(گوشۂ اطفال) قرآ ن ِحکیم یا علم کا سمندر - حسیب آصف شیخ (معاون مرکزی شعبہ نشرواشاعت)

13 /
قرآ ن ِحکیم یا علم کا سمندر
 
حسیب آصف شیخ ( مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

 

پیارے بچو! ذرا سوچئے!کیا آپ نے کبھی رات کے اندھیرے میں آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھ کر سوچا ہے کہ یہ کائنات کتنی بڑی ہے؟ یا کبھی کسی پرندے کو ہوا میں بنا کسی سہارے کے تیرتے دیکھ کر ذہن میں خیال آیا کہ یہ نیچے کیوں نہیں گرتا ؟
ہم میں سے اکثر بچے تواِن باتوں کو سائنس کی کتابوں میں پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ تمام باتیں آج کے سائنس دانوں نے دریافت کی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو باتیں آج کے سائنس دان بڑی بڑی دوربینوں (Telescopes) اور لیبارٹریوں میں رات دن محنت کے بعد سمجھ رہے ہیں، ہمارا قرآنِ پاک آج سے  ساڑھےچودہ  سو سال پہلے ہی اتنی آسانی سے بتا چکاہے!
بچو! کیا آپ نے کبھی غبارہ پھلایا ہے؟ جیسے جیسے آپ اِس میں ہوا بھرتے ہیں، غبارہ بڑا ہوتا جاتا ہے اور اس پر بنے نشان ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں۔ آج کی ماڈرن سائنس (Astronomy) کہتی ہے کہ ہماری یہ پوری کائنات بھی بالکل اُسی غبارے کی طرح مسلسل پھیل رہی ہے!
سائنس دانوں نے تو یہ بات ابھی کچھ عرصے پہلے دریافت کی، لیکن ہمارے پیارے رب نےساڑھے 14سو سال پہلے ’’سورۃ الذاریات‘‘میں واضح فرمادیا تھا:’’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم ہی اس کو وسعت دینے والے (پھیلانے والے) ہیں‘‘۔
صرف یہی نہیں، سائنس آج بتاتی ہے کہ سورج اور چاند اپنے اپنے راستے (Orbit) پر چکر لگا رہے ہیں۔ قرآنِ پاک کی ’’سورۃیٰسین ‘‘ کھولیے، وہاں لکھا ہے کہ نہ سورج کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے، سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔ سبحان اللہ!
چلیے! اب آسمان سے ذرا سمندر کی گہرائیوں میں چلتے ہیں۔ اگر آپ دو گلاس لیں، ایک میں میٹھا پانی اور دوسرے میں نمک ملا کھارا پانی ڈالیں اور دونوں کو ملا دیں، تو وہ فوراً مکس ہو جائیں گے۔لیکن بچو! دنیا میں دو ایسے بڑے سمندر ہیں جو آپس میں ملتے تو ہیں، مگر ان کا پانی کبھی ایک دوسرے میں مکس نہیں ہوتا! ایک طرف میٹھا پانی ہے  تو دوسری طرف کڑوا کھارا۔ سائنس دانوں نے جب اِس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ دونوں پانیوں کی کثافت (Density)، نمکیات اور درجہ حرارت کے فرق کی وجہ سے ان کے درمیان ایک قدرتی پردہ بن جاتا ہے۔سائنس نے یہ بات اب جا کر دریافت کی، جبکہ ’’سورۃ الرحمٰن‘‘ میں اللہ تعالیٰ نےساڑھے 14سو سال پہلے ہی فرما دیا تھا:’’اس نے دو سمندر جاری کیے جو باہم ملتے ہیں، ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھتے۔‘‘اور کیا آپ کو معلوم ہے؟ سائنس کہتی ہے کہ ہر جاندار کا زیادہ تر حصّہ پانی سے بنا ہے۔ قرآن کی  ’’سورۃ الانبیاء‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے صدیوں پہلے فرما دیا:’’ اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے بنایا۔‘‘
بچو! کبھی آپ نے چیونٹیوں کو قطار میں جاتے دیکھا ہے؟ جب دو چیونٹیاں آمنے سامنے سے گزرتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ایک دوسرے کے کان میں کچھ کہہ رہی ہوں۔پرانے زمانے میں لوگ سمجھتے تھے کہ چیونٹیاں صرف معمولی کیڑے مکوڑے ہیں جو کچھ نہیں سوچتیں۔ لیکن علمِ حیوانات (Entomology) کی جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ چیونٹیوں کا اپنا ایک پورا کمیونیکیشن   نیٹ ورک ہوتا ہے، وہ کیمیائی اشاروں اور مخصوص آوازوں سے ایک دوسرے کو خطرے سے آگاہ کرتی ہیں۔    قرآنِ پاک میں حضرت سلیمان d کا واقعہ آتا ہے، جہاں ایک چیونٹی دوسری چیونٹیوں سے کہتی ہے: ’’اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں سلیمان اور اُن کا لشکر تمہیں بے خبری میں کچل نہ دے۔‘‘(سورۃ النمل)
ذرا سوچئے! قرآن نے صدیوں پہلے چیونٹیوں کی اس بات چیت اور سمجھ بوجھ کو کتنے خوبصورت انداز میں بیان کر دیا تھا! یہ تمام باتیں جاننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں یہ سائنسی حقائق کیوں بیان فرمائے؟اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک صرف اس لیے نہیں نازل فرمایا کہ ہم اسے خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر رکھ دیں یا صرف ثواب کے لیے ،بغیر سمجھے پڑھتے رہیں۔ قرآنِ پاک دراصل پوری انسانیت کے لیے ہدایت کی کتاب اور علم کا سمندر ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن میں بار بار فرماتا ہے کہ ’’کیا تم غور نہیں کرتے؟‘‘۔ جب ہم قرآن کو ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سائنس، اخلاقیات، تاریخ اور زندگی جینے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔جب ایک بچہ یہ دیکھتا ہے کہ جو باتیں جدید سائنس آج ہزاروں تجربات کے بعد ثابت کر رہی ہے، وہ صدیوں پہلے اللہ تعا لیٰ نے وحی کے ذریعے حضور ﷺ کی زبان مبارک پر جاری کر دی تھیں تو اس کے دل میں یہ بات پکی ہو جاتی ہے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ سچے اور ایک اللہ کا کلام ہے۔دنیا کے بڑے بڑے مسلمان سائنس دانوں جیسے ابن الہیثم اور البیرونی نے قرآنِ پاک کو سمجھ کر پڑھا اور کائنات کے راز تلاش کیے۔ قرآن ہمیں اندھی تقلید سے روکتا ہے اور کائنات کو مسخرکرنے کا سبق دیتا ہے۔قرآنِ پاک زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ سچ بولنا، والدین کا احترام کرنا، علم حاصل کرنا اور کائنات پر تحقیق کرنا کتنا ضروری ہے۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم روزانہ قرآنِ پاک کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے ترجمے اور مفہوم کو بھی سمجھیں، تاکہ ہم نہ صرف ایک اچھے طالب علم بن سکیں بلکہ ایک بہترین اور باشعور مسلمان بھی بن سکیں۔