(تنظیم اسلامی کی حیا مہم) خواتین کے حقوق اور مغرب - مولانا سید علی شاہ حقانی

10 /

خواتین کے حقوق اور مغرب

مولانا سید علی شاہ حقانی 

 

عورت ہردورمیں مرکزی اورخصوصی کردارکی حامل رہی ہے۔ اسلام سےپہلےتقریباً ہرمعاشرےمیں خواتین کےساتھ امتیازی سلوک روارکھاجاتاتھا۔اکثرقوتوںنے خواتین کواپنے مقاصد کے لیے استعمال کیےہیں۔ قبل ازاسلام خواتین کی حالت بدترتھی انہیں انسانی حقوق سےمحروم کیاجاتاتھا، اسلام نےبحیثیت ماں، بیٹی، بہن اورشریک حیات ان کو اعلیٰ مرتبےاورمقام پرفائزکیا۔
دورحاضرمیں خواتین سےمتعلق دوطرح کےسوچ اورنظریات ہیں: اسلام کانظریہ اورمغرب کا نظریہ
اسلامی تہذیب وتمدن اور معاشرتی کردارمسخ کرنے کےلیے دجالی قوتوں نےعورت کوبطور ہتھیار استعمال کیاہے اور ایک منظم سازش کےتحت تحریک آزادیٔ نسواں اور خواتین کےحقوق کےنام پرمسلمانوں کاخاندانی نظام، اسلامی تہذیب، اور اسلامی معاشرت میں تغیرلانے کے لیے ہمیشہ عورت کومظلوم اورمسلم معاشرے کوظالم کےروپ میں پیش کیاہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہےکہ خواتین کےحقوق کے نام پر سرگرم تحاریک کےنتیجےمیں عورت کو کچھ انفرادی فائدہ پہنچا ہےلیکن خاندان کےادارےپراس کےتباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں، یہاں تک کہ مغربی معاشرے میں خاندانی نظام درہم برہم ہوچکاہے۔ انجہانی سوویت یونین کےآخری صدرگورباچوف نے’’پروسٹرائیکا‘‘یعنی تعمیر نونامی کتاب میں عورت کےمعاشرتی کردارکے بارے میں لکھاہےکہ:’’چندصدیوں سےیورپ میں یہ نعرہ لگایا گیا ہےکہ عورتو ںکومردوں کےشانہ بشانہ کام کرناچاہیے اور عورتوں کی جسمانی قوت کوپیداوار کے اضافہ میں استعمال کرناچاہیے۔ اس کےنتیجہ میں ہم عورتوں کو دفاتر اور بازاروں میں لےآیےہیں۔ اس کےنتیجےمیں ہماری پیداوار میں کچھ اضافہ ہواہےلیکن اس کےساتھ ساتھ ہمیں نقصان اتنا زیادہ ہواجس کی تلافی کی کوئی صورت نظرنہیں آتی اور وہ نقصان یہ ہےکہ ہمارافیملی سسٹم تباہ ہوگیا۔ اس لیےکہ عورت جب تک گھرمیں تھی اس نےہمارےخاندانی نظام کو سنبھالاہواتھا۔ میرےتعمیرنوپروگرام میں ایک پروگرام یہ بھی ہےکہ میں ایساطریقہ سوچوں کہ عورت کو واپس گھر کس طرح لایاجائے۔ ‘‘
عصرحاضرمیں خواتین کی حقوق کی عالمبردارقوتیں یورپ اورمغرب کی ماضی دیکھےتویہ ایک مسلمہ حقیقت ہےکہ عورت کااستحصال انہی خطوں سے شروع ہوااور خواتین پر ظلم وجبرکایہ دور ابھی تک جاری ہیں۔ اگرہم یونانی، رومی، یہودیوں اور عیسائیوں کی تاریخ کامطالعہ کریں تویہ خواتین کےلیےسب سے تاریک ادوار ثابت ہوں گے۔ دنیامیں ظلم، ناانصافی، لوٹ کھسوٹ اوراخلاقی زوال کی جتنی داستانیں ہیں عام طورپرعورت ہی اس کاسب سےپہلا نشانہ بنی، عورت پرجس قدرمظالم ہوئےاس کےتذکرے سےہی انسان کےرونگٹےکھڑےہوجاتےہیں۔اخلاقی زوال کا شکار یورپی معاشرہ جب لفظ تہذیب سے آشناہوا توعورت کومردکی عیش پرستی کامرکزی کرداربنایا۔ جدید تہذیب کی حامل یورپی ومغربی معاشرے میں عورت کی حیثیت ہمیشہ پست رہی ہے۔
مغرب میں حقوق نسواں کی تحریک کی منظم کوشش 1890ء میں عورتوں کےحقوق کی سیاسی تحریک کاپتہ چلتاہے۔اس کاتصورفرانس میںپیداہوا۔ اقوام متحدہ نے 1952ء میں ووٹ کاحق دیا۔ اقوام متحدہ نے ’’خواتین سےامتیازکےخلاف اقوام متحدہ کاکنونشن‘‘ جسے SEDAW documentبھی کہاجاتاہے، نامی دستاویزتیارکی۔ 1994ءمیں اقوام متحدہ نےبہبودآبادی کانفرنس منعقدکی جس میں جنسی آزادی، کنڈوم کااستعمال اورہم جنس پرستی جیسےموضوعات زیربحث تھے۔ 1995 ءمیں بیجنگ کانفرنس اور پھرقاہرہ کانفرنس نےمغرب کے خواتین کے حقوق کاایجنڈا اشکاراکردیا۔بدقسمتی سےقاہرہ کانفرنس کے ایجنڈے سے تمام مسلم ممالک نےاتفاق کرلیا۔ صرف کیتھولک عیسائیوں اور تین اسلامی ممالک سوڈان، ایران اور سعودی عرب نےمخالفت کی۔
مغرب کی خواتین کےبارےمیںپالیسی نے خود مغرب کےلیےبھی مشکلات پیداکردی۔ مردقابل نفرت بن گیا، بدکاری، جنسی آوارگی، جنسی زیادتی اور لواطت نےوہاں کامعاشرہ تاریک سےتاریک ترکر دیا۔ جسے اب سنوارناان کےلیےممکن نہیں۔ بدقسمتی سےمیڈیا کی شتربےمہارآزادی کی بدولت مسلم ممالک بھی بری طرح اس کی لپیٹ میں آچکےہیں۔ جس کی مثال ہمارے سامنے ہےکہ چندسالوں سے پاکستان میں جنسی درندگی اورخواتین کی بےحرمتی میں اضافہ ہوچکاہے۔ آج تقریباًپوری دنیا کے وسائل اور اداروں پرمغرب کاتسلط ہےجس کی قیادت امریکہ کررہا ہےجب امریکہ کیمہار یہودیوں کےہاتھ میں ہیں۔ امریکہ ایک مذہبی عیسائی ملک ہے جوخود کو حضرت عیسیؑ کےپیروکار کہتےہیں جبکہ یہودی حضرت موسیؑ کے پیروکار ہیں۔ دین اسلام کی طرح یہ دونوں مذاہب بھی خواتین کی حقوق کی علمبردار ہیں۔ کیونکہ توریت اورانجیل آسمانی کتابیں ہیں جو اللہ کی جانب سے نازل شدہ ہیں۔ لیکن اسلام کی طرح ان مذاہب میں بھی عورتوں کی حقوق کےنام پر فحاشی اور عریانی پھیلانےکی ممانعت ہے۔ چنا نچہ شریعت موسوی میں خاص اہمیت کےحامل احکام عشرہ میں بھی زناسے منع کیاگیا ہے جیسے خروج باب20میں ہے۔ ’’توزنانہ کرنا‘‘ بلکہ یہاں تک کہ مذہبی پیشواؤں کوبدکارعورتوں سےشادی کرنےسے بھی منع کیاگیاہے۔ اسی طرح دین عیسوی میں زناکی حرمت بیان کیا گیاہےچنانچہ انجیل متی میں ہے:’’تم زنانہ کرنا، لیکن میں تم سے کہتاہوں کہ جو کوئی کسی عورت پربری نظرڈالتاہے وہ اپنےدل میں پہلےہی اس کےساتھ زناکرچکاہے۔چاہیےتویہ تھاکہ مغربی ویورپی پالیسی سازاپنے تھنک ٹینک کے ذریعے موجودہ حالات سدھارنے کے لیےاپنےمذہبی شخصیات کے ساتھ ساتھ مسلمان علماء سےبھی رہنمائی لیتےتاکہ ان کاخاندانی نظام محفوظ رہ سکےاور معاشرےمیں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کاخاتمہ ہووہ بحفاظت معاشرےمیں مثبت کردارادا کرسکے۔بدقسمتی سے انہوں نے خودکو سدھارنے کی بجائے مسلم معاشرےکو اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے اقدامات شروع کیے۔ مغرب کا حیاسوزاوراباحیت پسند سیکولرازم مسلم معاشرےمیں بےحیائی اوربداخلاقی کوفروغ دینےمیں مختلف ذرائع استعمال کررہاہے۔ چونکہ مغرب اخلاقی طورپر دیوالیہ ہوچکا ہے۔اب مسلمان معاشروں کواخلاقی طورپرتباہ کرنے کے لیےعریاں جنسی فلمیں اور ناشائستہ اطوارپرمبنی پروگرام نشر کیےجاتےہیں۔ اگر غور کیا جائے تو اس سلسلےمیں میڈیاکا کردار بھی کچھ زیادہ مثبت نہیں۔ مسلم ممالک اس شعبے میں بہت پیچھے ہیں ۔ الجریرہ کےعلاوہ کوئی قابل ذکرادارہ ایسانہیں جوعالمی سطح پرکرداراداکرسکے۔ ذرائع ابلاع کے اکثرادارےان ممالک اور اقوام کے کنٹرول میں ہیں جومسلمان ممالک کوامداد دیتے ہیں۔ ایسےمیں یقیناً مسلمانوں کےلیے اپناخاندانی نظام بچانا ایک آزمائش سےکم نہیں۔ مسلم معاشرے کو تغیر کا سامنا ہےکیونکہ مغرب کا تہذیبی دبائوہے اورعالمی ایجنسیاں مسلم معاشروں میں تبدیلی لانے کے لیے سرگرم ہے۔عالمی پالیسی سازوں نےیہ تغیرمسلط کرنےکاتہیہ کررکھاہے۔ بےشمار این جی اوز ہیں جومختلف مسلمان ممالک میں مصروف عمل ہیں۔ اور بےپناہ وسائل کےساتھ مسلمان عورت کومظلوم اور مسلمان معاشروں کوظالم قراردینےکی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح مسلمان معاشرےکی اخلاقی قدروں کو تبدیل کرنےکاعمل جاری ہے۔