(منبرو محراب) عقلمند کون؟ - ابو ابراہیم

10 /

عقلمند کون؟(سورۃ الواقعہ کی آیات 68تا74کی روشنی میں)

 

جامع مسجد شادمان ٹاؤن کراچی میںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخs کے18فروری 2022ء کے خطابِ جمعہ کی تلخیص

خطبہ مسنونہ اور تلاوت آیات کے بعد!
ہم سورۃالواقعہ کا مطالعہ کررہے ہیں ۔آج جس مقام کامطالعہ ہمارے پیش نظر ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدر ت کے نظارے ہمارے سامنے رکھے ہیں ۔یہ قرآن حکیم کافطری اور بنیادی اسلوب ہے کہ وہ انسانوں کو خودانسانوں کی جانوں میں اور اس کائنات میں جواللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جا بجا پھیلی ہوئی ہیں ان نشانیوں پرغوروفکر کی دعوت دیتاہے تاکہ بندے اپنے خالق اور رب کوپہچانیں اوراس کومان کراس کی ماننے کی کوشش کریں۔ زیر مطالعہ سورت میںیہی اسلوب دیکھنے میں آرہا ہے کہ انسان کی پیدائش میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ، پھر جو بیج ہم زمین میں بوتے ہیں اس سے فصل کی تیاری پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی گئی اور یہ بھی باور کرایا گیا کہ اگر اللہ چاہے تو اس بیج کو زمین میں چورا چورا کردے اور پھر تم کہتے رہ جائوکہ ہم پرتوتاوان پڑگیا۔ ساری محنت توضائع ہوگئی،نفع ملناتودور کی بات نقصان ہی نقصان ہوگیااور ہم تومحروم ہوگئے ۔ اس میں غوروفکر کی دعوت ہے کہ ہم اس ہستی کو پہچانیں جو اس بیج کو پیدا کرنے والا ہے اور پھر اس کو زمین میں محفوظ رکھنے والا ہے اور وہی اس کو تباہ کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے ۔ آگے مزید اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں غوروفکر کی دعوت دی جارہی ہے ۔ فرمایا:
{اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ (68)}’’کبھی تم نے غور کیا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو؟‘‘
{ئَ اَنْـتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ(69)} ’’کیا بادلوں سے تم نے اسے برسایا ہے یا ہم ہیں برسانے والے؟‘‘
پانی کو ہماری بنیادی ضروریات زندگی میں اوّلین حیثیت حاصل ہے ۔ پانی نہ ہوتو ہم زندہ نہ رہ سکیں لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ اس کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟یہ جو واٹرسائیکل ہے یعنی بارش کا پورا نظام ہے کہ سمندر سے بخارات اُٹھتے ہیں، کون بخارات کو اُٹھاتاہے ؟پھر اوپر جاکر یہ بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں ، پھر ہوا لے کر ان کو میلوں کا سفر طے کرتی ہے، کون ان بادلوں کو تھامتا ہے اور پانی کے اس خزانے کو ہوا میں محفوظ رکھتا ہے ۔ پھر کون ان بادلوں سے پانی نازل کرتاہے ۔ پھر اس پانی کوکہیں زیر زمین ، اور کہیں گلیشیئرز میں جمع رکھتا ہے اور ضرورت کے مطابق کہیں چشموں کی صورت میں ،کہیں کنوؤں کی صورت میں اور کہیں ندی نالوں اور دریاؤں کی صورت میں انسانوں ، حیوانوں ، چرند پرند ، حشرات الارض کے کام آتا ہے اور پھر اسی پانی سے ہم کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں ، فصلیں اگاتے ہیں اور تمام ضروریات زندگی میں پانی کا استعمال کرتے ہیں اور اسی کو ہم پیتے بھی ہیں ۔ کون ہے جس نے یہ سارا نظام بنایا ہے ؟
آج ہمارے ملک میں ڈیم بنانے پر بحث ہورہی ہے کیونکہ پانی کے ذخیرے پر ہماری بقاء اور ترقی کا انحصار ہے ۔ ذرا سوچئے گلیشیئرز کی صورت میں کون اتنے پانی کو ذخیرہ کر رہا ہے جو آہستہ آہستہ بہہ کر ندی نالوں اور پھر دریاؤں کے ذریعے ہماری تمام ضروریات کو پورا کرتا ہوادوبارہ سمندر میں پہنچتا ہے ۔ وہاں سے پھر بخارات کی صورت میں اٹھنا اور اس واٹر سرکل کا جاری رہنا ، کون ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہے ۔اگر یہ نظام نہ ہوتو سوچئے کرہ ٔ ارض پر زندگی کا کیا حشر ہو جائے ۔ ا للہ اکبرکبیراً۔تمام چرند ، پرند ، انسانوں ، حیوانوں ، فصلوں اور پودوں کا انحصار اس نظام پر ہے ۔ سمندر سے اٹھ کر پانی بارش کی صورت میں برستا ہے اور پھر ہمارے گھروں تک پہنچتا ہے اور ہمارے وجود کے ایک ایک خلیے تک پہنچتاہے ۔ یہ کس قدر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ کیایہ ازخود ہورہاہے ؟قطعاً نہیں ۔ یہ وہ سادہ اسلوب ہے جوقرآن حکیم خالق کائنا ت کے تعارف کے حوالے سے غوروفکر کے ضمن میں ہمارے سامنے رکھتا ہے ۔ آگے پانی کے حوالے سے ایک اور آفاقی حقیقت بیان ہورہی ہے ۔ فرمایا :
{لَوْ نَشَآئُ جَعَلْنٰـہُ اُجَاجًا} ’’اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں‘‘
{فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَ(70)} ’’تو تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے ؟‘‘
سمندر کا پانی کڑوا ہوتا ہے ۔ اس میں نمکیات کی بہتات ہوتی ہے ، وہ پینے کے قابل نہیں ہوتا ۔ لیکن اُسی سمندر سے بخارات اُٹھ کر بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور ہوائیں انہیں لے کر اللہ کے حکم سے چلتی ہیں اور جہاں اللہ کا حکم ہوتاہے وہاں برساتی ہیں ، وہاں سے یہی پانی ہمارے گھروں تک پہنچتا ہے اور ہم پیتے ہیں لیکن وہ پانی کڑوا نہیں ہوتا ۔ ذرا سوچئے ۔ کون یہ اہتمام کر رہا ہے ؟ اگرسمندر سے اُٹھتے وقت بخارات میں نمک بھی ساتھ چلا جائے اور پھر بارش کی صورت میں برسے تو دنیا کا کیا حشر ہو جائے ۔ غور کیجئے ! کون ہے جو سمندر کے کڑوے پانی سے صاف پانی الگ کرکے ہم تک پہنچاتاہے ؟یہ میٹھاپانی کون تمہیں عطا کررہاہے ؟
اُردو کا ایک محاورہ ہے :’’مال مفت دل بے رحم۔‘‘ ہمیں اللہ کی نعمتوں کی قدروقیمت کا اندازہ ہی نہیں ہے ۔ اگر آپ بجلی کا بل ، پانی کا بل جمع نہ کرائیں تو پہلے آپ کو نوٹس آتا ہے اور بعدازاں کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے ۔ لیکن ذرا سوچئے وہ رب کروڑہا سال سے کرہ ارض پر تمام جانداروں کو آکسیجن ، پانی اور ضرورت زندگی کی ہر شے فراہم کر رہا ہے ۔ کروڑہا سال سے اللہ کا سورج زمین والوں کو روشنی اور حرارت فراہم کررہا ہے ، اسی سے موسموں کا تغیرو تبدل ہوتاہے ،پھر بخارات کااُٹھنا اور بارش کی صورت میں برسنا ، پھر اسی حرارت اور پانی سے پھلوں کا پیدا ہونا ، ان میں مٹھاس کا آنا اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق ہے ۔ اگرکسی دن اللہ تعالیٰ زمین والوں کو بل بھیج دے توپھرہمارا کیا حشر ہوگا؟لیکن اللہ فوری پوچھ نہیں رہا۔وہ توکہتاہے :
{اِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا(3) }(الدھر)
’’ ہم نے اس کو راہ سجھا دی‘اب چاہے تو وہ شکر گزار بن کر رہے ‘چاہے ناشکرا ہوکر۔‘‘
ادھر زمین پر اللہ نے امتحان کے لیے بھیجا ہے ۔ کل قیامت کے دن وہ پوچھے گا ۔ فرمایا :
{ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ(8)}(التکاثر) ’’پھر اس دن تم سے ضرور پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں۔‘‘
اللہ کے رسولﷺ کاتفصیلی واقعہ موجودہے ۔ آپﷺ کے سامنے روٹی بھی ہے ،بکری کاگوشت بھی ہے ،پانی بھی ہے اور کھجور بھی ہے۔ حضورﷺ فرمارہے ہیں کہ اس روٹی کے بارے میں سوال ہوگا،اس کھجور کے بارے میں سوال ہو گا،اس گوشت کے بارے میں سوال ہوگا،اس پانی کے بارے میں سوال ہوگا۔(سنن نسائی)۔ جامع ترمذی میں حدیث مبارک ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن بندے کے قد م اس کی جگہ سے ہٹ نہیں سکیں گے جب تک وہ پانچ سوالوں کے جوابات نہ دے اور یہ اہم ترین سوال ہیں ۔ ا س زندگی کے بارے میں ، جوانی کے بارے میں، کمائی کے بارے میں ،خرچ کہاںکیا، اور علم جوحاصل کیااس پرکتنا عمل کیا؟جب تک بندہ ان سوالوں کے جواب نہیں دے گا اپنی جگہ سے ہٹ نہیں سکے گا ۔ آج بجلی ،گیس کے بل آرہے ہیں اورہم فوری ادا کررہے ہیں کل اللہ پوچھے گاکہ میں نے تمہیں کتنی نعمتیں عطا کی تھیں :{ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ(8)} (التکاثر)
غور کیجیے! کھانا میرے جسم کی ضرورت ہے ،پینا میرے جسم کی ضرورت ہے ،بھوک مجھے ستاتی ہے ،پیاس مجھے ستاتی ہے تومیں بھوک مٹاتا ہوں ،میں پیاس بجھاتا ہوں۔ یہ جسم کی حاجت توپوری ہوگئی ۔ اللہ نے صرف جسم نہیں دیا ہے، اس نے روح بھی دی ہے۔ جس خالق نے جسم کی حاجات کو پورا کرنے کااہتمام فرمایاکیااس نے روح کی حاجات پورا کرنے کاا ہتمام نہیں فرمایا ہوگا؟ جو خالق بارش نازل فرماتاہے اُسی نے قرآن بھی نازل فرمایا ہے ۔ ارشاد ہوتاہے :
{اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ}(الزمر:2) ’’(اے نبیﷺ!) ہم نے آپ پر یہ کتاب اُتاری ہے حق کے ساتھ‘‘
بارش برستی ہے تو پانی زمین کے اندر جاتاہے اور فصل کو پیدا کرنے کی جو صلاحیت اس زمین میں ہے اس کو بیدار کرتاہے اور فصل اگناشروع ہوتی ہے ۔ بندہ لہلاتی فصل کو دیکھ کر خوش ہوجاتاہے ۔ اسی طرح قرآن کی بارش اگر واقعتاً ہمارے دلوں پربرسے،اس قرآن کا نور اگر ہمارے دلوں میں واقعتاً اترے توپھر ظاہر میں نیک اعمال کی فصل اُگناشروع ہوجائے گی ۔وہ اللہ جو جسم کی حاجات کو پورا کرنے کے لیے ، بھوک اور پیاس مٹانے کے لیے اپنی نعمتوں کانزول فرما رہا ہے اور جتا بھی رہا ہے کہ :
{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ(77)}(الرحمٰن) ’’تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے؟‘‘
وہی اللہ ہمیں یہ بھی بتا رہا ہے کہ تمہاری دنیا کی حاجات سے بڑھ کر تمہارا آخرت کامعاملہ ہے۔ توکیسے ممکن ہے کہ اس خالق نے اس روح کی حاجات کو پورا کرنے کا اہتمام نہ کیاہواور آخرت کی دائمی زندگی کی تیاری کے لیے ہمیں کچھ نہ دیا ہو ؟اللہ مادی نعمتوں کا ذکر بھی بار بار قرآن میں فرماتاہے اور اللہ روحانی نعمتوں کاذکر بھی بار بار فرماتا ہے۔ جسم اہم ہے لیکن روح اہم ترین ہے ۔ دنیا ضرورت ہے لیکن آخرت ہمارا اصل مسئلہ ہے ۔ لہٰذا جتنی ان کھانے پینے کے معاملات پر توجہ ہے اس سے بڑھ کرتوجہ روح کی تسکین پر ہونی چاہیے۔ اس روح کی غذا اللہ کی وحی ہے، اس روح کا اطمینان اللہ کی یاد میں ہے ،اس روح کوبیدار کرکے اور اس کے تقاضوں پرعمل کریں توکل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں کامیابی ہے اور پھر وہ اللہ اعلان فرمائے گا:
{یٰٓــاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ(27) ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً(28) فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ(29) وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ(30)}(الفجر)
’’اے نفس ِمطمئنہ!اب لوٹ جائو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تم اس سے راضی‘ وہ تم سے راضی۔توداخل ہو جائو میرے (نیک) بندوں میں۔اور داخل ہو جائو میری جنت میں!‘‘
جس رب نے دنیا کی عارضی زندگی کی حاجات کو پورا کرنے کے لیے مادی نعمتیں عطا کی ہیں ،اُسی رب نے روحانی حاجا ت پورا کرنے کے لیے کتاب عطا فرمائی ہے، اپنے پیغمبرﷺ کااسوہ عطا کیاہے اور زندگی گزارنے کاڈھنگ، طریقہ اور سلیقہ ہمیں سکھادیاہے اور کل کی منزل آخرت کو سامنے رکھ کرآج دنیا کی زندگی کو گزارنے کی تعلیم دی ہے۔
ہم بھی تنہائی میں غور کریںکہ ایک وقت کا کھانا لیٹ ہوجائے توکتنی پریشانی ہوتی ہے ۔ لیکن لوگوں کی پانچ نمازیں ضائع ہوجاتی ہیں لیکن کیافکر ہوتی ہے ؟بچے کے میتھ میں نمبرز کم آجائیں ہم کتنے پریشان ہوجاتے ہیں ۔ لیکن بچہ اللہ کے کلام سے بالکل دور ہوتب کوئی پریشانی ہوتی ہے؟ آج ہماری فکریں کیا ہیں ؟ اللہ نے یہ کتاب ہماری ہدایت کے لیے بھیجی تاکہ ہم اس کے مطابق اپنی آخرت کی تیاری کریں لیکن ہم نے آخری بار یہ کتاب کب کھولی ؟ اور کب ترجمے اور تشریح کے ساتھ پڑھ کر ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کی ؟اس کتاب کے مطابق ، اُسوۂ رسول ﷺ کے مطابق اپنی زندگی کا لائحہ عمل طے کرنا کیا ہماری ترجیح میں شامل ہے ؟جتناہم اپنے جسم کی حاجات کو اہم سمجھتے ہیں اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کیا اُتنی ہی اہمیت ہم اپنی روح کے تقاضوں کو پورا کرنے کو دیتے ہیں ؟ابھی جیسے جیسے گرمی بڑھے گی، پھر پسینہ بہے گا تو پنکھے بھی چلیں گے ، اے سی بھی چلے گا ، بجلی نہیں تویوپی ایس کا انتظام کریں گے ، جنریٹر بھی چلے گا ، لیکن قبر کے عذاب سے ، جہنم کی گرمی سے بچنے کا کتنا اہتمام کررہے ہیں ؟حالانکہ ہمارا آخرت پر ایمان ہے اور مانتے ہیں کہ یہ دنیا چندروزہ ہے جبکہ آخرت دائمی ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
((الکَیِّسُ من دَانَ نفسہ، وعمل لِمَا بعد الموت، والعاجزُ من أتْبَعَ نفسہ ہواہا وَتَمنَّی علی اللہ))(الترمذی )
’’عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشوں کے پیچھے لگا رہے اور اللہ تعالیٰ سے اُمیدیں باندھے۔ ‘‘
