الہدیٰ
حضرت لقمان کی حکمت و دانائی
آیت 12 {وَلَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ} ’’اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی‘‘
{اَنِ اشْکُرْ لِلّٰہِ ط} ’’کہ اللہ کا شکر ادا کرو!‘‘
انسان کی حکمت و دانائی اور اس کی فطرت کے ’’سلیم‘‘ ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ جو کوئی بھی اس کے ساتھ بھلائی کرے اُس کے لیے اس کے دل میں بھلائی اور احسان مندی کے جذبات پیدا ہوں اور پھر وہ مناسب طریقے سے ان جذبات کا اظہار بھی کرے۔ چنانچہ اگر کسی شخص کی فطرت بالکل ہی مسخ نہ ہوچکی ہو تو وہ اپنے محسن ِاعظم اور ُمنعم حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور ہر لمحہ اور ہر مقام پر ضرور کلمہ شکر بجا لائے گا۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ اللہ کے شکر کے اظہار کے لیے بہترین کلمہ شکر ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ہے جو قرآن مجید کا کلمہ آغاز بھی ہے۔
{وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ ج} ’’اور جو کوئی بھی شکر کرتا ہے تو وہ شکر کرتا ہے اپنے ہی بھلے کے لیے ۔‘‘
{وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ(12)}’’اور جو کوئی نا شکری کرتا ہے تو اللہ بے نیاز ہے اور وہ اپنی ذات میں خود محمود ہے۔‘‘
احسانات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے اور اس کا فائدہ خود شاکر کا ہے کہ دنیا میں مزید انعام اور آخرت کے اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اگر ناشکری کی تو اپنا نقصان کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کے حمد و شکر کی پرواہ نہیں ہے۔
درس حدیث
سیاسی کشیدگی کیوں؟
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے مہاجروں کی جماعت! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو گئے (تو ان کی سزا آخرت کے ساتھ دنیا میں بھی ضرور ملے گی) اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ (بری چیزیں) تم تک پہنچیں۔ جب بھی کسی قوم میں بے حیائی (بدکاری وغیرہ) علانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں میں نہیں ہوتی تھیں۔ جب وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، ان کو قحط سالی، روزگار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سے سزا دی جاتی ہے۔ جب وہ اپنے مالوں کی زکوٰۃ دینا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔ اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے۔ جب وہ اللہ اور اس کے رسول ؑکا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کردئیے جاتے ہیں، وہ ان سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو اُن کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ جب بھی ان کے امام (سردار اور لیڈر) اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ)