(خصوصی مہم) نصرت الٰہی سے محرومی کے اسباب! - مولانا سعید احمد

10 /

نصرت الٰہی سے محرومی کے اسباب!

مولانا سعید احمد جلال پوری

گزشتہ دنوں ایک مختصر مگر چبھتا ہوا سوال موصول ہوا کہ: ’’آج کل پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور یہ ظلم کرنے والے غیر مسلم ہیں تو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آتی؟‘‘
بلاشبہ یہ سوال آج کل تقریباً ہر دین دار مسلمان کی زبان پر ہے اور اُس کے دل و دماغ کو پریشان کئے ہوئے ہے اور اُسے سمجھ نہیں آتا کہ اگر مسلمان حق پر ہیں اور یقیناً حق پر ہیں، تو ان کی مدد کیوں نہیں کی جاتی اور ان کے  اعداء و مخالفین یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین، جو یقیناً باطل پر ہیں، کے خلاف اللہ تعالیٰ کا جوش انتقام حرکت میں کیوں نہیں آتا؟ اور ان کو تہس نہس کیوں نہیں کردیا جاتا؟   یا کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ کو مسلمانوں پر فوقیت و برتری کیونکر حاصل ہے؟ اور ان کو اس قدر ڈھیل کیوں دی جارہی ہے؟ اس کے برعکس مسلمانوں کو روزبروز ذلت و ادبار کا سامنا کیونکر ہے؟اس سوال کے جواب میں راقم الحروف نے جو کچھ لکھا،ملاحظہ ہو:
برادر عزیز! آپ کا سوال معقول اور بجا ہے، کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں پر جس قدر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور مسلمان جس قدر ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، شاید ہی کسی دوسری قوم پر کبھی ایسا وقت آیا ہو؟اس سب کے باوجود مسلمانوں کے حق میں اللہ کی مدد کا نہ آنا،واقعی قابل تشویش ہے،اور آپ کی طر ح ہر مسلمان اس تشویش میں مبتلا ہے۔
لہٰذا آپ کے سوال کے جواب کے سلسلہ میں چند باتیں عرض کرنا چاہوں گا، اگر آپ نے ان کو ذہن نشین کرلیا تو امید ہے کہ اِن شاءاللہ آپ کو مسلمانوں کے حق میں اللہ کی مدد نہ آنے کے اسباب و وجوہ سمجھ آجائیں گے۔
دراصل یہاں دو امور ہیں، ایک یہ کہ تمام مسلمان عموماً   اللہ تعالیٰ کی مدد سے کیوں محروم ہیں؟ دوسرے یہ کہ خاص طور پر وہ نیک صالح مسلمان، جو واقعی اللہ تعالیٰ کے دین کے محافظ ہیں، ان پر مصائب و بلایا کے پہاڑ کیوں توڑے جارہے ہیں ؟ ان کے حق میں اللہ کی مدد آنے میں تاخیر کیوں ہورہی ہے؟ اور ان کے دشمنوں کو اِس قدر ڈھیل کیوں دی جارہی ہے؟
اول: سب سے پہلے یہ کہ تمام مسلمان اللہ کی مدد سے کیوں محروم ہیں؟ اِس سلسلہ میں عرض ہے:
1:- اس وقت مسلمان من حیث القوم مجموعی اعتبار سے تقریباً بدعملی کا شکار ہوچکے ہیں۔
2:- اس وقت مسلمانوں میں ذوقِ عبادت اور شوقِ شہادت کا فقدان ہے، بلکہ مسلمان بھی    کفار و مشرکین کی طرح موت سے ڈرنے لگے ہیں۔
3:- اس وقت تقریباً مسلمانوں کو دین، مذہب، ایمان، عقیدہ سے زیادہ اپنی، اپنی اولاد اور اپنے خاندان کی دنیاوی راحت و آرام کی فکر ہے۔
4:- آج کل مسلمان موت، مابعد الموت، قبر، حشر، آخرت، جہنم اور جنت کی فکر و احساس سے بے نیاز ہوچکے ہیں اور اُنہوں نے کافر اقوام کی طرح اپنی کامیابی و ناکامی کا مدار دنیا اور دنیاوی اسباب و ذرائع کو بنالیا ہے، اس لیے تقریباً سب ہی اس کے حصول و تحصیل کے لیے دیوانہ وار دوڑ رہے ہیں۔
5:- اِس وقت مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد، بھروسا اور توکل نہیں رہا، اس لیے وہ دنیا اور دنیاوی اسباب و وسائل کو سب کچھ باور کرنے لگے ہیں۔
