امیر سے ملاقات
میزبان:آصف حمید
سوال:تنظیم اسلامی کی امارت کی ذمہ داری اچانک آپ کے کندھوں پر آئی ،حالانکہ سابقہ امیر حیات ہیں ۔ ماشاء اللہ!لیکن انہوں نے اپنی بیماری کی وجہ سے آپ کو یہ ذمہ داری تفویض کی ۔ یہ ذمہ داری جب غیرمتوقع طور پرآپ کے سامنے آئی ۔ شوریٰ نے فوری طورپرفیصلہ کیا۔ اس وقت سے لے کرآج تک آپ کے احساسات کیا ہیں ؟
جواب:یقیناً!یہ بہت بھاری ذمہ داری ہے ۔ حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں کہ جوخود سے مانگتاہے اس کوہم ذمہ داری نہیں دیتے لیکن جس پریہ ذمہ داری ڈالی جاتی ہے توپھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے لیے آسانی فرماتاہے ۔یہ حدیث شوریٰ کے فیصلے کے دوران اکابرین نے ہم سب کے سامنے رکھی تھی ۔میری التجا ہے کہ ہمارے قارئین اور رفقاء تنظیم اسلامی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آسانی فرمائے ۔امارت کی ذمہ داری کے بعد پہلا معاملہ تویہ ہوا کہ اسفار خاصے بڑھ گئے ہیں ۔ ہمارے ہاں ایک سالانہ پلانر بنتاہے جس میں امیر تنظیم کی مصروفیات کا بھی تعین کیاجاتاہے ۔ ناظرین اور رفقاء کے علم میں ہے کہ تنظیم کامرکز تولاہور میں ہے اور فی الوقت میری رہائش کراچی میں ہی ہے ۔ اس کے علاوہ ایک خدمت قرآنی کے حوالے سے مصروفیت کچھ یوں ہے کہ ایک ادارہ ہے علم فائونڈیشن جس کا دفتر بھی کراچی میں واقع ہے ۔ بہرحال کراچی سے پورے پاکستان میں اسفار کاسلسلہ رہتاہے ۔2021ء میں ہم نے calculationکی توکم وبیش پانچ مہینے سال میں اسفار میں گزررہے ہوتے ہیں۔ ظاہری بات ہے اس کی اپنی ایک ضرورت ہے ۔ مرکز میں آنااو رپھر رفقاء کی طرف جانا۔ باقی اللہ رب العالمین کافضل اور احسان ہے کہ ہماری مرکز کی ٹیم ہے ،پھر ہمارے تمام ذمہ داران ہیں ،حلقوںمیں اور دیگر سطحوں پر ہمارے رفقاء ہیں ان کا بھرپور تعاون حاصل ہے ۔اوران کی دعائیں ہیں کہ اب تک یہ ذمہ داری اللہ کے فضل وکرم سے ادا ہورہی ہے۔ا لبتہ اگر میں پیچھے مڑکربانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرارا حمدؒ اور سابق امیرتنظیم اسلامی حافظ عاکف سعید صاحب کے سیٹ کیے ہوئے معیارات کودیکھوں تواپنے لیے بڑی مشکل پاتاہوں۔ لیکن قرآن کے ارشاد :
{لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاط}(البقرہ:286)’’اللہ تعالیٰ نہیں ذمّہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق۔‘‘
کے مصداق اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری دی ہے تووہی نصرت اورتوفیق دے گا۔ ان شاء اللہ !
سوال: تنظیم اسلامی حقیقت میں کیاہے ؟یہ فرقہ ہے ، گروہ ہے ،گروپ ہے یاکچھ اور ؟
جواب : فرقہ یامسلک کبھی کبھی ہمارے ہاں ہم معنی میں استعمال ہوجاتاہے ۔اور جماعت کے ساتھ لفظ ’’الجماعۃ‘‘ بھی ہمارے ہاں دینی پیراڈائم میں احادیث کی روشنی میں استعمال ہوتاہے۔ ہمارے تنظیم اسلامی کے زیراہتمام جوکتابیں شائع ہوتی ہیں ان کے بیک ٹائٹل پر یہ عبارتیں تحریر ہیںکہ تنظیم اسلامی مروجہ مفہوم کے اعتبار سے نہ کوئی سیاسی جماعت ہے، نہ مذہبی فرقہ بلکہ ایک اصولی اسلامی انقلابی جماعت ہے ۔جواولاً پاکستان میں اور بالآخرساری دنیا میں دین حق یعنی اسلام کو غالب کرنے یا دوسرے لفظوں میں نظامِ خلافت کو قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے!ایک بنیادی وضاحت ضروری ہے کہ تنظیم اسلامی کے عقائد وہی ہیںجواہل سنت والجماعت کے عقائد ہیں ۔ان عقائد کوہمارے دوتین کتابچوں میں تحریر کرکے شامل کیاگیا ہے ۔ہمارا مسلک کون ساہے ؟ معروف مسالک میں حنفی،مالکی،شافعی او ر حنبلی شامل ہیں ۔ اس کے ساتھ ہمارے اہل حدیث حضرات بھی موجود ہیں ۔ بہرحال کبھی کبھی فقہی آراء یا ان کے اصول کے اختلاف کے نتیجے میں کوئی مسلک وجود میں آتاہے ۔ اہل سنت والجماعت کے تمام مسالک اپنی جگہ سب حق پرہیں ۔ الحمدللہ!یہ تمام مسالک توصدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ پھر کبھی کبھی عقائد کی تعبیرات یاتوضیحات یاتفصیلات میں فرق واقع ہونے کے نتیجے میں بھی اختلاف رائے آتاہے اور یہ ایک معلوم مسلمہ بات ہے ۔