(منبرو محراب) رمضان المبارک کے تقاضے - ابو ابراہیم

9 /

رمضان المبارک کے تقاضے

(قرآن و حدیث کی روشنی میں )

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ  حفظ اللہ کے13فروری 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
ماہِ رمضان المبارک کی آمد سے قبل جمعہ کے خطاب میں عموماً روزے اور رمضان کے فضائل ، تراویح کی اہمیت اور قرآن حکیم کے ساتھ تعلق کی مضبوطی کے حوالے سے کلام کیا جاتاہے ۔ تاہم جس دین کے ہم پیروکارہیں وہ مکمل اور جامع دین ہے جو زندگی کے ہرشعبے کے متعلق رہنمائی دیتاہے ۔ آج دنیا میں شیطانی ایجنڈے کی تکمیل،     دجالی تہذیب کا غلبہ، فحاشی وعریانی، بے حیائی کی ترویج، عورت کی تذلیل، عورت کو کھلونا بنانا، ہوس کا نشانہ بنانا اور دنیا کے کچھ معمولی مفادات کی خاطر، حب جاہ اور حب مال کے نتیجے میں عورت کو ایک تجارتی جنس کے طور پر استعمال کرنا جیسے مسائل ہمارے سامنے آرہے ہیں ۔ ایسے میں جب دین کی تعلیم کا مطالعہ کرتے ہیں اور رب کائنات کے احکامات کا مطالعہ کرتے ہیں تو اور زیادہ یقین بڑھتا ہے کہ  اسلام میںہی خیر ہے اور اسلام کے ماننے ، اس کے احکام پر عمل کرنے اور اس کے نظام کے قیام سے جان و مال اور آبرو کا تحفظ ہو سکتا ہے اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات مل سکتی ہے اور جب بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات ملے گی اور وہ اپنے حقیقی رب کی غلامی میں آئیں گے تب ہی اپنی آخرت کی اصل زندگی کی فکر کر سکیں گے ۔ جمعہ کے خطاب کا بڑا مقصد یاددہانی ہے ۔ یہ یاددہانی زندگی کے ہر معاملے اور ہر شعبے کے متعلق ہونی چاہیے ۔ آج کے خطاب میں ہم کچھ ایسے ہی اہم مسائل پر بات کریں گے اور اس کے بعد رمضان المبارک کے تعلق سے بھی کچھ یاددہانی کروائی جائے گی۔ ان شاء اللہ !
ایپسٹین فائلز
عالمی سطح پر ایپسٹین فائلز اب زبان زدِ عام ہیں ۔  اخبارات اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے اب تک کافی معلومات سامنے آچکی ہیںجن کے مطابق دنیا کے بڑے بڑے سیاستدان ، سرمایہ دار ، صنعت کار ، حتیٰ کہ سائنسدان  جیفری ایپسٹین کے جزیرے پرایسے شیطانی کاموں میں ملوث رہے ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ ہمارے ہاں بھی مغرب کی بڑی مثالیں دی جاتی تھیں کہ وہاں ویلفیئر کا بہت اعلیٰ نظام ہے ۔ کچھ لوگوں کی بڑی خواہش ہوتی تھی کہ یورپ یا امریکہ میں شہریت مل جائے ۔ اُن کے نزدیک یورپ اور امریکہ ان کے لیے جنت کی حیثیت رکھتے تھے ۔ ایپسٹین فائلز سامنے آنے کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی یہ تہذیب جتنی خوشنما بتائی اور دکھائی جاتی ہے اُتنی ہی بدترہے ۔ مغربی تہذیب جس بنیاد پر کھڑی ہے، وہ ہے خدا کا انکار ، وحی کی تعلیم کا انکار ، پیغمبروںؐ اور آخرت کا انکار۔دنیا سمجھتی ہے کہ یورپ اور امریکہ کے ممالک بہت ترقی یافتہ ہیں ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہیں ، ریسرچ کے انسٹیٹیوشنز وہاں پر موجود ہیں۔انسانی حقوق کے چیمپئن ہیں وغیرہ ۔ گویا یہ ممالک باقی دنیا کے لیے رول ماڈل ہیں ۔ مگر اخلاقی لحاظ سے یہ تہذیب کس قدر انحطاط کا شکار ہے ، ایپسٹین فائلز سے واضح ہوگیا ۔ ابھی بہت کچھ ان فائلز کے ذریعے بے نقاب ہونا ہے ۔ ابلیسیت کا ایجنڈا یہی ہے ۔ جیساکہ فرمایا :
