الہدیٰ
ہر شے پر اللہ تعالیٰ کی حکومت ِ مطلق و لا شریک
آیت 4 { اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط} ’’اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ اِن دونوں کے مابین ہے، چھ دنوں میں‘ پھر وہ متمکن ّہوا عرش (تخت ِحکومت) پر۔‘‘ آیت:4
{مَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَاشَفِیْعٍ ط} ’’ نہیں ہے تمہارے لیے اُس کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘
یہاں پر لفظ دُوْنَ ’’مقابلے ‘‘کے معنی دے رہا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہیں پکڑ کر سزا دینا چاہے تو تمہارا کوئی حمایتی یا سفارشی اُس کے اِس فیصلے کے آڑے نہیں آ سکتا۔
{اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ(4)} ’’تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے!‘‘
درس حدیث
بہترین صدقہ کیجیے!
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ:(( أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ يَتَعَلَّمَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ عِلْمًا، ثُمَّ يُعَلِّمَهُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ))(سنن ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’سب سے بہتر اور افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان علم ِدین سیکھے، پھر اُسے اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔‘‘
تشریح:اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ صرف روپے پیسے یا اشیاء کا نہیں ہے بلکہ نفع بخش علم کا حصول اور اُسے دوسروں تک پہنچانا افضل ترین صدقہ ہے۔ مال خرچ کرنے سے دنیاوی اعتبار سے کم ہوتا ہے جبکہ علم دوسروں کو سکھانے سے بڑھتا ہےا ور اس کا فائدہ سیکھنے اور سکھانے والے دونوں کو ملتا ہے۔ علم نافع صدقہ جاریہ میں شامل ہے۔