ہمارے پاکستان میں اکثریت فقہ حنفی کے مطابق عمل کرنے والے حضرات کی ہے ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہاں ایک دیوبندی مکتب فکر بھی ہے اور بریلوی مکتب فکر بھی ہے اور ان کے ہاں عقائد کی تفصیلات میں کچھ فرق واقع ہونے کی صورت میںمکاتب فکر کالفظ استعمال ہوگیا۔ تنظیم اسلامی تمام مفاہیم میں کوئی فرقہ،کوئی مسلک نہیںہے ۔ ہماری اکثریت احناف کی ہے اور ہمارے ساتھ اہل حدیث مکتب فکر کے افراد بھی موجودہیں ۔ ان دونوں مکاتب فکر کے افراد تنظیم اسلامی میں شامل ہوبھی سکتے ہیںاور شامل بھی ہیں ۔ تنظیم اسلامی کی اٹھان کسی فقہی مکتب یامسلک کی بنیاد پرنہیںہے، اسی لیے ہمارے ساتھ احناف اور اہل حدیث حضرات دونوں شامل ہیں ۔ اب ایک ٹیکنیکل مسئلہ کہ پھربریلوی دیوبندی کامعاملہ ؟ ہم اس بات کوتسلیم کرتے ہیں کہ ماضی میں بعض شخصیات اور شخصیات کے نتیجے میںکچھ عقائد اورتعبیرات میںفرق واقع ہوا جس کے نتیجے میں دومکاتب فکر کھڑے ہوگئے ۔ مگر ہمارے نزدیک وہ کچھ تعبیرات کا مسئلہ زیادہ اور کچھ شخصیات کے اختلافات کوذرا زیادہ ہائی لائٹ کردیاگیا، ہم ان مباحث کی تفصیلات میں نہیں جاتے اور ہم ان کواسی طرح اون کرتے ہیں کہ یہ فقہ حنفی کے مطابق عمل کررہے ہیں ۔ ہمارااور ہمارے رفقاء کاعام معمول یہی ہے کہ اگر ہم سفرکررہے ہیں تونماز کاوقت ہوگیاتوجس مکتب فکر کی مسجد بھی نظر آتی ہے وہاں ہم جاکرنماز ادا کرلیتے ہیں۔ اب سوال ہے کہ آپ یہ بھی نہیں ،وہ بھی نہیں توپھر کیاہیں ؟پھر سمجھنے کی بات ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں۔ لیکن ایک ہے الجماعۃ کاتصور،جواحادیث مبارکہ میں لفظ استعمال ہوا۔ الجماعۃ پوری امت مسلمہ ہے جوکلمہ گومسلمانوں پر مشتمل ہے توالجماعۃ کادعویٰ قطعاً ہم نہیں کرسکتے۔البتہ تنظیم اسلامی ایک اصولی اسلامی انقلابی جماعت ہے جوہمارے لیے ایک پلیٹ فارم ہے جہاں ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی دینی ذمہ داریاںادا کرنے کے قابل ہوسکیں ۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ ہمارا دین ایک کامل دین ہے جوزندگی کے انفرادی اور اجتماعی دونوں گوشوں کے لیے راہنمائی دیتا ہے اور اسی مناسبت سے ہم پر فرائض بھی عائد ہوتے ہیںکہ خود اللہ کی بندگی کرنا، دوسروں کوبندگی کی دعوت دینااور بندگی والے نظام کوقائم کرنے کی جدوجہد کرنا۔ چونکہ ان فرائض کوہم اکیلے ادا نہیں کرسکتے اس کے لیے ایک جماعت کاہونا ضروری ہے تواس معنی میں ہماری ایک جماعت ہے ۔
سوال: تنظیم اسلامی میں شامل ہونے کے لیے بیعت جس کو بانی تنظیم اسلامی منصوص، مسنون،ماثور کہاکرتے تھے۔ اس کے علاوہ فارم پُرکرکے دستوری طریقہ بھی ہے ۔ تنظیم اسلامی میں شمولیت کے لیے بیعت ہی کیوں ضروری ہے ؟
جواب:بہت اہم سوال ہے ۔جب ہم نے کہا کہ ہم معروف معنی میںکوئی فرقہ نہیں بلکہ ایک جماعت ہیں توجماعتیں یااجتماعیت یںیاگروہ یاگروپس تواور بھی بہت سارے بنتے ہیں ۔کبھی کوئی سیاسی یامعاشی نوعیت کی بات چلانے کے لیے یاکوئی غلط رسوم کی اصلاح کے لیے لوگ اجتماعی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ تنظیم اسلامی کے پیش نظر چند جزوی قسم کی اصلاحی باتوں کے لیے تحریک چلانا نہیں ہے بلکہ دین اسلام جو ایک کامل ترین دین ہے اوراپناغلبہ چاہتاہے تواس کے غلبہ کے لیے جدوجہد ایک کامل کام ہے ۔ لامحالہ آج اللہ کادین نافذ نہیں ہے توظاہر ہے بندوں کاقانون چل رہا ہوگاجس کو ہم چیلنج کرنے کی بات کریں گے تو لامحالہ وہاں سے retaliationبھی آئے گی اور تصادم کی شکل بھی بن سکتی ہے ۔ ایسی صورت حال میں کوئی ڈھیلی ڈھالی جماعت یہ جدوجہد کرنہیں سکتی۔ ہمارے پیش نظر یہ ہے کہ غلبہ واقامت دین کی جدوجہد کے لیے ایک منظم جماعت کی ضرورت ہے اور دینی پیراڈائم میں ایسانظم او ر ڈسپلن بیعت کانظام عطا کرتاہے ۔ جہاں تک کسی جماعت کا دستوری طریقے کے مطابق جدوجہد کرنا ہے توہمارے نزدیک اس میں ایک منظم جماعت کاہونا ایک سوالیہ نشان ہے یاپھر اس میں ایک منفی سرگرمی کے شروع ہونے کا بھی امکان موجود ہے لیکن اس کے باوجود ہم اس کو شرعی طور پر حرام نہیں کہہ سکتے۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرارا حمدؒ کواللہ نے جہاں اور بہت ساری خصوصیات عطا فرمائیںان میں ایک یہ بھی تھی کہ کسی معاملے یامسئلہ یاکسی فرد یااجتماعیت یاکسی فکرکے بارے میں جب وہ تبصرہ فرماتے تواس کے تمام پہلوئوںکوحتی الامکان کور کرکے اعتدال کی راہ بیان کرتے۔ اس سب کے باوجود کہ وہ شدومد سے اس بات کے قائل رہے اور آج بھی تنظیم اسلامی بیعت کے نظام پرقائم ہے ۔ وہ فرماتے تھے کہ دستوری نظام کوہم حرام نہیں سمجھتے۔