{اِنَّمَا یَاْمُرُکُمْ بِالسُّوْٓئِ وَالْفَحْشَآئِ} (البقرہ:169) ’’وہ (شیطان) تو بس تمہیں بدی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے‘‘ 
اس کے برعکس رحمان کی دعوت حیا اور ایمان ہے ۔    سورۃ النحل میںفرمایا:{وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ   وَالْبَغْیِ ج} (النحل:90) ’’اور وہ روکتا ہے بے حیائی ‘ برائی اور سرکشی سے۔‘‘
بنیادی طور پر دنیا میں جماعتیں صرف دو ہیں : حزب اللہ اور حزب شیطان ۔ سورہ مجادلہ میں ذکر آتا ہےکہ نظام بھی دراصل  دو ہی ہیں : ایک رحمٰن کا نظام ہے اور دوسرا شیطان کا ۔ رحمٰن کا نظام وحی کی تعلیم مبنی ہوگا جبکہ شیطان کا نظام بے حیائی اور برائی پر مبنی ہوگا ۔ مغربی تہذیب چونکہ وحی کی تعلیم کی مخالفت کی بنیاد پر پروان چڑھی ہے لہٰذا اس میں بے حیائی اور برائی ابلیسی ایجنڈے کا حصہ ہیں ۔ عورت کو گھر سے نکال کر شمع محفل بنانا ، تجارتی جنس بنانا ، لوگوں کی ہوس کو بیدار کرنا اور بڑھانا اور اس کی بنیاد پر تجارت کرنا ۔ عورت کو اس طرح Present کیا جائے کہ ان ہوس کے ماروں کی ہوس بھی پوری ہو اور ان کی تجارت بھی چلتی رہے ، ان کی تجوریاں بھی بھرتی رہیں، یہ سب کچھ ایپسٹین فائلز کے ذریعے سامنے آگیا ۔ مغربی تہذیب کے حامی کہتے ہیں دوسری قوموں سے کہتے ہیں کہ تم عورتوں کا خیال نہیں رکھتے ،  ان کو قید اور پردے میں رکھا ہوا ہے ، وہ ترقی کی دوڑ سے پیچھے رہ گئی ہیں ، مذہب عورتوں کے حقوق کو پامال کرتاہے وغیرہ ۔ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں بھی ایک کانفرنس ہوئی جس میں غزہ کے معصوم اور نہتے شہریوںکی نسل کشی ،کشمیر کے مظلوم مسلمانوں ، صہیونیت کے مظالم ، ٹرمپ کے دھوکے بازیوں پر کوئی بات نہیں کی گئی بلکہ اس کا ایجنڈا بھی عورت کی آزادی اور حقوق تھا ۔ اس کانفرنس میں ساری دنیا کے مندوبین کو جمع کرکے کہا گیا کہ افغانستان میں ملاؤں کی حکومت ہے جہاں عورتوں کے حقوق ادا نہیں کیے جارہے ۔
 مگر ایپسٹین فائلز نے مغرب کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ساری دنیا نے مغربی تہذیب کا اصل چہرہ دیکھ لیا کہ کس طرح کمسن بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ۔ مغربی تہذیب کی حمایت کرنے والا ایک طبقہ ہمارے ہاں بھی شور اُٹھاتا تھا کہ یہاں کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہے ۔ ہمارے حکمران بھی مغربی پروپیگنڈے کی زد میں آکر ایسی قانون سازیاں کر رہےہیں جن کے مطابق 18 سال سے کم عمر میں شادی جرم تصور ہوگی مگر خود مغرب میں کیا کچھ ہورہا ہے وہ ایپسٹین فائلز کے ذریعے سامنے آگیا ۔ یہ اصل میں حب مال اور حب جاہ کا مسئلہ ہے۔  اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: 
((إِنَّ لِکُلِّ أُمَّۃٍ فِتْنَۃٌ ، وَفِتْنَۃُ أُمَّتِي’’ اَلْمَالُ))   ’’ ہر امت کے لیے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا خاص فتنہ  مال ہے۔‘‘(صحیح بخاری)
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :{اِنَّمَآ اَمْوَالُــکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌط}(التغابن:15)’’تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے امتحان ہیں۔‘‘
