(دعوت غوروفکر) غصہ پی جانے کی عظمت اور غصہ کے نقصانات - پروفیسر محمد یونس جنجوعہ

9 /

 

غصہ پی جانے کی عظمت اور غصہ کے نقصانات

 

پروفیسر محمد یونس جنجوعہ

 

انسان اخلاقی اور عملی کمزوریوں کا مجموعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے اسوہ حسنہ سے ان کمزوریوں اور ناپسندیدہ اعمال کو واضح کر دیا ہے۔ انسان کا امتحان ہے کہ وہ کہاں تک ان طبعی کمزوریوں پر قابو پاکر زندگی گزارتا ہے۔ جو انسان عقل مندی سے کام لیتا ہے وہ آخرت کی جواب دہی کے خوف سے بُری باتوں اور ناپسندیدہ عادات سے باز رہتا ہے۔ اس کے برعکس برائیاں کمانے والے آخرت کی زندگی میں سزا پائیں گے۔
قرآن مجید میںہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خوبیوں اور برائیوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ جو اس تعلیم سے فائدہ نہیں اٹھاتا وہ اپنی بد عملی کا کوئی عذر نہیں پیش کر سکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کسی برائی سے بچنے کا حکم نہیں دیا جس سے بچنا انسان کے لیے ممکن نہ ہو۔ اخلاقی برائیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔مثلاً حسد بغض ، نفرت، بد خواہی ، کینہ، بے انصافی ، ظلم وزیادتی ، جھوٹ، غیبت ، بہتان، فحش کلامی، بے صبری، تکبر،وغیرہ ان برائیوں میں ایک برائی غصہ ہے جو برے نتائج کا باعث ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان اپنے مزاج یا اپنی مرضی کے خلاف کوئی کام دیکھتا ہے تو اس کی طبیعت میں اُس کے خلاف اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ یہی غصہ ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے موقع پر ضبط سے کام لے تو وہ نتائج بد سے بچ سکتا ہے۔ مگر عام طور پر ایساہوتا نہیں بلکہ بندہ فوری طور پر اپنا ردعمل ظاہر کر بیٹھتا ہے اور اکثر اوقات بعد میں پچھتاتا ہے اور اس کا پچھتانا اُس کے لیے حسرت کا باعث بن جاتا ہے۔
کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے نصیحت چاہی تو آپؐ نے فرمایا غصہ نہ کیا کر۔اس نے عرض کی کوئی اور نصیحت ۔ آپؐ نے فرمایا غصہ نہ کیا کر۔ سائل نے اپنا سوال دہرایا تو بھی آپؐ نے لاتغضب ہی فرمایا یعنی غصہ چھوڑ دو۔ رسول اللہﷺ کے نصائح تو بے شمار ہیںمگر اس شخص کو بار بار آپؐ نے غصہ چھوڑ دینے کی تلقین کی کیونکہ غصہ برائیوں کی جڑ ہے۔ غصے کی حالت میں انسان آپے سےباہر ہو جاتا ہے۔ وہ حواس گم کر بیٹھتا ہے۔ اپنی زبان سے وہ ایسے الفاظ بول دیتا ہے جن پر خود پچھتاتا ہے اوروہ الفاظ واپس لینا چاہتا ہے مگر ایسا ممکن نہیں ہوتا اُسے اپنے نامناسب الفاظ یا نا مناسب عمل کے وہ نتائج بھگتا پڑتے ہیں جن کو وہ بھول رہا ہوتا ہے۔ جس سے وہ اکثر اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے۔
ایک شخص نے نئی گاڑی خریدی۔ گاڑی گھر کے دروازے کے سامنے کھڑی تھی ۔ اندر سے اس کا معصوم بچہ باہر نکلا اُس کے ہاتھ میں چابی تھی اُس نے چابی کے ساتھ نئی گاڑی پر لکیریں لگا دیں۔ جب باپ نے دیکھا کہ نئی گاڑی داغ دار ہو گئی ہے، اُسے غصہ آگیا وہ یہ نقصان برداشت نہ کر سکا اور معصوم بچے کو دھکا دے دیا۔ بچہ نیچے گرا ار اُس کا بازوٹوٹ گیا۔ بازو کا وہ نقصان ہوا کہ زندگی بھر کے لیے بچہ معذور ہو گیا۔ باپ کو اپنے طیش کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔ اگر وہ غصے میں آکر بیٹے کو دھکا نہ دیتا بلکہ گاڑی کا معمولی سا نقصان برداشت کر لیتا،اسے پیار سےسمجھاتا یا زیادہ سے زیادہ معمولی سی ڈانٹ ڈپٹ کر لیتا تو بڑے نقصان سےبچ جاتا۔ چونکہ غصہ فوری اشتعال کا نام ہے اس لیے اس پر قابو پانا مشکل ہے اور اکثر لوگ ضبط کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا پہلوان وہ نہیں جو مدمقابل کو گرادے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو اپنے غصے پر قابو پالے۔
کمزوروں پرغصہ زیادہ آتا ہے اس لیے کہ ان کی طرف سے ردعمل کاڈر نہیں ہوتا اسی لیے افسرماتحتوں پر غصہ نکالتے ہیں اور صاحب خانہ نوکر کو برا بھلا کہنے سے نہیں چوکتا۔ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور نوکر کو ادنیٰ تصور کرتا ہے۔ حالانکہ وہ بھی انسان ہے مرد کو گھرانے کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ اس کے پاس اختیار ہوتا ہے اور بڑائی کے زعم میں وہ اپنی عورت پر زیادتی کرتا ہے جس سے گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ اسی لیے نکاح کے وقت مرد کو مخاطب کر کے بار بار تقویٰ کا حکم دیا گیاہے تاکہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کرنے میں نامناسب رویہ اختیار نہ کرے۔ عورت نے اُس کے گھر کو سنبھالا ہوتا ہے اوروہ ہر طرح کی خدمات فراہم کرتی ہے اس کے بچوں کی پرورش کرتی ہے۔ یہی عورت اگرکوئی غلطی کرتی ہے تو شوہر غصے میںآکر بدزبانی پر اترآتا ہے۔ کبھی کبھی تو معمولی سی غلطی پر طلاق کا لفظ بھی کہہ گزرتا ہے ۔ مگر جلدی ہی پچھتاتا ہے اور کسی مفتی کے پاس جاتا ہے تاکہ طلاق موثر نہ ہو۔ مگر مفتی بتاتا ہے کہ اب تو طلاق ہو چکی اور وہ عورت تمہاری بیوی نہیں رہی۔ اس وقت سوائے پچھتانے کے اُسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ غصے کا اثر اب اسے زندگی بھر کی پریشانی کی صورت میںبرداشت کرنا پڑتا ہے۔ مرد سمجھتا ہے میں بیوی کا مجازی خدا ہوں مگر وہ بھول جاتا ہے کہ خدا تو بندوں کو معاف کر دیتا ہے کیا وہ بھی ایسا کرتا ہے۔
ایک غریب آدمی محنت مزودری کرتاہے،مشکل سے اپنے بال بچوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرتا ہے۔ اس کا دل چاہا کہ کسی دن گوشت پکائے۔ اس نے کئی ماہ کی معمولی بچت سے ایک دن گوشت خریدا اوربیوی کو پکانے کو کہا اور خود مزدوری کرنے چلا گیا۔ دل میں خوش تھا کہ آج گھر جائوں گا تو اچھا کھانا ملے گا۔ شام کو وہ گھر آیا تو اس کی بیوی نے اسے کھانا دیا جب وہ کھانا کھانے لگا تو سالن میں نمک اس قدر زیادہ تھا کہ وہ ایک لقمہ بھی نہ کھا سکا۔ اُسے اپنی عورت پر غصہ آیا۔ اس نے ردعمل کے طور پر بیوی کو اس غلطی پر سزا دینا چاہی مگر جلد ہی اس کے دل میں خیال آیا کہ غلطی تو کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ اگر میری بیٹی سے اس طرح کی غلطی ہو جاتی تو میں چاہتا کہ اُسے معاف کر دیا جائے چنانچہ اس نے اپنی بیوی کی غلطی معاف کر دی۔ وہ بندہ فوت ہو گیا تو بستی کے کسی نیک اور پارسا آدمی کو خواب میں ملا۔ اس نیک آدمی نے اس سے پوچھا تمہارا کیا حال ہوا۔ وہ کہنے لگا میرا حساب لیا جانے لگا تو اللہ تعالیٰ نے ایک ایک کر کے میرے گناہ بتائے اور پوچھا تم نے یہ گناہ کیے۔ میں ہاں کہتا رہا اور دل میںڈررہا تھا کہ اب میرا بچائو ممکن نہیں۔ میرے سارے گناہ گنوانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہیں یاد ہے کہ تمہیں اپنی عورت کی ایک غلطی پر سخت غصہ آیا تھا۔ مگر تم نے اُسے معاف کر دیا۔ اے بندے تم نے میری بندی کی غلطی معاف کر دی۔ جائو میں تمہیں معاف کرتا ہوں کیونکہ میرے پاس بے انتہا معافی ہے۔ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ہی غلطی پر اس کے تمام گناہ معاف کر دئیے گئے اور اس کو معافی مل گئی۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے واقعات بتائے ہیں جن میں ایک نیکی پر کسی بندے کے سارے گناہ معاف کر دئیے گئے اور اس کو جنت نصیب ہو گئی۔ایک برے کردار کی عورت کو پیاس نے ستایا۔ اسے کنواں نظر آیا اس نے کنویں سے اپنی پیاس بجھائی اس نے دیکھا کہ پاس ہی ایک کتے کا بچہ پیاس سے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس عورت کو اس جانور پر ترس آیا اُس نے اپنی جوتی کا ڈول بنایا اور کنویں سے پانی نکال کر اس کتے کے بچے کو پانی پلایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس عمل سے اُس عورت کی بخشش کر دی۔ اسی طرح اس شخص کو بھی بخش دیا۔ جس نے اس درخت کی ٹہنی کاٹ دی جو راستے کے اوپر گری پڑی تھی اور گزرنے والوں کے لیے تکلیف کا باعث تھی۔ ہر ذی روح اللہ تعالیٰ کے کنبے کا فرد ہے اور اسے ہر فرد سے پیار ہے۔ لہٰذا اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کو وہ بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں پرناراض ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے دکھ، اذیت اورظلم کا باعث بنتے ہیں۔ یہ بات حقوق العباد کی اہمیت سمجھنے کے لیے راہ نمائی فراہم کرتی ہے۔
بیوی کے نامناسب رویے سے ہر شوہر کو پالا پڑتا ہے۔ کسی بڑے سے بڑے شخص کو بھی اس سے استثنا نہیں کیونکہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ لہٰذا اس کے ٹیڑھ پن کو حکمت اور خوف خدا کے تحت برداشت کرنا ہی سمجھ داری ہے۔ عورت کو بھی یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی قوامیت کو تسلیم کرے اور برابری کا دعویٰ نہ کرے۔ اور اس کی

جائز اور حلال کمائی میں خوشی سے گزارہ کرے۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے عورتوں کی کثرت کو دوزخ میں دیکھا کہ وہ اپنے شوہر کی ناشکری کرتی رہیں۔ اس عورت کو آپؐ نے جنت کی بشارت دی ہے جس کا شوہر اُس کے رویے سے خوش رہا ہو۔
خ خ خ