(خصوصی مضمون) 8 مارچ کا عورت مارچ اور خواتین کے حقوق - سید علی شاہ حقانی

10 /

8 مارچ کا عورت مارچ اور خواتین کے حقوق

 سید علی شاہ حقانی

 

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی تخلیق ایک مرد اور عورت سے کی ہے اور پھر عورت کو مرد کی وزیر اور نائب کی حیثیت دے کر زندگی کی گاڑی کے دوپہیوں کی مانند بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو برابر بنا کر فضیلت کا معیار تقویٰ قرار دیا جس میں کسی مرد یا عورت کی تخصیص نہیں ہے۔ جس مغرب نے عورت کو ہمیشہ ظلم وستم کا نشانہ بنایا اور مغربی معاشرے میں اس کو مرد کی تسکین کا ذریعہ بنایا وہی مغرب اپنی مغربی اقدار، تہذیب اور مادرپدر آزاد معاشرے کی ترویج کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ کبھی انسانی حقوق کی پامالی، کبھی میڈیا کی آزادی تو کبھی خواتین کے حقوق۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اسلام انسانی حقوق کا علم بردار، آزادی اظہار رائے اور خواتین کے حقوق کا ضامن ہے لیکن شتر بے مہار آزادی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں، بلکہ اسلام میں ایک خاص حد تک ہر عمل کی آزادی ہے۔ جہاں تک خواتین کا تعلق ہے تو اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جب کوہ صفا پر اسلام کے آفاقی نظام کا باقاعدہ اعلان فرمایا تو اسے قبول کرنے کے لیے کوئی مرد تیار نہ تھا بلکہ وہ حضرت خدیجہ k کی صورت میں ایک عورت ہی تھی جس نے اس نظام کی قبولیت کے لیے لبیک کہا۔ ایسے ہی دین کے تحفظ اور احیاء کے لیے حضرت سمیہ k عورت ہی تھی جس نے جان کا نذرانہ پیش کر کے اسلام کی پہلی شہیدہ کا اعزاز حاصل کر لیا۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے یہ اعزازات عورت کو دے کر انہیں احساس محرومیوں کی دنیا سے نکال کر ایک نیا مقام دیا۔ لیکن اسلام کے برعکس دیگر مذاہب کے پیروکاروں نے اپنی عیش پرستی کے لیے خدائی قوانین میں خود ساختہ ترامیم کر کے عورت کو ذلت اور پستی کے مقام پر لاکھڑا کر دیا۔ یونان کبھی دنیا میں تہذیب کی بلندیوں پر براجمان تھا لیکن خواتین کے حوالے سے اخلاقی پستی سے مزین سیاہ کارناموں کا تاریک باب ہے۔ یورپ اور مغربی اقوام کا حال ان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ایسے ہی کردار کی وجہ سے آج کے ترقی یافتہ ممالک فادر، مدر اور عورت جیسے ڈیز منا رہے ہیں ورنہ اسلام میں سال بھر والدین اور بیوی بچوں سے بے خبر مرد کیسے ایک روزمنا کر ان کے حقوق سے بری الزمہ ہو سکتے ہیں۔ یہ لوگ خواتین کے حقوق کا ڈراما رچا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 1908ء میں امریکہ کے شہر نیویارک میں سب سے پہلے خواتین کے حقوق کے لیے پندرہ ہزار خواتین نے مارچ کیا جس کا بنیادی مقصد عورتوں کے ساتھ کیے جانے والے معاشی و معاشرتی ظلم وجبر کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ اگلے سال1909ء میں امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی نے28فروری کو خواتین کا قومی دن منانے کا اعلان کیا جبکہ آ سٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں19مارچ کو اس دن کو منانے کا اعلان ہوا تاہم اقوام متحدہ نے پہلی بار 1958ء میں 8مارچ کو خواتین کا عالمی دن مقرر کیا۔ تب سے اکثر مغربی ممالک میں اس دن کو بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے جواب محض ایک رسم بے معنی بن گیا ہے اور رفتہ رفتہ ویلنٹائن ڈے کی طرح ایک تہوار کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جس میں خواتین کے حقوق کا کوئی سنجیدہ مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ کلام الملوک ملوک الکلام کے مصداق غلام قوم آقا ہی کی بادشاہت میں بات کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں میں محصور پسماندہ اور بالخصوص اسلامی ممالک عالمی اداروں کے ہاتھوں مجبور ہو کر مغرب کی نقالی میں اس کے تہواروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم ممالک کی طرح اسلامی ممالک میں بھی یہ دن آہستہ آہستہ پنجے گاڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں پہلی بار 8مارچ2018ء کو کراچی میں عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ مختلف NGO,sسے تعلق رکھنے والے چند سومردوخواتین نے خواتین کے حقوق کے نام پر عورت مارچ کیا جس میں خواتین کے بنیادی مسائل اجاگر کرنے کی بجائے گمراہ کن نعرے لگائے گئے یہاں تک کہ مارچ میں شریک ایک ادھیڑ عمر شخص نے کہا کہ جب تک معاشرے سے نکاح کا رجحان ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک عورت مارچ کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔ کراچی مارچ پرمقتدر حلقوں کی خاموشی نے ان لوگوں کو حوصلہ دیا جس کے بعد یہ سلسلہ بڑھتا ہوا مختلف شہروں میں پھیل گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عورت مارچ کی منزل، ایجنڈ ا اور مقاصد بھی واضح ہونے لگے۔ جیسا کہ ان کے حیا باختہ اور شرمناک نعروں سے صاف ظاہر ہے۔ کیا اعلیٰ طبقے کے امیر گھرانوں کے معدودے چند افراد کے نعروں سے58فیصد آبادی پر مشتمل خواتین کی نمائندگی ہو سکتی ہے؟ اس طرح احتجاجی مظاہروں اور عوامی مارچ کا ایک فائدہ تو نکل آتا ہے کہ کچھ لوگ اس کے نتیجے میں ذاتی فوائد حاصل کر لیتے ہیں لیکن وہ بیوہ خواتین، یتیم بچیاں اور ان جیسے لامتناہی مسائل سے دوچار ادنیٰ طبقے کی لڑکیاں جو جہیز کی عدم دستیابی کی وجہ سے گھروں میں زندگی گزار رہی ہیں، ان کو کوئی فائدہ مل رہا ہے؟ وراثت سے محروم خواتین کے بارے میں ابھی تک کسی غیرسرکاری تنظیم نے کبھی ایک سیمینار کا انعقاد کیا ہے؟ کیا عورت کے حقوق بےپردگی ہیں جس پر ہمارے انسانی حقوق کے کارکن صف ماتم بچھائے ہوئے ہیں۔ کیا وہ بچیاں جو اپنے دستور کے مطابق مخلوط تعلیم سے بے زار ہیں۔ کیا انہیں تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل نہیں، ہمارے آئین کے تحت ہر شہری کو تعلیم کا حق حاصل ہے، کیا باپردہ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل نہیں۔ آج تک ہمارے دیہاتوں میں کتنی باصلاحیت بچیاں ہیں جو محض مخلوط تعلیمی اداروں کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حقوق نسواں کے نام پر قائم بے شمار تنظیمیں ایک مہم چلاتیں کہ مخلوط تعلیم کی وجہ سےبچیاں تعلیم سے محروم ہو رہی ہیں لہٰذا غیرمخلوط تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں لیکن الٹابا حجاب طالبات کو تعلیم کے زیور سے محروم کر دینے والے سیکولر ہندوستان کے خلاف موم بتی مافیا نے ایک بیان تک نہیں دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس اقدام پر خاموش ہیں کیونکہ بھارت مغرب کا لاڈلا ہے اور ہمارے یہ نام نہاد وانشور اور انسانی حقوق کی علم بردار تنظیمیں مغرب کو ناراض کرنے کی غلطی مول نہیں لے سکتیں۔ آج جدید دنیا میں بھارت میں مسلم خواتین کی بولی لگائی جاتی ہے کیا یہ انسانیت اور خواتین کی تذلیل نہیں؟
دوسری طرف حکومت ِ پاکستان نے اس معاملے میں اپنے پیش رو کی طرح خاموش اجازت دے دی ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے وزیراعظم عمران خان کے نام خط میں مشورہ دیا ہے کہ8مارچ کو سرکاری یوم حجاب منایا جائے جو کہ ہماری دانست میں ایک معقول مشورہ ہے۔ موصوف نےا پنے خط میں یہ سراہت نہیں کی ہے کہ عورت مارچ پر پابندی لگائی جائے لیکن مارچ کے منتظمین اور بعض سیاسی جماعتوں کی خواتین رہنمائوں نے اسے خواتین کی آزادی پر قدعن قرار دیا ہے۔ ہمارے ایک وفاقی وزیر فواد چودھری نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ جہاں تک وزارت مذہبی امور کے خط کا تعلق ہے یہ اس لیے مناسب مشورہ ہے کہ ایک طرف بھارت کی سب سے بڑی اقلیت کی خواتین کے حجاب پر پابندی کی بازگشت سنائی دی جا رہی ہے وہاں پاکستان خواتین کے عالمی دن کو یوم حجاب سے منسوب کر کے دنیا کو بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کی طرف توجہ مبذول کر سکتا ہے۔ لیکن اگر حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو کم ازکم عورت مارچ کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق مقرر کیا جائے تاکہ عورت مارچ خواتین کے حقیقی تحفظ کا ترجمان بن سکے ورنہ ایک دفعہ پھر ملک میں لبرلز اور اسلام پسند طبقوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو جائے گی جیسا کہ پچھلے سال پابندی نہ ہونے کی وجہ سے مذہبی جماعتوں کی خواتین کو باہر نکلنا پڑا۔جیسے 18فروری کو جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کی کال پر جے یوآئی کے خواتین ونگ نے بھارتی خواتین کے ساتھ بطور یکجہتی یوم حجاب منایا تھا جس میں شرکاء نے واضح طور پر عورت مارچ کی مخالفت کر کے بزور طاقت روکنے کا عندیہ دیا تھا۔ موجودہ وقت میں یقیناًپاکستان پُر تشدد مظاہروں کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر کے عورت مارچ میں گمراہ کن اور توہین امیز نعروں پر پابندی لگا دے تاکہ خواتین کے حقوق متنازعہ ہونے کی بجائے اس صنف نازک کے لیے نیک شگون ثابت ہوں۔ جبکہ خواتین کے حقوق کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیشن قائم کر کے خواتین کے حقوق کے قوانین کا ازسر نو جائزہ لے کر اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق ایک مؤثر قانون لاگو کیا جائے تاکہ عورت مارچ کے نام پر قوم کی بچیوں کی عزت اچھالنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