جہاں تک اس بات کاتعلق ہے کہ تنظیم ا سلامی میں شمولیت کے لیے بیعت ہی کیوں ضرور ی ہے تونبی مکرم ﷺ کے اسوہ والی جوآیت ہے کہ :
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب:21) ’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے ‘‘
زندگی کے تمام امور کے لیے یہ کامل نمونہ ہے ۔اگر اللہ کے رسولﷺ کامشن غلبہ دین کی جدوجہد تھا{لیظہرہ علی الدین کلہ}اور پھر اللہ کے رسولﷺ نے جدوجہد فرمائی،اورآپ ﷺ نے جماعت قائم فرمائی ، اور آپﷺ نے ہمیں بیعت کاتصور عطا کیا تو آئیڈیل ترین بات یہ بنے گی کہ اقرب الی السنۃ جائیں اور سنت سے ہی آج جماعت بنانے کے لیے راہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کے سوال میں تین اصطلاحات تھیںیعنی منصوص،مسنون ،ماثور اورچوتھی معقول بھی شامل کرلیں۔ یہ چار اصطلاحات بانی تنظیم اسلامی استعمال فرماتے تھے کہ اجتماعیت کے لیے نظم کیاہوگا،اس کے لیے دین بیعت کاتصور عطا کرتاہے ۔ یہ منصوص ہے یعنی قرآن مجید کی آیات سے بھی ثابت ہے اوراحادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے ۔ پھر یہ مسنون بھی ہے یعنی اللہ کے نبی ﷺ نے خود بیعت لے کر ہمیںدکھایا۔حالانکہ جوحضورﷺ کی بات نہ مانتا ہو وہ مسلمان کہاں رہ سکتا تھالیکن چونکہ حضورﷺ کے جانے کے بعد بھی امت نے چلنا ہے توآپﷺ بیعت کاڈسپلن عطا کرکے گئے ۔ ماثور یعنی خلفائے راشدین کی خلافت،پھر بعد کے ادوار میں امت کی چودہ صدیوں میں تحریکیں چلیں ماضی قریب میںتحریک شہیدین سیداحمد شہید ؒاور شاہ اسمعٰیل شہید ؒ کی جدوجہد ،یہ سب امت کاچودہ صدیوں کاتسلسل بھی یہی بتاتاہے کہ بیعت کاتصور ہی بہتر ہے ۔ او رمعقول اس لیے ہے کہ ہرادارے میں ٹاپ کی اتھارٹی ایک کے پاس ہوا کرتی ہے چاہے نماز کامعاملہ ہو،چاہے کوئی ادارہ ہو یہاںتک کہ کسی کمپنی میں ڈائریکٹر بہت سارے ہوں گے لیکن مینیجنگ ڈائریکٹر ایک ہوگااور یہی توحید کے لیے بھی دلیل بنتی ہے کہ اس بیعت کے نتیجے میں ایک یکسانیت کا ہونا یاڈسپلن کاہونا یہ زیادہ بہتر انداز ہوگا۔ قرآن حکیم میں سورۃالفتح،سورۃالتوبہ میں بیعت کاذکر ہے ۔اسی طرح سورۃالممتحنہ میں عورتوں کی بیعت کاتذکرہ ہمیں ملتاہے ۔ اسی طرح رسول اللہﷺ کی کئی احادیث ہیں جن میں آپ ﷺ نے بیعت کاتذکرہ فرمایا۔آپﷺ نے یہاں تک فرمایاکہ اگر کوئی شخص اس حالت میں مرگیا کہ اس کی گردن میں بیعت کاقلادہ نہیں وہ جاہلیت کی موت مرا۔یہ بات لوگوں کوتلخ لگتی ہے کہ جاہلیت سے مراد کیاہے ۔ابوجہل کااصل نام عمروبن ہشام تھا۔اس کی کنیت ابوالحکم تھی ،وہ دارالندوہ کاسربراہ تھا۔ لیکن جب وحی کے مقابلے میں کھڑا ہوا توابوجہل بن گیا۔جاہلیت کیاہے کہ وحی کی تعلیم پرعمل درآمد نہ کرنا،وحی کے مطابق نظام کانہ ہونا۔ اسی طرح امام نسائیm اللہ کے رسولﷺ کی دس قسم کی بیعتوں کاذکر فرماتے ہیں ۔ جن میں اگر کوئی شخص اسلام میں داخل ہوتا توآپﷺ بیعت لیتے ہیں ۔فتح مکہ کے موقع پربیعت لینا،راہ خدا میں نکلنے پربیعت لینا،راہ خدا میں ہجرت کرنے کے لیے بیعت ،ہرمسلمان کے ساتھ نصح وخیرخواہی کی بیعت وغیرہ شامل ہیں۔
سوال: تنظیم اسلامی کی فکر اقامت دین کی جدوجہد کے بارے میں کہاجاتاہے کہ شاید یہ ڈاکٹر صاحب ؒ کی اپنی ایک ا ختراع ہے اس کاسلف سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ کیایہ بات درست ہے ؟
جواب:یہ کہاجانا کہ یہ کوئی نئی بات ہے ایسا نہیںہے ۔ تنظیم اسلامی میں جب ایک رفیق شامل ہوتاہے تواس کے سامنے ہم بہت واضح مقصد یہ رکھتے ہیں کہ اللہ کادین اصلاً فرد کوخطاب کرتاہے اور فرد کانصب العین اللہ کی رضا اور آخرت کی نجات ہے ۔ یعنی جماعت مقصود نہیں بلکہ اللہ کوراضی کرنا مقصود بن جائے ۔اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اللہ کے دین کے تقاضوں پرعمل کرنالازم ہے ۔وہ تقاضے فردکے ذاتی وانفرادی معاملات سے لے کر اجتماعی سطح کے مطالبات اور تقاضے بھی شامل ہیں۔ ہماری ایک ذمہ داری خود اللہ کی بندگی،پھرامتی ہونے کے ناطے دعوت دین،اوراسی دعوت دین کے ساتھ اقامت دین کی جدوجہد کرنا۔ فرد کے پیش نظر کیاہے، اللہ کی رضااور جماعت کے پیش نظر ہے :اقامت دین کی جدوجہد کرنا،تاکہ فرد اپنے فرائض کوادا کرنے کے قابل ہوسکے۔ ایک ہے قائم کرکے دکھادینا،یہ ہم سے اللہ کاتقاضا نہیں،کئی پیغمبر یہ قائم نہیںکرسکے لیکن وہ اللہ کے ہاں کامیاب ہیںلیکن قائم کرنے کی جدوجہد کرنایقیناًہمارا فرض ہے ۔ عام طور پر کہا جاتاہے کہ کوئی نئی بات آپ نے کردی ہے جس کا تصور ہمارے اسلاف میں نہیں ہے یاآپ ایسے فرائض ہم پرتھوپناچاہتے ہیں جوکہ اللہ کے دین تقاضے ہم سے نہیں ہیں۔ اقامت دین کی جدوجہد کرنانئی بات نہیں ہے بلکہ چودہ صدیوں سے امت کے ہاں متفق علیہ یہ معاملات چلے آرہے ہیں کہ اللہ کادین کامل دین ہے اس پرانفرادی سطح پربھی عمل کرنا ہے اور اجتماعی سطح پربھی اس کے احکام کونافذ کرنے کی جدوجہد کرنی ہے ۔البتہ جب ہم فقہاء کی طرف دیکھتے ہیں توان کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ ایک مفکرقرآن تھے تووہ قرآن مجید کی اصطلاحات استعمال کرتے تھے ۔نتیجے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے ۔یعنی اگر وہ سورۃالشوریٰ کی آیت13کاحوالہ دے رہے ہیں :
{اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} ’’کہ قائم کرو دین کو۔اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘
توایسا نہیں ہے کہ یہ بات صرف ڈاکٹرا سرارا حمدؒ یا مولانا مودودیؒ یامولاناابوالکلام آزادؒ نے ہی کہی ہے بلکہ امت کے اسلاف کی تفسیری آراء کو سامنے رکھیں تووہ سب اس بات کے قائل ہیں۔ مثال کے طورپر امام ابن تیمیہ ؒفرماتے ہیں :
’’ امت پرتمام فرائض میں سے سب سے بڑا فریضہ ہے کہ اللہ کے دین کوغالب کرنے کی جدوجہد کی جائے اس سے کم تر پر نہ ان کی دنیا سنور سکتی ہے نہ آخرت سنور سکتی ہے ۔اللہ کی شریعت کے بہت سارے احکامات اجتماعی زندگی سے متعلق ہیںمثلاًقضاء (عدالتی فیصلے)،افواج، شرعی سزائوں کے نفاذ کامعاملہ،زکوٰۃ اور عشر کی وصولی اور اس کے خرچ کیے جانے کامعاملہ وغیرہ۔ اگر اللہ کی شریعت نافذ نہ ہوتوان اعمال پرعمل ہونہیں سکتا۔‘‘
اسی طرح شاہ ولی اللہ ؒخلافت کے مفہوم کوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’نبی اکرمﷺ کی ختم نبوت کے بعداب ان کی نیابت کرتے ہوئے امت پرفرض ہے کہ وہ اللہ کی شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کرے۔ ‘‘
اسی طرح ہمارے فقہا ء کی اصطلاح ہے :نصب امام یانصب امامت۔یعنی امت کا ایک امام ہوجورعایا کے لیے شریعت کو نافذ کرے۔یہ امامت کانصب کیاجانا امت پرفرض ہے ۔اسی طرح فقہاء کاایک اصول ہے : مقدمۃ الواجبی واجبۃ۔ اکثر فقہاء کے ہاں فرض اور واجب ایک ہی شے ہے البتہ احناف فرض اورواجب میں تھوڑا فرق کرتے ہیں ۔ لیکن عموم کے اعتبار سے فرض اور واجب ایک ہی شے ہے ۔ فقہاء فرمارہے ہیں کہ اگر فرض کو ادا کرنے سے قبل کوئی اس کی شرط ہے تو وہ ادا کرنا بھی فرض ہوجائے گا۔ مثال کے طور پرنماز ادا کرنا فرض ہے لیکن وضو کے بغیر ادا نہیںکرسکتے تووضو کرنا بھی فرض ہوجائے گا۔اسی طرح شریعت کے بہت سارے احکامات جواجتماعی زندگی سے متعلق ہیں مثلاًسود کاخاتمہ،زنا کی روک تھام،شراب کی روک تھام،جوئے کی روک تھام،زکوٰۃ وعشرکی وصولی وغیرہ سب احکام فرائض کے درجے میں ہیں ۔ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا جب تک نظام خلافت قائم نہ ہواگر ان فرائض پرعمل کرنالازم ہے تونظام خلافت کوقائم کرنا بھی فرض کے درجے میں آجائے گا۔ایسے بیسیوں دلائل ہمارے اسلاف نے بیان کیے ۔دوکتابوں کاحوالہ دوں گا۔ماضی میں کتاب چھپتی رہی :’’اسلامی نظام خلافت اور ہماری ذمہ داریاں‘‘۔ مولانازاہد اقبال صاحب ،جامعہ الرشید ، کراچی میں استادالحدیث تھے ۔ یہ کتاب برسوں پرانی ہے ۔ ہم نے اپنی تنظیم کے مکتبوں پررکھااور اپنے اجتماعات میں اس کا مطالعہ کروایا۔ اس میں انہوں نے یہی باتیں لکھی ہیں کہ امت کے اسلاف نے دین کاکیا جامع تصور سمجھااور اقامت دین کوکس طرح فرض سمجھااوراس کے لیے انہوں نے کون کون سی اصطلاحات استعمال کیں۔ماضی کے محدثین،مفسرین،فقہاء کی آراء کیاہیں اورا ب ہماری ذمہ داری کیاہے ۔ اسی طرح ہماری تنظیم کے کوئٹہ کے رفیق ہیں : عبدالسلام عمر۔ آج کل پی ایچ ڈی کررہے ہیں ۔ان کاعلماء سے استفادہ ہے ۔ انہوں نے کتاب مرتب کی ہے : ’’فرضیت اقامت دین!اسلاف کی آراء اور تعامل کی روشنی میں‘‘یعنی امت کے اسلاف کا اقامت دین کے بارے میں کیاموقف تھااور وہ اس پر کتنا عمل پیرا تھے۔ توایسا نہیں ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے یہ کوئی اپنی طرف سے اصطلاح وضع کردی ہے جوامت میںکبھی موجود نہ رہی ہو۔
