اپنے مسلمان ہونے پر فخر کیجیے!
عامرہ احسان
یہ اللہ کی سب سے بڑی شکرگزاری کا مقام ہے کہ اس نے خود اپنے انتخاب سے ہمیں دنیا کے 7 ارب انسانوں میں سے چن کر نکالا اور مسلمان پیدا کیا: ھواجتبٰکم، اس نے تمہیں (اپنے کام کے لیے) چن لیا ہے! پھر ان دو ارب مسلمانوں میں سے بھی بحمداللہ بے دینی اور سیکولر ازم (لامذہبیت) سے بچایا۔ پھر اللہ نے ہمیں راہ دکھائی اور فرمایا: ’’قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیم ؑکی ملت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ’مسلم‘ رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے)۔ تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔‘‘ (الحج: 78)
دنیا بھر کے لوگوں پر ہمیں مرکزیت، قیادت عطا کی۔ ہم نہ صرف محمد ﷺ، بلکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی وراثت کے حامل ہیں۔ یہ مقامِ فخر بھی ہے، مقامِ شکر بھی اور مقامِ ذمہ داری وجوابدہی بھی۔
فخر کیا ہے؟ خود کو بہتر سمجھنا، بڑائی کا احساس اور ناز ہونا۔ فخر کی منفی صورت تکبر ہے۔ جو گناہِ عظیم ہے۔ غرور ہے۔ دھوکا ہے! یہ مادی، ظاہری چیزوں پر غرور ہے جس میں ہمارا کوئی کمال یا دخل نہیں، مثلاً شکل وصورت، مال ودولت، گھر گاڑی، شان وشوکت کی بڑائی دماغ میں سما جانا۔ اس میں مقابلہ بازی کی حِس ہے۔ اس کی اوّلین مثال ابلیس کا بگڑنا اکڑنا ہے: انا خیرٌ منہٗ۔ میں اس (آدم علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے! آپ دیکھیے بڑائی کے اس منفی خمار کا نتیجہ کیا نکلا؟ اللہ نے حکم دیا: نکل جا تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں! تکبر کا نتیجہ ذلت وخواری!تمہارا کیا کمال؟
ہمیں اللہ نے الحمدللہ کہنا، شکرگزاری اور عجز سکھایا نعمتوں پر۔ تاہم فخر ایک مثبت جذبے کے ساتھ نعمت کے تحفظ کے لیے بہت اہم ہے۔ اسلام کی نعمت بالخصوص وہ ہے جسے فخر وناز کے ساتھ محبوب رکھا جانا چاہیے، اس کی بڑھوتری کی فکر رہے۔ اور حدیث کے مطابق ایمان سے پھر جانے کی نسبت آگ میں ڈالا جانا قبول ہو۔ اپنے اسلام پر فخر وناز لازم ہے۔ نفسیاتی طور پر فخر کی کمی ہو تو احساسِ کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔ خود اعتمادی نہیں رہتی۔ مضبوط اسلامی شخصیت کے لیے علی الترتیب ہمیں کچھ چیزوں پر فخر کرنا لازم ہے، فتنوں کے اس عجب دور میں، جہاں انہونیاں ہو رہی ہیں۔ (کیونکہ آج ہمیں گلوبل ویلج کی بنا پر بن مانگی بلاؤں، آزمائشوں کا سامنا ہے، سو اس تناظر میں تقابل مغربی تہذیب سے ناگزیر ہے۔کیونکہ یہ بالخصوص ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا سامان ہے۔)
مثلاً پہلا فخر اس بات پر کہ اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات، یعنی انسان بنایا۔ بلی، کتا، بندر نہیں بنایا۔ یہ دور وہ ہے جس میں بہت سے مغربی اپنے انسان ہونے پر عدم اطمینان کا شکار ہیں۔ سو ہزاروں وہ ہیں جو تعلیم، نوکریاں کرکے گھر آکر کتے کا لباس اور پٹے پہن کر زمین پر چار ہاتھ پاؤں پر چلتے ہیں۔ گھر ٹوٹ جانے، خاندان بکھر جانے کی بنا پر بچپن میں محبت کے رشتے کھو گئے ہیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، چچا ماموں اور وسیع تر خاندانوں کی شفقت ختم ہوچکی۔ محبت کی کمی سے شخصیت میں چٹاخ پڑ جاتے ہیں۔ بنجر زمین کی سی کیفیت۔ زندگی بھر محبت کی تلاش۔ وہاں کتوں کی مقبولیت، کہ ہر کوئی کتے سے محبت کرتا ہے۔ سو یہ دیکھ کر بہت سے اس معنی میں کہ ’کتے تیتوں اُتے‘، سمجھ کر پارٹ ٹائم ’کتیانے‘ لگتے ہیں! سوچیے! کتنا المناک نفسیاتی عارضہ ہے۔ سو اپنے انسان ہونے کا فخر کتنا اہم ہے۔
اسی پر بس نہیں، ایک حسینہ جمیلہ خاتون جوسلین (Jocelyn)، ارب پتی شوہر کی بیوی کو امریکا میں، بلی بننے کا شوق چرایا۔ اس نے اپنے چہرے کے آپریشن (پلاسٹک سرجریاں) کرواکرواکر صورت بلی نما تو بنا لی مگر حقیقتاً وہ بھوتنی سی بن گئی۔ صرف اس لیے کہ شوہر کو بلیاں پسند تھیں، مگر پھر اتنا پیسہ لٹاکر شوہر نے اسے طلاق دے دی۔ یہ Cat Woman کہلاتی ہے اور دنیا اس پر ہنستی اور ملال کرتی ہے۔ ایک یوکرینی ماڈل نے خود کو ’باربی ڈول‘ (مغربی مقبول ترین بے حیا گڑیا!) کی صورت دے ڈالی۔ یہ سب سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ گلوبل ویلج میں نفسیاتی بیماریاں بھی کورونا کی طرح سرحدیں پار کرکے حملہ آور ہو رہی ہیں۔ سو اللہ کی ہر عطا پر اس کی شکرگزاری، اعتماد، اطمینان اور فخر لازم ہے۔
دوسرا فخر (بالخصوص خواتین کی ضرورت ہے) مغربی وباؤں کے نتیجے میں یہ کہ اللہ نے مجھے عورت بنایا۔ اسلام میں عورت بہت معزز، مکرم اور لاڈلی ہوتی ہے۔ حفاظتی حصار کے دو سیٹ اسے عطا ہوئے۔ شادی سے پہلے والدین کے ہاں محرم مردوں کا حصار۔ شادی کے بعد شوہر اور بیٹوں کا تحفظ۔ عورت کھلی نہیں پھرتی۔ اس کا تقدس اس کی عفت وعصمت سے نتھی ہے۔ قرآن میں عورت کا ذکر ایک ماں ہونے کے ناتے آتا ہے۔ امِ عیسیٰ ؑ، امِ موسیٰ ؑ، امہاتِ اسماعیل ؑ واسحاق ؑ ویحییٰ ؑ۔ دوسرا تذکرہ اس کی پاکیزگی نفس اور پاک دامنی کے حوالے سے ہے۔ یہی عورت کے دو قابلِ فخر مقام ہیں۔ امومت، ماں ہونا اور پاک دامن، طاہرہ طیبہ ہونا! اللہ نے سیدہ عائشہ ؓ کی پاک دامنی پر 20 آیاتِ قرآنی نازل فرمائیں۔ وحیٔ الٰہی کی گواہی اس پر اتری! اس اسوہ کو دانتوں سے پکڑنا، کیونکہ آج لڑکی/ عورت سے عصمت کے تحفظ کی فکر اور خوف کو موبائل کی حیاسوزیوں کا گھن کھا گیا۔ اس فخر اور فکر کو مضبوط اور اجاگر کرنا اہم ترین ہے کہ وہ باعفت رہے۔ آج لڑکیوں کو مردانگی کا ہیضہ سوار ہے۔ مغربی فکری بلاؤں میں سے یہ احساسِ کمتری بھی ہے، مرد جیسا بننے کی حسرت کالجوں، یونیورسٹیوں اور ٹرانس جینڈری انتشار کی دین ہے۔ اس لیے بچپن سے لڑکی کا اپنی صنفی شناخت پر احساسِ تفاخر اجاگر کرنا نہایت اہم ہے۔ تربیت کے لیے سورۃ البقرہ، النساء، النور، الاحزاب کے خصوصی اسباق ذہن نشین کروانا ضروری ہے۔ اگر اپنے صنفِ نازک ہونے پر فخر نہ ہوگا تو مغرب تو اس اعتبار سے پہلے ہی دیوانگی کی بے حساب مثالیں لیے بیٹھا ہے۔ جہاں آپریشن اور ہارمون تھراپی کرواکر مونچھیں داڑھی اگانے، آواز بھاری کرنے، مردانہ لباس زیب تن کرنے کے ذوق فراواں ہیں۔ فکری ژولیدگی اور انتشار اب باضابطہ صنفی ژولیدگی اور کنفیوژن تک پہنچ کر اخلاقی سڑاند دے رہا ہے۔ہمارے ہاں فی الحال مردانہ وار پینٹ شرٹ اور موٹرسائیکل چلانے تک بات پہنچی ہے۔ اسے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