6:- جب سے مسلمانوں کا اللہ کی ذات سے رشتہ عبدیت کمزور ہوا ہے، اُنہوں نے عبادات و اعمال کے علاوہ قریب قریب سب ہی کچھ چھوڑ دیا ہے، حتیٰ کہ بارگاہِ الٰہی میں رونا، بلبلانا اور دعائیں مانگنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
7:- جس طرح کفر و شرک کے معاشرہ اور بے خدا قوموں میں بدکرداری، بدکاری، چوری، ڈکیتی، شراب نوشی، حرام کاری ،  حرام خوری، جبر ، تشدد، ظلم اور ستم کا دور دورہ ہے، ٹھیک اسی طرح نام نہاد مسلمان بھی ان برائیوں کی دلدل میں سرتاپا غرق ہیں۔
8:- معدودے چند، اللہ کے جو بندے، اِس غلاظت کدہ میں نور کی کرن اور امید کی روشنی ثابت ہوسکتے تھے، اُن پر اللہ کی زمین تنگ کردی گئی، چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ جو مسلمان قرآن و سنت، دین و مذہب کی پاسداری اور اسوئہ نبوت ؐکی راہ نمائی میں زندگی گزارنا چاہتے تھے، اُنہیں تشدد پسند، دہشت گرد، رجعت پسنداورملک و ملت کے دشمن وغیرہ کہہ کر ٹھکانے لگادیا گیا۔
9:- نام نہاد مسلمانوں نے کافر اقوام کے پروپیگنڈا سے متاثر ہوکر اور اُن کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے کر دین و مذہب سے وابستگی رکھنے والے مخلصین کے خلاف ایسا طوفان بدتمیزی برپا کیا اور اُن کو اس قدر مطعون و بدنام کیا کہ کوئی سیدھا سادا مسلمان، اسلام اور اسلامی شعائر کو اپناتے ہوئے بھی گھبراتا ہے۔
10:- اسلام دشمن میڈیا(بشمول سوشل میڈیا)، اخبارات، رسائل و جرائد میں اسلام اور مسلمانوں کو اِس قدر خطرناک، نقصان دہ، ملک و ملت دشمن اور امن مخالف باور کرایا گیا کہ اب خود مسلمان معاشرہ ان کو اپنانے اور گلے لگانے پر آمادہ نہیں۔
11:- مادیت پسندی نے نام نہاد مسلمان کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ اب اس کو حلال و حرام کی تمیز تک نہیں رہی، چنانچہ اب کوئی مسلمان حلال و حرام کی تمیز کرتا ہو، اس لیے مسلم معاشرہ میں بھی، سود، جوا، رشوت، لاٹری، انعامی اسکیموں کا دور دورہ ہے۔
12:- جو لوگ سود خوری کے مرتکب ہوں، اللہ تعالیٰ کا ان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ ظاہر ہے جو مسلمان سود خور ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے حالت جنگ میں ہیں، اور جن لوگوں سے اعلانِ جنگ ہو، کیا ان کی مدد کی جائے گی؟
13:- جو معاشرہ عموماً چوری ڈکیتی، مار دھاڑ، اغوا برائے تاوان، جوئے، لاٹری، انعامی اسکیموں اور رشوت پر پل رہا ہو، اور جہاں ظلم و تشدد عروج پر ہو، جہاں کسی غریب کی عزت و ناموس اور مال و دولت محفوظ نہ ہو، وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوگی یا اللہ کا غضب؟ پھر یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کفر کے ساتھ حکومت چل سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی، اس لیے کہ اللہ کی مدد مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ظالم چاہے مسلمان ہی کیوں نہ ہو، اللہ کی مدد سے محروم ہوتا ہے۔
14:- جس قوم اور معاشرہ کی غذا، لباس، گوشت، پوست حرام مال کی پیداوار ہوں، اُن کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں،جیساکہ حدیث شریف میں ہے:
حضرت ابو ہریرہ ؓ آنحضرتﷺ سے نقل  فرماتے ہیں :’’ اللہ تعالیٰ پاک، پاکیزہ ہیں اور پاک، پاکیزہ ہی قبول فرماتے ہیں، اور بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا،     پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے رسولوں کی جماعت! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور اعمال صالح کرو‘‘ اسی طرح مومنوں سے فرمایا: ’’اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں۔‘‘ پھر آپﷺ نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو طویل سفر کی وجہ سے غبار آلود اور پراگندہ بال ہے اور دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر کہتا ہے:’’ اے رب! ،اے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا اور اس کی غذا حرام کی ہے، تو اس کی دعا کیونکر قبول ہوگی؟‘‘(رواہ مسلم)
15:- بایں ہمہ وہ مقبولانِ الٰہی، جو مخلوق خدا کی اس مجبوری اور مقہوری پر کڑھتے ہیں ، روتے ہیں، بلبلاتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعائیں کرنا چاہتے ہیں، ان کو بارگاہ الٰہی سے یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ اپنی ذات کے لیے اور اپنی ضرورت کے لیے دعا کرو، میں قبول کروں گا لیکن عام لوگوں کے حق میں تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
حضرت انس ؓ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:’’ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ مومن، مسلمانوں کی جماعت کے لیے دعا کرے گا، مگر قبول نہیں کی جائے گی، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، تو اپنی ذات کے لیے اور اپنی پیش آمدہ ضروریات کے لیے دعا کر، میں قبول کروں گا، لیکن عام لوگوں کے حق میں قبول نہیں کروں گا، اس لیے کہ اُنہوں نے مجھے ناراض کرلیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میں اُن سے ناراض ہوں۔‘‘(کتاب الرقائق)
16:- پھر یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ آسمان سے اچھے یا بُرے فیصلے اکثریت کے عمل اور بدعملی کے تناظر میں نازل ہوتے ہیں، اس لیے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم معاشرہ کی اکثریت کے اعمال و افعال اور سیرت و کردار کا کیا حال ہے؟ کیا ایسا معاشرہ جہاں دین، دینی اقدار کا مذاق اڑایا جاتا ہو، جہاں قرآن و سنت کا انکار کیا جاتا ہو، جہاں اس میں تحریف کی جاتی ہو، جہاں ان کو من مانے مطالب ، مفاہیم اور معانی پہنائے جاتے ہوں، جہاں حدود اللہ کا انکار کیا جاتا ہو، جہاں سود کو حلال اور شراب کو پاک کہا جاتا ہو، جہاں زنا کاری و بدکاری کو تحفظ ہو، جہاں ظلم و تشدد کا دور دورہ ہو، جہاں مسلمان کہلانا دہشت گردی کی علامت ہو، جہاں بے قصور معصوموں کو کافر اقوام کے حوالہ کیا جاتا ہو، جہاں بدکار و مجرم معزز اور معصوم ذلیل ہوں، جہاں توہین رسالت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا جاتا ہو، جہاں باغیانِ نبوت کو اقتدار کی چھتری مہیا ہو، جہاں محافظین دین و شریعت کو پابند سلاسل کیا جاتا ہو، جہاں کلمہ حق کہنے والوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہو، جہاں کافر اقوام کی کاسہ لیسی کی جاتی ہو، جہاں یہود و نصاریٰ کی خوشنودی کے لیے مسلم ممالک پر اسلام دشمنوں کی چڑھائی کو سند جواز مہیا کی جاتی ہو، جہاں دینی مدارس و مساجد پر چڑھائی کی جاتی ہو، ان پر بمباری کی جاتی ہو، ہزاروں معصوموں کو خاک و خون میں تڑ پایا جاتا ہو، ان پر فاسفورس بم گراکر ان کا نام و نشان مٹایا جاتا ہو، جہاں مسلمان طالبات اور پردہ نشین خواتین کو درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہو، ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی ہو، ان کے جسم کے چیتھڑے اُڑائے جاتے ہوں، ان کو دفن کرنے