  اس مال کی محبت میں ڈوب کرانسان کہاں تک جاتاہے ،  خدا کو بھی بھلاتا ہے، خدا کے احکامات کو بھی توڑتا ہے اور شرف انسانیت سے بھی گر جاتا ہے۔ پھر یہ مال ہی معبود بن جاتا ہے۔ ہر صورت میں مال کا حصول ہی   مقصد ِحیات بن جاتاہے ، چاہے اس کے لیے انسانی اقدار کا ستیاناس ہو ، اخلاقیات کا بیڑا غرق ہو ، معاشرت کی تباہی ہو یا اللہ کے حقوق پامال ہوں ۔ پھر اس پستی کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ 
پاکستان میں بے حیائی کے معاملات بڑھتے بڑھتے کہاں تک پہنچ گئے ۔ آج حکمران بھی پریشان ہیں ، ریاستی اداروں کے آفیسرز ، عدلیہ کے ججز ، وکلاء اور دیگر اعلیٰ ذمہ داران بھی پریشان ہیں کہ بے حیائی کس قدر آگے بڑھ کر قرآن مجید ،صاحب ِ قرآن ﷺ، دیگر انبیاء کرامؑ ، صحابہ کرامؓ ،ازواج مطہراتؓ، اہل بیت کی بے حرمتی اور گستاخیوں تک پہنچ چکی ہے ۔ سوشل میڈیا پر پورنوگرافک بلاسفیمی کے مسائل اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے ۔  مگر اب بھی دینی طبقے کا ایک بڑا حصہ اس کے خلاف آواز نہیں اُٹھا رہا ۔ دوسری طرف لبرل طبقہ ہے جو ان گستاخوںکو بچانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے ۔اس کا بنیادی محرک مال کی محبت ہے ۔ کسی طرح مال مل جائے چاہے ایمان اور آخرت کا سودا ہی کیوں نہ کرنا پڑ جائے ۔ اس شیطانی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے حزب الشیطان مال لگاتاہے اور انسان اس مال کے لیے شیطان کے ساتھی بنتے ہیں ۔ ادھر بھی ابلیسی چہرہ بے نقاب ہورہا ہے اور اس شیطانی تہذیب کا گند کھُل کر ہمارے سامنے آرہا ہے ۔ 
اسی طرح حب جاہ کا مسئلہ ہے ۔ جاہ منصب کو کہتے ہیں ۔ شیطان کا مسئلہ کیا تھا؟ یہ آدمؑ کو تو نے مٹی سے بنایا، مجھے آگ سے بنایا، میں اس سے افضل ہوں لہٰذا میں اس کو سجدہ کیوں کروں ؟یہ حب جاہ کا مسئلہ تھا، منصب مجھے ملے اس کو کیوں مل گیا، خلافت مجھے ملے اس کو کیوں مل گئی۔ یہ حب جاہ بھی شیطنت کاایک بنیادی عنصر ہے ۔ اس وقت دنیا پر حکمرانی کرنے والے لوگ خود کو باقی انسانوں سے افضل سمجھتے ہیں ۔ یہود کا تو معاملہ یہی ہے۔ وہ تو کہتے ہیں کہ سارے غیر یہودی جنٹائلز ہیں ،جانوروں سے بھی بدتر ہیں اور ایپسٹین فائلز کے پیچھے بھی یہی یہودی ذہن کارفرما ہے ۔ سرمائے کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اور عورت کو نمایاںکرکے اور ہوس کا نشانہ بنا کر دنیا کے حکمرانوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور پھران کے ذریعے گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کی جارہی ہے ۔ 
ایپسٹین فائلز میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ شیطانی نظام اور شیطانی تہذیب کے حمایتی سیاسی اسلام کو اپنی تہذیب اور اپنے نظام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ اسلام  خالق کا عطا کردہ نظام ہے جو جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی بات کرتا ہےاور اس کے لیے شرعی سزاؤں کے نفاذ کی بھی بات کرتاہے ۔ اسلام نے نکاح کا پاکیزہ بندھن عطا کیا تاکہ فطری خواہش کی تکمیل جائز طریقے پر ہو ، اولاد کے حصول کی تعلیم عطا کی، محرم و نامحرم کی تمیز بتائی ،پردے کے احکامات بتائے ، عورت کو پروٹیکشن عطا کی ، عورت کا اصل مقام اس کا گھر قرار دیا ۔ جس نے عورت کو گھر کی ملکہ بنایا ہے اور مرد کو قوام بنا کر کفالت کی ذمہ داری اُس پر ڈالی ہے۔ اسلام کے یہ سب فطری قوانین شیطانی نظام کے لیے خطرہ ہیں لہٰذا دنیا پر حکمرانی کے خواہش مند کہتے ہیں کہ سیاسی اسلام اور بنیادپرست مسلمان نظام ِ عالم کے لیے خطرہ ہیں ۔ جبکہ ایپسٹین فائلز کے ذریعے یہ حقیقت ساری دنیا کے سامنے آچکی ہے کہ انسانوں کی جان ، مال ، عزت اور آبرو کو کس سے خطرہ ہے ؟لہٰذا ہمیں اسلام کی حقانیت کو اب پورے جذبے اور شدت کے ساتھ دنیا کے سامنے بیان کرنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے :
 ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیاہے‘اور تم پر اِتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کا ‘اور تمہارے لیے میں نے پسند کر لیا ہے اسلام کو بحیثیت دین‘کے۔ ‘‘ (المائدۃ:3)
اللہ نے ہمیں اسلام نعمت کے طور پر دیا ہے۔ یہ نعمت افراد کے لیے بھی ہے، یہ گھرانوں کے لیے بھی ہے، یہ معاشروں کے لیے بھی ہے، یہ سارے انسانوں کے لیے بھی ہے۔ جس دین نے جانوروں کے تحفظ کی بھی بات کی ہے اس دین نے انسانوں کے تحفظ کے لیے، ان کی جان، مال اور آبرو کے تحفظ کے لیے کیا خوبصورت تعلیم عطا کی ہوگی ۔ آج ہمیں اس کا یقین نہیں ہے جبکہ حزب الشیطان کو اس بات کا ڈر ہے کہ اسلام انسانوں کو تحفظ اور پروقار اور   با حیاء معاشرت فراہم کرتاہے ۔ اسی لیے وہ اسلام کو اپنے شیطانی ایجنڈے کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں ۔  انہی کے پروردہ ایجنٹس ہمارے ملک میں بھی بیٹھے ہیںجو  شرعی تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہیں اور شریعت کے نفاذ میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔ 
سندھ اسمبلی کا واقعہ 
سندھ اسمبلی میں ایک ہندو رکن اسمبلی کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ شراب پر پابندی لگنی چاہیےاور مسلمان ارکان اسمبلی اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں بھی اسی طرح ایک ہندو رکن نے شراب پر پابندی لگانے کا کہا اور مسلمان اراکین نے اس کی مخالفت کی تھی ۔ یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ سندھ اسمبلی میں ایک مسلمان وزیر کہتا ہے کہ شراب پر پابندی سے مسائل کھڑے ہوجائیں گے ۔ یعنی اللہ کے حکم کے نفاذ سے مسئلہ ہوگا؟ انا للہ و انا الیہ راجعون ! یہ لوگ کس کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں ۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے :
{ اَنْ یُّوْقِـعَ بَـیْـنَـکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ} ’’ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے شراب اور جوئے کے ذریعے`سے۔‘‘  شراب کا خاتمہ ہو یہ رحمٰن کا حکم ہےجبکہ شراب ، جوا ، شرک اور بت پرستی عام ہو یہ شیطان کا ایجنڈا ہے ۔ آگے فرمایا :{فَہَلْ اَنْـتُمْ مُّـنْـتَہُوْنَ (91)} (المائدۃ)’’ تو اب باز آتے ہو یا نہیں؟‘‘
شراب اُم الخبائث ہے، برائیوں کی جڑ ہے اور رحمٰن کہتا ہے کہ تم شراب سے باز آتے ہو کہ نہیں؟ اگر آج اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمان اراکین اسمبلی اور وزراء شراب پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کرتے ہیں تو کس  کا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں ؟یہی شیطانی ایجنڈا ایپسٹین فائلز سے بھی نکل کر سامنے آیا ۔ ہم کیسے مسلمان ہیں ؟ آخرت میں اللہ کو کیا جواب دیں گے ؟سورہ الحج میں فرمایا :
 ’’وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکن ّعطا کر دیں تو‘وہ نماز قائم کریں گے‘اور زکوٰۃ ادا کریں گے‘اور وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ اور تمام امور کا انجام تو اللہ ہی کے قبضہ ٔقدرت میں ہے۔‘‘  (آیت:41)
یہ مسلمانوں سے خطاب ہے کہ اگر تمہیں زمین میں حکومت اور اختیار مل جائے تو نماز قائم کرنی ہے ، زکوٰۃ ادا کرنی ہے ، نیکی کا حکم دینا ہے اور برائی سے روکنا ہے۔ نماز اور زکوٰ ۃ کا پورا نظام ہے جسے حکمرانوں نے قائم کرنا ہے ۔ اسی طرح برائی کے خاتمے اور نیکی کے فروغ کے لیے  قانون سازی سمیت ہر ممکنہ قدم اُٹھانا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔ آج اس ملک میں طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے، حکمرانوں کے پاس ہے ، اداروں کے پاس ہے ۔ اس سطح پر جو بھی جتنا اختیار رکھتا ہے وہ روز محشر اسی قدر جواب دہ ہوگا ۔ لاہور کے ایک کالج (اب یونیورسٹی کا درجہ مل گیا)میں  طالبات سے خطاب کے دوران یہ کہا جارہا تھا : بیٹا آپ نے بچے زیادہ پیدا نہیں کرنے یا کرنے ہی نہیں ۔ اللہ نہ کرے کوئی وقت ایسا آئے کہ نکاح سے بھی اسی طرح انکار کیا جارہا ہو ۔  حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ نے جس طرح نکاح کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کیا اسی طرح اولاد کی کثرت کو بھی اپنی امت کے لیے پسند فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میں اپنے اس اُمتی پر فخر کروں گا جس کے ذریعے اللہ نے میری اُمت میں اضافہ کیا ہوگا ۔ اس کے برعکس شیطان کا ایجنڈا یہ ہے کہ نکاح نہ ہو ، بچے پیدا نہ ہوں ، گھر اور خاندان کا نظام باقی نہ رہے اور انسان شرف انسانیت سے گر کرحیوانیت کی سطح پر آجائیں ۔ 
بسنت کا تہوار 
لاہور میں بسنت کا تماشا ایک بار پھر شروع کیا گیا ۔ اب کرکٹ کا تماشا چل رہا ہے ۔ قوم کو ان تماشوں میں لگا کر ملک ، قوم اور امت کے اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جارہی ہے تاکہ ان کفار اور مشرکین کا ظلم دکھائی نہ دے ، اُمت کی بربادی کا کچھ احساس ہی ہونے نہ پائے ۔ اپنی اصلاح کرنے اور ظلم کے نظام کے خلاف کھڑے ہونے کی سوچ ہی پروان نہ چڑھنے پائے ۔ شاعر نے کہا تھا؎
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمرانوں کی ساحری
شیطان کا ایجنڈا یہ ہے کہ اُ مت کو ایسے کاموں میں لگائے رکھو تاکہ ان کو یاد ہی نہ آئے کہ یہ کون ہیں، یہ محمدﷺ کے اُمتی ہیں اور ان کے کندھوں پر بہت بھاری ذمہ داریاں ہیں ۔  اللہ فرماتاہے : {ہُوَ اجْتَبٰـىکُمْ}(الحج:78) ’’اُس نے تمہیں چُن لیا ہے‘‘
اللہ نے اس اُمت کو اقوام عالم کی رہنمائی اور قیادت کے لیے چنا ہے اور اس کی اولین ذمہ داری ہے کہ اللہ کے دین کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچائے اور اس نافذ بھی کرے۔ فرمایا :’’تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘تم حکم کرتے ہو نیکی کا‘اور تم روکتے ہو بدی سے۔‘‘ (آل عمران:110)
اس اُمت کے ذمے یہ کام تھا کہ یہ دنیا سے برائی ، ظلم و استحصال پر مبنی شیطانی نظام کا خاتمہ کرکےخیر ، بھلائی ، انصاف اور عدل پر مبنی اللہ کے نظام کو قائم کرنا تھا ۔ یہ بات شیطان اور اس کی جماعت کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں ، اس لیے اس کا سب سے بڑا ایجنڈا یہ ہے کہ اس اُمت کو کھیل تماشوں کے اندر لگائے رکھو ۔ ان کو مقصد ِزندگی سے اس قدر غافل کر دو کہ یہ حیوانوں کی سطح پر زندگی بسر کریں ۔ جیساکہ ایپسٹین فائلز سے ثابت ہوگیا کہ مغرب میں کس طرح یہ شیطانی ایجنڈا آگے بڑھ رہا ہے ۔ اللہ ہمیں بھی ہدایت دےاور ہمارے حکمرانوں کو بھی ہدایت دے ۔ 
استقبال رمضان 
رمضان المبارک غفلت سے جاگنے کا موقع فراہم کرتاہے ، اپنی روح کو بیدار کرنے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنے کا موقع دیتا ہے ۔ انسان محض حیوان نہیں ہے ،  آنکھیں ، کان ، پیٹ ، ہاتھ پیر جانوروں کے ساتھ بھی ہیں ، فرق یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے شعور عطا کیا ہے ، اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات ہے۔ فرمایا :
{خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ط} (صٓ:75) ’’جسے مَیں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟‘‘
{وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ }  (صٓ:72) ’’اور مَیں اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں۔‘‘
{ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ(4)ٌ}(التین)’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔‘‘
{وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ}(بنی اسرائیل:70)  ’’اور ہم نے بڑی عزّت بخشی ہے اولادِ آدم ؑ کو۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے انسان کو تکریم عطا کی ہے ۔ اسے زمین پراپنی نمائندگی کے لیے خلافت دے کر بھیجا ہے ۔ خصوصاً حضرت محمد ﷺ کی اُمت کو پوری دنیا کی قیادت اور رہنمائی کے لیے کھڑا کیا گیا ہے ۔ لیکن دنیا کے    کھیل تماشوں میں لگ کر انسان غفلت کا شکار ہو جاتاہے ۔ اس غفلت سے جگانے اور روح کے بیدار کرنے کے لیے رمضان کے روزے عطا کیے گئے ۔ روزے کا بنیادی مقصد جیسا کہ بیان ہوا : { لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ (183)}(البقرۃ)   ’’ تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘
دن کے روزے سے دل میں تقویٰ پیدا ہوگا اور رات کے قیام سے اللہ سے تعلق مضبوط ہوگا ۔ حضور ﷺ تو پورا سال تہجد کی نماز ادا کرتے تھے لیکن اُمت کے لیے رمضان میں تراویح کی شکل میں رات کا قیام عطا کیا گیا ۔ قرآن کی تلاوت روح کی غذا ہے ۔روح کا لفظ قرآن میں انسانی روح کے لیے بھی آیا ہے ، وحی کے لیے بھی آیا ہے اور وحی کو لانے والے فرشتے جبرائیل کو روح الامین کہا گیا ہے ۔ ہماری روح کی غذا اس روح یعنی قرآن سے پوری ہوگی۔بچہ جاگتا ہے تو غذا مانگتا ہے، ہم صبح بیدار ہوتے ہیں تو بھوک لگتی ہے، روح بیدار ہوگی تو غذا مانگے گی۔