(الہدیٰ) چال میں میانہ روی اور کلام میں وقار - ادارہ

10 /
الہدیٰ
 
چال میں میانہ روی اور کلام میں وقار
 
آیت 19  {وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ}’’اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو‘‘
یہ میانہ روی (اقتصاد) صرف ظاہری چال ہی میں نہیں بلکہ زندگی کی مجموعی ’’چال‘‘ میں بھی مطلوب ہے۔ خصوصی طور پر قرآن میں معیشت کی میانہ روی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ الفرقان میں بندۂ مومن کی پختہ (mature) اور متوازن شخصیت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے: {وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًاO} ’’اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ (ان کا معاملہ) اس کے بین بین معتدل ہوتا ہے۔‘‘ 
{وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ ط} ’’اور اپنی آواز کو پست رکھو۔‘‘
خصوصی طور پر کسی بحث و تمحیص کے دوران اونچی آواز میں چیخنے کے بجائے ٹھوس دلیل کے ساتھ ُپر وقار انداز میں گفتگو کرو۔ کیونکہ عام طور پر بحث کرتے ہوئے آدمی اونچی آواز میں چیخ چیخ کر اس وقت بولتا ہے جب اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو ۔گویا وہ آواز کے زور سے اپنی دلیل کی کمی پوری کرنا چاہتا ہے۔
{اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ(19)} ’’یقیناً سب سے نا پسندیدہ آواز گدھے کی آواز ہے۔‘‘ 
خواہ مخواہ بلند آواز سے بولنے میں انسان کی کوئی بڑائی نہیں ہے۔ اس میں اگر کوئی بڑائی ہوتی تو اس کا سب سے زیادہ مستحق گدھا قرار پاتا جس کی آواز غیر معمولی طور پر بلند اور زور دار ہوتی ہے ‘جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گدھے کی آواز سب آوازوں سے زیادہ مکروہ اور نا پسندیدہ سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ ایک معقول انسان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ گدھے کی طرح ِچلا ّچلا کر گفتگو کرے‘ بلکہ بات چیت میں انسان کا بہتر طرز عمل یہی ہے کہ وہ تحمل سے گفتگو کرے اور گفتگو میں وزن پیدا کرنے کے لیے علمی و عقلی دلیل کا سہارا لے۔
 
درس حدیث
 
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے!
 
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ :(( اَ لْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً  مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ(((متفق علیہ)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس پر ظلم ہونے دے۔ اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ اس کی ضرورت پوری کرنے میں رہتا ہے، اور جس نے کسی مسلمان کی دنیاوی مصیبتوں میں سے کسی مصیبت کو دور کیا اللہ اس کی روزِ قیامت کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا، اور جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا اللہ روزِ قیامت اس کا پردہ رکھے گا۔‘‘