کے بجائے اُن کی لاشوں کو جلایا جاتا ہو، جہاں تاتاری اور نازی مظالم کی داستانیں دہرائی جاتی ہوں، جہاں دین دار طبقہ اور علماء و صلحاء پر زمین تنگ کی جاتی ہو، جہاں اغیار کی خوشنودی کے لیے اپنے شہریوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کئے جاتے ہوں، جہاں ہزاروں ، لاکھوں مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا ہو، جہاں دین و شریعت کا نام لینا جرم اور عریانی فحاشی،  پتنگ بازی اور میراتھن ریس کی سرپرستی کی جاتی ہو، جہاں عریانی و فحاشی کو روشن خیالی و اعتدال پسندی کا نام دیا جاتا ہو، جہاں دینی مدارس بند اور قحبہ خانے کھولے جاتے ہوں، جہاں عوام نانِ شبینہ کے محتاج ہوں اور اربابِ اقتدارلاکھوں، کروڑوں روپے ایک رات ہوٹل کے قیام کا کرایہ ادا کرتے ہوں، جہاں اپنے اقتدار اور حکومت کے تحفظ کے لیے دین و مذہب اور شرم و حیاء کی تمام حدود کو پھلانگا جاتا ہو، وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوگی؟ یا اللہ کا عذاب و عتاب؟؟؟
بلاشبہ آج کا دور دجالی فتنے اور نئے نئے نظریات کا دور ہے، زمانہ بوڑھا ہوچکا ، ہم جنس پرستی اور ٹرانس جینڈر کو قانونی جواز حاصل ہوچکا، ناچ گانے کی محفلیں عام ہوچکیں، دیکھا جائے تو یہ قربِ قیامت کا وقت ہے، اس وقت مسلمانوں سے اللہ کی حفاظت و مدد اُٹھ چکی ہے، مسلمانوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، سچی بات یہ ہے کہ یہ اللہ کی ناراضگی، ظاہر داری، چاپلوسی، انانیت، خود پسندی اور اُمّت کے زوال کا وقت ہے، فتنہ و فساد عروج پر ہیں، خیر سے محروم لوگوں کی کثرت ہے اور خدا کی لعنت و غضب کا وقت ہے، اور یہود و نصاریٰ کی نقالی کامیابی کی معراج شمار ہونے لگی ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے لوگوں اور معاشرہ کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا قدر و قیمت ہوسکتی ہے؟ چنانچہ ایسے ہی دور کے لوگوں کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ :’’حضرت مرداس اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا: ’’نیک لوگ یکے بعد دیگرے رخصت ہوتے جائیں گے، جیسے چھٹائی کے بعد ردی جو یا کھجوریں باقی رہ جاتی ہیں، ایسے ناکارہ لوگ رہ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔‘‘(صحیح بخاری)
17:- اس کے علاوہ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ: مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد کا وعدہ ضرور ہے لیکن ساتھ ہی اللہ کی مدد آنے کے لیے یہ شرط بھی ہے کہ:
’’اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کریں گے، اور تمہارے قدموں کو ثابت کریں گے۔‘‘(محمد:7)
  لہٰذا جب سے مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد چھوڑ دی ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں سے اپنی رحمت و عنایت اور مدد کا ہاتھ اٹھالیا ہے، چنانچہ آج ہر طرف مسلمانوں پر کافر اس طرح ٹوٹ رہے ہیں جس طرح دسترخوان پر چنے ہوئے کھانے پر لوگ ٹوٹتے ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
حضرت ثوبانh سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ وقت قریب آتا ہے، جب تمام کافر قومیں تمہارے مٹانے کے لیے… مل کر سازشیں کریں گی … اور ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جیسے دسترخوان پر کھانا کھانے والے … لذیذ … کھانے کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، کسی نے عرض کیا:  یا رسول اللہ! کیا ہماری قلت تعداد کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہوگا؟ فرمایا: نہیں! بلکہ تم اس وقت تعداد میں بہت ہوگے، البتہ تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ناکارہ ہوگے، یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رعب اور دبدبہ نکال دیں گے، اور تمہارے دلوں میں’وہن‘ ڈال دیں گے، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ’وہن‘ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔‘‘(ابو دائود) بتلایا جائے جس معاشرہ کا یہ حال ہو، اور جن مسلمانوں کے اعمال و اخلاق کا یہ منظر نامہ ہو، وہاں اللہ کی مدد آئے گی یا اللہ کا عذاب؟
دوم : رہی یہ بات کہ کفار و مشرکین اور اغیار کے مظالم کا شکار صرف اور صرف دین دار مسلمان ہی کیوں ہیں؟ اگر بدکردار مسلمانوں اور اربابِ اقتدار نے اللہ کو ناراض کر رکھا ہے تو ان کی سزا ان نہتے معصوموں کو کیوں دی جاتی ہے؟ اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آتی؟ چاہیے تو یہ تھا کہ جرم و سزا کے فلسفہ کے تحت سزا بھی ان ہی لوگوں کو دی جاتی ،جنہوں نے اللہ کو ناراض کررکھا ہے، مگر اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ نیک صالح مسلمان، اور   دین و مذہب کے متوالے ،کفار کے مظالم کی تلوار سے ذبح ہورہے ہیں، ان کو بے نام کیا جارہا ہے، ان کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے، ان کی جان و مال اور عزت و ناموس برباد کی جارہی ہے، ان پر اللہ کی زمین تنگ کی جارہی ہے، اپنے اور پرائے سب ہی ان کے دشمن اور ان کی جان کے پیاسے ہیں، کوئی بھی ان کے لیے کلمہ خیر کہنے کا روادار نہیں ہے، بلکہ ان پر ہر طرف سے آگ و آہن کی بارش اور بارود کی یلغار ہے، آخر ایسا کیوں ہے؟؟اسی طرح ارشاد الٰہی : {اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِیْبٌ(214)}’’بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔‘‘کا وعدہ کب پورا ہوگا؟
       اس سلسلہ میں بھی چند معروضات پیش کرنا چاہوں گا:
1:- دنیا باخدا مسلمانوں کے لیے قید خانہ اور کفار و مشرکین کے لیے جنت ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:’’ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔‘‘(ترمذی)
یعنی دنیا میں عموماً کافر کی نسبت، ایک مومن کو آفات و مصائب کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ کافر کی دنیاوی کروفر اور راحت و آرام اور مومن کی تکلیف و تعذیب کو دیکھ کر پریشان نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مومن کی دنیا کی تکلیف و تعذیب اور مصائب و آلام کا، اس کی جنت کے ساتھ اور کافر کی ظاہری کروفر، خوش عیشی اور راحت و آرام کا اس کی جہنم کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو سمجھ میں آجائے گا کہ جس طرح کافر کی دنیاوی راحت و آسائش کی، اس کی جہنم کی سزا کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں، اسی طرح مسلمان کی دنیا کی عارضی تکالیف و مشکلات اس کی جنت اور آخرت کی راحت و آرام کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔
2:- دنیا دارالعمل اور آخرت دارالجزا ہے اور ظاہر ہے جو شخص عملی میدان میں جتنا محنت و مشقت اور جہد و مجاہدہ برداشت کرے گا، بعد میں اُسی تناسب سے اسے    راحت و آرام میسر آئے گا اور جو شخص میدانِ عمل میں جتنا کوتاہی کرے گا، بعد میں اسی تناسب سے اُسے ذلت و رسوائی اور فضیحت و شرمندگی کا سامنا کرنا ہوگا، ٹھیک اسی طرح مقربین بارگاہِ خداوندی کو بھی آخرت کی کھیتی یعنی دنیا میں جہد مسلسل اور محنت و مشقت کا سامنا ہے، مگر عاقبت و انجام  کے اعتبار سے جلد یا بدیر راحت و آرام اُن کا مقدر ہوگا، دوسری طرف کافر اگرچہ یہاں ہر طرح کی راحت و آرام سے سرفراز ہیں، مگر مرنے کے ساتھ ہی عذاب جہنم کی شکل میں ان کی راحت و آرام اور ظلم و عدوان کا ثمرہ ان کے سامنے آجائے گا۔
3:- بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے دنیا ہی میں انہیں مصائب و تکالیف میں مبتلا فرماتے ہیں تاکہ اس کی کمی کوتاہیوں کا معاملہ یہیں نمٹ جائے اور آخرت میں ان کو کسی عذاب سے دوچار نہ ہونا پڑے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ  نے ارشاد فرمایا:’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، تو دنیا میں ہی اس کو فوری سزا دے دیتے ہیں اور جب کسی کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں تواس کے گناہ کی سزا موخر کردیتے ہیں، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کو پوری سزا دیں گے۔ نیز آنحضرتﷺ نے فرمایا :’’ بندے کو جتنا بڑا ابتلاء پیش آئے، اتنی بڑی جزا اُس کو ملتی ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو اُسے مصائب و آلام سے آزماتے ہیں، پس جو شخص ہر حالت میں ا للہ تعالیٰ سے راضی رہا، اُس کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اور جو شخص ناراض ہوا اس کے لیے ناراضی ہے۔‘‘(ترمذی)
4:- بعض اوقات مقربین بارگاہِ الٰہی کے پیمانہٴ خلوص، اخلاص، صبر، تحمل، تسلیم ، رضا، عزم، ہمت، دینی پختگی اور تصلّب کو ناپنے کے لیے ان پر امتحانات و آزمائشیں آتی ہیں، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے:
(ا)’’اور ہم تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف سے اور فاقہ سے اور مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے ۔ اور آپ ایسے صابرین کو بشارت سنادیجئے کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں اور ہم سب اللہ تعالیٰ کے پاس جانے والے ہیں۔‘‘
     (البقرہ:155،156)
(ب):-  ’’کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ، کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے اور ان کو جانچ نہ لیں گے، اور ہم نے جانچا ہے ان کو جو ان سے پہلے تھے، سو البتہ معلوم کرے گا اللہ جو لوگ سچے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹوں کو۔‘‘(عنکبوت:1تا3)
(ج)’’حضرت خباب بن الارت ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ بیت اللہ کے سائے میں اپنی چادر سے ٹیک لگاکر تشریف فرما تھے، کہ ہم نے آپؐ سے کفار کے مظالم کی شکایت کرتے ہوئے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپؐ ہمارے لیے اللہ سے مدد اور دعا کیوں نہیں مانگتے؟آپؐ یہ سن کر ایک دم سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا:’’ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کے لیے گڑھا کھودا جاتا، اُسے اس میں کھڑا کیا جاتا اور اس کے سر پر آری چلاکر اسے چیر کر دو ٹکڑے کردیا جاتا، مگر یہ سب کچھ اس کو اس کے دین سے نہ ہٹاسکا، اسی طرح کسی کے جسم پر لوہے کی کنگھی چلاکر اس کا گوشت اور پٹھے اس کی ہڈیوں سے اُدھیڑ دیئے جاتے، مگر یہ سب کچھ اس کو اس کے دین سے نہیں ہٹاسکتا۔‘‘(صحیح بخاری)
