(کارِ ترقیاتی) سودائی بت خانہ ہے! - عامرہ احسان

11 /

سودائی بت خانہ ہے!

عامرہ احسان

ہر طیارے میں ایک ڈبا ہوتا ہے، ’بلیک باکس‘۔ یہ حد درجے پائیدار، (خدانخواستہ) حادثہ ہو جائے تو یہ آگ اور ٹوٹنے سے محفوظ رہتا ہے۔ رنگ اس کا شوخ نارنجی ہوتا ہے۔ تاکہ تلاش آسان ہو دور سے نظر آجائے۔ اسے حادثے کی صورت میں فوری تحویل میں لیا جاتا ہے۔ اس میں ایک حصہ پرواز کا (Data)، بنیادی معلومات، بلندی، رفتار وغیرہ نوٹ ہوتی ہے۔ دوسرے حصے میں آوازیں، گفتگوئیں ریکارڈ ہوتی ہیں۔ حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے اہم ترین۔ انسانی وجود میں بھی ایک بلیک باکس ہوتا ہے جو لمحہ لمحہ محفوظ (ریکارڈ)کرتا ہے۔    ’ہر انسان کے اعمال کو ہم نے (بصورتِ کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے۔ اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا۔ (کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے۔ تو آج اپنا، آپ ہی محاسب کافی ہے۔‘(بنی اسرائیل: 13،14) ’اُس روز (قیامت، زندگی بعد موت) تیرے رب کے سامنے ہی جا کر ٹھہرنا ہوگا۔ اس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا۔ بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہیے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔‘ (القیامۃ: 12تا15) 
انسان کے اندر نفسِ انسانی بھی موجود ہے۔ (اندر کی دنیا میں تنہائی میں جھانک کر دیکھئے۔)جو اگر بے ڈھب، بے تربیت، من مانی، خودپرستی کا عادی بنا دیا جائے تو خواہشات کا مسکن، متکبر، خود کو بے عیب جاننے والا بن جاتا ہے یعنی نفس اِمّارہ۔ دوسرا وہ نفس جو مثبت تربیت قبول کرتا ہے۔ غلط / صحیح کی پہچان رکھتا۔ بد عملی، بدنیتی پر نادم، شرمسار ہوتا، خود کو ملامت کرتا، باز آجاتا، غلطی کا      اقرار کرنے اور ندامت و تلافی میں قرار پاتا ہے۔ یہ نفس لوامہ ہے۔ (القیامۃ: 2 ) یہی ضمیر ہے، اندر سے اٹھنے والی روکنے ٹوکنے کی آواز! اس کا گلا گھونٹ کر نتین یا ہو بن جاتا ہے۔ قاتل، بے رحمی اور ظلم کی تربیت پانے والے معصوم جانوروں کی گردن بلا سبب مروڑ کر،تڑپتا چھوڑ کر لطف لے کر اس مقام تک پہنچ پاتے ہیں کہ وہ بے حس، اذیت پسند، بے درد ہو جائیں۔ ننھے بچوں کے سروں کے نشانے لے کر انہیں ماریں یا حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کریں۔ صابرہ شتیلہ (لبنان ) فلسطینی کیمپوں( 18- 16 ستمبر 1982ء) میں 3500 مہاجر، زیادہ تر عورتیں، بچے اور بوڑھے چیر پھاڑ کررکھ دئیے۔ ذمہ داری     وزیر دفاع اسرائیل، ایریل شیرون کی تھی جو جنوری 2006 ء تک بلا احتساب تھا مگر بالآخر فالج کا شکار ہوا اور 8 سال شدید کس مپرسی (نہ زندہ، نہ مردہ) میں گزار کر 2014 ء عمر 85سال میں مر گیا، جنرل اور سیاست دان جو 5 سال وزیر اعظم اسرائیل بھی رہا۔ یہ بے ضمیری کی اذیت دہ داستان ہے جو عبرت انگیز ہے۔
تا ہم اس وقت غزہ اسرائیل 2 سالہ تنازعے میں بے شمار مرتبہ ضمیر کی قوت سامنے آتی رہی۔ وہ جنہوں نے ضمیر کا گلا گھونٹ کر ڈھٹائی اختیار کرنی چاہی دنیاوی مفادات کی خاطر۔ یا وہ پاگل،نفسیاتی مریض ہو گئے یا انہوں نے خود کشی کرلی۔ ضمیر کی خلش نے انہیں جینے نہ دیا۔ امریکی ایئر فورس کا وہ حساس افسر جو خود تو با ضابطہ اس جرم کا شراکت کار نہ تھا لیکن ظلم کی انتہا اور اپنی کم ہمتی،   بے بسی کے ہاتھوں اس نے خود کو آگ لگا دی کہ شاید وہ اس جرمِ عظیم سے برأت کا اظہار کر کے امریکی حکومت کو احساس دلا سکے۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! ایک منظر وہ بھی رہا ( کئی مرتبہ دہرایا گیا اسرائیل میں) کہ غزہ سے  لڑ کر آنے والا نوجوان دھاڑیں مار مار کر روتا ہے۔ غزہ کے بے گناہ معصوم شہری اسے ڈراؤنے خوابوں میں آآکر جھنجھوڑتے ہیں۔ اور پھر وہ کئی ایسے ہی فوجی اپنے افسروں کے آگے نفسیاتی ادویہ اور خواب آور گولیاں پٹختے ہیں کہ یہ ہمارا علاج کرنے سے قاصر ہیں۔ اندر ضمیر کی تلخی، کشمکش کسی دوا، شراب، حسینہ کے حسن سے قرار نہیں پاتی۔ جنہوں نے اپنے ضمیر کا حکم مانا۔ درست فیصلے کر کے کش مکش سے نکل آئے۔ وہ عظیم کہانی بھی پڑھیے!امریکہ میںمسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی نمایاں تنظیم(CAIR) نے امریکی فوجی افسر کو دعوتِ خطاب دی جو مختصراً پیش ہے۔ اس امریکی جیسے بہادر لوگ غزہ کے لازوال استقامت   والے مردوں، عورتوں، بچوں نے دنیا بھر میں اٹھا کھڑے کیے ہیں اپنی اعلیٰ وارفع مثال سے۔
لیفٹیننٹ کرنل انتھونی اگیلار، غزہ میں (GHF) انسانیت کے نام پر امداد فراہم کرنے والاادارہ تھا جس میں اسرائیلی، امریکی حکومت اور کرائے کے (اسلام دشمن) فوجی کام کر رہے تھے۔ خوراک ناقص، ناکافی، کچی،(چاول، لوبیا، پاستا) بلا پانی کی فراہمی کے بھوکے فلسطینیوں کو دی جاتی جبکہ پکانے کے اسباب بھی میسر نہ تھے۔ کرنل کے مطابق پہلے اسرائیل میں (امریکہ سے آنے پر) اہل غزہ کی بد ترین تصویر کشی کر کے نفرت سے ہمیں بھرا جاتا۔ پھر ہم ڈیوٹی پر آتے۔ یہاں تعینات ہوا تو پہلی مرتبہ آنکھوں سے اہل غزہ کی بے چارگی، ظلم اور خوراک کے بھس بھرے ڈبے تذلیل سے تھما کر واپس جاتوں پہ گولیاں برستی دیکھیں۔ اس نے کہا: میں اس قابل نہیں ہوں کہ میں نہایت بہادر، باہمت فلسطینیوں کی آواز بنوں۔ کاش! میں بھی ان جیسا ہوتا! اس لیے آیا ہوں کہ مجھے ایک دن اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ خدا مجھ سے پوچھے گا۔ ’میں نے تمہیں قوت ِگویائی دی تھی، تم نے سچ کیوں نہ بولا؟ میں نے تمہیں ہمت، جرأت دی تھی۔ کیوں تم نے بزدلی کا انتخاب کیا؟ میں نے تمہیں دماغ دیا تھا، تم نے کیوں اپنے لیے (ادا کیے جانے والا کردار) نہ سوچا؟ لیکن میں اپنے خدا (God) سے یہ گفتگو نہیں چاہتا۔سو میں نے کہا، میں سچائی کے لیے کھڑا ہوں گا اور   سچ بولوں گا۔ بہادر بنوں گا۔ نہایت خوبصورت قوم کے لیے جو بے آواز رہی۔ کرنل نے کہا کہ بدی (باطل کو) کامیابی کے لیے صرف ایک چیز درکار ہوتی ہے، کہ نیکی (حق) کچھ بھی نہ کرے! (یا کرے تو اصلاً در پردہ باطل (اسرائیل امریکہ) کی مضبوطی کے لیے، ان سے مفادات لینے کو کرے! کیا 2 ارب مسلمان یہی نہیں کر رہے؟)
فلسطینیوں کا جو حال دیکھا اس نے مجھے اندر تک کاٹ کر رکھ دیا۔ نسل کشی، فاقہ کشی، بیماریاں، مسلسل ایک سے دوسری جگہ منتقلی! انسانیت پر سیاہ دھبہ جو کبھی مٹایا نہ جاسکے گا! اور مسلمانی پر؟ (مختصراً) یہ کہ وہ ایک چھوٹی لڑکی کا واقعہ سناتا ہے جو اس وقت امداد لینے آئی جب سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ ننگے پیر، کمر پر بستہ پہنا ہوا، جنگی علاقے میں بے خوف چلی آئی کہ گھر والوں کے کھانے کو کچھ مل جائے۔ سیدھی میرے پاس آئی۔ ایک مسلح امریکی فوجی! ترجمان کے ذریعے مجھ سے کہا، کھانا کہاں ہے؟ ’کھانا تو ختم ہو گیا‘۔ مگر میں تو خالی ہاتھ نہ جاؤں گی۔ پھر کچھ بسکٹ تھے، پیک جو میں نے اسے دئیے۔ اس نے وہ قریب کھڑے بچوں میں بانٹ دیئے۔ میں نے ایک اور پیک دیا، اتنے میں اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ شروع کردی۔ میں نے اسے کہا، فوراً تم گھر جاؤ۔ گھر جاؤ۔ اس نے اپنے تھیلے میں سے ایک تصویر نکالی۔ کہا۔ یہ میرا گھر تھا، عین اسی جگہ (جہاں ہم کھڑے تھے) اشارہ کرتی گئی۔ وہاں میرا سکول تھا، وہاں مسجد ، وہاں کھیل کا میدان! میں نے پھر کہا بچی سے۔ ابھی تم گھر جاؤ۔ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی، ’تم گھر جاؤ‘ اور یہی سچ تھا! اور میں فوراً امریکہ لوٹ آیا۔ سیدھا کا نگریس گیا۔ فارن افیئرز کمیٹی میں۔ میں نے وہاں سینیٹر رِس کو برملا امریکی آئین تھامے کہا کہ ’امریکی حکومت نسل کشی میں شراکت کار ہے۔ تم آئین سے اپنے حلف کی پاسداری کرو۔‘ اس نے غصے میں کہا ’تم جیل جاؤ!‘۔ مجھے گرفتار کیا گیا اور وہ میری زندگی کا قیمتی ترین قابل فخر لمحہ تھا! 
ہماری حکومت کے کچھ سیاستدان سودا کیے ہوئے ہیں۔ پیسے سے، طاقت سے، AIPAC (امریکی اسرائیلی یک جہتی کمیٹی) سے مفادات حاصل کرنے والے،  یاکسی اور بیرونی طاقت سے (فوائد سمیٹنے والے!) یہ امریکی طریقہ نہیں ہے۔ (بھولے بادشاہ! ہم سے پوچھو! ہم امریکی کالونی ہیں۔ یہ انہوں نے ملکوں ملکوں انسان خرید رکھے ہیں اور یہی آگے ان کا بھی طریقِ واردات ہے!) اس کا کہنا تھا کہ پیارے فلسطینی لوگوں کی آواز کو باطل نے دبا رکھا ہے۔ یہ ہم نہ ہونے دیں گے۔ کہانیاں تو لا منتہا ہیں۔ کہیں کہیں سے سنائے ہیں ہم نے افسانے! مغرب پورا جاگ اٹھا ہے۔ کرنل نے بہت بھاری سودا کیا ہے خالق سے۔ اللہ اسے ایمان دے۔ کیئر کے میزبان کے مطابق، اب اس کا کیرئیر، اس کی بیوی بچوں کی جان خطرے میں ہے اللہ ان آوازوں کو توانا کر دے۔
مغربی حکومتیں کرپٹ اور اسرائیل سے دبتی ہیں۔ عوام، حتیٰ کہ ان کے نچیے، گویے، آرٹسٹ سبھی کے ضمیر    جی اٹھے ہیں۔ یورووژن، راگ راگنی کا بھاری اکٹھ، اس پر بے شمار یورپی ممالک شہرت، عزت، پیسے کو دھتکار کر شمولیت سے انکاری ہو رہے ہیں، اگر قاتل اسرائیلیوں کو اس میں شمولیت کی اجازت ملی! اور ہم؟ غزہ کی بجائے امریکہ اسرائیل کی جی حضوری کر رہے ہیں۔ وہ مکھن لگا کر ہم سے ایمان خرید رہے ہیں؟ 
کعبہ پہلو میں ہے اور سودائی بت خانہ ہے!