اسی طرح ایک اور نکتہ جس کو بانی محترم نے بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایاکہ امت کے چودہ سوسالہ دور میں ایسا نہیں ہواکہ پورے دین کی عمارت یکدم نیچے گرگئی ہوبلکہ ایسے خلفاء گزرے ہیں کہ جن کے ذاتی کردار تو بہت ہی خراب تھے وہ ظالم وفاسق تھے لیکن ان کے ادوار میں بھی ایک عام مسلمان اپنے بارے میں شریعت کافیصلہ لینااور نافذ کرواناچاہتا توشرعی عدالتیں موجود تھیں ۔ اسلامی نظام رفتہ رفتہ زمیں بوس ہونے کی طرف گیاہے۔ابوالکلام آزاد یامولانامودودی ؒکی جدوجہد ہویاہندوستان میں تحریک خلافت کیوں چلی۔ کیونکہ جب رہی سہی خلافت اور امت کی مرکزیت بھی ختم ہوگئی توپھر اب جڑ سے دوبارہ خلافت کوقائم کرنے کے لیے جدوجہد کرنے کی طرف معاملہ گیا۔ باقی جب اسلامی خلافت قائم تھی اس میں کسی ایک معاملے میں بگاڑ آگیا تواس کے لیے اسلاف مجددین آتے تھے اور وہاں اصلاح کرتے تھے ۔ لیکن جب1924ء میں خلافت عثمانیہ کاخاتمہ ہوگیاتواس کے بعد پھر ضرورت پیش آئی کہ خلافت کی پوری عمارت کاتصور بھی دیااوراس کو بنیاد سے کھڑا کرنے کی جدوجہد کرنے کی طرف متوجہ کیاجائے ۔
سوال:کیاتنظیم اسلامی کی نظر میں ’’دین اور مذہب ‘‘ دوالگ الگ اصطلاحات ہیں ؟
جواب :اس حوالے سے ہم نے احتیاط بھی برتی ہے اور سابقہ امیر تنظیم اسلامی حافظ عاکف سعید صاحب نے اس پرہمیں متوجہ بھی کیا۔ اسلام دین ہے جس کابہتر ترجمہ اردو میں نظام بنتا ہے اور انگلش میں سسٹم ہے ۔ البتہ انگریزی کاایک لفظ ہمارے ہاں بھی معروف ہے :religion۔ اور اسی کے ساتھ ایک پراناجملہ بولاجاتاہے: Religion is your private affairs it has nothing to do with the State affairsتواس religionکاہمارے ہاں عام طور پرمذہب ترجمہ ہوتاہے یعنی انگریزی کا۔ اور وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے اس لیے کہ عیسائیت کاکوئی تعلق نظام سے نہیں ہے ۔ انگریزی میں یہ تعریف بالکل درست ہے ۔لیکن Islam is not just a religion its a Deenیہ ڈاکٹراسرارا حمدؒ کے بڑے پیارے الفاظ ہیں کہ اسلام فقط religion نہیں ہے بلکہ یہ انفرادی زندگی سے متعلق بھی راہنمائی دیتاہے مگر یہ انگریزی والا religionنہیں ہے بلکہ یہ دین انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلوئوں کے اعتبار سے راہنمائی عطا کرتاہے ۔ تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے اور ماضی قریب کے دیگر اہل علم دانشوروں نے بھی اس نکتہ کو پیش کیاہے کہ اسلام سے مراد انگریزی والا مذہب نہیں ہےبلکہ یہ دین ہے ۔ سورۃآل عمران میں ارشاد ہوتاہے :
{اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَ مُ قف} (آیت:19) ’’یقینا ًدین تو اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔‘‘
اسی طرح سورۃالمائدہ میں ارشادباری تعالیٰ ہے :
{اَلْیَوْمَ یَـئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ } (آیت:3) ’’اب یہ کافرلوگ تمہارے دین سے مایوس ہو چکے ہیں ‘‘
اسی طرح سورۃالبقرۃ میں ارشاد ہوتاہے :
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص}(آیت:208) ’’اے اہل ِایمان! اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘
جب ہما رے پلیٹ فارم سے یہ بات بیان ہوتی ہے تو اس کے لیے ہم ٹائٹل استعمال کرتے ہیں :دین اسلام کا جامع تصور یادین اسلام کاہمہ گیر تصور۔ جس میں انفرادی زندگی بھی ہے اورا جتماعی زندگی بھی ۔ لفظ مذہب یاتوہم انگریزی کالفظ ریلجن استعمال کرکے پھر elaborate کرتے ہیں یاہم احتیاط کرتے ہیں ۔ احتیاط کیوں کرتے ہیں ؟ہمارے اسلاف یافقہی مکاتب فکر جب فقہی مسائل کو بیان کرتے ہیں تووہ لفظ مذہب استعمال کرتے ہیں ۔ عربی میں مذہب بمعنی طریقہ۔ اب نماز کاایک طریقہ ہے اور فقہ حنفی میں کہاجائے گا؛مذہب حنفی یامسلک حنفی۔ دونوں کو برابر لے سکتے ہیں ۔ نماز میں مذہب حنفی کیاہے :ہاتھ نیچے باندھ لیجیے ۔ مذہب شافعی کیاہے :ہاتھ اوپر باندھ لیجیے ۔ مذہب مالکی کیاہے :ہاتھ چھوڑ دیجیے ۔توسب ٹھیک ہیں ۔ ہمارے نزدیک سب قابل قبول ہیں نسبت نبی اکرمﷺ کی طرف جارہی ہے ۔ اسی طرح اجتماعی معاملات ہیں ہمارے فقہاء نے سب پرکلام کیاہے ۔ اب جب وہ ان اجتماعی گوشوں کے حوالے سے کلام کریں گے تب بھی یہ بحث آئے گی کہ فلاں مسئلہ میں مذہب شافعی کی یہ رائے ہے ، مذہب حنفی کا یہ طریقہ ہے وغیرہ ۔ یعنی وہاں مذہب رائے ، طریقہ اور مسلک کے معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ اس میں ہم نے یہ احتیاط کی کہ اب ہم دین اور مذہب کا فرق استعمال نہیں کرتے۔ تنظیم اسلامی میں بھی اہل علم موجود ہیں۔ الحمدللہ۔ پھر ہمارے احباب میں علماء ہیں یامدارس سے فارغ فضلاء بھی ہمارے دروس میں آتے ہیں توایک کنفیوژن کاامکان ہوسکتاتھا۔ سوال اٹھتا تھا کہ کیا امام ابوحنیفہ ؒ نے پورے دین پربات نہیں کی ؟کیاامام شافعی ؒ نے پورے دین پربات نہیں کی ؟ ہم کہتے ہیں کہ بالکل بات کی ہے لیکن موجودہ دور میں انگریزی کا لفظ ریلجن اسلام کے لیے بھی استعمال ہورہاہے اوربدقسمتی سے اس ریلجن کاترجمہ مذہب کردیاگیا۔ ہم یہ کہہ رہے کہ اسلام انگریزی والا ریلجن نہیں جس کو کچھ لوگ اردو میں مذہب کہتے ہیں ۔ توہم اس Religion vs Deen e Islamکے contrastیاdifferenceکوبیان کررہے ہوتے ہیں اس بات کو اون کرتے ہوئے کہ فقہاء نے تمام مسائل دین کو بیان کیااور وہ لفظ مذہب کی اصطلاح کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ۔اچھایہ بات کہ یہ تنظیم اسلامی نے کوئی نئی بات پیش کردی؟بالکل ایسا نہیں ہے ۔بلکہ ہمارے تمام اسلاف نے{ادخلوا فی السلم کافۃ،الیوم اکملت لکم دینکم} کی ماضی اور حال کی تفاسیر کو دیکھ لیں سب نے انفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں پرکلام کیاالبتہ آج اس کو بیان کرنے میں اصطلاحات مختلف ہوسکتی ہیں ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایاکرتے تھے کہ سیاسیات میں زندگی کودوحصوں میں بیان کیاجاتاہے ایک individual lifeاور دوسری collective life۔اب ظاہر ہے یہ انگریزی کالفظ ہے جو عربی کی تفاسیر میں تونہیں ملے گا کیونکہ یہ اصطلاح آج کی ہے ۔ لیکن بات وہی بیان کی جارہی ہے جوپوری امت سمجھتی ہے ۔
سوال:کیا’’فرائض دینی کا جامع تصور‘‘ کاخاکہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے ؟
جواب:بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹراسرار احمدؒ نے فرائض دینی کوتین سطحوں پر بیان فرمایا ۔ایمان کابیان بھی آتاہے کہ اقرارباللسان کے ساتھ تصدیق بالقلب بھی ضروری ہے ۔ اس کوبھی ایک تقاضے کے طورپر ہم بیان کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں عموم کے طور پر تین بنیادی فرائض کاذکر آتاہے ۔ 1۔خود اللہ کا بندہ بننا،2۔دوسروں کو اللہ کی بندگی کی دعوت دینا۔3اللہ تعالیٰ کی بندگی پرمبنی نظام کوقائم کرنے کی جدوجہد کرنا۔ پھراس کے لیے قرآن حکیم کی آیات کو پیش کرتے ہیں۔ یہ واضح کردوں کہ جب ہم قرآن کاذکر بار بار کرتے ہیں تواس کے ساتھ صاحب قرآن ﷺ بھی شامل ہیں ۔کیونکہ ماضی میں ایک اعتراض اٹھتا رہا کہ جب کبھی کوئی تحریک قرآن کے نام پر اٹھتی رہی توپھراس کی کوکھ سے فتنہ انکار حدیث نے جنم لیا۔ لیکن پیش نظر قرآن جمع سنت رسولﷺ یاقرآن جمع حدیث رسولﷺ دونوں ہیں کیونکہ یہ دین کی جڑ اور بنیاد ہے ۔ بہرحال تین فرائض کے لیے اصطلاحات بھی قرآن حکیم کی ہیں ۔ بہت تفصیل میں اگر ہم جائیں توایک ایک فریضہ کے لیے چار اصطلاحا ت قرآنی ہیں۔ میں ایک ایک مقام قرآن کابیان کردیتاہوں ۔اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے لیے فرمایاکہ میں نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیاہے خود اللہ کابندہ بننا قرآنی اصطلاح میں عبادت رب ہے ۔ ارشاد ہوتاہے :
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (56)} (الذاریات) ’’اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘
اسی کااقرار ہم نماز کی ہررکعت میں کررہے ہیں :(ایاک نعبد)اسی کی دعاہے جوہرنماز کے بعد اللہ کے رسولﷺ کررہے ہیں :
((اللھم اعنی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک))
بہرحال اللہ کی بندگی انسان کی اپنی ذات سے متعلق جس میں سارے معاملات ایمانیات،معاملات، رسومات، اخلاقیات،رزق حلال کمانا، حقوق العباد وغیرہ یہ سب میری ذات سے متعلق ہوگئے ۔ لیکن اس کے بعد صرف اللہ کے بندے نہیں بلکہ خاتم النبیین محمدمصطفیٰﷺ کے امتی بھی ہیں ۔ چنانچہ امتی ہونے کے ناطے مزید براں ہم پرفرائض عطا ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے شہادت علی الناس کے فریضے کے لیے کھڑا کیا۔ یعنی دوسروں کواللہ کی بندگی کی دعوت دینا جس کو مختلف پیرایوں میں قرآن پاک بیان کرتاہے ۔ شہادت علی الناس (لوگوں پراللہ کے دین کی گواہی )کی اصطلاح بھی آئی ہے ۔ سورۃالبقرۃ میں ارشاد ہوتاہے :
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًالِّـتَـکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط}(البقرہ:143)
’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت ِوسط بنایا ہے۔تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ ‘تم پر گواہ ہو۔‘‘
اب حضورﷺ کی ختم نبوت کے بعد ان کے behalf پرامتیوں نے یہ کام کرناہے ۔امام قرطبی ؒ فرماتے ہیں کہ جوشخص یہ کام نہ کرے وہ امتی کہلانے کامستحق ہی نہیں ۔ یعنی ہرامتی پرفرض ہے کہ وہ دعوت دین کاکام کرے ۔ تیسری بات،دعوت دیناکافی نہیں اللہ کے رسولﷺ سے بڑھ کرداعی کون ہوگابلکہ آپﷺ توداعی اعظم اور مبلغ اعظم ہیں مگرآپﷺ کاخون طائف میں او را حد میں بہتا ہے ،آپ ﷺ آنسو بھری آنکھوں سے بیت اللہ کو الوداع کہتے ہیں ،پھر سترصحابہ کی جانوں کا نذرانہ اللہ کی راہ میں پیش کرتے ہیں ۔آپ ﷺنے تلوار بھی اٹھائی ہے ۔ یہ سب کس لیے ؟قرآن حکیم بتاتاہے کہ حضور ﷺ کامشن تھا:
{لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ} (الصف:9) ’’ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظامِ زندگی پر‘‘
یعنی آپﷺ کوقرآن دیاگیا،دین دیاگیاتاکہ آپ ﷺ اس کو غالب کریں ۔اب یہ قائم کرنا اس کے لیے اقامت دین کی اصطلاح ہے ۔ سورۃالشوریٰ کی آیت13 میں پانچ اولوالعزم رسولوں(نوح ،ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰؑ اور نبی اکرمﷺ) کوجوحکم دیاجارہاتھا وہی ہمیں فرمایا جارہاہے (شرع لکم) تمہیں بھی وہی حکم دیاجارہاہے ۔ پھرآگے الفاظ آئے :
{اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} (الشوریٰ:13) ’’کہ قائم کرو دین کو۔اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘
(ا س بارے میں ڈاکٹرا سرارا حمدؒ کاکتابچہ ’’فرائض دینی کاجامع تصور‘‘ جس میں تفصیلی اس موضوع پربحث کی گئی ہے ۔) اس میں ایک سوال بنتاہے کہ کیایہ فرائض دینی کاتصور ڈاکٹر صاحب کی اپنی اختراع ہے ؟ تواس حوالے سے قرآن پاک کی آیات پیش کی گئی ہیں ،پھر نبی اکرم ﷺ کی سیرت اور اسوہ دیکھ لیںاو را مت کے اسلاف کاطریقہ بھی دیکھ لیں ۔ اس سے پہلے اسلاف میں سے دوشخصیات کی مثالیں دی گئیں پھر دوکتابوں کاحوالہ دیا گیا جن میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ امت اس پر اتفاق کرتی چلی آئی ہے ۔ حتیٰ کہ اسّی کی دہائی میں ڈاکٹرا سرار احمدؒ نے محاضرات قرآنی کاسلسلہ شروع کیا جن میں مختلف علماء کرام کودعوت دی ۔ اور اپنایہ فرائض دینی کاجامع تصور لکھ کران کے سامنے رکھااور ان کو کہاگیا کہ تنقید کرنا چاہتے ہیں توکریں اور کوئی اصلاح طلب بات ہے تواس کی اصلاح کریں ۔ لیکن تقریباً سب نے کہا کہ تصور کی حدتک بات بالکل درست ہے کہ ہماری ذمہ داری فقط ذات تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سطح سے آگے بڑھ اجتماعی سطح پربھی ہماری دینی ذمہ داریاں ہیںجس میں دعوت دین اور اقامت دین کی جدوجہد کرنا شامل ہے۔
سوال: اب کچھ نظریات ایسے سامنے آرہے ہیں کہ اب دین دوبارہ قائم نہیں ہوگا کیونکہ پہلے اسلام کا دور تھا، اب دوسرے مذاہب کا دور ہے۔کیااب اسلام کاعروج دوبارہ نہیں ہوسکتا؟
جواب:یہ کہناکہ اسلام قائم نہیں ہوسکتا،یہ تصورآیات قرآنی کے اشاروںا وراحادیث میں بیان کی گئیں تفصیلات کے بھی خلاف ہے ۔ قرآن حکیم میں اشارے موجود ہیں جن کو بانی تنظیم اسلامی صغریٰ کبریٰ جوڑ کربیان کرتے تھے ۔ قرآن حکیم بتاتاہے کہ نبی اکرمﷺ کی رسالت یونیورسل ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا}(سبا:28) ’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے نہیںبھیجا ہے آپ کو مگر تمام بنی نوعِ انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر‘‘
اسی طرح نبی اکرمﷺ سے کہلوایاگیا:
{قُلْ یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَـیْکُمْ جَمِیْعًا}(الاعراف:158) ’’ (اے نبی ﷺ!)کہہ دیجیے اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف‘‘
پھر قرآن حکیم نبی اکرمﷺ کے مشن کو تین مرتبہ بیان فرماتاہے :
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}(الصف:9) ’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسولؐ کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظامِ زندگی پر‘‘
ظاہرفرمانا اگر صرف الفاظ تک ہوتا توپوری کائنات میں سب سے قیمتی خون تونبی ﷺکاہے کیااللہ اسے بہنے دیتا؟نبیوں کے بعد قیمتی ترین جماعت صحابہ کرامؓ کی ہے ۔ اگر صرف ظاہر الفاظ سے کرنا مقصود ہوتاتوکیااللہ کے رسولﷺ کسی ایک صحابی کی بھی جان جانے دیتے اللہ کی راہ میں ؟یہ بڑی عجیب بات ہے ۔وہ صغریٰ کبریٰ کیاہے ؟ حضورﷺ کی رسالت تمام انسانیت کے لیے ہے ۔ حضورﷺ کامشن ہے کہ اس طرز زندگی پراللہ کا دین غالب ہوجائے ۔ ڈاکٹر صاحب یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ جب تک اللہ کا دین کل روئے ارضی پر غالب نہ ہوجائے تو حضورﷺ کامشن پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچے گا۔ یہی وجہ ہے رسول اللہ ﷺ کے دورمیں دین کاغلبہ عرب پرہوا توغزوئہ تبوک کی صور ت میں آپﷺ نے اس کی توسیع کاآغاز فرمادیا۔اس کے بعد حضرت عمرفاروقؓ کے دورمیں22لاکھ مربع میل پراور پھر حضرت امیر معاویہؓ کے دورمیں 44لاکھ مربع میل تک اسلام کاغلبہ ہوا۔ لیکن بقول شاعر؎
وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےرسول اللہﷺ فرماتے ہیں :
’’اللہ نے مجھے پوری زمین کو لپیٹ کر (یا سکیڑکر) دکھا دیا۔ چنانچہ میں نے اس کے سارے مشرق بھی دیکھ لیے اور تمام مغرب بھی۔ اور یقین رکھو کہ میری اُمت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہو کر رہے گی جو مجھے لپیٹ کر(یا سکیڑ کر) دکھائے گئے۔‘‘(صحیح مسلم)
یہ اب تک تونہیں ہوا۔ اسی طرح کی کچھ اور صحیح احادیث موجود ہیں جن میں یہ بشارتیں موجود ہیں کہ کل روئے ارضی پراللہ کادین غالب ہوگا۔اب اگر واضح قرآنی اشارات اور احادیث کوسامنے رکھنے کے بعد کوئی صاحب ایمان کا دعویدار ہو اور وہ یہ کہہ بیٹھتاہے کہ یہ ہونے والی بات نہیں ہے تو وہ ان کا انکار کر رہا ہے۔ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرماتے تھے کہ اگر رسول اللہﷺ کی بشارات نہ ہوتیں۔
آج امت کی حالت کودیکھتے ہوئے ہم بھی کہتے کہ اسلام کادوبارہ عروج ایک خواب ہے ۔ لیکن جب اللہ کے رسولﷺ نے فرمادیا تواسلام کاعروج ہوکررہے گا۔
کب ہوگا؟اللہ بہتر جانتاہے ۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری ابھی موت واقع ہوجائے تومیں اللہ کو کیاجواب دوں گا؟تومیں اس کام میں اپناحصہ ڈالنے کا پابند ہوں۔ حضرت عیسیٰؑ کے معروف الفا ظ ہیں : میں آنے والے دور کے لیے راستے کو صاف کررہاہوں ۔ ظاہر ہے آنے والا دور رسول اللہﷺ کاہے ۔حالانکہ حضرت عیسیٰ ؑاور رسول اللہﷺ کے درمیان چھ صدیوں کا فصل ہے لیکن عیسیٰ ؑ فرمارہے ہیں کہ میں آج راستے کو صاف کررہا ہوں۔ ایک امتی کویہ سوچنا چاہیے کہ وہ راستہ صاف کررہا ہے یاخراب کررہاہے ،وہ اپناحصہ ڈال رہاہے یامعاذ اللہ اس کے مخالف جارہاہے ۔ رفیق تنظیم یاایک مسلمان کے پیش نظر اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے ۔ چاہے دنیا کی زندگی میں دین قائم نہ ہو،کتنے نبیوں کے ہاتھوں نہیں ہوا،کتنے صحابہ کی زندگیوں میں نہیں ہوالیکن وہ اپناکام کرگئے وہ اللہ کے ہاں کامیاب ہیں ۔ لیکن دین غالب ہوگا ضرور کیونکہ یہ وضاحت احادیث مبارکہ میں ہے۔ اقامت دین کی جدوجہد کرنا ہماری اہم ذمہ داری ہے ۔دین قائم ہونے یانہ ہونے کی شاذ آراء ماضی میں بھی ہوں گی، آج بھی ہیں لیکن امت میں مجمع علیہ معاملہ چلاآیاہے ۔ ان فرائض کے حوالے سے امت کابالکل واضح موقف رہاہے ۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026