مطالعۂ کلام اقبال
انجینئر مختار فاروقیؒ
ّّحضورِ رسالت …9… (XII)
دگر پاکیزہ کن آب و ِگل او
جہانے آفریں اندر دلِ او
ہوا تیز و بدامانش دو صد چاک
بیندیش از چراغِ بسمل اوترجمہ اس کی پانی اور مٹی (جسم) کو دوبارہ پاک کر۔ اس کے دل میں
ایک (نئی) دنیا آباد کر۔ ہوا تیزہے اور اس کا دامن دو سو چاک سے بھر چکا ہے۔
اس کو غور سے دیکھ اس کا چراغ بجھنے کے قریب ہے۔
تشریح اے خاصۂ خاصانِ رُسلﷺ! آج کا ہندی مسلمان بڑے نامساعد حالات میں ہے انگریز اور ہندو قوم کے گٹھ جوڑ سے گزشتہ دو صدیوں کی غلامی میں اس کے جسم و جان و تن میں غلط نظریات و خیالات آرزوئیں جنم لینے لگی ہیں۔ آپﷺ کو مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آئیں، ہم اس مشرق کے باسی ہیں۔ اے امت مسلمہ کے میر کارواں! امت مسلمہ کے اس حصے کے جسم و جان کو پاکیزہ جذبات دیجیے۔ اس کے سینے میں آزادی کی آرزو اور منحوس برطانوی استعمار سے گلو خلاصی کا جذبہ روشن کر دیجیے اس کے سینے میں ایک نئی روشن دنیا آباد کر دیجیے تاکہ یہ اٹھ کر غلامی سے نکلنے کی جدوجہد پر آمادہ ہو۔
اب تو یہ حال ہے کہ حالات مخالف ہیں دوسری غیر مسلم قومیں بیدار اور آمادہ عمل ہیں اور مسلمان امت کو کاٹ کھانے اوار نیست و نابود کرنے میں مصروف عمل ہیں مشرق وسطیٰ میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوچکا ہے مسلمانوں کا قبلۂ اوّل اور حرمین شریفین خلافت عثمانیہ کے ہاتھوں سے نکل کر انگریزوں کے پٹھوں کے ہاتھ میں جاچکے ہیں۔ حالات خراب ہیں مسلمان امت کا دامن تارتار، چراغ (ایمان) مضمحل ہے اور توجہ سے دیکھو تو یہ چراغ بھی بجھنے کے قریب ہے کہ مادی دنیا میں نہ وسائل ہیں نہ قیادت ہے نہ جذبہ ہے نہ آرزو۔ہمارا حال تو اس شعر کا مصداق ہے
؎ اے دُعا جا عرض کر عرشِ الٰہی تھام کے
اے خدا اب پھیر دے رُخ گردشِ ایام کے
حضورِ رسالت …10… (I)
عروسِ زندگی در خلوتش غیر
کہ دارد در مقامِ نیستی سیر
گنہگاریست پیش از مرگ در قبر
نکیرش از کلیسا، منکر از دَیر!ترجمہ زندگی کی دلہن ان غیروں (غیر مسلم) کی خلوت میں ہے۔ کیونکہ
مسلمان مقام نیستی کی سیر کر رہا ہے،( مراد یہ کہ زندگی کی آسائشوں سے محروم ہو کر
بے عملی کی زندگی بسر کررہا ہے)۔
وہ ایسا گنہگار ہے جو موت سے پہلے قبر میں جا چکا ہے۔ اس کے منکر ہندو ہیں
(جو اس کو ختم کرنے کے درپہ ہیں) اور نکیر یورپی اقوام ہیں (جو اس پر غالب ہیں)
اس سے حساب لے رہے ہیں۔
تشریح جنوبی ایشیا کے مسلمان ہوں یا عالم اسلام کے دیگر خطوں کے باسی کلمہ گو، مغربی بالادست استعمار ___ جو دراصل یورپی عیسائی اور صہیونی گٹھ جوڑ کا دوسرا نام ہے دنیا پر قابض ہے اور عالم اسلام جو دنیا بھر کے متمدن علاقوں پر مشتمل ہے ان کا پہلا ہدف ہے اور مسلمانوں کو کچل دینا ان کا مشن ہے سیکولر انسان دشمن نظامِ تعلیم سے اب آسودہ حال مسلمان مغربی ابلیسی سوچ کے حامل ہیں۔ غریب عوام مسلمان جو عشق مصطفیٰﷺ سے حصہ پاتے ہیں وہ مقہور و مجبور و غلام ہیں۔ مسلمانوں کے رہنما اور آسودہ حال طبقات اب مغربی طرزِ زندگی (LIFE STYLE) اختیار کر چکے ہیں اور اسی میں خوش ہیں۔ مسلمان عوام کی ’عروس‘ یعنی دلہن (آرزوئوں امنگوں کی نشانی) دشمنوں کے ہاتھوں میں ہے مسلمان بے عملی کی زندگی گزار رہا ہے وہ ایسا گنہگار ہے جو مرنے سے پہلے مر چکا ہے اب اس کے نگہبان و نگران یورپی اقوام بطور ’منکر‘ اور صہیونیت (یہودیت) بطور ’نکیر‘ کے حکمران ہیں اور اس سے حساب لے رہے ہیں۔ اور عصر حاضر کے مذہبی عناصر اور ان کے رہنما علماء کسی کی سنتے بھی نہیں ہیں۔ کاش کوئی علماء کو عصر حاضر کے علوم اور گزشتہ چند صدیوں میں مسلمانوں کی تجرباتی علوم میں تہی دامنی کا کوئی مداوا کرنے کا احساس دلاسکے۔
مہمانِ عزیزپر ہے افکار سے ان مدرسے والوں کا ضمیر
خوب و ناخوب کی اس دور میں ہے کس کو تمیز!
چاہیے خانۂ دل کی کوئی منزل خالی
شاید آجائے کہیں سے کوئی مہمانِ عزیز(کلیاتِ اقبال ، اردو، ص 543)
tanzeemdigitallibrary.com © 2026