(تنظیمی سرگرمیاں) امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کی مختلف یونیورسٹیز و کالجز کے اساتذہ کرام کے ساتھ خصوصی نشست - ادارہ

9 /
امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کی مختلف
یونیورسٹیز و کالجز کے اساتذہ کرام کے ساتھ خصوصی نشست
 
یہ خصوصی پروگرام 14 مئی 2026ء کو بعد نماز مغرب قرآن اکیڈمی لاہور میں حلقہ لاہور غربی کے زیر ِاہتمام منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز محترم قاری احمد ہاشمی کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا ۔
تلاوت کے بعد میزبان جناب وقار القیوم نے تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا اور ان کے سامنے اس پروگرام کا مقصد اور کا فارمیٹ رکھا ۔
• اس کے بعد تمام معزز مہمانوں سے مختصر تعارف حاصل کیا گیا۔
امیر ِتنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ s نے تمام شرکاء کے سامنے اپنا مختصر تعارف پیش کیا۔
امیر ِمحترم نے ’’ تعلیمی اداروں میں اسلامی عالمی نظریے کا انضمام‘‘کے موضوع پر تقریباً پچیس منٹ کا پُرمغز خطاب فرمایا۔
انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان استاد کا کردار محض علم کی منتقلی نہیں بلکہ کردار سازی ہے۔ علم کی ابتدا اللہ کے نام سے ہے، اور تمام علوم کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے۔علم الاسما ء اور علم وحی ؛   مادّی علوم کو روحانی بنیاد پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کی بنیادی اقدار میں مقصد ِ حیات کا شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔
• انہوں نے کہا کہ ضابطۂ اخلاق اور اسلامی طرزِ زندگی… اقدار کو طرزِ عمل میں ڈھالنا تعلیم کا حتمی ہدف ہے۔
امیر ِ محترم نے اپنے خطاب میں شرکاء کے سامنے درج ذیل عملی تجاویز پیش کیں ؛
1۔  نصاب کی تجدید… اسلامی اصولوں سے متعلق مضامین کو شامل کیا جائے۔
2۔  اساتذہ کی تربیت… تنظیم ِاسلامی کی طرف سے پیشکش کی گئی کہ اساتذہ کی تربیت کے لیے مواد فراہم کیا جائے تاکہ وہ طلبہ میں اسلامی اقدار راسخ کر سکیں۔
3۔  سماجی حلقوں سے ربط… اسلامی اور عمومی تنظیموں کے ذریعے طلبہ تک رسائی کو وسعت دی جائے۔
4۔  الحاد اورہم جنس پرستی اور Transgenderism جیسے فتنوں کا مقابلہ اس چیلنجز کا بیّن ذکر کیا گیا اور اساتذہ کو ان کے بارے میں آگاہ رہنے کی تلقین کی گئی۔
اس کے بعد امیر محترم نے کچھ جامعات اوراپنے حلقہ احباب میں سے کچھ اساتذہ کرام کے چند عملی تجربات پیش کئے کہ وہ کس طرح دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے طلبہ کی دینی تربیت کے لیے بھی مصروف عمل ہیں ۔
امیر محترم کے خطاب کے بعدشرکاء کو اپنے چیلنجز اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا گیا جس میں درج ذیل اہم نکات سامنے آئے:
1۔  غور و فکر پر زور، طلبہ کو تدبر و تفکر کی عادت ڈالی جائے۔
2۔  قرآنی تعلیمات کا ہر مضمون میں امتزاج، کوئی بھی مضمون قرآنی اقدار سے جدا نہ ہو۔
3۔  گرمیوں کی تعطیلات میں اساتذہ کی ترقیاتی نشستیں فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام اسلامی خطوط پر ہوں۔
4۔  علم اور عمل کے درمیان خلا اسلامی تعلیمات کے عملی اطلاق اور کردارسازی پرتوجہ دی جائے۔
5۔  اسلامیات کے نصاب کی از سرِ نو تشکیل مضمون کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے۔
6۔  آن لائن بنیادوں پر پروگرام کا تسلسل وسیع تر شرکت کے لیے آن لائن پلیٹ فارم کی تجویز۔
7۔  والدین کا کردار طلبہ کی اخلاقی ترقی کے لیے اس طرح کے مزید پروگرامز کا انعقاد اور ان میں والدین کو بھی شرکت کا موقع۔
8۔اساتذہ کرام کو دینی و علمی مواد کی فراہمی تاکہ وہ اس کی بنیاد پر طلباء کی دینی تربیت کے لیے کوشش کر سکیں۔
بعد نماز عشاء امیرتنظیم اسلامی نے تنظیم اسلامی کے مراکز و قرآن اکیڈمیز میں قرآن مجید کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے منعقد ہونے والے کورسز اور تحقیقی کام کا تعارف کروایا اور قرآن مجید کی تعلیم کو معاشرے کی ہر سطح پر عام کرنے کے حوالے سے بات کی۔
• اس کے بعد امیر ِمحترم نے تمام شرکاء کا ان کی شرکت پر ایک بار پھر خلوصِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ تمام معزز مہمانوں کو بطور اظہارِ تشکر بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی کچھ کتب تحفتاً پیش کی گئیں۔
• پروگرام کے آخر میں شرکاء نےایک دوسرے سے ملاقاتیں کیں۔ پروگرام خوشگوار اور پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔اس پروگرام میں مختلف یونیورسٹیز و کالجز کے 22 اساتذہ کرام نے شرکت کی۔(رپورٹ:نوید احمد قریشی، ناظم نشر واشاعت حلقہ لاہور غربی)
 
امیر تنظیم اسلامی کا دورہ حلقہ فیصل آباد
امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ s  19 جون بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عصر گوجرہ پہنچے۔ رفقاء اور احباب نے ان کا استقبال کیا۔ جناب ڈاکٹر خالد لطیف کے گھر امیر محترم کا قیام تھا۔چھ مقامی پروفیسرز حضرات نے چائے کی نشست میں امیر محترم سے ملاقات کی۔بعد نمازِ مغرب الہدیٰ انٹرنیشنل گوجرہ کیمپس میں امیر محترم نے ’’عالمی حالات کی پس منظر میں ہمارے کرنے کا اصل کام‘‘ کے موضوع پر ایک گھنٹہ خطاب فرمایا۔ حاضری کم و بیش تین سو کے قریب تھی۔ اس پروگرام کی خاص بات گوجرہ میں امیر تنظیم کا پہلا دعوتی خطاب تھا۔ مقامی رفقاء کے ساتھ احباب نے بھی اس کے لئے خوب محنت کی۔ فیصل آباد کے رفقاءنے دعوت کے ساتھ ساتھ انتظامی معاملات میں بھی معاونت کی۔ تنظیم کی طرف سے مکتبہ بھی لگایا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس محنت کو قبول فرمائے اور گوجرہ میں تنظیمی فکر و تعارف کے پھیلنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔ اس کے بعد امیر محترم فیصل آباد کی طرف روانہ ہوئے اور رات قرآن اکیڈمی میں بسر کی۔
ہفتہ کی صبح ساڑھے سات بجے ناشتے کے پروگرام میں امیر محترم نے تین نئے مقامی امراء سے تعارف حاصل کیا۔ امیر محترم کے مشیر اور قرآن اکیڈمی فیصل آباد کے صدر محترم ڈاکٹر عبدالسمیع بھی موجود تھے۔
ساڑھے آٹھ بجے امیر محترم کی رفقاء کے ساتھ نشست تھی۔ تلاوت اور کلام اقبال کے بعد امیر محترم نے افتتاحی کلمات ادا فرمائے۔ اس کے بعد امیر حلقہ نے حلقہ کا تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد نئے رفقاء نے فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کیا۔ چائے کے وقفے کے بعد سوال و جواب کی بھرپور نشست ہوئی۔ پھر مبتدی اور ملتزم رفقاء کی بیعت ہوئی۔ دوپہر کےکھانے کے بعد امیر محترم نے حلقہ کے ذمہ داران سے ملاقات کی۔ سب سے پہلے حلقہ کے ذمہ داران کا تعارف حاصل گیا۔ اس کے بعد مقامی امراء نے اپنے نقباء و معاونین کا تعارف کروایا۔ منفرد نقباء کے تعارف کی باری اس کے بعد آئی۔ اس کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ 
پروگرام کے بعد امیر محترم ملتان کی طرف روانہ ہوئے۔ نائب ناظم اعلیٰ وسطی زون محترم پروفیسر محمود اسلم دورہ میں ان کے ساتھ رہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس دورہ کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ سب رفقاء اور شرکاء کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین یارب العالمین!(رپورٹ: عمر رشید ، ناظم نشر واشاعت حلقہ فیصل آباد)