قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَہُمَاط اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَb} ’’اُس نے کہا کہ وہ مشرق و مغرب کا بھی رب ہے اور جو کچھ ان کے مابین ہے اس کا بھی۔اگر تم عقل رکھتے ہو!‘‘
گویا اب حضرت موسیٰ ؑ پورے طور پر دربار پر چھائے ہوئے ہیں اور دوسری طرف فرعون کے مکالمات اور انداز سے اس کی بے بسی صاف نظر آ رہی ہے۔ آیات میں درج مکالمات کی مدد سے اس پورے منظر کو اگر ڈرامائی انداز میں پیش کیا جائے تو بہت دلچسپ اور عبرت انگیز صورتِ حال کی تصویر سامنے آ سکتی ہے۔

درس حدیث 

اللہ کی راہ میں جہاد

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :((مَنْ مَّاتَ وَلَمْ یَغْزُوَلَمْ یُحَدِّثْ نَفْسَہٗ بِہٖ، مَاتَ عَلیٰ شُعْبَۃٍ مِنْ نِفَاقٍ))(صحیح مسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے اس حال میں انتقال کیا کہ نہ تو کبھی جہاد میں عملی حصہ لیا اور نہ کبھی جہاد کا سوچا (یعنی نہ اس کی نیت کی) تو اس نے ایک قسم کی منافقت کی حالت میں انتقال کیا۔‘‘
تشریح: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد ایمانِ صادق کے لوازم میں سے ہے‘ اور سچے پکے مؤمن وہی ہیں جن کی زندگی اور جن کے اعمالنامہ میں جہاد بھی ہو (اگر عملی جہاد نہ ہو تو کم از کم اس کا جذبہ اور اس کی نیت اور تمنا ضرور ہو) پس جو شخص دنیا سے اس حال میں گیا کہ نہ تو اس نے جہاد میں عملی حصہ لیا اور نہ جہاد کی نیت اور تمنا ہی کبھی کی تو وہ ’’مؤمن صادق‘‘ کی حالت میں دنیا سے نہیں گیا بلکہ ایک درجہ کی منافقت کی حالت میں گیا۔ بس یہی اس حدیث کا پیغام اور مدعا ہے۔