(تنظیم اسلامی کی حیا مہم) آغوشِ صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے - عامرہ احسان

10 /

آغوشِ صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے!عامرہ احسان

 

عورت اس کائنات میں اشرف المخلوقات میں خوبصورت اور اہم ترین حصہ ہے۔ اردو زبان میں بیوی کو (احتراماً) نصف بہتر کہا جاتا ہے۔ مرد کی فراخ دلی ہے یہ اعتراف کرنے میں کہ اس کے بغیر وہ ادھورا ہے۔ عورت کو اللہ نے اپنی صفت ِ تخلیق کا اعزاز بخشا ہے۔ وہ7ارب انسانوں کی ماں ہے۔ نبیوں کی ماں ہے۔ ام موسیٰ ؑ اور ام عیسیٰ ؑ ، مریم علیہاالسلام ہیں۔ فتنہ ٔ دجال کا بدترین عنصر عورت کا بگاڑ ہے۔ مجموعی طور پر آج دنیا کے بگاڑ ، فساد فی البروالجر میں کتنا بڑا حصہ عورت یا اس کے گود کے پالوں کا ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ اس گود سے محروم رہ کر جھاڑ جھنکار سے کردار دنیا ویران کر رہے ہیں۔ بچے صرف حادثتاً پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کی درستی عورت ہی کے ہاتھوں ممکن ہے۔ اسے اپنے اصل کام پر لوٹنا ہے۔ تن دہی اور دل دہی سے پرورشِ اولاد، تربیت ِ اولاد کو مشن بنا کر دنیا کو گل وگلزار کرنا ہے۔
آغوشِ صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے
وہ قطرئہ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر
آج عورت مغرب کی تقلید میں گھر چھوڑ چکی ہے۔ ہر میدان ، بازار، دفتر، چورا ہے(پولیس وومن کی صورت)، ہوائوں، خلائوں میں پائی جاتی ہے، سوائے گھر کے۔ تربیت اولاد کی کہانی گھر کو گھر بنانے سے شروع ہوتی ہے۔ جس کیفیت اور ماحول کا حامل گھر ہو گا اسی طرح کے بچے بنیں ڈھلیں گے۔ گھر جنگ وجدل کا اکھاڑہ ہو گا اس سے پچھاڑنے والے پہلوان یا ان تھک ٹانگ گھسیٹنے والے سیاست دان تو پیدا ہو سکتے ہیں، متوازن فکر وعمل پر استوار انسان نہیں ڈھل سکتا۔ گھر ڈرامے، فلم، موسیقی راگ رنگ بھرا ہو گا تو نچیے،گویے، میراثی، اداکار ہی جنم لیں گے۔ رزق حرام کی ریل پیل سیرت وکردار میں تعفن بھر دے گی۔ گھر کی درست بنیاد پر اٹھان اولین ہے۔ اگر کینوس پر خوبصورت پھولوں بھر اباغ اور تتلیوں کا منظر سجانے کا ارادہ ہو تو پس منظر آڑے ترچھے برش مار کر گچ پچ نہیں کیا جاتا۔ ایسے گدلے بدرنگ منظر میں گینڈے بندر تو بن سکتے ہیں۔ تتلی پھولوں پر نہیں دکھائی جا سکتی! معاشرے کی بنیادی اکائی گھر ہے۔ اللہ نے اس پر کامل رہنمائی قرآن میں دی ہے۔ نبی ﷺ نے اس میں عمل سے رنگ بھرا ہے۔ الفاظ کو جیتے جاگتے نمونہ ہائے عمل کی ایک مکمل مردوزن کی جماعت کی صورت ڈھالاہے۔ جماعت صحابہ و صحابیات(رضوان اللہ علیہم)اللہ کی رضا کا پروانہ لیے سیرت و کردار کے لیے تاقیامت راستہ روشن کر گئے ہیں۔
گھر کی ابتدا شادی سے ہوتی ہے۔ گھر میں نسلوں کی تعمیر کے لیےلا کر آباد کیے جانے والے دو افراد کا ایمان، اخلاق، کردار آئندہ نسل کی اٹھان کا معیار طے کرتا ہے۔ آج کے معاشرے میں اعلیٰ اقدار عنقا ہیں۔ شادی بیاہ کی دھوم دھام، اخراجات کی فراہمی ، ایونٹ مینجمنٹ، لین دین کے جھگڑے، کئی ہنگاموں سے نمٹ کر گھر آباد ہوتا ہے! سو پہلی اینٹ شریعت کے طے کردہ ضابطوں پر رکھنی ضروری ہے۔ گھر کسے کہتے ہیں؟{وَاللّٰہُ جَعَلَ لَـکُمْ مِّنْم بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا}(الخل:80)’’اور اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا۔‘‘ گھر جائے سکونت بھی ہے اور جائے سکینت بھی۔ گھر چھپر ہو ، جھونپڑی ہو، پہاڑوں میں ہو یا محلات ہوں، اسے جائے سکونت اور سکینت بخش بنانے والی عورت ہے۔ گھر عورت کی محبت کے بہتے زمزموں، اس کی خدمت و ایثار اور دلوں کو سکھ چین عطا کرنے والے وجود سے جنت نظیر بنتا ہے۔
