(الہدیٰ) الہدیٰ - ادارہ

10 /

الہدیٰ

رات کی عبادت گزاری


آیت 64{وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا(64)} ’’اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔‘‘
جہاں تک پانچ نمازوں کا تعلق ہے وہ تو فرائض میں شامل ہیں۔ ان نمازوں کی پابندی بندۂ مؤمن کی سیرت کی بنیاد ہے۔ چنانچہ سورۃ المو ٔمنون کے آغاز میں جب بندۂ مؤمن کے کردار کی اساسات پربات ہوئی تو وہاں نمازِ پنج گانہ کی محافظت کا ذکر ہوا: {وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ(9)} لیکن یہاں چونکہ اللہ کے ان خصوصی بندوں کا ذکر ہو رہا ہے جنہیں اللہ سے دوستی کا شرف اور اس کا قرب نصیب ہو چکا ہے‘ اس لیے یہاں جس نماز کا ذکر ہوا ہے وہ نماز بھی خصوصی ہے یعنی نمازِتہجد۔ قیام اللیل راتوں کو جاگنے کا عمل ہے جو رضائے الٰہی کی خاطر رات کے کسی حصہ میں نوافل ادا کرنے، تلاوت قرآن پاک اور ذکر و اذکار میں مصروف رہنے، اپنے گناہوں پر نادم و شرمندہ ہو کر آنسو بہانے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں حصولِ حلاوت کے لیے سر انجام دیا جاتا ہے۔ اسے عرفِ عام میں شب بیداری بھی کہتے ہیں۔
رات کی تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا بڑی اہمیت و فضیلت کا حامل ہے۔ بندہ اس وقت اپنے مالک حقیقی کو پکارتا ہے جب سارا عالم سورہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اللہ تعالیٰ کو منانے کے لیے اپنی راحت و آرام قربان کر دیتا ہے۔ وہ کبھی قیام کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو کبھی رکوع اور سجدے میں جا کر اپنے عجز و انکسار کا اظہار کرتا ہے۔ اپنے بندے کی یہ ادا اللہ رب العزت کو بے حد پسند ہے۔ وہ ایسے شب زندہ دار بندوں پر اپنی انوارات کی بارش نازل فرماتا ہے۔ اور اپنے مقبول بندوں میں شامل فرماتا ہے۔

درس حدیث

 

تہجد پڑھنے والوں کی فضیلت

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيْدَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ ﷲِ ﷺ قَالَ :(( يُحْشَرُ النَّاسُ فِي صَعِيْدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُوْلُ أَيْنَ الَّذِيْنَ کَانَتْ تَتَجَافَي جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ؟ فَيَقُوْمُوْنَ وَهُمْ قَلَيْلٌ فَيَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ثُمَّ يُوْمَرُ بِسَائِرِ النَّاسِ إِلَي الْحِسَابِ)) (البیہقی فی شعب الایمان)
حضرت اسماء بنت یزیدؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’لوگ قیامت کے دن ایک میدان میں اکٹھے کئے جائیں گے اور ایک منادی اعلان کرے گا، جن لوگوں کی کروٹیں (اپنے رب کی یاد میں) بستروں پر نہ لگتی تھیں، وہ کہاں ہیں؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے، ان کی تعداد بہت کم ہوگی اور وہ جنت میں بغیر حساب و کتاب کے داخل ہو جائیں گے پھر باقی (بچ جانے والے) لوگوں کے حساب وکتاب کا حکم جاری کر دیا جائے گا۔‘‘