تیسرا اہم ترین فخر مسلمان ہونے کا ہے۔ کھانے کے بعد دعا میں یہ شکر گزاری شامل ہے۔ شکر ہے خدایا، کھلایا پلایا، مسلمان بنایا! (الحمدللہ الذی اطعمنا وسقانا… الخ) خدانخواستہ مسلمان ہونے کی نعمتِ عظمیٰ اور قابل فخر ہونا اگر معلوم نہ ہوتو جیسے جوسلین کو شبہ پڑ گیا تھا کہ بلی زیادہ خوبصورت ہوتی ہے اور وہ پلاسٹک سرجریاں کرواتی ویران ہوگئی بلی کی جگہ بھوتنی بن بیٹھی۔ اسی طرح اگر کافر بہتر لگنے لگے اور اپنے مسلمان ہونے پر احساس کمتری اور عدم اعتماد ہوتو اس کی آخری انتہا تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی ہونا ہے۔ جو کافر سے بڑھ کے خود کو کافر ثابت کرنے پر تل گئے، اپنی دنیا وآخرت کی تباہی کے درپے ہوئے! اسلام پر فخر نہ ہونے کی بنا پر معذرت خواہانہ رویہ ہوتا ہے۔ نماز پڑھتے، مسجد جاتے، پردہ کرتے، داڑھی رکھتے شرم آتی ہے۔ خود کو ’ماڈرن‘ ثابت کرنے کے لیے اختلاط، مغرب زدگی کی تمام علامات دیکھی جاسکتی ہیں۔ برتھ ڈے، ویلنٹائن ڈے، کرسمس مناکر ماڈرن ہونے کا فخر چمٹ جاتا ہے! جن باتوں پر فخر ہونا چاہیے ان پر شرم آتی ہے۔ اور جہاں شرم آنی چاہیے وہاں فخر ہوتا ہے!
مسلمان ہونے پر سب سے بڑی وجۂ فخر وشکریہ ہے کہ ہم پڑھے لکھے، تعلیم یافتہ اور مہذب بنائے گئے، تربیت دیے گئے ہیں۔ پڑھا لکھا ان معنوں میں کہ ہمارے علم کی وسعت بحمداللہ بے پناہ/ دسترس میں ہے۔ مثلاً یہ کہ ہم اس کائنات کی حقیقت جانتے ہیں۔ اس کا خالق، مدبر الامر، مالک الملک (بادشاہی کا اصل مالک)، المقتدر (مکمل قدرت والا)، الحی القیوم (ہمیشہ زندہ رہنے والا، سب کو قائم رکھنے والا) اللہ ہے۔ اس کی عظیم ہستی کی پہچان ہمارے پاس ہے۔ ہمارے لیے وسیع وعریض کائنات کی حیران کن عظمتیں کوئی معمہ نہیں۔ ناسا کی دوربینیں، آلاتِ رصد صرف ہمارے ایمان کی مزید پختگی کے شواہد فراہم کرتی ہیں۔ ہم ہیروں بھرے سیارے، کہکشاؤں کا مضبوط محکم نظام خوب پہنچاتے ہیں کیونکہ ہم ان کے خالق کو جانتے ہیں۔ قرآن سے، محمدﷺسے، براہ راست علم ہماری دسترس میں ہے۔ قرآن میں اللہ کی سب سے بڑی شہادت (آل عمران: 18) موجود ہے۔ (جس کی تصدیق دو یہودی علماء نے تورات میں موجود علم کی بنیاد پر کی، اور مسلمان ہوگئے۔) اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ: ’’اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے۔ وہ انصاف پر قائم ہے۔ اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے۔‘‘ مسند احمد کی روایت ہے: عرفات میں رسول اللہ ﷺنے یہ آیت پڑھی تو اس کے بعد فرمایا: وانا علی ذلک من الشاہدین۔ اور اے پروردگار! میں بھی اس پر شاہد ہوں۔ دوسری روایت میں یہ کہنے پر جنت کی بشارت ہے۔ یہ کہنے کی لطافت یہ ہے کہ وہ عظیم گواہی جو اس کائنات کی سب سے بڑی (غیبی) حقیقت ہے، اس پر اللہ، فرشتوں، انبیاء (وتمام اہلِ علم) کی گواہی پر ہم سا بے نوا ننھا سا انسان اپنی آواز ملاکر کہتا ہے کہ ’میں بھی اس پر گواہ ہوں!‘ (گومشتِ خاک ہوں!) سبحان اللہ… یہ جو آج کا مسلمان احساس کمتری کا مارا اسلام سے دامن چھڑاتا، منہ چھپاتا پھرتا ہے، سائنس کی نگاہ ہی سے خالق کو دیکھ لے تو ناممکن کہ وہ اس دین پر فریفتہ نہ ہو۔ آج ضرورت اسلام کے دفاع کی نہیں، اس کے اصل تعارف کی ہے۔ اس پر ہمارا فخر، اور فخر کی بنا پر تمام احکام فرائض وسنن کو دانتوں سے پکڑنا دعوت کا حصہ ہے۔ افغانستان اس کی مثال ہے جو دنیا کے دباؤ پر ’جاہلیت‘ قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026