(دعوت و تحریک) عظمت مصطفیٰ ﷺ بحیثیت انقلابی شخصیت - نعیم اختر عدنان

11 /

عظمت مصطفیٰ ﷺ بحیثیت انقلابی شخصیت

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ اور ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کے فکر و فلسفہ میں

حیرت انگیز مماثلت و مشابہت ! ایک جائزہ

نعیم اختر عدنان

 

 

9نومبر کو یوم ِ اقبال کی حیثیت حاصل ہے ۔ سال 2016سے قبل یہ دن پورے آب و تاب اور مکمل اہتمام سے منایا جاتا تھا۔ پورے ملک میں سرکاری سطح پر عام تعطیل ہوتی اور سرکاری و غیر سرکاری سطح پر بہترین تقاریب کا انعقاد کیا جاتا تھا مگر اب ایسا کچھ نہیں ہے ۔ گزشتہ سال 9نومبر 2021 کو یومِ اقبال کے حوالے سے راقم ایوانِ اقبال پہنچا مگر وہاں مرکزی آڈیٹوریم کی بجائے تہہ خانے میں تقریب انعقاد پذیر تھی۔ کسی یونیورسٹی کی طالبات ہی شرکائے محفل تھیں ۔ سٹیج پر بھی خواتین ہی نمایاں تھیں۔ سوشریک محفل ہونے کی بجائے کتابوں کے اسٹال ہی سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کئی ایک کتب خریدیں جن میں سے ایک علامہ اقبالؒ اور بلوچستان نامی کتاب بھی شامل تھی۔ اس کتاب کا غور و فکر کے ساتھ مطالعہ کا موقع ملا ۔ دیگر فکر انگیز معلومات کے علاوہ بلوچستان سے بطورِ خاص علامہ اقبال ؒ سے لاہور میں ملنے والے ایک وفد سے علامہ اقبال ؒکی گفتگو پڑھنے کو ملی ۔ اس تحریر میں اسی گفتگو کو ایک خاص تناظر میں پیش کرنے کی کوشش ہوگی۔
اس تحریر کا ناچیز لکھاری ــ’’من آنم کہ من دانم ‘‘ کے مصداق ایک عام سا شخص ہے مگر دین اسلام کے انقلابی فکر اور اس کے جملہ تقاضوں کے حوالے سے گزشتہ 40سال کے عرصے سے ڈاکٹر اسرار احمد ؒکی قائم کردہ تنظیم اسلامی سے وابستہ و پیوستہ ہے ۔ یہی میرا تعارف ہے اور بس ۔ بقول شاعرع ’’اک تصور کہ حسن مبہم پر ساری ہستی لٹائی جاتی ہے ‘‘ کے مصداق زندگی کے روز و شب قوت لا یموت کے حصول کے ساتھ ساتھ دین کے فہم کے حصول اور ابلاغ کے حوالے سے سرگرمیوں میں شریک عمل ہوں۔ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے دین کا جامع تصور کے عنوان سے جو آگہی عطافرمائی وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ آپ نے جس انداز سے نبی اکرم ﷺ کی عظمت کو دینی فکر اور جدید فلسفہ کے تناظر میں بیان کیا ہے وہ اپنی جگہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ چنانچہ رسولِ انقلاب کا طریقہ انقلاب کے موضوع پر اپنے ہی خطاب میں (جواب علیحدہ کتابچہ کی صورت میں بھی شائع ہے ) اس زیر بحث موضوع پر جو کچھ بیان کیا ہے ا س کے ایک پہلو کا خلاصہ پیش خدمت کرنے سے قبل علامہ اقبال ؒ کا مرزا غالب کے بارے میں ایک شعر پیش نظر ہے :
فکر انساں پر تیری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا
ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے اس شعر کے حوالہ سے اپنے خطاب ’’ختم نبوت کے دو مفہوم اور تکمیل رسالت کے عملی تقاضے‘‘ نامی خطاب میں فرمایا :
