الہدیٰ
زکوٰۃ، صدقات، خیرات (انفاق فی سبیل اللہ) کی برکات اور سود کی تباہ کاریاں
آیت (39) {وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ج} ’’اور جو کچھ تم دیتے ہو سود پر تا کہ بڑھتا رہے لوگوں کے مال میں تو اللہ کے ہاں اِس میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی۔‘‘
اپنے مستقبل کے لیے بچت کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ پھر ہر شخص نہ صرف اپنی بچت کو سنبھال کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ اُس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کی بچائی ہوئی رقم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھی رہے۔ قرآن اِس بچت کو ’’العَفْو‘‘ یعنی قدرِ زائد (surplus value)قرار دے کر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں اللہ کے بینک میں جمع کرانے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کے راستے میں خرچ کیا ہوا مال اُس کے ہاں محفوظ بھی رہے گا اور بڑھتا بھی رہے گا۔ یعنی آخرت میں اس کا اجر کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا۔
{وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ(39)} ’’اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو (اوراس سے) اللہ کی رضا چاہتے ہو‘تو یہی لوگ ہیں جو (اللہ کے ہاں اپنے مال کو) بڑھانے والے ہیں۔‘‘
دنیا میں جو لوگ زکوٰۃ اور صدقات و خیرات کی صورت میں اللہ کے راستے میں خرچ کر رہے ہیں اُنہیں آخرت میں اس کا اجر دس سے سات سو گنا تک بڑھا کر دیا جائے گا‘ بلکہ اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے اسے اور بھی زیادہ بڑھا دے گا۔
اس آیت میں انفاق فی سبیل اللہ اور سود کا تقابل کر کے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کسی شخص کی بچت کا بہترین مصرف ہے۔ اِس میں منافع(اجر وثواب) بہت زیادہ بھی ہے اور دائمی بھی ۔ دوسری طرف سود پر رقم دینا کسی بچت کا بد ترین مصرف ہے‘ جس میں ایک شخص بغیر کوئی محنت کیے اور بغیر کوئی خطرہ مول لیے ایک طے شدہ رقم باقاعدگی سے حاصل کرتا رہتا ہے جبکہ اس کی اصل رقم بھی محفوظ رہتی ہے۔ صدقات اور سود کے تقابل کے حوالے سے دراصل یہاں دو متضاد ذہنیتوں کا تقابل بھی سامنے آتا ہے۔ ایک اس شخص کی ذہنیت ہے، جو اپنے مال سے اللہ کی رضا کا متمنی ّہے جبکہ دوسرا شخص ا للہ کے احکام کی پروا کیے بغیر ہر قیمت پر اپنے سرمائے میں اضافہ چاہتا ہے۔
درس حدیث
اہل و عیال پر خرچ کرنے کی فضیلت
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ((دِیْنَارٌ أَنْفَقْتَہٗ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ دِیْنَارٌ أَنْفَقْتَہٗ فِیْ رَقَبَۃٍ وَ دِیْنَارٌ تَصَدَّقْتَ بِہٖ عَلٰی مِسْکِیْنٍ وَ دِیْنَارٌ أَنْفَقْتَہٗ عَلٰی أَھْلِکَ أَعْظَمُھَا أَجْرَا الَّذِیْ أَنْفَقْتَہٗ عَلٰی أھْلِکَ)) (رواہ مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ ایک دینار وہ ہے جس کو تو نے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور ایک دینار وہ ہے جس کو تو نے گردن آزاد کرنے میں خرچ کیا اور ایک دینار وہ ہے جس کو تو نے کسی مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جس کو تو نے اپنے بیوی بچوں پر خرچ کیا۔ ان میں سب سے زیادہ ثواب اُس دینار پر ہے جس کوتو نے اپنے بیوی بچوں پر خرچ کیا۔‘‘