گویا ان حضرات کو اپنے دین و مذہب کی خاطر اس قدر اذیتیں دی گئیں اور اُنہوں نے اس پر صبر و برداشت کیا تو تمہیں بھی ان معمولی تکالیف پر حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے بلکہ صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے اور اللہ کی نصرت و مدد پر نگاہ رکھنی چاہئے جلد یا بدیر اللہ کی مدد آکر رہے گی۔
5:- ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد فوراً آجائے، بلکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ حضرات انبیاء کرامf کی مدد و نصرت میں بھی اتنی تاخیر فرماسکتے ہیں کہ وہ مایوسی کے قریب ہوجائیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
الف:-’’یہاں تک کہ پیغمبراس بات سےمایوس ہوگئے اور ان پیغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی، ان کو ہماری مدد پہنچی، پھر اس عذاب سے ہم نے جس کو چاہا وہ بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں ہٹتا۔‘‘ (یوسف:110)
ب:-’’کیا تم کو یہ خیال ہے کہ جنت چلے جاؤگے حالانکہ تم پر نہیں گزرے حالات ان لوگوں جیسے جو ہوچکے تم سے پہلے کہ پہنچی ان کو سختی اور تکلیف اور جھڑ جھڑائے گئے،   یہاں تک کہ کہنے لگا رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے کب آوے گی اللہ کی مدد؟ سن رکھو اللہ کی مدد   قریب ہے۔‘‘(البقرہ:214)
اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ کفار و مشرکین کے مقابلہ میں نیک و صالح مسلمانوں کے لیے فوراً نصرت الٰہی کا آنا کوئی ضروری نہیں، اس کے علاوہ مدد و نصرت الٰہی میں تاخیر کا ہوجانا جہاں کفار و مشرکین اور ان کے موقف کی صداقت کی دلیل نہیں، وہاں نیک صالح اور متقین و مومنین کے بارگاہِ الٰہی میں مبغوض و مقہور ہونے کی علامت بھی نہیں، کیونکہ دورِ حاضر کے نیک و صالح مومنین و متقین، اپنی جگہ کتنا ہی مقرب بارگاہ الٰہی کیوں نہ ہوں، بہرحال وہ حضرات انبیاء کرام ؓ کے مرتبہ و مقام کو نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا اگر حضرات انبیاء کرامf کی مدد و نصرت میں تاخیر ہوسکتی ہے تو دورِ حاضر کے نیک صالح مومنین و مجاہدین کی مدد میں تاخیر کیوں نہیں ہوسکتی؟
6:- اس سب سے ہٹ کر سچی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ موجودہ صورت حال میں جہاں اہل ِ ایمان کو مصائب و آلام سے دوچار کرکے ان کے درجات بلند کرنا چاہتے ہیں، وہاں ان بدباطن کفار و مشرکین اور نام نہاد مسلمانوں پر اتمام حجت کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کل قیامت کے دن وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں غوروفکر کی مہلت اور صحیح صورتِ حال کا اندازہ نہیں ہوسکا تھا۔
الغرض موجودہ صورت حال سے جہاں نیک صالح لوگوں اور مقربین بارگاہِ الٰہی کے درجات بلند ہورہے ہیں، وہاں ان بدباطنوں کو ڈھیل دی جارہی ہے، چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
{وَاُمْلِیْ لَہُمْ ط اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ(45)} (القلم)
’’ اور میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں مگر میری تدبیر غالب ہے۔‘‘ 
اسی طرح:{وَانْتَظِرُوْاج اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ (122)}  (سورہ ھود)’’ تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔‘‘ مرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ کون فائدہ میں تھا اور کون نقصان میں؟