الہدیٰ
مصیبت کے وقت اللہ ہی یاد آتا ہے!
آیت 33{وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّہُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ} ’’اور جب انسانوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ پکارتے ہیں، اپنے رب کو اُسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے‘‘
{ثُمَّ اِذَآ اَذَاقَہُمْ مِّنْہُ رَحْمَۃً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ بِرَبِّہِمْ یُشْرِکُوْنَ(33)} ’’پھر جب وہ اُنہیں اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو جبھی اُن میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔‘‘
آیت 34 {لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰہُمْ ط} ’’تا کہ ناشکری کریں اُس کی جو کچھ ہم نے اُنہیں عطا کیا ہے۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کو اللہ کی نا فرمانی میں استعمال کر کے عملی طور پر اُس کی ناشکری کا ثبوت دیں۔
{فَتَمَتَّعُوْاوقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ(34)}’’تو ٹھیک ہے (چند روزہ زندگی کا) فائدہ اُٹھا لو‘پھر جلدی ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘
یہ وہی انداز ہے جو سورۃ التّکاثُر میں آیا ہے:{کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (3) ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ(4)}
کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ ہے‘ اِس محدود مہلت میں تم اپنی من مانیوں کے مزے اڑالو۔ بالآخر تم نے ہمارے پاس ہی آنا ہے اور وہ وقت دور بھی نہیں۔ چنانچہ بہت جلد اصل حقائق تم پر منکشف ہو جائیں گے۔
درس الحدیث
اللہ کی راہ میں جہاد
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ :((مَنْ مَّاتَ وَلَمْ یَغْزُوَلَمْ یُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہٗ مَاتَ عَلیٰ شُعْبَۃٍ مِنْ نِفَاقٍ))(صحیح مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے اِس حال میں انتقال کیا کہ نہ تو کبھی جہاد(قتال) میں عملی حصہ لیا اور نہ کبھی جہاد کا سوچا (یعنی نہ اس کی نیت کی) تو اس نے ایک قسم کی منافقت کی حالت میں انتقال کیا۔‘‘