حضرت دُرّہ ؓبنت ابو لہب
فرید اللہ مروت
حضرت دُرّہ ؓابو لہب بن عبد المطلب کی بیٹی تھی۔ اس کے والد ابولہب کا اصل نام عبد العزیٰ ہے جو مکہ مکرمہ میں کفر کے سب سے بڑے رہنما تھے اور پیغمبرؐ کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچاتے تھے۔والدہ کا نام ام جمیل بنت حرب بن امیہ بن عبد شمس ہیں۔ آپؐ کی والدہ بھی حضور ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں۔ اس رشتہ سے آپؓ حضور ﷺ کی چچا زاد بہن تھیں۔ باپ کی اسلام دشمنی کی یہ کیفیت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نام لے کر اس کی مذمت کی لیکن بیٹی کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرف عطا کیا کہ اسلام قبول کیا اور حضور ﷺ کی صحابیات طیبات میں شمار ہوئیں۔ عتبہ، عتیبہ، خالدہ اور عزا آپؓ کے بہن بھائی ہیں۔ ان سب نے اسلام قبول کیا سوائے عتیبہ کے جن کو شیر نے بطور کافر ہلاک کر دیا۔
حضرت درہ ؓنے اسلام قبول کر کے ہجرت کی۔ حضرت درہ ؓکے شوہر اور سسر نے غزوئہ خندق سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ حضرت درہ ؓکے سسر حضرت نوفل ؓ نے ہجرت کا شرف بھی حاصل کیا مگر شوہر اس سعادت سے محروم رہے۔
نکاح اور اولاد
آپؓ کا نکاح حضور ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت نوفل ؓ کے بیٹے حضرت حارث ؓ سے ہوا۔ ان کے صُلب سے تین بیٹے عتبہ، ولید اور ابومسلم پیدا ہوئے۔
ہجرت
علامہ ابن ِ اثیر نے’’اُسْدُ الغابہ‘‘ میں لکھا ہے کہ وہ مدینہ پہنچ کر حضرت رافع ؓ بن معلی زُرقی کے گھراُتریں، بنوز رَیق کی عورتیں ان سے ملنے آئیں اور کہا:
’’تم اسی ابولہب کی بیٹی ہو، جس کےبارے میں سورۃ تَبَّتْ یَدَآاَبِیْ لَھَبٍ نازل ہوئی۔ تم کو ہجرت کا کیا ثواب ملے گا؟‘‘
حضرت درہؓ کو یہ سن کر بہت صدمہ ہوا اور انہوں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بیان کیا۔ حضورﷺ نے ان کو تسلی دی اور کچھ دیر ٹھہرنے کا حکم دیا۔ پھر ظہر کی نماز پڑھ کر منبر پر رونق افروز ہوئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
’’لوگو! تم میں سے بعض میرے خاندان کے بارے میں میری دل آزاری کرتےہیں حالانکہ خدا کی قسم میرے اقرباء کو میری شفاعت ضرور پہنچے گی، یہاں تک کہ صد، حکم اور سلہب (تین قبائل جن سے حضور ﷺ کی دُور کی قرابت تھی) بھی اس سے مستفید ہوں گے۔‘‘
مرویات حدیث
حضرت دُرّہؓ سے کئی احادیث مروی ہیں۔ ان میں سے دو مشہور حدیثیں یہ ہیں:
1۔ ایک دفعہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ لوگوں میں بہتر کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا، ’’جس میں تقویٰ زیادہ ہو، جو لوگوں کو اچھے کاموں کا حکم کرتا، برے کاموں سے روکتا اور صلہ ٔ رحمی کرتا ہو۔‘‘
2۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ’’کسی مردہ کے افعال کے بدلے کسی زندہ کو اذیت نہیں دی جا سکتی ۔‘‘
حضرت درہؓ کی فیاضی
حافظ ابن ِ حجرؒ نے’’الاصابہ‘‘ میںلکھا ہے کہ ’’حضرت دُرّہ ؓنہایت فیاض تھیں اور مسلمانوں کو کھانا کھلایا کرتی تھیں۔‘‘
وفات
حضرت دُرّہ ؓکا سال وفات اور مزید حالات معلوم نہیں۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026