دن کے روزے سے روح کو بیدار کرو اور پھر رات کے قیام میں اس کو قرآن سناؤ تاکہ روح توانا ہوجائے ۔ روح جب توانا ہوگی تو نفس پر غالب آئے گی اور انسان محض حیوانوں کی طرح زندگی نہیں گزارے گا بلکہ مقصدِ زندگی کو پہچانے گا اور اس کے لیے عمل کرے گا ۔ تب ایک مسلمان اپنے اُمتی ہونے کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا ۔ یعنی باطل اور شیطانی نظام کے خلاف کھڑا ہوگا اور اللہ کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کرے گا ۔ 
ہمارے اُستاد ڈاکٹر اسراراحمدؒ ، اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے ۔بہت سے اعتبارات سے ان پر اللہ کا فضل ہوا ۔ ایک بہت بڑا فضل دورہ ترجمہ قرآن ہے جو انہوں نے 1980ء میں رمضان میں نمازِ تراویح کے دوران شروع کیا ۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؇رمضان کی راتیں قرآن کے ساتھ بسر ہوتی تھیں ۔ ہم تو ڈیڑھ گھنٹہ تراویح میں لگا کر باقی پوری رات کھاتے پیتے، کرکٹ کھیلتے ، ٹورنامنٹس دیکھتے ، گھومتے پھرتے ، شاپنگ کرتے ہیں ، مڈنائٹ ڈیلز ہوتی ہیں ، سحری ڈیلز ہوتی ہیں اور پتا نہیں کیا کچھ ہوتا ہے لیکن جو ڈیڑھ گھنٹہ تراویح میں گزارتے ہیں اس میں بھی ہمیں نہیں پتہ چلتا کہ قرآن کے ذریعے ہمیں کیا   پیغام دیا جارہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا تقاضے کر رہا ہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اس کا حل یہ نکالا کہ تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد بیٹھ کر قرآن کے اس حصے کا ترجمہ اور تشریح بیان کی جائے جو ان چار رکعتوں میںتلاوت کیا گیا ۔  جب ہمیں قرآن کی سمجھ آئے گی تو پھر ہم اپنی اصلاح اور دین کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونے کوشش بھی کریں گے ۔ 
رمضان صرف کھانے پینے اور سونے جاگنے کا مہینہ نہیں ہے بلکہ اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد میں متحرک ہونے کا مہینہ ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؇ کا رمضان اس حوالے سے کس قدر متحرک تھا ۔ غزوۂ بدر اور فتح مکہ کا واقعہ رمضان میں ہوا ۔ یہ دو بڑے ایونٹس تھے جن کے ذریعے اسلام عرب میں غالب ہوا ۔ معلوم ہوا کہ رمضان محض آرام کرنے اور سونے جاگنے کا مہینہ نہیں ہے بلکہ اللہ کے دین کے لیے متحرک ہونے کا مہینہ ہے ۔اس میں شیطان قید ہو جاتاہے، جہنم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور فرائض کا ثواب 70 گنا بڑھ جاتا ہے۔ہر رات اللہ کی طرف سے مغفرت کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ گویا یہ نیکی اور خیر کے کاموں میں آگے بڑھنے کا سیزن ہےاور سیزن آرام کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ پہلے سے زیادہ متحرک ہونے کے لیے ہوتا ہے ۔ سب سے پہلے اپنی روح کو بیدار کرنا ، پھر قرآن کی تلاوت اور فہم کے ذریعے اس کو مضبوط کرنا تاکہ شیطانی تہذیب کے خلاف ، شیطانی نظام کے خلاف کھڑا ہونے قوت اور ہمت پیدا ہو اور اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد میں حصہ لینا ، رمضان کا اصل تقاضا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کے ان تقاضوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !