پاکستان کی بقا اور استحکام کا راز:
نظریۂ پاکستان کی عملی تعبیر!
16 دسمبر 2022ء کو تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام ’’ پاکستان کی بقااور استحکام کا راز:
نظریۂ پاکستان کی عملی تعبیر ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے سیمینار میں مرکزی ناظم و نشرو اشاعت
محترم ایوب بیگ مرزا نے خصوصی مقالہ پیش کیا تھا اس کا خلاصہ ہدیہ قارئین ہے۔(ادارہ)
آج 16 دسمبر 2022ء ہے یعنی سقوطِ ڈھاکہ کو اکیاون برس گزر چکے جسے اصلاً سقوطِ مشرقی پاکستان کہنا چاہیے۔ یہ درحقیقت صرف قومی نہیں بلکہ ملی سطح پر ایک جانکاہ سانحہ تھا۔ اس لیے کہ اگرچہ اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں کوجہاں بہت سی فتوحات حاصل ہوئیں وہاں مسلمان شکست سے بھی دوچار ہوئے لیکن اسلامی تاریخ میں یہ مثال شاذہی ملے کہ نصف لاکھ کے لگ بھگ مسلمان فوج نے دشمن کے آگے انتہائی بے بسی سے ہتھیار ڈال دیئے ہوں اور اُنہیں زنجیروں میں جکڑ کر دشمن ملک میں قید کر دیا گیا ہو۔ آغاز ہی میں یہ بات واضح کر دینا مفید ہوگا کہ ہم نے اگرچہ اپنے یہ جنگی قیدی آزاد کروا لیے تھے لیکن بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑی۔ یاد رہے جنگ کے بعد ہونے والے شملہ معاہدہ میں پاکستان نے تسلیم کر لیا تھا کہ کشمیر اب ایک عالمی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ مسئلہ ہے۔
جب کہ پہلے یہ عالمی مسئلہ سمجھاجاتا تھااورسکیورٹی کونسل میں پیش ہوتا تھا۔ لیکن پھرایک طویل مدت تک یہ سکیورٹی کونسل میں پیش نہ ہوسکاکیونکہ یہ عالمی مسئلہ نہ رہا
جب ہم اپنی گفتگو کا عنوان ’’پاکستان کی بقا اور استحکام کا راز: نظریۂ پاکستان کی عملی تعبیر!‘‘بتائیں گے تو سب سے پہلے ’’نظریہ‘‘ پر بات کرنا ہوگی کہ نظریۂ پاکستان کس کی نظر میں کیا تھا اور دیانت داری کے ساتھ بحث کرنے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا واقعتاً اس نظریہ سے انحراف ہی پاکستان کی شکست و ریخت کا باعث بنا۔ مذہبی ذہن کے حاملین کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور پاکستان کا مطلب کیا نہ صرف ایک اہم ترین نعرہ تھا بلکہ اس نعرے نے مسلمانانِ برصغیر کو ایسا جوش اور ولولہ دیا جس کے سامنے انگریز کی جابر حکومت اور ہندو اکثریت دونوں ڈھیر ہوگئیں گویا نظریۂ اسلام درحقیقت نظریۂ پاکستان ہی تھا۔ علاوہ ازیں ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘ مسلم لیگ اپنے اس نعرے کو بھی بھرپور انداز میں عام کر رہی تھی گویا تحریک ِ پاکستان کی اصل بنیاد مذہب تھی۔ اور اس نظریہ سے انحراف ہی 1971ء میں پاکستان کی شکست و ریخت کا باعث بنا تھا۔ دوسری طرف ایک اچھا خاصا بڑا طبقہ خاص طور پر سیکولر اور لبرل دانشور حضرات سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا قیام درحقیقت برصغیر کے مسلمانوں کو درپیش سیاسی اور معاشی مسائل کا نتیجہ تھا۔ یعنی متحدہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے سمجھتے تھے کہ اُن کے سیاسی اور معاشی حقوق تلف ہو رہے ہیں یعنی ایک چھوٹی قوم کو بڑی قوم سے یہ خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ آزادی کے بعد اُنہیں بُری طرح کُچل دے گی۔ لہٰذا مسلمانانِ برصغیر کسی اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے۔(یہ سیکولرلوگوںکا نکتہ نظر پیش کررہاہوں)بلکہ اپنے سیاسی اور معاشی تحفظ کے لیے مسلمانوں کا ایک الگ ملک چاہتے تھے جہاں کوئی بڑی قوم اُن کے مذکورہ حقوق تلف نہ کر سکے۔
سیکولر حضرات بڑے زور و شور سے یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ 1937ء کے انتخابات میں مسلم لیگ بُری طرح ناکام ہوئی اور ہندوستان کے گیارہ کے گیارہ صوبوں میں کانگرس نے حکومت بنالی اورمسلمانوں سے سیاسی اور معاشی لحاظ سے بدترین سلوک کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1946ء میں مسلم لیگ کو زبردست کامیابی ملی اور وہ تمام مسلمان نشستیں جیت گئی لہٰذا بقول اُن کے مسئلہ دنیوی فوائد کا تھا کسی دینی نظریہ کا نہیں تھا۔ مسلم لیگ کےمرکزی رہنما سردار شوکت حیات تو یہاں تک کہتے تھے کہ
پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ الا اللہ سرے سے مسلم لیگ کا نعرہ ہی نہیں تھا اور کبھی مسلم لیگ کے سٹیج سے نہیں لگایا گیا تھا یہ نعرہ تو چند چھوکروں نے لگایا تھا۔(انہوں نے خاص طورپرچھوکروں کالفظ استعمال کیاتھا۔) جس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں تھی۔ تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ دونوں دھڑوں یعنی مذہبی لوگوں اور سیکولرز کی آرا درست ہیں۔ ایسی صورت میں اولاً جائزہ لیتے ہیں کہ اسلام کو نظریۂ پاکستان یعنی اسلام کو نئی ریاست کی جڑ اور بنیاد تسلیم کرتے ہوئے ہماری کارکردگی کیا تھی۔ اگرچہ آغاز میں مسائل کا انبار تھا خاص طور پر مہاجرین کی آباد کاری ایک بہت بڑا مسئلہ تھا جو کسی قدر خوش اسلوبی سے طے پا رہا تھا۔پھر یہ کہ وقت کی حکومت کو اپنے پاؤں جمانے تھے۔ لیکن وقت کی انتظامیہ جسے اُس دور کی اشرافیہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں بُری طرح ناکام ہوئی کہ پرانا نظام جو ہمارے انگریز آقاؤں نے اپنی حاکمیت کا تسلط جمانے کے لیے ہم پر مسلط کیا ہوا تھا، اُس سے دوری اختیار کرنے کے لیے جب تک ہم ایک انقلابی چھلانگ نہیں لگائیں گے اور جس نظریہ کی بنیاد پر ہم نے اس ملک کو حاصل کیا ہے اُس کی تعبیر سے اس ملک کی بنیادیں نہیں اٹھائیں گے تو ہم حقیقی آزادی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
تقریباً دو سال تک حکومت گومگو کی صورت میں رہی اسلام کی طرف بڑھنے کے اعلانات کرتی رہی لیڈر بیان دیتے رہے لیکن کوئی عملی قدم نہ اٹھایا جا سکا۔البتہ یہاں یہ وضاحت بہت ضروری ہے کہ قائداعظمؒ نو مسلم علامہ محمد اسد کی سربراہی میں ''Department of Islamic Reconstruction'' ایک شعبہ قائم کر چکے تھے حالانکہ پاکستان بننے کے ایک سال بعد قائداعظمؒ نے بیماری کی حالت میں وقت گزرا اور یہ واحد شعبہ تھا۔جو قائداعظمؒ نے اپنی زندگی میں قائم کیا تھا اس سے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے قائداعظمؒ کے ارادے بالکل عیاں ہو جاتے ہیں ۔پھر یہ کہ مولانا شبیر احمد عثمانی ؒنے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور تنبیہ کی کہ اگر وہ اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالے سے آگے نہ بڑھی تو وہ عوام میں جائیں گے اور لوگوں کو بتائیں گے کہ مسلم لیگ ایک دھوکہ باز جماعت ہے اور قیام پاکستان کے حوالے سے اُس نے عوام سے بہت بڑا دھوکہ کیا ہے۔ یہ وارننگ کارگر ثابت ہوئی اور اسمبلی نے قرار دادِ مقاصد منظور کر لی۔(یہ قرارداد مقاصد 1949ء میں منظور ہوئی) ۔
ہمارے نزدیک یہ بہت مبارک کام تھا لیکن اگرچہ اسمبلی کی اکثریت کا رویہ مثبت تھا لیکن بعض ارکان اسمبلی کی طرف سے جو تبصرے سامنے آئے وہ بھی شرم سے ڈوب مرنے والے تھے بس یوں سمجھ لیں کہ وہ کہہ رہے تھے ’’اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں۔‘‘ مزید دو سال تذبذب اور کنفیوژن میں گزر گئے 16 اکتوبر 1951ء کو وزیر اعظم لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ شنید ہے کہ وزیراعظم لیاقت علی خان نے نہ صرف قرار دادِ مقاصد کو عملی شکل دینے کا عہد کر لیا تھا بلکہ وہ اس حوالے سے کچھ اقدام کرنا چاہ رہے تھے لیکن اُنہیں شہید کر دیا گیا۔ اُن کے قاتل کو فوری طور پر گولی مار کر ہلاک کر دینے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک گہری سازش تھی جس کے پرت آج تک نہیں کھل سکے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اسلام کے حوالے سے گاڑی کو ریورس گیئر لگ گیا اور جوں جوں وقت گزرتا گیا کہ پاکستان اور اسلام میں فاصلے بڑھتے چلے گئے۔بلکہ یہاں تک کہہ دیا گیا کہ نظریۂ پاکستان کا شوشہ تو یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات نوابزادہ شیر علی خان نے چھوڑا تھا اس کی کوئی حیثیت نہیں(نہ ہی اس کا نام پہلے کبھی سناگیاتھا۔یعنی ۷۰ء میں یحییٰ خان کے وزیریہ فرمارہے ہیں ) یعنی ہم نے سرکاری اعزاز کے ساتھ اسلام اور پاکستان کے تعلق کو دفنا دیا اور اوپر ڈھیروں مٹی ڈال دی۔
اب آئیے اُن لوگوں کی طرف جو پاکستان کے قیام کی بنیاد سیاسی اور معاشی قرار دیتے ہیں۔ وہ سیکولر جمہوریت کے قائل ہیں۔ اسے پاکستان کے مسائل کا حل قرار دیتے ہیں ۔لیکن پاکستان میں اس بیچاری جمہوریت کا جو حشر ہوا ،اُس کا حقیقی اور بہترین نقشہ شورش کشمیری نے کھینچاتھا،بلکہ درست کھینچا تھا۔لیکن میں وہ شعر نہیں پڑھتا کیونکہ ہم قرآن آڈیٹوریم میں بیٹھے ہیں ہمیں اس جگہ کا تقدس غیر مہذب اور غیر اخلاقی الفاظ بولنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس جمہوریت کی کچھ تفصیل یوں ہے کہ 1951ء میں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد 1958ء تک ہم نے چھ وزیراعظم بھگتائے اور ہمیں دشمن ملک کے وزیراعظم پنڈت نہرو سے یہ طعنہ سننا پڑا کہ میں اتنے کپڑے نہیں بدلتا جتنے پاکستان میں وزیراعظم بدلتے ہیں ۔پھر بار بار مارشل لاء لگا۔ جمہوریت کا کوئی شیدائی یا جیالا احتجاج کے لیے بھی باہر نہ نکلا بلکہ ہر آنے والے کا استقبال ہوا۔ اسی طرح بدترین معاشی استحصال کا معاملہ رہا جوآج تک قائم ہے۔ جس نے غریب ہی نہیں متوسط طبقہ کو بھی زندہ درگو رکر دیا ۔
میں جوبات آپ کے سامنے لاناچاہتاہوں کہ جویہ کہتے تھے کہ پاکستان اسلام کے نظریہ پرقائم ہوا۔انہوںنے بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کیااورجوکہتے تھے کہ پاکستان توجمہوریت کانتیجہ تھا،ووٹنگ ہوئی تھی ۔ خاص طورپرخیبر پختونخواہ میں اورویسے بھی پاکستان 1946ء کے انتخابات کانتیجہ تھاپاکستان، لہٰذا توجمہوریت کی پیدائش ہے ۔ نہ انہو ں نے کچھ کیاجوپاکستان کواسلام کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ اور نہ انہوں نے کچھ کیاجوسمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اگر جمہوریت رہتی توپاکستان مستحکم ہوتا۔
قصہ کوتاہ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ نہ ہم نے اسلام کو بطور نظریۂ پاکستان ایک ہدف کے سامنے رکھا کہ ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی فلاحی ریاست وجود میں آسکے اور نہ ہی ہم نے اس نظریہ کو ایسی عملی تعبیر دینے کی مخلصانہ کوشش کی کہ سیاسی اور معاشی مسائل حل کیے جاتے اور ایک مضبوط پاکستان سیکولر ہی سہی سامنے توآتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تو نو سال تک کسی سیکولر جمہوری ملک کی طرح کا آئین بھی نہ بنا سکا اور پھر 1956ء میں اللہ اللہ کرکےآئین بنا تو صرف دو سال کی عمر میں اس ننھے منھے آئین کو بھاری بوٹوں نے بُری طرح کچل دیا۔ پھر 1973ء میں ایک اور آئین بنا جس کی آج تک نجانے کتنی مرتبہ بے حرمتی ہو چکی ہے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ آئین کیا ہے موم کی ناک ہے ۔گویا ہم نے ایک ایساجمہوری پاکستان بنایاجس میں پہلے آئین نہیں تھا،بعد میں کوئی جمہوری قدر نہیں تھی۔ اور ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جس کے سیاسی اور معاشی چپو ناکارہ تھے۔
حضرات و خواتین! اب تک میں نے دو متحارب نظریات کے حامل گروپس کا نکتہ نظر آپ کے سامنے رکھا ہے۔ اوریہ بہت تکلیف دہ ہے کہ دونوں نے اس حوالے سے کوئی مثبت کام نہیں کیا۔
اب میں آپ کے سامنے اس حوالے سے تنظیم اسلامی کا نقطۂ نظر سامنے رکھنا چاہوں گا۔ گزارش یہ ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اگر کوئی شخص اس حقیقت سے انکار کرتا ہے تو یہ بدترین ڈھٹائی ہے ۔ایسے شخص کی ذہنی صحت مشکوک ہے۔ البتہ اگر کوئی کہے کہ تحریک پاکستان کا محرک اور پس منظر صرف اسلام نہیں تھا تو اس بات میں وزن ہے۔
یہ وزن کیوں ہے ۔اس لیے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیاسی اورمعاشی وجوہات تھیں۔ آخرکار کوئی وجہ تھی کہ 1937ء میں بری طرح ناکام ہونے والی مسلم لیگ جب ہندوئوں کے ہاتھوں سیاسی اورمعاشی طورپرپسی تو1946ء میں مسلم لیگ نے ساری سیٹیں جیت لیں۔ میں تسلیم کر چکا ہوں کہ اس دلیل میں وزن ہے لیکن یہ ایک بڑا اہم سوال ہے کہ جس قوم کو ہندو کی بالادستی کا خوف تھا اُس کا مذہب اسلام تھا اور اُنہیں جو بھی خوف لاحق تھا یا جو بھی ان کے ساتھ بد سلوکی ہوئی ،جس طرح ان کے سیاسی اورمعاشی حقوق کوکچلا گیا،وہ اس وجہ سے ہواکہ وہ مسلمان تھے ۔
تو بات پھر گھوم کر وہیں آگئی کہ اصل مسئلہ مذہب کا تھا۔لہٰذا ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ بات الگ ہے کہ کسی کو اسلام کے نام سے چڑ ہولیکن پاکستان اور اسلام کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پاکستان ایک جسد ہے جس کی روح اسلام ہے۔ اسلام کے بغیر پاکستان ایک بے روح لاشہ ہے۔یاد رکھیے کہ کبھی کوئی سانحہ یک لخت پیش نہیں آجاتا۔ اب تھوڑاساہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے سیاسی اورمعاشی نظام کے حوالے سےمملکت خدادادپاکستان میں پون صدی میں کیاہوا؟ہم یہ کہتے ہیںکہ اگر خالصتاً اسلامی ریاست بن جائے تووہ ایک آئیڈیل صورت ہوگی۔ آئیڈیل اسلامی ریاست میںخلافت راشدہ سے بہتر دور کاتصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔لیکن یہاں میں جس چیز کوپوائنٹ آئوٹ کرناچاہتا ہوں، وہ یہ کہ ہم ایک بات بھول جاتے ہیں کہ یہ بات مسلمان ہی نہیں غیرمسلم بھی مانتے ہیں کہ جوسیاسی اورمعاشی حقوق مسلمانوں کوخلافت راشدہ کے دور میں ملے کوئی مسلم یاغیرمسلم حکومت بعد میں بھی نہ دے سکی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر واقعتاً ہم اسلام کی بنیادپرپاکستان کی بنیاد اٹھاتے ہیں تودنیا اور آخرت دونوں سنورجائیں گی۔ یعنی ایسا نہیں کہ صرف دین کے حوالے سے بات ہوگی یاصرف آخرت کے حوالے سے بات ہوگی۔آخرت یقیناًترجیح اوّل ہوتی ہےلیکن پاکستانیوںکی دنیا بھی سنورتی۔ فرد کی دنیا بھی سنورتی اورایسا نہیں ہے کہ اسلام کولوگوں کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ہم اکثر بھول جاتے ہیںاور اس طرف ہم کوئی توجہ نہیں دیتےکہ خلافت راشدہ میں سیاسی اور معاشی حقوق کتنے آئیڈیل تھے ۔ بعد میں بھی کوئی اس کی مثال پیش نہیں کرسکا۔ آج کی دنیا فریڈم آف سپیچ کی بات کرتی ہے جمہوریت کا دعویٰ کرتی ہے ؕ۔اس سے بہتر جمہوری رویہ کیاہوسکتا ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے پوچھاجارہاہے کہ آپ نے یہ کپڑوں کاجوڑا کیسے بنالیا۔ بہترین جمہوریت صرف ووٹوں کانام نہیںہے ۔ایک روایت میں ہےکہ ایک صحابیؓ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہیں اورحضرت عمررضی اللہ جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے تشریف لارہے ہیں۔تھوڑا لیٹ ہوجاتے ہیں تووہ صحابیؓبڑے درشت آواز میں کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ملازم ہیں کہ نماز کے لیے آپؓ کاانتظار کرتے رہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اندر تشریف لاتے ہیں اور اندر خطبہ دینے سے پہلےیہ وضاحت کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک ہی کُرتا تھا۔ وہ میںنے صبح دھلوایاتھالیکن وہ ابھی تک صحیح طرح سوکھا نہیں تھااورآپ لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ ابھی بھی پوری طرح نہیں سوکھا۔یعنی میرے دیر سے آنے کی صرف ایک کرتا ہونا بنی ہے، یہ ہے اصل جمہوریت ۔ہم صرف دین کامطلب نماز روزہ سمجھتے ہیں،اس کے آگے نہیں سمجھتے اوردنیا کامطلب پیسہ کمانا اوراس سے آگے نہیں سمجھتے۔ ایک دیندار یادینی حکومت جتناانسانوں کی فلاح کاخیال رکھے گی کوئی سیکولر حکومت اتنا انسانوں کی فلاح اوران کے سیاسی ومعاشی حقوق کاخیال نہیں رکھے گی ۔لہٰذا یہ بڑی اہم بات ہے ۔ یہ بات لوگوں میں عام ہونی چاہیے۔ اور آج کے مسلمانوں کے علم میں آنی چاہیے۔میں سمجھتاہوں کہ نان مسلم اس بات کومانتے ہیں کہ خلافت راشدہ میں جس طرح لوگوں کے سیاسی اورمعاشی حقوق تھے وہ بعد میں نہیں ہوسکے ۔مسلمانوں کو توا س کا مبلغ ہونا چاہیے ۔
اب آجائیے 1971ء کی پاک بھارت جنگ کی طرف ۔1971ء میں پاکستان کوشکست ہوئی اس حوالے سے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے آرمی چیف نے G.H.Q میں اپنے الوداعی خطاب میں فیصلہ کن انداز میں ارشاد فرمایا کہ 1971ء میں پاکستان کی شکست ہرگز فوجی شکست نہیں تھی بلکہ یہ سیاسی شکست تھی گویا اُنہوں نے سارا ملبہ سیاست دانوں پر ڈال دیا۔ میں سمجھتا ہوں اس بیان کا پوسٹ مارٹم کرنا ضروری ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آئیں۔ حقیقت میں تو اس شکست کا ذمہ دار قوم کا ہر ہر فرد ہے جو پاکستان میں بستا ہے کسی نے بھی اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی، لیکن ظاہر ہے کہ جتنی جتنی کسی کے پاس قوت اور اختیار تھا اُتنا ہی وہ ذمہ دار تھا۔ فوج ویسے بھی سرحدوں کی محافظ ہے ۔ہم شاید یہ بھول چکے ہیں کہ یہ فوج کی اوّلین بلکہ واحد ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن اُس وقت تو بدقسمتی سے فوج حکمران بھی تھی یعنی سیاسی حیثیت بھی فوج ہی کی تھی پھر یہ کہنا بڑا عجیب لگتا ہے کہ یہ فوجی نہیں سیاسی شکست تھی۔اگر فوج اپنی اصل ذمہ داری ادا کر رہی ہوتی اور ایوان صدر کی بجائے صرف مورچوں میں موجود ہوتی تو ہمیں یہ ذلت آمیز شکست نہ ہوتی ۔البتہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ سیاست دانوں کو بھی مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سیاست دان جو ہر دم جمہوریت جمہوریت کی رٹ لگاتے ہیں اور اُس وقت بھی لگا رہے تھے تو اس صورت میںاُنہیں انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنا چاہیے تھا ۔
انہیں انتخابات کے نام سے اُس وقت بھی کرنٹ پڑرہے تھے اورچاہتے تھے کہ اس کے بغیر ہی اقتدار مل جائے۔
لیکن سیاست دانوں کا ہمیشہ یہ معاملہ رہا ہے کہ اوّل تو انتخابات کروانے کے حوالے سے ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں اور جب انتخابات ہو جائیں تو اُس کے نتائج تسلیم نہیں کرتے۔ عوامی لیگ جس کے اُس وقت سربراہ شیخ مجیب الرحمٰن تھے انتخابات میں واضح طور پر کامیاب ہو چکے تھے۔لیکن P.P.P کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو اُنہیں اقتدار منتقل کرنے کے حق میں نہیں تھے اور وہ بار بار ایک عجیب بات کہہ رہے تھے کہ کیا ہم نے انتخابات میں حصہ اپوزیشن میں بیٹھنے کے لیے لیا ہے؟
جب جمہوریت کہتے ہواور جمہوریت میں جب ووٹنگ ہوتی ہے توزیادہ ووٹ لینے والی اورزیادہ سیٹیں جیتنے والی جماعت ہی حکومت کرتی ہے اورچاہے ایک ہی سیٹ کم ہو دوسری جماعت اپوزیشن میں بیٹھتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ایک جلسے میں یہ کہنا وہ بہت بڑاظلم تھا۔جب ڈھاکہ میں اسمبلی کے سیشن کی تاریخ25مارچ طےہوگئی تھی ،تووہ فرماتے ہیں کہ اگر میرا کوئی اسمبلی ممبر اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ڈھاکہ گیا تو میں اُس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔میں نہیں جانتا کہ ٹانگیں ٹوٹیں یا نہ ٹوٹیں لیکن ملک ٹوٹ گیا۔
آخر میں آپ حضرات سے دو انتہائی اہم باتیں کرنا چاہتا ہوں لہٰذا خصوصی توجہ کی درخواست ہے۔ ایک یہ کہ ریاست کی حفاظت ایٹم بم کم اور نظریہ زیادہ کرتا ہے۔ آپ کے سامنے سوویت یونین کی مثال ہے ۔وہ اپنے نظریہ کمیونزم سے منحرف ہوئے تو ریاست پاش پاش ہوگئی درجنوں ایٹم بم ریاست کو نہ بچا سکے۔ ہمیں فخر ہے کہ پاکستان واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہے۔ اللہ کا شکر ہے لیکن ہماری قوت ہمارے نظریہ میں ہے۔ اگر ہم نے نظریاتی انحراف کو اپنی انتہا تک پہنچا دیا تو جو ایٹمی صلاحیت ہمیں افلاس، محتاجی اور دوسروں کی غلامی سے نہیں بچا سکی ۔وہ اس کج روی پر ہمیں نیست و نابود ہونے سے کیسے بچاسکے گی۔اور دوسری بات یہ ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کی فوری وجہ یقیناً یہ تھی کہ ہم نے عوامی رائے، عوامی مینڈیٹ اور عوامی فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ نظام خلافت میں بھی ایسی عوامی رائے جو شریعت کے دائرے کے اندر ہو اُسے یکسر نظر انداز کر دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ گویا اسلامی حکومت کی فیصلہ سازی کے قواعد و ضوابط میں عوامی رائے کی اہمیت ظاہر و باہر ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے دوران طواف کر رہے تھے کہ کسی نے اُن کو بتایا کہ کچھ لوگ سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ عمرؓ کے بعد فلاں شخص کو خلیفہ بنا دیں گے۔ آپ ؓنے کہا یہ تو صرف لوگوں کا حق ہے کہ خلیفہ کون بنے؟ آپ ؓنے حکم دیا کہ ابھی لوگوں کو جمع کیا جائے تو میں اُنہیں یہ بات بتاؤں۔ لیکن آپؓ کو مشورہ دیا گیا کہ ایسا مدینہ واپس جا کر کرنا مناسب ہوگا۔ گویا ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ عوام اور حکمران دونوں کو اپنے نظریہ کودانتوں سے پکڑنا ہوگا ۔اُس سے معمولی انحراف بھی ہرگز قبول نہیں اور عوام کو بھی ساتھ لے کر چلناہوگا۔جوحکمران عوام کوساتھ لے کر نہیں چلتاا ورعوام کونظرا نداز کرتاہے۔ وہ بھی ملک وقوم کے ساتھ مخلص نہیں ہے ۔ یہ دونوں باتیںاہم ہیں۔
ززز
tanzeemdigitallibrary.com © 2026