محرم الحرام: سن ہجری کا آغاز اور قوم مسلم
افتخاراحمد
محرم الحرام سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے۔ جس کی بنیاد حضور اقدس ﷺکے واقعہ ہجرت پر ہے لیکن اس اسلامی سن کا تقرر اور آغاز استعمال 17 ہجری میں حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ کے عہد حکومت سے ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری یمن کے گورنر تھے۔ ان کے پاس حضرت عمر بن عبد الله کے فرمان آتے تھے جن پر تاریخ درج نہ ہوتی تھی۔ 17 ہجری میں حضرت ابوموسیٰ اشعری کے توجہ دلانے پر حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ نے صحابہ کرامؓ کو اپنے ہاں جمع فرمایا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا۔ تبادلہ افکار کے بعد قرار پایا کہ اپنے سن تاریخ کی بنیاد واقعہ ہجرت کو بنایا جائے اور اس کی ابتداماہ محرم الحرام سے کی جائے کیونکہ ذوالحجہ کے آخر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا منصوبہ طے کر لیا گیا تھا اور اس کے بعد جو چاند طلوع ہوا وہ محرم الحرام کا تھا۔ (فتح الباری باب التاريخ7/334)
اسلامی سن ہجری اپنے معنیٰ و مفہوم کے لحاظ سے ایک خاص امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ مذاہب عالم میں جس قدر سنین مروج ہیں وہ عام طور پر یا تو کسی مشہور انسان کے یومِ ولادت کو یاد دلاتے ہیں یا کسی قومی واقعہ مسرت و شادمانی سے وابستہ ہیں۔ مثلاً مسیحی سن کی بنیاد حضرت عیسیٰ ؑ کا یومِ ولادت ہے۔ یہودی سن فلسطین پر حضرت سلیمان ؑ کی تخت نشینی کے ایک پُر شوکت واقعے سے وابستہ ہے۔ بکرمی سن راجہ بکرماجیت کی پیدائش کی یادگار ہے۔رومی سن سکندر فاتح اعظم کی پیدائش کو واضح کرتا ہے لیکن اسلامی سن ہجری عہدِ نبوت کے ایسے واقعے سے وابستہ ہے جس میں یہ سبق پنہاں ہے کہ اگر مسلمان اعلائے کلمۃ الحق کے نتیجے میں تمام اطراف سے مصائب وآلام میں گھر جائے، بستی کے لوگ اس کے دشمن اور درپئے آزار ہوجائیں، قریبی رشتہ دار اور خویش واقارب اس کو ختم کرنے کا عزم کرلیں، اس کے دوست واحباب بھی اسی طرح تکالیف میں مبتلا کر دیئے جائیں، شہر کے تمام سر آوردہ لوگ قتل کرنے کا منصوبہ باندھ لیں، عرصۂ حیات ہر طرح سے تنگ کر دیا جائے اور اس کی آواز کو جبراً روکنے کی کوشش کی جائے تو اس وقت مسلمان کیا کرے؟ اس کا حل اسلام نے یہ تجویز نہیں کیا کہ کفر وباطل کے ساتھ مصالحت کر لی جائے، تبلیغ حق میں مداہنت اور رواداری سے کام لیا جائے اور اپنے عقائد و نظریات میں لچک پیدا کر کے ان میں گھل مل جائے تاکہ مخالفت کا زور ٹوٹ جائے۔بلکہ اس کا حل اسلام نے یہ تجویز کیا کہ ایسی بستی اور شہر پر حجت تمام کر کے وہاں سے ہجرت اختیار کر لی جائے۔ چنانچہ اسی واقعہ ہجرت نبوی پر سن ہجری کی بنیاد رکھی گئی جو انسانی برتری اور تفوق کو یاد دلاتا ہے نہ ہی شوکت و عظمت کے کسی واقعے کو بلکہ یہ واقعہ ہجرت مظلومی اور بے کسی کی ایک ایسی یادگار ہے کہ جو ثبات قدم، صبر و استقامت اور راضی برضائے الٰہی ہونے کی ایک زبردست مثال اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے۔ یہ واقعہ ہجرت بتلاتا ہے کہ ایک مظلوم و بے کس انسان کس طرح اپنے مشن میں کامیاب اور مصائب و آلام سے نکل کر کس طرح کامرانی و شادمانی کا زریں تاج اپنے سر پر رکھ سکتا ہے اور پستی و گمنامی سے نکل کر رفعت وشہرت، عزت وعظمت کے بام عروج پر پہنچ سکتا ہے۔