دنیا عارضی ہے اورآخرت دائمی ہے لہٰذا عقل مندی کاتقاضا یہ ہے کہ عارضی کی فکرعارضی حدتک کرواور ہمیشہ کی زندگی کی فکر ہمیشہ کے اعتبار سے کرو اور وہ شخص جواس عارضی دنیا کو سب کچھ سمجھے اور ہمیشہ کی زندگی کو فراموش کردے اس سے بڑا بیوقوف کون ہوگا؟اس تناظر میں ہم سب کو بھی اپنے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ ہم عقلمند ہیں یا نرے بے وقوف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کا یقین اور اس کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے ۔ آگے فرمایا:
{اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ (71)}’’کبھی تم نے سوچا کہ وہ آگ جو تم جلاتے ہو؟‘‘
{ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَہَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ(72)}’’کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے ‘ یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟‘‘
یہ درختوں کا عطا کرنابھی اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ا یک چھوٹے سے بیج سے اللہ تعالیٰ کہاں تک معاملہ پہنچا دیتا ہے ۔ ان درختوں کوانسان ایندھن کے طورپربھی استعمال کرتاہے۔ یہاں بھی غوروفکر کی دعوت ہے ۔ فرمایا :
{نَحْنُ جَعَلْنٰہَا تَذْکِرَۃً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ(73)} ’’ہم نے بنا دیا اس کو ایک نشانی یاد دلانے کو اور ایک بہت فائدہ مند چیز صحرا کے مسافروں کے لیے ۔‘‘
یہ بھی یاددہانی ہے کہ تمہارا ایک خالق ہے جو تمہارے لیے یہ سارے انتظام کررہا ہے ۔ اُس زمانے میں صحرا میں سفر ہوا کرتے تھے اور وہاں آگ کی بھرپور حاجت پیش آتی تھی۔اسی طرح گھر میں ، سفر میں ہر جگہ آگ کی ضرورت پیش آتی تھی ۔آج بھی ہماری ضروریات زندگی میں آگ کی کتنی اہمیت ہے ۔ اللہ تعالیٰ توجہ دلا رہاہے تاکہ ہم غور کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا اور کیسا انسان بنایا ، پھر اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زراعت ، پانی ، آگ ، آکسیجن اور کیا کیا نعمتیں پیدا کیں ۔ کیا یہ خود بخود ہوگیا؟قطعاً نہیں ۔ آگے فرمایا:
{فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ(74)} ’’پس تم تسبیح بیان کرو اپنے ربّ کے نام کی جو بہت عظمت والا ہے ۔‘‘
اللہ کی تسبیح سے مرادیہ ہے کہ اللہ پاک ہے ۔ یعنی اللہ ہرحاجت سے پاک ہے، ضرورت سے پاک ہے، کمزوری سے پاک ہے ،نقص سے پاک ہے،کمی کوتاہی سے پاک ہے ،زوال سے پاک ہے۔ محتاج تم ہو، ضرورت مند تم ہو،حاجت مند تم ہو،زوال تمہیں آتاہے، ختم تم ہوجائوگے ،فناتمہیں ہے ۔ اللہ سبحان ہے ،اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ یہ بھی اللہ کی عظمت کابیان ہے ۔ جب یہ تسبیحات ہم نماز میں پڑھیںتوان کے مفاہیم سامنے رکھیں، اللہ کی عظمت ہمارے دلوں میں مزید بڑھے گی ۔ ان شاء اللہ ! اور ہماری نمازوں میں بھی اور ذکر میں بھی مزید لطف اور لذت آئے گی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں مضبوطی پید ا ہوگی ۔ اللہ ہمیں غوروفکر کی ، اللہ کی نعمتوں کو پہچاننے اور شکر بجالانے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !