(الہدیٰ) دنیا میں حق کے داعیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے انعام - ادارہ

9 /
الہدیٰ
 
دنیا میں حق کے داعیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے انعام
 
 
 
آیت 48 {وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا اِلٰی قَوْمِہِمْ} ’’اور (اے نبیﷺ!) آپ سے پہلے بھی ہم نے رسول ؑبھیجے ان کی اپنی 
              اپنی قوم کی طرف‘‘
{فَجَآئُ وْہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْاط} ’’تو وہ ان کی طرف لے کر آئے واضح نشانیاں‘پھر ہم نے انتقام لیا (ان میں سے) ان لوگوں سے جو مجرم تھے۔‘‘
{وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(47)} ’’اور اہل ایمان کی مدد کرنا ہمارے ذمہ تھا۔‘‘
مثلاً حضرت نوح ؑ اور آپؑ کے ساتھیوں کو سیلاب کی آفت سے بچا لیا گیا۔ حضرت ہود ؑ اور آپؑ کے ساتھی بھی تباہی سے محفوظ رہے اور اسی طرح حضرت صالحd اور آپؑ پر ایمان لانے والے لوگ بھی اللہ کی مدد سے عذاب کی زد میں آنے سے بچ گئے۔
آیت 48 {اَللّٰہُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا}’’اللہ ہی ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے‘پھر وہ اُٹھاتی ہیں بادلوں کو‘‘
{فَیَبْسُطُہٗ فِی السَّمَآئِ کَیْفَ یَشَآئُ }’’پھر وہ پھیلادیتا ہے ان (بادلوں)کو فضا میں جیسے چاہتا ہے‘‘
{وَیَجْعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ج} ’’اور انہیں کر دیتا ہے تہ بر تہ‘پھر تم دیکھتے ہو بارش کو کہ برستی ہے ان کے درمیان سے‘‘
یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔
{فَاِذَآ اَصَابَ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ(48)} ’’پھر جب وہ برساتا ہے اسے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے تو یکایک وہ خوش ہو جاتے ہیں۔‘‘
 
درس حدیث
 
رمضان المبارک میں اپنے لمحات کو قیمتی بنایئے
 
 عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ  اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ:((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّ احْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ))(متفق علیہ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے روزے رکھے رمضان میں ایمان و احتساب کے ساتھ بخش دئیے گئے اس کے تمام سابقہ گناہ ۔جس شخص نے ایمان اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان میں قیام اللیل (نماز تراویح) کا اہتمام کیا، اس کے سابقہ سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘
تشریح: روزہ دار نہ صرف اپنی زبان و بیان، اپنے افکار و خیالات، اپنے معاملات و معمولات میں احکامِ الٰہی اور سنت رسولﷺ کی پیروی کی مہینہ بھر تربیت حاصل کرتا ہے، بلکہ شب کو بھی قیام اللیل (نمازِ تراویح) میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کو توجہ اور انہماک سے سنتا ہے، اور اگر وہ ٹھیک ٹھیک ان ہدایات کو اپناتا ہے تو یقینا ًاس کی زندگی میں انقلاب رونما ہو جائے گا اور یہی تبدیلی اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