بارہ مہینوں کی تعداد کا تقرر الله تعالیٰ نے فرمایا اور انہیں میں سے چار ماہ کو حرمت والا بنایا۔ وہ چار مہینے جن کو الله تعالیٰ نے حرمت والا بنایا ان مہینوں کا احترام اور ان مہینوں میں عبادت و ریاضت کرنا ضروری ہے۔ اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے بچنا یہ بھی حرمت والے مہینوں کے احترام میں شامل ہے۔ اس لیے کہ حرمت والے مہینوں میں عبادت کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے اور گناہ پر سزا میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ان حرمت والے مہینوں کا احترام سابقہ شریعت میں بھی کیا جاتا تھا۔ قتل وغارت گری، فسادات، جنگ وجدال یہ سب حرمت والے مہینوں کے چاند نظر آتے ہی لوگ ان کے احترام میں چھوڑ دیتے تھے۔ قرآن مقدس میں ان حرمت والے مہینوں کو ’’اَشْهُرِ حُرُم‘‘ کہا گیا۔ آج رؤیت کے حوالے سے شریعت کے قانون کا اور ان لوگوں کی زندگی کا جائزہ لیں جو مہینوں کو آگے پیچھے کر دیتے ہیں۔ ان کے حوالے سے الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: یہ ان اہل عرب کا دستور تھا جو کافر تھے اور شریعت ابراہیمی کی پیروی کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔ چوں کہ حضرت ابراہیم ؑ کی شریعت میں بھی یہ چار مہینے حرمت والے تھے وہ سنت ابراہیمی پر عمل کا دعویٰ تو کرتے تھے لیکن اپنی سہولت کے مطابق احکام شرع اور حرمت والے مہینوں میں تبدیلی کے بھی عادی تھے۔ کبھی ان مہینوں میں جدال وقتال کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ ماہ محرم نہیں، صفر ہے اور محرم بعد والا مہینہ ہوگا، یعنی جس ماہ کو ان کی طبیعت چاہتی حرمت والا بنا دیتے اور جس کو چاہتے دوسرا ماہ بنا دیتے۔ قرآنِ مقدس نے ان کی اس منافقانہ عادت کا ذکر اس طرح کیا: ایک برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں۔‘‘ (توبہ:38) قرآن کریم نے ان لغویات کو ختم کیا اور بندوں کو آگاہ کیا کہ تبدیلی احکام کا حق الله تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو حاصل ہے۔ بندے کو الله کے قانون میں تغییر اور تبدیلی کا کوئی حق نہیں۔
بارہ مہینوں کے نام ان کی تعداد اور ان میں حرمت والے مہینوں کے بعد ہم یہ بھی بتا دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ سال کا تعین کیوں کر ہوا؟ بیان کیا جاتا ہے کہ اہلِ عرب مہینوں کے نام کے حوالے سے متفق تو ہوگئے لیکن سال کے تعین کے حوالے سے اب بھی پریشان تھے۔ حالانکہ رواج یہ تھا کہ کسی اہم واقعہ کی طرف سال کی نسبت کر کے سال کو یاد کیا جاتا تھا۔مثال کے طور پر اصحابِ فیل کا واقعہ پیش آیا تو اس سال کو عام الفیل کہا جانے لگا۔ اسی طرح ابوطالب اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کا وصال ہوا تو اس سال کو عام الحزن کہا جانے لگا۔ غرض کہ سال کے تعین اور تاریخوں کی محافظت میں کافی دقتیں آنے لگیں۔ یہ معلوم کرنا دشوار تھا کہ جو تاریخ شعبان کی ہے وہ کس شعبان کی ہے؟ اس سال کی ہے یا گزشتہ سال کی؟ اسی عالم میں الله تعالیٰ کے ان برگزیدہ بندوں نے جو امت کی اس ضرورت کو محسوس کر رہے تھے قوم کے اس اضطراب کو دور کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ پر الله تعالیٰ اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے کہ آپ نے اپنے دور خلافت میں امت کی دینی اور دنیوی ضرورتوں کو حتیٰ المقدور پورا کرنے کی کوشش فرمائی اور ہر ضرورت کے حوالے سے اپنی شوریٰ کے مشورہ طلب فرماتے اور اسی کے مطابق خلافت کے نظم و نسق کو انجام دیتے۔ ایک مرتبہ آپ کو اہم خط موصول ہوا جس میں تاریخ اور ماہ کا نام تو مذکور تھا لیکن سن درج نہیں تھا۔ آپ کو تجسس ہوا کہ یہ خط اس شعبان کا ہے یا گزشتہ سال کا؟ آپ نے اپنے رفقاء کو بلایا اور سال کے تعین کے حوالے سے زور دیا اور مشورے طلب کئے کہ سال کا آغاز کب اور کیسے کیا جائے؟ لہٰذا!طے پایا کہ کسی اہم اسلامی واقعہ کی نسبت سے اسلامی سال کا تعین کیا جائے۔ متفقہ طور پر رحمت عالم ﷺ کی ہجرت کے واقعہ کو اہم قرار دیا گیا جو یقیناً اپنے ماضی اور مستقبل کے اعتبار سے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ حضرت علیh کے مشورے سے یہ طے پایا کہ سال کی ابتدا اسی واقعہ سے کی جائے اور اسے سن ہجری کہا جائے۔ لیکن ایک دقت یہ پیش آئی کہ رحمت عالم ﷺ نے ہجرت محرم الحرام میں تو نہیں فرمائی تھی بلکہ ماہ ربیع الاول میں ہجرت فرمائی تھی۔ حضرت عثمان ذوالنورین ؓ نے تطبیق کی صورت پیش فرمائی کہ ماہ محرم الحرام کو سال کا پہلا مہینہ رکھا جائے اور سن ہجری کا دو ماہ اور آٹھ دن پیچھے شمار کیا جائے۔ اس طرح 20 جمادی الثانی 17 ہجری مطابق 9 جولائی 138ء سے باقاعدہ ہجری سال کا آغاز ہوا۔(عظمت ماہ محرم الحرام)
سال کے استقبال اور سابقہ سال کے حوالے سے غور کریں کہ گزشتہ سال ہم نے دینی اور دنیوی کامیابی اور نا کامی کے حوالے سے کیا پایا؟ کیا کھویا؟ ایک سرسری جائزہ لیں اور اس پر غور کرنے کی کوشش کریں تاکہ آنے والے سال کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کر سکیں اور کسی مضبوط منصوبہ بندی پر اتفاق ہو اور پورے سال اسی پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کریں۔ دور حاضر میں اگر ہم عالمی سطح پر قوم مسلم کے دینی حالات کا جائزہ لیں تو پہلے سے کافی گراوٹ نظر آتی ہے۔ دینی اعتبار سے مسلمانوں میں بے راہ روی، منافرت و کشیدگی کافی بڑھتی نظر آتی ہے۔ پہلے حلال وحرام، جائز اور ناجائز کا مسلمانوں میں کسی حد تک خیال رکھا جاتا تھا لیکن اب اس کا تجزیہ کریں اور مسلمانوں کے اعمال و کردار کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پہلے کے مقابلے اب حلت و حرمت کی تمیز گویا امت مسلمہ میں کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ پہلے تجارتی لین دین کے کسی ناجائز طریقہ پر علماء سود کا حکم دیتے اور شرعی احکام پیش کرتے تو لوگ اسے ترک کر دیتے۔ اب تو یہ عام بلا بنتی جا رہی ہے اور بے شمار مسلمان اس میں گرفتار ہو رہے ہیں۔اسی طرح خیانت کا بھی دور دورہ ہے۔ لوگ امانتوں کو بے خوف وخطر ہڑپ کر جاتے ہیں اور خیانت کی سزا کی انہیں فکر نہیں ہوتی۔ اطاعتِ الٰہی اور اطاعت ِرسول ﷺ کا جذبہ مفقود نظر آتا ہے۔ بلکہ نوجوانوں کو خلفائے اربعہ کے نام تک نہیں معلوم اور فلم انڈسٹری کے ہیرو ہیروئن کے بارے میں تاریخ پیدائش سے لے کر ان کی پسند سے ناپسند تک سب کچھ جانتے ہیں۔ بظاہر مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد دکھائی دے لیکن اگر آپ اس کا اثر نمازیوں کی زندگی پر دیکھنا چاہیں تو ندارد۔ حاجیوں اور روزہ داروں کی تعداد میں قدرے اضافہ ضرور ہوا لیکن ان عبادات کے اثرات انسانی زندگی پر کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔ آج دینی سرگرمیوں کی طرف نوجوان پیش قدمی نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ دن بدن دین سے بغاوت اور نفرت نئی نسل میں عام ہوتی نظر آتی ہے۔ گزشتہ سال ہر اعتبار سے ہم سب کو دعوت فکر دیتا ہے کہ تم نے قوم کے خوردونوش اور رہائش وغیرہ کا انتظام توکیا لیکن ان کے دلوں میں دینی شعور اور ملی تڑپ بیدار کرنے کے بارے میں کوئی فکر نہیں جو کہ دنیاوی زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے کہ دین ہی انسان کو انسان بناتا ہے اور زندگی کی آخری سانس تک دین ہی کے دامن سے وابستہ رہنے کا الله رب العزت نے حکم دیا ہے۔ ماضی میں عوام کا حال یہ تھا کہ علمائے کرام اگر کسی معاملہ میں کوئی حکم صادر فرما دیتے تو عوام بے چون و چرا اسے قبول کر لیتی اور اس پر عمل کرنا اپنے لیے ضروری سمجھتی، ان کے فیصلہ کو اپنے لیے حرفِ آخر اور کامیابی کی ضمانت تصور کرتی۔علمائے کرام کی زیارت اور ان کی صحبت سے استفادہ، ان کی مجلس کی حاضری کو رحمت خیال کر کے بچوں کے دلوں میں الله و رسول کی محبت اور ذکر و درود کا سچا جذبہ بیدار کرتی، جھوٹ سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا صدق ہی ان کی پہچان تھی۔ دھوکہ دہی، فریب کاری کو آج کے دور میں پالیسی اور فن تصور کیا جاتا ہے، جبکہ ماضی میں اسے ایک بدترین عیب سمجھا جاتا۔ جوا، شراب اور حرام چیزوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت اور والدین کی اطاعت، پڑوسیوں کے ساتھ صلہ رحمی ان کا وطیرہ تھا اور ان کی خیر خواہی لازمی گردانتے تھے، گویا گزشتہ صدیوں میں ہمارا حال کسی حد تک اچھا تھا لیکن اب ہر سال ہمارا دینی حال نہایت ہی گھناؤنا ہوتا جا رہا ہے۔
اگر شریعتِ مصطفیٰ ﷺ سے روگردانی ترقی ہے تو لعنت ہو ایسی ترقی پر، یاد رہے کہ شریعت کو چھوڑ کر ترقی کیا ملے گی بر بادی ہی بربادی ہاتھ آئے گی اور ذلت و رسوائی کے سوا اس کا کچھ بھی نہیں۔