بچوں کی پہلی تعلیمی درس گاہ ماں کی گود ہے۔ بچوں کی کڑی نگرانی والدین کا اہم فریضہ ہے۔بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیج کر بے غم ہو جانے کا یہ دور نہیں۔ شام کی ٹیوشن سے بڑھ کر اہم ماں کا بچے کے ساتھ بیٹھ کر اسکول کی دن بھر کی روداد سننا۔ فکری کجی، الجھن دور کرنا، گھر آنے پر صرف ہاتھ منہ دھلانے، نہلانے یا کسی بچے کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے پڑ جانے والی جوئیں دیدہ زیری سے نکالنا لازم نہیں۔ دل دماغ کا اجلاستھرا رکھنا اور فکری جوئیں نکالنا اہم ترین ہے۔ نصابوں پر نظر رکھنا۔ غلط مندرجات کا نوٹس لینا۔ اسکول سے رابطے میں رہنا۔ غلط تصورات پڑھا دینے پر احتجاج کرنا، والدین کا حق بھی اور فرض بھی۔ اسکول کالج یونیورسٹیاں آج طے شدہ منصوبے کے تحت فکر و نظر کی گمراہیاں اساتذہ کے ذریعےبچوں، نوجوانوں میں بورہے ہیں۔ آپ کے بچے اور آپ خود اس پر چوکس رہ کر مزاحمت کرنے والے بنیں۔ باشعور والدین باہم رابطے میں رہیں اور اسکول پر ایسے معاملات میں دبائو ڈالیں۔یہ ہمارے بچوں کے حقیقی مستقبل کا سوال ہے۔ آج بچیوں کو اپنے ہاتھوں شریعت کے احکام سے منہ موڑ کر مخلوط اداروں، یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کی دیوانگی میںمبتلا کیاگیا ہے۔ یہ قوم کو اچھی مائوں سے محروم، نیم مرد بنا کر یا منتشر الخیال عورت بنا کر چھوڑے گی۔ اقبال کا کہا حرف بہ حرف سچ ہے:
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہُنر موت
تجربہ گواہ ہے اعلیٰ تعلیم، علم وہنر سمیٹتے سمیٹتے اندر کی مامتا کے جذبات سے محروم کر دیتی ہے۔ ڈگریاں، (مسابقت کے تعلیمی میدان) مامتا کے پیچھے کار فرما بے بہا عشق کو ڈس لیتی ہیں۔ ایسی لڑکی بمشکل تمام روتی دھوتی بچے’دوہی اچھے، کے فارمولے پر کار فرما رہتی ہے۔ اکثر ڈاکٹرز شکایت کرتی ہیں کہ نہ صرف یہ لڑکیاں بلکہ ان کی مائیں بھی آپریشن کو ترجیح دیتی ہیں کہ یہ’بچی‘ درد نہیں سہہ سکتی۔
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
آج لڑکی کا سب سے بڑا چیلنج اپنی نسوانیت کا تحفظ ہے۔ مادریت پر فخر اور معیارِ امومت بڑھانے کے لیے اپنی تربیت پر متوجہ ہونا ہے تاکہ ملک وملت نے اس کے سپرد جو خدمت کی ہے(اصلاً) اس کا حق ادا کر سکے۔ اقبال نے کہا تھا:ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ! مگر آج : ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا کباڑا، بنانے کو پورا نظام کمربستہ ہے۔
یکسوئی سے تاریخ کے آئینے میں شاندار مسلم خواتین کے نمونہ ہائے عمل دیکھ کر اپنی کردار سازی پر توجہ دینی ہو گی، بیوٹی پارلر اور سیلبریٹی کے جھانسوں سے نکل کر۔ والدین اپنی بچیوں کے لیے صالح صحبت کا اہتمام کریں تاکہ یہ نسل ان کے لیے صدقہ جاریہ بن سکے بہ نسبت ٹک ٹاکر حریم شاہ، عائشہ اکرم یا نور مقدم بن کر دنیا وآخرت دائو پر لگانے کے۔ یہی والدین اور نسل ِ نو کا تربیتی امتحان اور چیلنج ہے۔
تربیت میں تشبہ بالکفار اور تشبہ بالاصناف سے روکنا۔ مسلمان ہونے کا فخر ایک مکمل باب ہے جو کافرانہ مشرکانہ تہواروں، حلیوں، وضع قطع سے مسلمان کو دور رکھتا ہے۔ اس کی شان صحابہ ؓ کے ہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ آج یہ منظر طالبان کے ہاں آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔
دنیائے کفر کی چکاچوند کے بیچ یورپ میں افغان وفد(اسلامی امارت کا) جس شان بے نیازی سے شرعی حلیوں میں چادریں اوڑھے جہاز سے اترتا ہے وہ کسریٰ کے شاہی درباروں کی شان وشوکت کا منہ چڑاتے سادہ پوش صحابہ کرامؓ ہی کامبارک اسوہ ہے۔ اس سے سید نا عمرؓ کے فرمان کی بازگشت گونجتی ہے۔’ہماری شان اسلام سے ہے لباس سے نہیں۔‘ فقر غیور کے ساتھ اپنی شرائط، اپنے اصولوں پر مضبوط مؤقف اختیار کرنے والے یہ خرقہ پوش اسلام پر اعتماد کا جمیل وجلیل مظہر ہیں۔ ہمارے والے لاکھوں کے ٹائی سوٹ پہن کر امریکا یورپ کے ایوانوں میں ملک و قوم کی غیرت دائو پر لگا کر کشکول بھر کر لاتے ہیں۔ کسی کی عزتِ نفس پامال نہیں ہوتی کہ وہ انکاری ہو جائے ایسی وزارت خزانہ یا اس کی افسری قبول کرنے سے! کفر کے مقابل مومنانہ غیرت نفس کا تحفظ جتنا ضروری ہے، اسی طرح صنف کا اشتباہ پیدا ہونے سے بچنا بچانا بھی لازم ہے۔ احادیث کے مطابق جو کسی اور قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں شمار ہوتا ہے۔ مرد کے زنانہ اور عورت کے مردانہ حلیے پر آپﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔ چونکہ تشبہ بالکفار اور تشبہ بالاصناف دونوں موجب غضب ہیں لہٰذا اسے تہذیبی چلن کے طور پر قبول کر لینا، (لڑکیوں کے لباس میں بالخصوص) مسلم گھرانے کے شایاں نہیں۔ لڑکیاں کا مردانہ وار باہر گھومنا پھرنا ہمارا شعار نہیں۔ لڑکی کو زنانہ تربیت دینا۔ اس پر اطمینان، فخر و ناز دینا اس کا تحفظ کرنا۔ لڑکے کو مردانہ مرد بنانا والدین کی ذمہ داری ہے۔ نسوانیت ِ زن زیادہ دائو پر لگائی ہے تہذیب حاضر نے۔ عورت میں شوقِ مردانگی بہ صد اہتمام پیدا کیا گیا ہے۔ مرد کے مدمقابل بن کر خود بھی عورت کے اعصاب شل ہوتے ہیں۔ خاندان اور معاشرے میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔ الخدر ، الخدر!
ابتداہی سے صنفی انتشار کے ہر مظہر سے بچوں کو بچا کر پالیں۔ اسلام میں عورت کا مقام ومرتبہ ، وقار، احترام، تقدس اور اس کااکرام برتا اور بتایا جائے۔ مرد کو مکمل مرد بن کر رہنا، قوام اور غیور بن کر گھرانے کی سربراہی کے لیے بچپن سے تیار کیا جائے ، تاکہ مکمل متوازن اسلامی گھرانے اپنا تشخص قائم رکھیں۔ یہ احساس ختم ہو جانا کہ گھر میں شوہر باپ بھائی اپنی خواتین کی حیا کے محافظ ہیں دیوثیت پیدا کرتا ہے۔ جس پر جنت حرام کر دی گئی۔ ایک نوجوان شوہر بیوی کی تصویر(سیلبرٹی) یوں چھپی کہ: ’موصوفہ اپنے مداحوں کے درمیان!‘ مداحِ اصل ایک طرف دیوث بنا کھڑا تھا۔ الاماں!
گھر ایک مرد اور ایک عورت سے بنتا ہے، نہ کہ مردانہ عورت اور زنانہ مرد سے۔ باپ ہانڈی بھون رہا ہے اور ماں سوداسلف ڈھونے جمعہ بازار گئی ہے! اصناف کا یوں خلط ملط ہو جانا مردوں کی چشم پوشی، بے پروائی اور معاشرتی رو میں بہہ جانے کی بنا پر ہے۔ مغرب تو اس حوالے سے دیوانگی کی حدوں کو چھورہا ہے۔ گھر خاندان کی اکائی ختم ہو چکی ہے۔ بچے بدترین استحصال کا شکار رل رہے ہیں۔ ہم نے مضبوط بند نہ باندھا تو یہ بلائیں ہمیں بھی نگل جائیں گی۔ صنفی طور پر مائع(Gender Fluid )ہونے کی دیوانی اصطلاح۔ کبھی مردانہ حلیے میں مرد بن گئے، کبھی وہی زنانہ کپڑے میک اپ کے ساتھ صنف نازک کا روپ دھار لیا۔ ہاتھوں میں موجود موبائیلی بلا کے ہاتھوں ہر دل دماغ پر ان کا حملہ ہے۔ اولاد کو غیر معمولی ایمان اور عقیدے کی مضبوطی پر پالنے کی ضرورت ہے۔ آزادی مہلکا ت موبقات میں سے ہے۔ جب تک والدین سوشل میڈیا سے خود کنارہ کش نہ ہوں، بچوں کو پابند کرنا مشکل ہے۔ اقبال نے عورت کے تحفظ کا فارمولا بتادیا ؎
نے پردہ نہ تعلیم نئی ہو کہ پُرانی
نسوانیتِ زن کا نگہبان ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد