الہدیٰ
اللہ تعالیٰ کی وسیع و عریض کائنات
اورجملہ مخلوقات کی نگرانی
آیت: 28 {مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ط} ’’تم سب کا پیدا کرنا اور دوبارہ اٹھانا
(اللہ کے لیے)ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کا (پیدا کر دینا اور دوبارہ زندہ کر دینا)۔‘‘
پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی وسعت و عظمت کا تذکرہ تھا۔ اب اس وسیع و عریض کائنات کے انتظام و انصرام اوررنگا رنگ مخلوق کے معاملات کی نگرانی کا ذکر ہے کہ ان تمام امور کی نگہداشت اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ جیسے آیت الکرسی (سورۃ البقرۃ) میں ارشاد ہوا :{وَلَا یَئُوْدُہٗ حِفْظُہُمَاج وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(255)}’’اور اُس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں (زمین و آسمان) کی حفاظت‘ اور وہ بلند و بالا ہے‘ بڑی عظمت والا۔‘‘
{اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ(255)} ’’یقیناًاللہ سب کچھ سننے والا‘ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔‘‘
درس حدیث
خدا ترس غریب(مسلمان) جنتی ہیں
عَنْ حَارِثَۃَ بْن وَھْبٍ الْخُزَاعِیَّ ؓ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ : ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِاَھْلِ الْجَنَّۃِ ؟کُلُّ ضَعِیْفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَ بَرَّہُ ۔ اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ ؟ کُلُّ جَوَّاظٍ زَنِیْمٍ مُتَکَبِرٍّ )) (صحیح مسلم)
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ ہر کمزور (مسلمان) جسے کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے، (لیکن ایسا کہ) اگر اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو وہ اسے پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ ہر مال اکٹھاکرنے والا اور اسے خرچ نہ کرنے والا، بد اصل، متکبر۔‘‘
تشریح: یہ دنیا امتحان گاہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو امتحان اور آزمائش سے دوچار کیا ہے۔ کسی مسلمان شخص کے خوشحال اور طاقتور ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ اس سے راضی ہے اور وہ جنت میں جائے گا۔ کسی مسلمان شخص کے مفلس اور کمزور ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے اور وہ دوزخ میں جائے گا۔