(اداریہ) اگر امن چاہتے ہو تو جنگ کے لیے تیار رہو - ایوب بیگ مرزا

10 /

 

اگر امن چاہتے ہو تو جنگ کے لیے تیار رہو

ایوب بیگ مرزا

ایک دانشور کا قول ہے ’’اگر امن چاہتے ہو تو جنگ کے لیے تیار رہو‘‘ انسانی تاریخ سینکڑوں مرتبہ اِس قول کی عملی طور پر توثیق کر چکی ہے اس حوالے سے ہم ماضی بعید کو نہیں کریدتے صرف ماضی قریب اور حالیہ واقعات سے اِس قول پر مہر تصدیق ثبت کرنے کی کوشش کریں گے کہ جو قومیں جنگ کی تیاریوں سے اعراض کرتی ہیں درحقیقت وہ امن کو تباہ وبرباد کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ ذرا سوچیے اگر پاکستان ایٹمی اسلحہ سے لیس نہ ہوتا تو کیا ممبئی کے فالس فلیگ حملہ کے بعد بھارت محض غصہ سے بھرے ہوئے چند سفارتی بیانات پر اکتفا کرتا؟ پھر یہ کہ پلواما میں بھارتی ڈراما کے نتیجہ میں جو درجنوں بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے تھے، اس پر محض ایک جھوٹی ائیر سٹرائیک پر اکتفا کرتااور بعد ازاں 27 فروری 2019ء کو فضائی جنگ میں اُس کو جو ذلت اُٹھانا پڑی تھی اس پر دانت پیس کر عملاً خاموش بیٹھا رہتا۔ اِس حوالے سے کسی دوسری رائے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یقینا ًبھارت خطے کو جنگ کے شعلوں میں دھکیل دیتا لیکن پاکستان کے ایٹمی قوت نے اُسے بے بس کر رکھاتھا ۔لہٰذاپاکستان کے وہ نام نہاد امن پسند جو پاکستان کو ایٹمی اسلحہ سے لیس کرنے پر تنقید کرتے رہے ہیں، دیانتداری سے غور کریں کہ موجودہ حالات کے پس منظر میں کیا غیر ایٹمی پاکستان اپنا وجود قائم رکھ سکتا تھا؟یوکرائن کو ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کرنے میں امریکہ، برطانیہ اور روس تینوں کا کردار ہے، اس لیے کہ ایک طرف وہ اگر روس کا ہمسایہ ہے تو دوسری طرف وہ یورپ میں واقع ہے۔ درحقیقت یہ تینوں بڑی طاقتیں نہیں جانتی تھیں کہ کل کلاں یوکرائن کس کا دوست اور کس کا دشمن ہو گا۔ لہٰذا تینوں نے اُسے ایٹمی لحاظ سے غیر مسلح کر دیا۔ اگر یوکرائن آج بھی ایٹمی قوت ہوتا تو روس کے لیے اُس پر حملہ کرنا آسان نہ ہوتا۔یوکرائن ایٹمی صلاحیت سے دستبردار ہو کر جو نتائج بھگت رہا ہے اور عالمی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اُس کی تفصیل کچھ یوں ہے:24فروری 2022ء کو دنیا نے صبح کی تو معلوم ہوا کہ روس نے یوکرائن پر حملہ کر دیا ہے ۔ 21 فروری کو صدر پیوٹن نے یوکرائن سے علیحدگی اختیار کرنے والے دو علاقوں یعنی عوامی جمہوریہ ڈونسک اور عوامی جمہوریہ لوہانسک کو تسلیم کر لیا ۔ یہ دونوں علاقے یوکرائن کے ڈون باس کا حصہ ہیں ۔ روسی صدر نے یوکرائن کی ان سابقہ ریاستوں میں ایک خصوصی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا جسے مغرب نے جنگ قرار دیا اور روس اور بیلا روس کی افواج نے تین اطراف سے یوکرائن پر حملہ کر دیا ۔ یعنی مشرق میں ڈونس باس کے علاقے سے جنوب میں بحیرہ اسود اور بحیرہ ایزوف کی طرف سے جہاں کریمیا واقع ہے ۔ شمال میں بیلا روس کی جانب سے جہاں سے یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر زد پڑتی ہے ۔ روس نے حملہ کرکے پہلے یوکرائن کے اسٹریٹیجک ملٹری بیسز اور انفراسٹکچر کو تباہ کر دیا تاکہ جوابی کارروائی نہ ہو سکے۔ پھریوکرائن کے شہروں میریو پول ، دارالحکومت کیف، ڈون باس اور خارکیف کو نشانہ بنایا ۔ اس کارروائی میں ڈون باس کے علیحدگی پسندوں کے علاوہ کریمیا اور چیچنیا کی ملیشیا نے بھی روسی فوج کا ساتھ دیا ۔ یوکرائن پر روسی حملے کے خلاف مغربی لیڈروں کے مذمتی بیانات سامنے آئے اور نیٹو وغیرہ نے بھی مذمت کی ۔ روس پرسخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں ۔ یہ پابندیاں معیشت ، کاروباری شخصیات ، اہم عہدیداروں ، سوئفٹ بینکنگ سسٹم ، گیس معاہدوں ، دفاعی معاملات کے حوالے سے ہیں ۔ اس کے علاوہ روس کا مکمل فضائی بائیکاٹ بھی سامنے آیا ۔ ایک بین الاقوامی فوج بنانے کی بات بھی سامنے آنا شروع ہو گئی ہے جو یوکرائن کی مدد کرے گی اور اس بین الاقوامی فوج کو فنڈنگ اور اسلحہ وغیرہ مغربی عالمی طاقتیں دیں گی ۔ یورپی عوام کو عام اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ اس فوج میں شامل ہوکر روس کے خلاف جنگ کریں اور بعض اطلاعات کے مطابق مغربی ممالک کے بعض ’’فوجیوں‘‘ نے بھی اِس کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن باقاعدہ طور پر کسی بھی مغربی ملک نے روس کے خلاف یوکرائن کی مدد کے لیے فوج نہیں بھیجی ۔
یوکرائن کے صدر نے عوام میں اسلحہ تقسیم کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ یوکرائن کی نیو نازی پارٹیاں صدر زیلنسکی کی زبردست حمایت کر رہی ہیں ۔ درحقیقت یہ سپورٹ 2014ء سے اب تک جاری ہے ۔ روسی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا جس میں روس نے ویٹو کر دیا جبکہ چین ، بھارت اور متحدہ عرب امارات نے غیر جانبداری کا فیصلہ کیا ۔ روسی حملے کے خلاف مغرب کی طرف سے بھرپور میڈیا جنگ جاری ہے ۔ مشرقی یورپ میں نیٹو کے اڈوں ، میزائل سسٹمز اور فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔روس نے نیٹو کے بیانات اور ردّ عمل کے نتیجہ میں اپنی جوہری فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے جو دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف ترکی نے 1936ء کے مانٹرویو کنونشن کو مکمل طور پر لاگو کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے مطابق آبنائے باسفورس کا کنٹرول ترکی سنبھالے گا۔ ترکی کی طرف سے یوکرائن کو جنگی اسلحہ فراہم کرنے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف روس اور یوکرائن کے اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی یوکرائن اور بیلاروس کے باڈر کے علاقے میں شروع ہو چکے ہیں۔ ان کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا روس جنگ بندی کر دے گا؟ کیا فوجیں واپس بلائے گا؟ کیا روس پر مغرب کی پابندیاں ختم ہو جائیں گی؟ اس حوالے سے ابھی حتمی بات کہنا ممکن نہیں لیکن بظاہر یہ معاملہ مزید بگڑتا نظر آ رہا ہے۔
تاریخی طورپر دیکھاجائے توگزشتہ کئی صدیوں سے یوکرائن روس کا حصہ ہی رہاہے چاہے بالشویک انقلاب سے پہلے کادور ہو یابالشویک انقلاب کے بعد سوویت یونین کا دور ہو۔ یہاں تک کہ1989ء میں سوویت یونین کو افغانستان میں شکست ہوئی اور 1991ء میں سوویت یونین ٹکڑوں میں تحلیل ہوگیا ۔ جس کے نتیجے میں نئے ممالک وجو د میں آگئے جن میں مشرق میں وسط ایشیائی ریاستیں شامل ہیں جبکہ مغرب میں یوکرائن ،بیلاروس ، جارجیا، وغیرہ نمایاں ہیں ۔ پولینڈ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ روس کے بالکل قریب ہے ۔سوویت یونین کی شکست کے بعد روس کافی کمزور ہو گیا تھا ۔ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے امریکہ اور یورپ نے روس سے علیحدہ ہونے والی ان ریاستوں کو فنڈنگ شروع کی اور اسلحہ بھی دیا جس کی وجہ سے یہ ریاستیں معاشی ، سیاسی اور عسکری سطح پر مغرب زدہ ہونا شروع ہوگئیں۔امریکہ اور یورپی ممالک نے یوکرائن سمیت روس سے ٹوٹنے والی یورپی ریاستوں کو نیٹو میں شامل کرنے کا فریم ورک بھی طے کرنا شروع کر دیا حالانکہ امریکہ اور یورپ کا روس سے وعدہ تھا کہ نیٹو ایک انچ بھی مشرقی سمت میں پیش رفت نہیں کرے گا۔لیکن امریکہ اور یورپ نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ایک ایک کر کے مشرقی یورپ کے تمام ممالک کو نیٹو کا حصہ بناناشروع کیااور روس کے خلاف حصار بنانا شروع کر دیا ۔ چنانچہ 1994ء میں یوکرائن نیٹوفریم ورک کا حصہ بن گیا اور 2013ء تک اس کا حصہ رہا ۔دوسری طرف سوویت یونین کی شکست کے بعد روس بہت کمزور تھایہاں تک کہ اس نے نیٹو کاحصہ بننے کی خواہش کا برملااظہار کیالیکن امریکہ اور یورپ نہیں مانے۔پھر2000ء کے بعد پیوٹن کے دور میں روس کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہو گیا ۔ چنانچہ 2008ء میں روس نے دوبارہ جارحانہ حکمت عملی کا آغاز کیا اور جارجیا کے دو علاقوں پر قبضہ کرلیا ۔18روزہ جنگ کے بعد اگرچہ سیز فائر ہوگیا لیکن ابھی بھی 20فیصد علاقہ روس کے قبضے میں ہے ۔ اسی طرح روس نے جارجیا کا مشرقی یورپ کی اِن ریاستوں میں بھی اپنا اثررسوخ دوبارہ بڑھانا شروع کیا جو سوویت یونین سے علیحدہ ہوئی تھیں ۔ 1994ء سے 2004ء تک لی اونڈ کچما یوکرائن کا صدر رہا جس پر نہ صرف مغرب نوازی اور مغرب سے اسلحہ اور سرمایہ حاصل کرنے کا الزام تھا بلکہ اس کی بے پنا ہ کرپشن بھی کھل کر سامنے آئی ۔ چنانچہ 2004ء میں یوکرائن میں یانکووچ نے پرورشین حکومت بنانے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگیا کیونکہ دوسری طرف سے مغربی لابی بھی سرگرم تھی۔ لیکن کافی رسہ کشی کے بعد آخر2010ء میں یانکووچ روس کی مدد سے یوکرائن کا صدر بن گیا ۔ 2013ء میں یوکرائن نے روسی پالیسیز سرعام اپنانا شروع کر دیں جس کے ردعمل میں مغرب کی طرف سے وہاں انتشار پھیلایاگیا جسے یورو میڈان انقلاب کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس انتشار میں امریکی ایمبیسی اور یوکرائن میں تعینات امریکی سفیر وکٹوریہ نیولینڈ نے بڑا کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کا من پسند ویکٹر یوشنکو یوکرائن کا صدر بن گیا ۔ روس نے اس وقت کائونٹر سٹریٹیجی اپناتے ہوئے فوری طورپرکریمیا (مسلم اکثریت علاقہ) میں ریفرنڈم کرایا اور اس کے نتیجے میں کریمیا کو اپنے ساتھ ضم کرلیا ۔ مغرب اس کو متنازعہ ریفرنڈم کہتا ہے لیکن آج تک اس علاقے میں کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ آج کریمیا نہ صرف روس کا حصہ ہے بلکہ روس کے یوکرائن پر حالیہ حملے میں چیچنیا کی طرح کریمیا کے مسلمانوں نے روس کا ساتھ دیا ہے ۔ 2014ء سے اب تک یوکرائن کی مغرب نواز حکومت نے کریمیا سمیت علیحدگی پسند ریاستوں میں فوجی آپریشن جاری رکھے جس کے نتیجے میں اب تک پندرہ سے بیس ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں ۔

2018ء میں بیلا روس کے دارالحکومت منسک میں فریقین کے مابین منسک معائدہ بھی ہوا تاکہ جنگ اور انتشار کو روکا جا سکے۔ لیکن یوکرائن اور مغرب نے معاہدے کی ایک دن کے لیے بھی پاسداری نہ کی۔ دوسری طرف 2020ء میں بیلاروس میں بھی مکمل طور پر کریملن نواز حکومت آ گئی۔پھر یہ کہ 2019ء میں زیلنسکی جو ایک یہودی کامیڈین ہے کو یوکرائن کا صدر بنا دیا گیا اور پھر سے یوکرائن کی یورپین یونین اور نیٹو میںشمولیت کی بات چھیڑ دی گئی ۔ ا س صورت حال میں ہمیں تین بنیادی رخ بہت واضح نظر آتے ہیں ۔ ان کوسامنے رکھیں توروس دفاعی پوزیشن میں نظر آتاہے کیونکہ اس وقت روس دنیا میں اپنے آپ کو پھیلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے خلاف مغرب کا گھیرا تنگ ہورہا ہے اور مغرب کی اس پالیسی میں پولینڈ اوریوکرائن اہم پرزے ہیں ۔ روس چاہتا ہے کہ کسی صورت میں بھی یوکرائن نیٹو کا ممبر نہ بن سکے ۔
نیٹو کے چیف سٹالٹن برگ نے 2008ء میں کہہ دیاتھاکہ یوکرائن اب نیٹو کا باقاعدہ ممبربنے گا۔ جبکہ روس کے لیے یہ ایک ریڈ لائن ہے کیونکہ اس پر روس کی سلامتی اور بقاء کاانحصار ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ روس کو گرم پانیوں تک رسائی بھی چاہیے جو اس کی معیشت ،عسکری شعبے اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ شام میں جب محاذ گرم تھا توروس بھی فوری اس میں کود پڑا تھا۔اس لیے کہ اس کا گرم پانیوں تک رسائی کاایک بحری اڈہ ترطوس میں موجود ہے۔ تیسرامعاملہ گیس کا ہے ۔ یورپ کو زیادہ تر گیس روس سپلائی کرتا ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ یوکرائن کے ذریعے جاتا ہے ۔ یہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر روس نے یوکرائن پر حملہ کردیا ۔ پھر یہ کہ یوکرائن کے علاقہ ڈانباس میں روس کے حمایتی لوگ اکثریت میں موجود ہیں ۔ یہ خبریں منظر عام پر آچکی تھیں کہ یوکرائن وہاں پر حملہ کرکے روس کے حمایتیوں کو کچلنا چاہتا تھا لیکن روس نے پہلے حملہ کر دیا اور اس حملے میں عوامی جمہوریہ لوہانسک،عوامی جمہوریہ ڈانسک(جو2014ء میں یوکرائن سے الگ ہوگئے تھے ) نے بھی روس کا ساتھ دیا۔ روس کے لیے اپنابچائو زیادہ اہم ہے کیونکہ اس کے دروازے پر دشمن آچکا ہے۔امریکہ ،جرمنی ، یورپی یونین اور نیٹو نے روس کے پڑوس میں اپنے بیسیز اور فوجیں تیار کی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے میزائیل شیلڈ پولینڈ اور رومانیہ میں لگا لیے ہیں ۔ یوکرائن میں پہلے پرورشین حکومت تھی لیکن امریکہ وہاں بغاوت کروا کر اپنی من پسند حکومت لے آیا، کیونکہ یوکرائن کی مغرب کے لیے بڑی اہمیت ہے ۔ یورپ کو سپلائی ہونے والی گیس کا بڑا حصہ یوکرائن سے گزر کر جاتاہے ۔ اگر یہ گیس پائپ لائن بند ہوجائے توآدھایورپ ٹھٹھر کامرجائے گا۔ اگرچہ روس کے حملہ ردّ عمل میں مغرب اور امریکہ جنگ میں نہیں کودے لیکن روس پرسخت ترین پابندیاں لگا دی ہیں۔یہ پابندیاں روس کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں اور وہ ان کے سامنے جھکنے پرمجبور ہوسکتاہے۔
جہاں تک عالمی جنگ کا معاملہ ہے تواس وقت یہ کہنا قبل ازوقت ہے ۔ لیکن بہت سی چیزیں دور سے نظر آجاتی ہیں ۔ گزشتہ چندسالوں میں روس اور چین کاایساتعلق بن گیاہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ چین روس کی مدد کرنے کے لیے آگے نہ بڑھے ۔ اگر روس اس وقت امریکہ کے ہاتھوں پسپائی اختیا رکرتاہے تواس سے چین بری طرح متاثر ہوگالہٰذا چین کو آگے آنا پڑے گابلکہ اس کے لیے بہترین موقع ہوگا کہ وہ تائیوان کے حوالے سے آگے بڑھے اور اس پرحملہ کرکے ون چائنہ کودنیا کی حقیقت بنادے ۔ جب تائیوان کی طرف چین بڑھے گاتوامریکہ اس کوبرداشت نہیں کرسکے گا اوریہ چین اس لیے کرے گاکیونکہ اسے امریکہ کی توجہ کویوکرائن سے ہٹاناہے۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔جواب میں امریکہ چین کو کہیں اور مصروف کرے گا۔ اس کے لیے وہ پاکستان اور انڈیا کا معاملہ چھیڑ سکتاہے ۔ چنانچہ پھر عالمی جنگ کے امکانات پید ا ہوجائیں گے ۔ بظاہر اگلے چندسالوں میں عالمی جنگ حتمی ہے ۔ واللہ اعلم!
ان حالات میں اصل دانشمندانہ فیصلہ یہ ہوتاکہ پاکستان امریکہ سے تودور ہو جاتالیکن اپنے پائوں پہ کھڑ ا ہوتا،اور سیاسی اور معاشی طور پرخود طاقت بنتا۔ چین سے دوستی بڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اپنی سیاسی اور معاشی کمزوریوں کی وجہ سے ہم امریکہ سے چین کی گود میں منتقل ہونا ہماری ناپسندیدہ مجبوری ہے اگرچہ عسکری لحاظ سے پاکستان کسی حدتک خود کفیل ہوا ہے لیکن آج کی دنیا میں اصل قوت معیشت ہوتی ہے ۔معاشی حالات کی بنیاد پرسیاسی اور عسکری قوت بنتی ہےاصل بات یہ ہے کہ پاکستان اپنے نظریے سے ہٹا ہواہے ۔ تاریخ میں سوویت یونین اپنے نظریے سے ہٹا،کیمونزم کواس نے چھوڑ دیاتو وہ شکست وریخت کاشکار ہوگیا۔ اسی طرح انڈیا کانظریہ سیکولرزم کاتھاکہ تمام مذاہب ایک جیسے ہیں لیکن انڈیا اپنے اس نظریے سے ہٹ گیااور وہ ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔پاکستان نے شروع سے ہی اپنے نظریے کوایک مستحکم عمارت میں تبدیل کرنے کے لیے کوئی کوشش ہی نہیں کی جس کی وجہ سے اپنے قیام کے صرف چوبیس (24)سال بعد ہی دولخت ہوگیا ۔ لیکن ہم نے سبق نہ سیکھا۔ اگر نظریہ ٔپاکستان کو عملی تعبیر دی جاتی تو پاکستان دولخت نہ ہوتا بلکہ مضبوط و مستحکم ہوتا۔ لوگ پاکستان کی طرف دیکھتے توانہیںمعلوم ہوتاکہ یہ اسلام کاعملی نقشہ ہے۔ یادرہے کمزور خاندان ہو،قوم ہویاملک ہو،اس کوکوئی نہیں پوچھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی کسی پرظلم کرے توظالم توبہرحال ظالم ہے لیکن مظلوم کا بھی قصور ہے کہ وہ کیوں اتنا کمزور تھاکہ دوسرے کواس پر ظلم کرنے کابہانہ میسر آیا۔ بہرحال ہم نظریاتی انحراف کے نتیجہ میں عالمی سطح پر ایک فٹ بال بن کر رہ گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری عزت، وقار اور استحکام صرف اور صرف اسلام سے وابستہ ہے۔