(الہدیٰ) والدین کی اطاعت کی حدود - ادارہ

10 /
الہدیٰ
 
والدین کی اطاعت کی حدود 
 
 
آیت 15 {وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ لا فَلَا تُطِعْہُمَا} ’’اور اگر وہ تم پر دبائوڈالیں کہ تم میرے ساتھ 
      شریک کرو اُس چیز کو جس کا تمہارے پاس کوئی علم نہیں تو اُن کا کہنا مت مانو۔‘‘
یہاں والدین کے اپنی اولاد کو شرک پر مجبور کرنے کے حوالے سے ’’جہاد‘‘کا لفظ استعمال ہو اہے۔ والدین کے تمام تر تقدس اور احترام کے باوجود انہیں اپنی حدود سے تجاوز کرنے اور اللہ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جائے گی۔ چنانچہ اگر والدین اپنی اولاد کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے پر مجبور کرنے لگیں تو اولاد اُن کے اِس حکم کی تعمیل کسی قیمت پر نہیں کرے گی۔ 
{وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًاز} ’’اور دنیا میں ان کے ساتھ رہو بہتر انداز میں۔‘‘
ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے احکام کے اندر کس قدر خوبصورت تواز ن پایا جاتا ہے۔ اگر والدین کافر یا مشرک ہیں تو اُن کے تمام حقوق ہی ساقط ہو جائیں‘ بلکہ ایسی صورت میں بھی اُن کے ساتھ حسن ِسلوک کی تاکید کی گئی ہے۔
{وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ج}’’اور پیروی کرو اُس شخص کی جو میری طرف رُخ کر چکا ہے‘‘
جہاں تک اتباع اور پیروی کا تعلق ہے تو وہ صرف اُسی شخص کی جائز ہے جو ہر طرف سے منہ موڑ کر ُکلی ّطور پر اللہ کی اطاعت میں آ چکا ہو۔ جو شخص بھی اللہ کی اطاعت اور حضورﷺ کی اتباع کرتے ہوئے لوگوں کو دین کی طرف بلائے اس آیت کی رو سے اُس کا اتباع کرنا اور اُس کا ساتھ دینا ضروری ہے۔
{ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَO}’’پھرمیری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے ‘پھر میں تمہیں جتلا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔‘‘ 
آخر کار تم سب نے میرے پاس ہی آنا ہے‘ والدین کو بھی میرے حضورحاضر ہونا ہے اور ان کی اولاد کو بھی۔اِن میں سے جس نے جو کیا ہوگا‘ وہ سب کچھ اُسے دکھا دیا جائے گا۔
 
درس حدیث 
 
نیکی اور بُرائی کی کسوٹی
 
عَنْ عَبْدِ اللہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللہِ ﷺ: کَیْفَ لِیْ اَنْ اَعْلَمَ اِذِا اَحْسَنْتُ وَاِذَا اَسَأْتُ؟ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ:   (( اِذَاسَمِعْتَ جِیْرَانَکَ یَقُوْلُوْنَ:اَنْ قَدْاَحْسَنْتَ فَقَدْ اَحْسَنْتَ، وَاِذَاسَمِعْتَھُمْ یَقُوْلُوْنَ قَدْ اَسَأْتَ فَقَدْ اَسَأْتَ))(مسند احمد )
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا مجھے کیسے پتہ چلے کہ میں نے اچھا کام کیا ہے یا بُرا؟آپﷺ نے فرمایا:’’ جب تو اپنے پڑوسیوں سے سنے کہ تو نے اچھا (کام) کیا ہے تو یقین جان لے کہ فی الواقع تو نے اچھا(کام) کیا ہے اور جب تو اپنے پڑوسیوںکو یہ کہتے سنو کہ تو نے بُرا(کام) کیا ہے تو تجھے سمجھ لینا چاہیے کہ تو نے یقینا ًبُرا (کام) کیا ہے۔‘‘
مختصر تشریح: ہر شخص کے نیک یا برے ہونے کی متعلق بے لاگ رائےیا اُس کے اپنے گھر والوں کی ہو سکتی ہے یا اس کے ہمسائے کی۔ پڑوسی بتا سکتا ہے کہ فلاں شخص کے اخلاق کیسے ہیں؟ وہ لین دین میں کیسا ہے؟ وہ رحمدل ہے یا بدخو اور سنگدل ہے؟