بھارت اور اسرائیل کے فطری اتحاد کے بارے میں قرآن نے آج سے تقریباً چودہ سو سال
پہلے پیشین گوئی کر دی تھی : رضاء الحق
ہندوانتہا پسند طبقہ بھارتی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کی نسل کشی کا عام اعلان
کر رہا ہے : حسن صدیق
بھارت اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو اندرونی اور معاشی مسائل میںالجھائے رکھے
اور اس دوران وہ اپنی عسکری صلاحیت کو اتنابڑھائیں کہ پاکستان پر دوطرفہ وار کرسکیں : عبداللہ گل
ہندوتوا کی دہشت گردی اور پاک بھارت جنگی تیاریاں کے موضوعات پر
حالات حاضرہ کے منفرد پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال
میز بان :وسیم احمد
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال:ہندوستان میںمودی کے دور حکومت میں مسلمانوں پرمظالم پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔اب مسلمانوںکی نسل کشی کے لیے ہندوانتہاپسند تقریریں کر رہے ہیںاور لوگوںسے باقاعدہ حلف تک لیے جارہے ہیں۔ یہ صورت حال اگر بڑھتی ہے توبھارت یابرصغیر میںحالا ت کیارخ اختیار کریںگے ؟
حسن صدیق:بھارت میںمودی کی حکومت کے آنے کے بعد مسلمانوںپر مظالم بڑھتے جارہے ہیںاور اب تووہاںپرحکومتی سرپرستی میں ایسی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں جن میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے لوگ بھی شریک ہورہے ہیںاور ان تقریبات میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کی جاتی ہے ۔ ہردوارشہر میں جہاں کمبھ کا میلہ ہوتا ہے وہاں دسمبر کے وسط میںدھرم سنہ کے نام سے ایک کانفرنس بلائی گئی جس میںانہو ں نے کھلے عام اعلان کیاکہ ہم نے مسلمانوںکی نسل کشی کرنی ہے۔ اسی طرح چنددنوں بعد چھتیس گڑھ میںبھی اسی طرح کا پروگرام منعقد کیاگیاجس میںانہوں نے گاندھی کوبھی غدا ر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ملک تباہ کیا۔اترا کھنڈ اور اترپردیش میں بھی اس طرح کے پروگرامز منعقد ہو رہے ہیں ۔ اب وہاں ہندو انتہا پسند یہ چاہ رہے ہیں کہ مودی حکومت سے بھی کوئی زیادہ سخت حکومت آئے ۔ آر ایس ایس کے لوگوں نے مودی کوبلیک میل کرنے کے لیے اس کے خلاف بیان بازی شروع کردی ہے کہ ہم نے تمہیں صرف حکومت کرنے کے لیے سپورٹ نہیں کیا تھا بلکہ اس لیے کیا تھا کہ تم نے بھارت کو ہندو راشٹر بنانا تھا اور مسلمانوں کو ختم کرنا تھا ۔ دہلی میں انہوں نے مسلمانوں کو مارنے کے لیے ہتھیار اٹھانے کا باقاعدہ حلف لیا ہے ۔ صورت حال یہاںتک پہنچ گئی ہے کہ وہاں پرایسی ایپس بنائی جارہی ہیںجن میںمسلمان خواتین کی بولی لگائی جارہی ہے جس کو پوری دنیا نے رپورٹ کیاہے ۔لگتا ہے کہ بھارت کے مسلمانوںکودوبارہ محمدبن قاسم کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کی زبانیں بند ہیںاور کوئی ان کے خلاف آواز تک نہیںاٹھارہا۔وہاںکے سابق آرمی چیف اور وکلاء نے مودی کو خط لکھاہے کہ مسلمانوںکی نسل کشی رکوائیں۔بھارت میںانتہائی قلیل تعداد میں موجود امن پسند ہندو اور مسلمان اس صورت حال کے بارے میںکہہ رہے ہیںکہ یہاںپرنسل کشی کے معاملات بہت آخری حدتک جارہے ہیں۔وہاں اس قسم کی کئی کتب لکھی جاچکی ہیںکہ ممبئی حملہ بھی ان سائیڈ جاب تھا۔مہاراشٹر کے آئی جی پولیس نے کتاب لکھی کہ Barehmans bomb and Muslims hanged یعنی برہمن دھماکے کرتے ہیںاور پھانسی مسلمانوںکو دی جاتی ہے۔ اسی طرح دیگر کئی کتب شائع ہوئی ہیں جن میں باقاعدہ لکھاگیاہے کہ انڈیا کے دھماکوں میںآر ایس ایس کے لوگ ملوث ہیں۔اسی طرح کاروان انڈیا کاٹاپ میگزین ہے اس میں اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادیتیہ ناتھ کوایک دہشت گرد کے طور پر پیش کیاگیاہے۔ اور آر ایس ایس کوشش کررہی ہے کہ اس کو آئندہ انڈیا کا پرائم منسٹر بنایاجائے تاکہ ہندو راشٹریہ کی طرف آگے بڑھا جا سکے۔ عیسائیوںکے ساتھ بھی اسی طرح کے مظالم ہو رہے ہیں، چرچز پرحملے ہورہے ہیں۔یونائیٹڈ کرسچین فورم کی رپورٹ کے مطابق 2021ء میںعیسائیوں پر تقریباً تین سوسے زائد حملے ہوئے ہیںاور دوسو چرچز او رڈیڑھ سو مساجد کوتباہ کیاگیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہاںپراب مسلمانوںکے لیے نماز پڑھنابھی مشکل ہوگیاہے۔ ایک وزیراعلیٰ نے تو صاف کہہ دیاہے کہ مسلمان اندر نماز پڑھیںباہر نماز نہیںپڑھ سکتے جبکہ وہاں مساجد بہت محدود رہ گئی ہیں ۔ اقبال نے کہاتھا کہ ؎
مُلا کو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!اب صورت حال اس قدر خراب ہوگئی ہے کہ ملا کو وہاںپرسجدے کی بھی اجازت نہیںمل رہی۔
سوال: مسلمانوںکے خلاف حکومتی سرپرستی میں دہشت گردی کے لیے پورے بھارت میںاسلحہ اکٹھا کرنے کی ایک مہم چل رہی ہے۔لیکن عالمی برادری خاموش ہے ۔ پاکستان کوعالمی برادری کاضمیر جھنجوڑنے کے لیے کیا اقدامات اٹھانے چاہئیں؟
رضاء الحق: بھارتی مسلمانوںپرمظالم میںمیڈیا کاکردار بھی شامل ہے ۔ بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند میڈیا ہے جو کھل کر مسلمانوں کے خلاف بول رہا ہے ۔ جبکہ بھارت کا سیکولر میڈیا دوسرے ایشوز پر تو بے جی پی اور کانگریس پر تنقید کرتاہے لیکن جہاں مسلمانوں کی بات آتی ہے تو وہاں وہ بھی خاموش ہو جاتا ہے ۔ جہاںتک عالمی برادری کامعاملہ ہے توچندرپورٹس وقتاً فوقتاً نظر آتی رہتی ہیںجن میںپوری دنیا میںانسانی حقوق کی پامالی کے خلاف لکھاجاتاہے اور تنقید کی جاتی ہے لیکن بھارت کا چونکہ پوری دنیا پر اثرورسوخ ہے اوراس کے ایجنٹس عالمی اداروں میںموجود ہوتے ہیںاس لیے عالمی رپورٹس میں بھی بھارتی مسلمانوں کا معاملہ دبا دیا جاتاہے ۔ جس کی وجہ سے بھارت میںانسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ڈھٹائی سے ہوتی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے بین الاقوامی ادارے اقلیتوں پر مظالم کے خلاف بھارت کی مذمت تو کرتے ہیں ، اقوام متحدہ میں بھی نفرت انگیز تقاریر ، نسل کشی وغیرہ کے خلاف قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کے لیے کوئی تیار نہیں ہے ۔
مسلمان ممالک میںپاکستان اورترکی اس حوالے سے آواز اٹھاتے رہے ہیںلیکن کیاآواز اٹھادیناکافی ہے ؟ پاکستان کوچاہیے کہ جس جس فورم پر ممکن ہے انڈیا کا عالمی سطح پرمکمل طو رپر گھیرائو کرے اوریہ موقف اختیار کرے کہ ہمارے جتنے اتحادی ہیںوہ انڈیا کے معاملے میں ہمیںمکمل سپورٹ کریں کیونکہ انڈیا کے مسلمانوںکی حمایت انسانی حقوق کامسئلہ ہے اور ہم نے بحیثیت مسلمان ان کی مدد کرنی ہے ۔سیاسی اور معاشی سطح پرتویہ کرنا ہی ہے اللہ کرے کہ مسلمان اُمت ایک عسکری اتحاد کی بھی کوشش کرے تاکہ جہاںمسلمانوںکے خلاف مظالم ہورہے ہیں ان کے خلاف کچھ کارروائی کرنے کی کوشش کریں۔ سوال:کیاموجودہ بھارتی حالات میںعلامہ اقبال اور قائد اعظم کی پیشین گوئیاں آج سچ ثابت نہیںہورہی ہیں؟
حسن صدیق: بدقسمتی سے پاکستان کاسیکولر طبقہ اس بات کی تبلیغ کرتا ہوا نظر آرہا ہے کہ درمیان میں ایک لکیرہے ورنہ ہم سارے ایک جیسے ہیں۔کچھ سیاسی لیڈروں کابیان آیا کہ جس رب کی پوجا بھارت میںہوتی ہے پاکستان میںبھی اسی کی ہوتی ہے،ہماری تہذیب، ثقافت اور تمدن بالکل ایک جیسا ہے ۔ لمز یونیورسٹی کی ایک پروفیسر نے حال ہی میں ٹویٹر میں لکھا کہ قائد اعظم نے مذہب کی بنیاد پرجو تقسیم کی تھی اس کی وجہ سے آج بھارتی مسلمان مشکل میں ہیں۔جب قائد اعظم پرتنقید کرنی ہو تواس وقت ہمارا سیکولر طبقہ کہتا ہے کہ یہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم تھی لیکن جب پاکستان میں اسلام کی بات کی جائے تو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان مذہبی بنیادوں پر بنا ہی نہیں ، قائداعظم سیکولر ریاست چاہتے تھے ۔ہماراسیکولر طبقہ اس دورنگی کا شکار ہے ۔قائد اعظم کو پہلے تو ہندومسلم اتحاد کا سفیر مانا جاتا تھا۔ مولاناسیدابوالحسن علی ندوی ؒ نے اپنی کتاب نقوش اقبال میں لکھا کہ انہوں نے 1937ء میں علامہ اقبال سے ملاقات کی تھی۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ جوقوم اپنا ملک نہیںرکھتی وہ اپنے مذہب اور تہذیب کوبھی برقرار نہیںرکھ سکتی ۔آج بھارت میںبالکل وہی صورت حال ہم دیکھ رہے ہیںکہ مسلمانوں کے پاس اپناملک نہیںہے توان کے لیے اپنی تہذیب وثقافت کوبرقرار رکھناناممکن ہوچکا ہے۔ وہاںکے سیکولر لوگ بھی یہ کہہ رہے ہیںکہ یہاںپر سول وار جنم لے سکتی ہے ۔علامہ اقبال کوپتا تھا کہ قائد اعظم ہی واحد لیڈر ہیںجو مسلمانوںکوایک قوم کی شکل میںبدل سکتے ہیں اور پاکستان کی تحریک چلاسکتے ہیں۔چنانچہ علامہ نے قائدا عظم کوخطو ط لکھے اور کہاکہ جن ریاستوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں آزاد ملک کے مطالبے کا وقت آگیا ہے ۔اقبال نے کہا کہ چونکہ ہندومسلم فسادات اور خانہ جنگی ایک مدت سے چل رہی ہے او ر مجھے اندیشہ ہے کہ ملک کے بعض حصوں مثلاً شمال مغرب میں فلسطین جیسا نقشہ نظر آئے گا۔ یعنی علامہ نے مستقبل کے حالات کانقشہ پہلے ہی بتادیا۔اسی طرح قائداعظم نے کہاتھا کہ ہندو ناقابل اصلاح ہیں۔قائد اعظم نے1938ء میںہندوستان ٹائمز کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کوئی نئی چیز نہیں۔ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقے میں جہاںآج بھی سترفیصد آبادی مسلمانوں کی ہے یہی مسلمانوںکا ملک ہے ۔اسی طرح قائد اعظم کابہت مشہور بیان ہے کہ جس وقت ہندوستان میںپہلا فرد مسلمان ہوا تھا پاکستان اسی وقت بن گیا تھا۔ مسلمان ہر لحاظ سے ہندو سے مختلف ہے۔اس لیے یہ بحیثیت قوم زندہ ہی اس وقت رہ سکتا ہے جب اس کا اپنا علیحدہ خطۂ زمین ہو اور اس چیز کوبھارت کے مسلمانوںکو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
سوال:علامہ اقبال نے انڈیا کواسرائیل کی طرز کی ریاست قرار دیاتھااوراس کے بعد سے تقریباً پون صدی سے انڈیا وہی کچھ کررہاہے جواسرائیل فلسطین میں کر رہاہے ۔آپ انڈیااور اسرائیل کے فطری اتحاد کے بارے میں کیا کہیں گے ؟
رضاء الحق:یہوداور مشرکین کے فطری اتحاد کے حوالے سے قرآن پاک نے ساڑھے چودہ سوسال پہلے ہمیںفتویٰ دے دیاتھا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’تم لازماًپائو گے اہل ِایمان کے حق میں شدید ترین دشمن یہود کو اور ان کو جو مشرک ہیں۔‘‘(المائدہ:82)
آج ہم دیکھتے ہیںکہ یہودیوں کی ریاست اسرائیل اور مشرکین کی ریاست بھارت ہے ۔ اب یہ فطری اتحاد materialize ہوکر اور سیاسی، معاشی، معاشرتی، عسکری، انٹیلی جنس کے اعتبار سے کھل کرسامنے آچکا ہے۔ اسرائیل بنا ہی دہشت گردی اور نسل کشی کی بنیاد پرہے۔ اسی طرح جب برصغیر تقسیم ہوا تو بھارت میںمسلمانوں کی نسل کشی کی گئی۔ایک مغالطہ دور کرنا ضروری ہے کہا جاتاہے کہ اسرائیل او رپاکستان دونوںنظریاتی ریاستیں ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نظریاتی کی بجائے نسلی ریاست ہے او ر یہودی اپنے طرزعمل سے ثابت کررہے ہیں۔ یہودی بھی نسل امتیاز پر یقین رکھتے ہیں اسی طرح ہندوتوا کی فلاسفی بھی نسلی امتیاز پر قائم ہے ۔ دوسروں کے حقوق چھین کر اپنی بالادستی قائم کرنا ان دونوں کا مقصد ہے ۔ اسرائیل کے قانون کے مطابق اس کے فرسٹ گریڈ شہری صرف یہودی ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں بسنے والے باقی تمام لوگ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ اسی طرح بھارت نے اپنے شہری قوانین میں ترمیم کرکے صرف ہندو کو اصل شہری بنایا ہے ۔ اس کے تحت آسام میں مسلمانوں سے تمام حقوق چھین لیے ہیں ، باقی علاقوں میں بھی بھارت اسی قانون پر عمل درآمد کر رہا ہے ۔ بہرحال یہ دونوںاتحادی ایک جیسے ہیں۔جنگی جنون دونوں میںایک جیسانظر آتاہے۔ یہاں تک کہ ان کی عسکری ٹیکنالوجی بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر ہوتی ہے ۔ اسی طرح بھارتی افواج اسرائیل میںجاکر ٹریننگ لیتی ہیں۔یہ ہرسطح پرایک دوسرے کے فطری اتحادی ہیں۔
سوال: سکھوں نے بھی مظالم کے خلاف تحریک شروع کر رکھی ہے ۔ کشمیر کو جیل بنا دیا گیا ہے ، بھارتی مسلمان بھی نسل کشی کا شکار ہیں ۔ اس ساری صورت حال میں بھارتی مسلمانوںکو کیاکرنا چاہیے ؟
حسن صدیق:اس میںکوئی شک نہیںکہ انڈیا کے مسلمان اس وقت شدید مشکل میں ہیں۔حتیٰ کہ اب ان کو اسلامی شعائر پرعمل کرنے میںبھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ان کو چاہیے کہ سیرت النبی ﷺکی روشنی میںمکی دور سے سبق لیںجس وقت مسلمان مشرکین مکہ کے مظالم سہہ رہے تھے۔ اُس وقت مسلمان قرآ ن کواپنا سہار اسمجھتے تھے اور صبر کرتے تھے۔ اسی طرح انڈیا کے مسلمان بھی قرآن کی مکی سورتوںکی روشنی میں اپنے ایمان کو مضبوط کریں ۔ موجودہ صورت حال میںان کو امید کا دامن نہیںچھوڑنا چاہیے ۔عالمی تناظر میں پاکستان چین کا اتحاد بھارتی مسلمانوں کے لیے حوصلہ افزاء ہے۔ چین نے انڈیا کوبہت سے محاذوں پر شکست دی ہے اورآگے جس طرح کا ماحول بنتا جارہاہے اس میںبہت امید ہے کیونکہ پاکستان اور چین کے مفادات بہت سے معاملات میں مشترک ہوگئے ہیںجس کی وجہ سے ہندوستان بہت پریشان ہے۔ پاکستان چین سے J10c طیارے حاصل کر رہاہے ،پھر چین نے بارڈرز پرآرٹیفیشل انٹیلی جنس پر چلنے والی روبوٹنگ مشین گنوں کا استعمال شروع کر دیا ہے اور اس طرح کی ٹیکنالوجی وہ پاکستان کو بھی فراہم کر رہا ہے۔لداخ کے واقعہ پرکشمیری مسلمانوں نے چین سے امیدیںلگائی ہوئی ہیںکیونکہ وہ جانتے ہیںکہ پاکستان کی بہت سی مجبوریاںہیں۔ بہرحال چین انڈیا کے لیے مشکلات پیدا کررہاہے جو کہ ہندوستانی مسلمانوںکے لیے حوصلے کاباعث ہوگا۔
سوال:جنوبی ایشیا کے اس خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جوایک مہم چل رہی ہے کیااس سے پاک بھارت کشیدگی بڑھنے کے امکانات ہیںاور پس پردہ کیاکوئی جنگی تیاریاںبھی چل رہی ہیں؟
عبداللہ گل:موجودہ صورتحال میں بھارت کے چہرے سے سیکولرازم کا نقاب ہٹ چکا ہے ۔ وہاں گاندھی کے مجسمے اُترنے لگے ہیں اور اس کی جگہ نتھو رام گوڈسے کے مجسمے لگنے لگے ہیں جس نے گاندھی کو قتل کیا تھا ۔ یہ اس چیز کا عندیہ ہے کہ وہاں ہندوتوا کا ایجنڈا نافذ ہو رہا ہے ۔ اس کے تحت بھارت نے شہریت کا نیا قانون نافذ کرکے لاکھوںلوگوںکی شہریت منسوخ کر دی اور دیگر مذاہب کے لوگوںکے لیے زندگی تنگ کردی۔ جس طرح نریندر مودی نے ہندو روایات بڑھانی شروع کردیںاس سے صاف ظاہر ہے کہ بھارت ٹکرائو کی پوزیشن میں آرہا ہے اور ہم جانتے ہیںکہ یہ جنگی معرکہ ہم نے لڑنا ہی ہے۔جہاںتک جنگی تیاریوںکا معاملہ ہے تواس وقت بھارت دنیا کاسب سے بڑا اسلحہ کاخریدار ملک ہے۔ پاکستان کو ہو ش کے ناخن لینے چاہئیں کہ پچھلے تین سال کے عرصے میںہم نے اپنا ڈیفنس بجٹ نہیںبڑھایا ۔ایک طرف بھارت روس سے ایس 400میزائیل لے رہا ہے اور پھر اس نے رافیل جٹ طیارے حاصل کیے ،اپنے بحری بیڑے کو ترقی دی اور اپناائیرکرافٹ کیرئیر حاصل کرلیا۔یعنی بھارت کے مذموم مقاصد بالکل واضح نظرآرہے ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہم پرہیبت طاری نہیںہوتی کیونکہ الحمدللہ پاکستان نے میزائیل ٹیکنالوجی میں بے مثال ترقی کر لی ہے۔شاہین،حمزہ،بابر اورغوری میزائل بنائے اور نصر میزائیل بنایاجس سے بھارت گومگو کاشکار ہے کہ پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیار ایسے ہیںجس سے پاکستان بھارت سے آگے ہے۔ الحمدللہ! اگر بھارت جنگ مسلط کرے گا تو ہمیں جواب دینا پڑے گا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس خطے میںجنگ کے شعلے بھڑکیں گے
سوال:اس وقت خطے میںعسکری تقسیم اس طرح ہے کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے قریب ہیںاوردوسری طرف اسرائیل اور بھارت ہیںجن کی پشت پناہی امریکہ کررہاہے ۔آپ کے خیال میںفوری طور پرکسی جنگ کے امکانات ہیں؟
عبداللہ گل:جنگ حادثاتی طور پرہوتی ہے ۔اس سے پہلے بھارت کوکچھ احتیاطی اقدامات رہا ہے۔ بھارت کی ملٹری سٹریٹجی تقریباً 2023ء میںمکمل ہوگی۔یقیناً بھارت اپنا ملٹری پاور بڑھارہاہے ۔اصل میںدنیا میںدوناجائز ریاستیں ہیں۔ایک بھارت اور دوسری اسرائیل ہے اور پاکستان ان کی ضد ہے۔ اسی لیے یہ اپنی تمام ترتوجہ پاکستان پر مرکوز کیے ہوئے ہیںکیونکہ پاکستان کانیوکلیئر پروگرام اسرائیل کونیست ونابود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ دونوں ممالک چاہتے ہیںکہ امریکہ افغانستان میںجنگ ہارنے کے بعد اپنی طاقت کو استعمال میں لا کر پاکستان پرپابندیاںلگائے اوراس کو اندرونی اور معاشی مسائل میںالجھائے رکھے ۔ اس دوران اسرائیل اور بھارت اپنی عسکری صلاحیت کو اتنابڑھائیںکہ پاکستان پر دوطرفہ وار کرسکیں۔ مودی کادورئہ اسرائیل بڑا معنی خیز تھا۔ پاکستان کے حوالے سے ان کی انٹیلی جنس مل کے کام کررہی ہے۔ موساد بھی پاکستان کے لیے بہت خطرناک عزائم رکھتی ہے۔
سوال:بھارت میں اس وقت ہندو توا کا راج ہے اور تمام اقلیتوں پرمظالم کی انتہا ہوچکی ہے ۔ہندو توا کے اس طرزعمل کی وجہ سے کیابھار ت کے حصے بخرے ہونے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ؟
عبداللہ گل:بھارت کے حصے بخرے ہونے کی الٹی گنتی اسی دن شروع ہوگئی تھی جب مودی نے دو قومی نظریہ کو دوبارہ زندہ کردیاتھا۔ پہلی بات یہ ہے کہ جب نفرت کے بیج بودیے جاتے ہیںتو وقت آنے پر وہ تناور درخت ضرور بنتے ہیں ۔ سکھوں کے خلاف آپریشن ہوا تو اس کی وجہ سے سکھوںکی تحریک پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر سامنے آئی اور اب دنیا میںپھیل گئی ہے ۔ابھی ایک سال میں ہندوستان میںتقریباً سات سو سکھوںکو قتل کیا گیا تو اس چیز کووہ فراموش نہیںکریںگے۔اس کے علاوہ بھارت میں بہت سی دوسری ریاستیں ہیںجہاں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اوربھارت کی سترہزار فوج پچھلے بیس سالوں میںوہاںکوئی کردار ادا نہیںکرسکی۔دوسری طرف بھارت کی فوج کے اندر بھی ایک تقسیم کاعمل شروع ہو چکا ہے ۔ کشمیر میںنولاکھ فوج لگانے کے بعدا گروہ کشمیر کو قابو نہیںکرپائے تواس کا مطلب ہے کہ بھارت کے ٹکڑے ہونے کااعلان ہوچکا ہے ۔
رضاء الحق:حقیقت یہ ہے کہ ا مت مسلمہ ہویاپاکستان ہو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اصل کی طرف لوٹیں یعنی دین اسلام کی طرف آئیں۔ قرآن میںارشا ہے :
’’اے اہل ِایمان! اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘ (البقرۃ:208)
ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پوری طرح اسلام کا پابند بنانے کی ضرورت ہے اور دین کو بحیثیت نظام قائم کرنے کی جدوجہد میں اپنا تن من دھن لگا دینا ہوگا ۔ جیساکہ ارشادباری تعالیٰ ہے :
’’ قائم کرو دین کو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘(الشوریٰ:13)
ہمیں اگر جنگوں کی صورت حال نظر آرہی ہے توایسے میں ہمیں اپنے ایمان کو تازہ کرنا چاہیے اور بحیثیت امت ہمیںاللہ کے حضور توبہ کرنی چاہیے ۔اگر ہم اللہ کے دین کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوں گے تو اللہ ہماری مدد کرے گا اور ہم فتح یاب ہو ں گے ان شاء اللہ ۔ جیسا کہ اقبال نے فرمایا تھا ؎
دنیا کوہے پھر معرکہ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
tanzeemdigitallibrary.com © 2026