الہدیٰ
تسخیر ِکائنات اور ظاہری و باطنی نعمتیں
آیت 20 {اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ} ’’کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے‘‘
تم لوگ غور کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے آ سمان و زمین کی ساری مخلوق کو تمہاری خدمت کرنے اور تمہیں سہولیات بہم پہنچانے پر مامور کر دیا ہے۔
{وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃًط} ’’اور اُس نے اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں تم پر مکمل کر دی ہیں۔‘‘
اللہ کی ان نعمتوں سے ہم دن رات مستفیض ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کئی نعمتیں تو ایسی ہیں جنہیںہم دیکھتے بھی ہیںاور محسوس بھی کرتے ہیں مگر اس کی بے شمار نعمتوں کے بارے میں ہمیں کبھی احساس بھی نہیںہوا۔ مثلاً ہمارے وجود کے اندر اللہ کی قدرت سے کیسے کیسے نظام خود بخود مصروفِ عمل ہیں‘ لیکن عام طور پر ہمیں اِن کے بارے میں احساس نہیںہوتا۔
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ(20)}’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ اُن کے پاس کوئی علم ہو‘ یا کوئی ہدایت ہو‘ یا کوئی روشن کتاب ہو۔‘‘
ایسے لوگ اللہ کی ذات‘ اُس کی آیات اور اُس کے احکام کے بارے میں طرح طرح کے سوالات اُٹھاتے ہیں‘ منفی انداز میں بحث وتمحیص کرتے ہیں ‘لیکن اس کے بارے میں ان کے پاس نہ تو کوئی علمی دلیل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی الہامی ثبوت۔
درس حدیث
شرم وحیا اور زبان کو قابو میں رکھنا
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ؓ ، عَنِ النَّبِيِّﷺ قَالَ : (( الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ ، وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ)) (جامع الترمذی)
حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ شرم و حیا اور زبان کو قابو میں رکھنا ایمان کی دو شاخیں ہیں جبکہ فحش گوئی اور لاحاصل گفتگو نفاق کی دو شاخیں ہیں۔ ‘‘
تشریح: شرم و حیا کا ایمان کی شاخ ہونا ایک ظاہر و معروف بات ہے، زبان کو قابو میں رکھنے کا ایمان کی شاخ ہونا اور فحش گوئی و لا حاصل گفتگو کا نفاق کی شاخ ہونا اس اعتبار سے ہے کہ مومن اپنی حقیقت کے اعتبار سے شرم و حیا، انکساری، مسکینی و سلامتی طبع کے جن اوصاف سے مزین ہوتا ہے، وہ اپنے اللہ کی عبادت، اپنے اللہ کی مخلوق کی خدمت اور اپنے باطن کی اصلاح میں جس طرح مشغول و منہمک رہتا ہے، اس کی بناء پر اس کے پاس بے فائدہ باتوں کا نہ وقت ہوتا ہے، نہ صلاحیت! لہٰذا وہ اپنی زبان کو قابو میں رکھتا ہے کہ مبادا زبان سے کوئی بُری بات نکل جائے اور وہ فحش گوئی اور بد زبانی کا مرتکب ہو جائے۔ اس کے برخلاف منافق کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ چرب زبانی یا وہ کوئی اور مبالغہ آمیزی کی راہ اختیار کرتا ہے اور نتیجتاً وہ بے فائدہ تقریر و بیان، زبان درازی اور فحش گوئی پر قادر و دلیر ہو جاتا ہے۔