بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار
ماجدہ نعیم
معاشرے کی فلاح و بہبود میں خواتین کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور فرد کی اصلاح ایک مسلسل عمل کی متقاضی ہے، کیونکہ افراد کا تشکیل پذیر معاشرہ بھی افراد ہی کی طرح ہمیشہ اصلاح کا طلبگار رہتا ہے، بالخصوص موجودہ دور میں معاشرے میں اعلیٰ اقدار زوال پذیر ہوتی جا رہی ہیں۔ اچھائیوں کا تناسب روز بہ روز کم اور برائیاں بڑھ رہی ہیں، لہٰذا معاشرے میں اصلاح کی ضرورت پہلے کے مقابلے آج کچھ زیادہ ہی ہے۔
معاشرے کی بنیادی اکائی گھر اور خاندان ہے۔ گھروں کا ماحول پاکیزہ اور اعلیٰ اقدار کا حامل ہو گا تو معاشرے کی ہر اکائی خود بخود بہتر ہو جائے گی، اس طرح ایک مثالی معاشرہ وجود میں آئے گا۔معاشرے کی بنیادی اکائی گھر، چونکہ خواتین کے دائرہ کار کا محور ہوتا ہے اس لیے معاشرے کے بگاڑ کی اصلاح کے لیے گھر کو معاشرے کی بنیادی اکائی بنا کر اسے بہتری کی طرف لانا خواتین کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
نبی کریمﷺ نے خواتین کو خانگی اور معاشرتی ہر سطح پر ان کا صحیح مقام و مرتبہ عطا فرمایا۔ خانگی اور معاشرتی ہر دو سطح پر عورت کو انسانی عظمت و احترام سے سرفراز کیا۔ دراصل کسی معاشرے میں عورت کو جو مقام عطا کیا جائے وہ اس لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ ایک تو اس مقام کی بدولت خود عورت کی ذات، شخصیت اور معاشرے میں اس کے کردار کا تعین ہو تا ہے، دوسرے لازمی طور پر خود پورا معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر عورت کو اس کا صحیح مقام و مرتبہ نہ دیا جائے تو نہ صرف معاشرہ اس کی قابلیت و صلاحیت سے استفادہ کرنے سے محروم رہتا ہے، بلکہ خواتین اپنے مخصوص دائرہ کار،یعنی گھر میں بھی اپنا خاطر خواہ اور بھرپور کردار ادا نہیں کر سکتیں۔
اصلا حِ معاشرہ کے عمل میں خواتین کا کردار مردوں کے کردار کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے،کیونکہ عورت ماں ہے اور ماں کی گود میں ہر معاشرے کی نئی نسل پرورش پاتی اور اسی کے ہاتھوں پروان چڑھتی ہے۔ ماں اپنی تربیت سے نسل ِ نَو کو کردار و عمل کا ایسا نمونہ بنا سکتی ہے،جو انسانیت کے لیے باعث ِفخر و نجات ہو۔ نئی نسل تک زندگی کی اعلیٰ اقدار کو پہنچانے میں خواتین کا حصہ زیادہ ہو تا ہے اور نئی نسل کی ذات و شخصیت میں اعلیٰ اقدار اور اوصافِ حمیدہ کا رچائو ماں ہی کرتی ہے۔ ماں غیر محسوس طور پر اپنے نظریات، اپنے طرزِ فکر اور اپنی شخصی خوبیوں کو اپنی گود میں پلنے والی نئی نسل کو منتقل کرتی رہتی ہے۔ ماں کی گود انسان کی اوّلین درس گاہ ہوتی ہے۔ یہ درس گاہ جتنے بلند معیار کی ہوگی، یعنی مائو&ں کی تربیت جتنی بہترین ہوگی، اتنی ہی نئی نسل کو اعلیٰ اقدار منتقل ہوں گی۔ ماں میں اگر ایمانی جذبہ اسلام کی تعلیمات کی روح کے مطابق ہوگا تو معاشرہ بھی اسی معیار کا ہو گا۔
معاشرے کی اصلاح اور فلاح و بہبود کے لیے یہی بنیادی عمل ہے، یعنی اچھائی کا پھیلائو اور گناہوں سے روکنے کا فریضہ اور تعلیماتِ نبویؐ کی روشنی میں اصلاح اور معاشرے میں اہل ِ ایمان خواتین کے کردار کی یہ اساس ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ: ’’تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور اس سے (اس کی رعیت کے متعلق) سوال کیا جائے گا۔ ماں باپ سے اُن کی اولاد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔‘‘
لہٰذا ثابت ہوا کہ مسلمان خواتین بھی تربیّت ِاولاد اور اصلاحِ اولاد کے متعلق ذمّہ دار ہیں اور ان سے اولاد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ مسلمان خواتین پر ان احادیث کی روشنی میں یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ جو اولاد اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے لطف و کرم سے عنایت کی ہے اس کی تربیّت و پرورش پوری ہوش مندی سے کریں، کیونکہ یہ ایک ایسا اہم فریضہ ہے جس سے ایک معاشرہ وجود میں آتا ہے، لہٰذا حکیم و بصیر اور اس کے رسول نے تربیت ِ اولاد، شخصیت سازی اور اصلاحِ معاشرہ کا جو بے حد اہم اور بنیادی فریضہ مسلمان خواتین کو تفویض کیا ہے اس کے لیے ان سے یومِ حشر سوال کیا جائے گا۔
آج جب ہم اپنے معاشرے میں اخلاقی گراوٹ، اعلیٰ اقدار کی کمی اور عملیت کا فقدان دیکھتے ہیں،نیز جب مسلمانوں کو کردار و عمل سے عاری دیکھتے ہیں تو یہ صورتِ احوال دراصل اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ آج کی مسلمان مائیں یا تو اخلاصِ عمل اور جذبہ ایمانی کے لحاظ سے اس معیار اور اس درجے کی مسلمان خواتین نہیں رہیں،جس معیار پر تعلیماتِ نبوی کے مطابق مسلمان ماؤں کو ہونا چاہئے تھا۔ ماؤں کی سیرت و کردار، علم و فضل اور معمولات تو بچے کی شخصیت و ذات پر اس کی ولادت سے پہلے، یعنی دورانِ حمل ہی اثرانداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور رحم ِمادر میں بچے کے ذہن کی ساخت و تعمیر پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔ تمام اولیائے کرام اور نیک ہستیوں کی مائیں نہایت متقی، پرہیز گار اور باعمل خواتین رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راسخ العقیدہ اور باعمل مسلمان خواتین کے بطن سے ہی قابل ِ فخر فرزندانِ اسلام اور بطلِ جلیل پیدا ہوئے۔ یہی حکمت تھی کہ کائنات کے محسنِ اعظم حضرت محمد ﷺ نے اہل ِ ایمان خواتین کی تربیت و تعلیم پر خاص طور پر زور دیا اور مسلمان مردوں کے ساتھ مسلمان عورتوں کے لیے بھی طلب ِ علم کو فرض قرار دیا۔
ماہرین ِعمرانیات کی نظر میں معاشرتی اصلاح کا جامع اور ہمہ گیر پہلو یہی ہے کہ افرادِ معاشرہ کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے اجالوں میں لایا جائے، یعنی معاشرتی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ معاشرے کے افراد کو تعلیم یافتہ بنادیا جائے، ایسا صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب مسلمان خواتین کو حصولِ علم سے محروم نہ رکھا جائے۔ آج اگر بیٹوں کی تعلیم پر والدین یہ سوچ کر توجہ دیتے ہیں کہ وہ باشعور شہری بن کر اپنا معاش بہتر طور پر کما سکیں تو بیٹیوں کو بھی اسی طرح تعلیم سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیں تاکہ وہ باشعور شہری بننے کے ساتھ ساتھ بہترین ماں، بیوی، بہن اور بیٹی بن سکیں۔ مسلمان خواتین حدیث ِنبوی کی روشنی میں اگر طلب ِعلم کے فریضے کو اوّلین اہمیت دیں اور اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کے حصولِ علم کی راہ ہموار کریں تو یہ معاشرہ تعلیم یافتہ افراد کا معاشرہ ہوگا اور جہالت کے باعث، جو معاشرتی برائیاں اس معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں، ان کی اصلاح کی جا سکے گی۔
آج ہمارے معاشرے میں راتوں رات دولت مند بن جانے کا جنون عام ہے۔ کسب ِ حلال کی اہمیت کو پس ِپشت ڈال کر دولت کی ہوس نے معاشرے میں بے شمار خرابیوں کو جنم دیا ہے۔ اگر خواتین نبی کریمؐ کی تعلیمات کے مطابق سادگی سے اپنی زندگی بسر کرنے کو شعار بنا لیں، غیر ضروری فرمائشیں اور ہر آسائش کی خواہش سے اپنے آپ کو باز رکھیں تو اُن کے گھرانے کے مرد ناجائز دولت کے حصول پر مجبور نہیں ہوں گے۔ راشی و مرتشی دونوں کو جہنّم کی وعید دینے والی حدیث کی نہ صرف یاد دہانی کروا کر، بلکہ غیر ضروری اخراجات سے پہلوتہی کر کے خواتین رشوت کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہیں۔
معاشرہ، اخلاقی اعتبار سے جس انحطاط کا شکار ہے، اوّل تو یہ کہ اگر ہر عورت حیاء اور پردے کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو تو بے حیائی اور فحاشی کا قلع قمع ہوجائے گا۔ عورت کی نام نہاد آزادی کے رجحان کی بدولت اسلامی معاشرت کے خلاف ہمارے رویے کی اصلاح صرف اسی طور پر ممکن ہے جب ہم اپنی زندگیوں کو نبی کریم ﷺکی تلقین کے عین مطابق گزاریں۔ آج اگر مسلمان خواتین اپنے اور اپنی اولاد کے معاشرتی رویّے میں تعلیماتِ نبویﷺ کے تحت یہ روش اختیار کریں کہ ہر مسلمان سے، ہر ہم وطن سے یہ سوچ کر کہ میرے آقا و مولاؐ نے مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دیا ہے اور بھائی سے محبت کی جاتی ہے، اس کا لحاظ کیا جاتا ہے،اس سے مروّت برتی جاتی ہے، اس کا احترام کیا جاتا ہے،اس سے درگزر کیا جاتا ہے۔اس طرح صوبائی تعصب اور منافرت کا وجود پاکستان کے معاشرے سے عورت ہی ختم کر سکتی ہے۔ اگر نئی نسل کے لیے ان کی مائیں ان کی حقیقی دوست اور غم گسار بن جائیں۔ ان کی محرومیوں میں ان کا ذہنی و جذباتی سہارا ہوں۔ ان میں ہمّت و حوصلہ پیدا کرنے والی ہوں اور اپنی اولاد کو ا للہ سے لو لگانے کی ترغیب دینے والی ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے اور مکمل ایمان و ایقان ان کی روح میں اتار دیں تو ایسے تباہ کن سہاروں کی تلاش یا ایسے سہارے پکڑنا ہمارے بچوں کا مقدّر نہیں بن سکے گا۔ اللہ تعالیٰ آج کی مسلمان خواتین کو مسلمان ماں کا نورِ بصیرت اور طرزِ محبت عطا کرے تاکہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو زندگی گزارنے کا اصل مقصد اور طریقہ سمجھ آ جائے اور ہمارا معاشرہ خالصتاً مادّی معاشرے کے بجائے ایسا معاشرہ بن جائے، جس کا منتہائے مقصود دین و دنیا کی فلاح ہو۔ آمین یا رب العالمین!