’’میں کہتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے انسانیت پر یہ بات واضح ہوئی کہ انسان میں اللہ تعالیٰ نے کتنی طاقت رکھی ہے لہٰذا معراجِ انسانیت کا ظہور اور اس کے مظہر اتم محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ جنہیں خود بھی داعیِ انقلاب کی حیثیت حاصل تھی فرماتے ہیں ’’ کامل انقلاب کی واحد مثال انقلابِ نبویؐ ہے‘‘ … انقلابِ فرانس بہت مشہور ہے اس میں شک نہیں کہ وہ واقعی انقلاب تھا لیکن اس سے صرف سیاسی نظام میں تبدیلی آئی تھی… دوسرا بہت مشہور انقلاب روس کا بالشویک انقلاب تھا جو سال 1917ءمیں آیا۔ اس سے صرف معاشی نظام تبدیل ہوا… اب ذرا محمد رسول اللہ ؐ کے برپا کردہ انقلاب کا جائزہ لیجئے… انقلابِ محمدی ؐ میں ہر چیز بدل گئی ، مذہب بھی بدل گیا ، عقائد بھی بدل گئے ، رسومات بھی بدل گئیں، سیاسی نظام بھی تبدیل ہوگیا، معاشی نظام بھی بدل گیا، معاشرت بھی بدل گئی ، گویا کوئی بھی شے اپنی سابقہ حالت پر قائم نہ رہ سکی۔ ڈھونڈھ کر بتایئے کہ فلاں چیز جوں کی توں رہ گئی ؟
دنیا کا جامع ترین اور کامل ترین اور Most Profound انقلاب ’’محمد ؐعربی کا انقلاب‘‘ تھا۔ کوئی دوسرا انقلاب اس کے مقابلہ میں نہیں آ سکتاکیونکہ باقی سب جزوی انقلاب تھے۔ باقی تمام انقلابات میں آپ دیکھیں گے کہ فکر اور دعوت دینے والے کچھ اور لوگ تھے جبکہ انقلاب برپا کرنے والے کچھ اور تھے ۔ مارکس اور اینجلز نے Das Capital نامی کتاب جرمنی یا انگلستان میں بیٹھ کر لکھی لیکن جرمنی یا انگلستان کے کسی ایک گائوں میں بھی مارکسسٹ انقلاب نہیں آیا۔ بلکہ تیسرے تیواڑے میں کہیں جاکر روس میں بالشویک اور مانشویک کے ہاتھوں انقلاب آیا اور عین وقت پر فرنٹ پر لینن آگیا۔ اس انقلاب کے برپا کرنے میں نہ کوئی مارکس کا حصہ تھا اور نہ ہی کوئی اینجلز کا … تو فکر دینے والے کوئی اور لوگ تھے اور انقلاب برپا کرنے والے کوئی اور… اسی طرح والیٹیئر اور روسو جیسے بے شمار اصحابِ قلم تھے جنہوں حریت ، آزادی اور جمہوریت کا فکر دیا تھا لیکن وہ محض ڈیسک ورکر تھے ۔ کتابیں لکھنے والے تھے ۔ میدان میں آکر قیادت نہیں کر سکتے تھے ۔ لہٰذا فرانس میں انقلاب برپا کیااوباش اور بدمعاش لوگوں نے … یہی وجہ ہے کہ یہ انقلاب انتہائی خونی انقلاب تھا۔ اسے کنٹرول کرنے والا کوئی تھا ہی نہیں اور ہجوم جو چاہے کر گزرے ۔
اب ذرا Contrast ’’تقابل‘‘ دیکھئے محمد رسول اللہ ﷺ کا برپا کردہ انقلاب، یہ دنیا کا واحد انقلاب ہے کہ ابتدا سے انتہاتک اس کی قیادت ایک ہی ہستی محمد رسول اللہﷺ کررہی ہے ۔ ایک ہی وقت میں وہ مکہ کی گلیوں میں دعوت دے رہے ہیں ، تبلیغ کررہے ہیں ، میدانِ بدر میں فوج کی قیادت کررہے ہیں … کہاں گلی گلی دعوت دینے والا ایک شخص اور کہاں فوج کی کمان کرنے والا قائد… حضور ﷺکی زندگی اس اعتبار سے واقعتاً Contrast کی حامل ہے ۔ ایک انقلابی دعوت کا آغاز بھی آپ نے کیا اور اسے کامیابی کی آخری منزل تک بھی خود ہی پہنچایا ۔ دنیا کے انقلابات میں کوئی دوسرا انقلاب ایک حیاتِ انسانی کےSpan میں پورا نہیں ہوا۔ بلکہ فکر دینے والے مر کھپ گئے اور بعد میں کہیں وہ فکر پروان چڑھا اور اس کی بنیاد پر کسی دوسری جگہ انقلاب آگیاجبکہ محمد رسول اللہ ﷺکا انقلاب اس اعتبار سے منفرد اور لاثانی ہے کہ ایک انسانی زندگی کے اندر کل 23 برس کے عرصہ میں الف سے یے تک تمام مراحل طے ہو گئے … گویا طریق انقلاب کے لیے اب دنیا کے سامنے صرف ایک ہی منبع و سرچشمہ Source ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ زندگی ہے ۔
قارئین کرام! تحریر اگرچہ طویل ہوگئی ہے مگر اس تفصیل کے بغیر کوئی چارئہ کار بھی نہ تھا ۔ علامہ اقبال ؒکی رہائش گاہ واقع میکلوڈ روڈ لاہور میں 1933ءمیں میر عبدالعزیز کرد (معروف وکیل رہنما علی احمد کرد کے چچا) کی قیادت میں مسٹر محمد حسین عنقا کی ہمراہی میں بلوچستان سے آنے والے وفد کی ملاقات ہوئی ۔ اس ملاقات کی روداد اگرچہ بہت مفصل ہے مگر اس تحریر میں موضوع سے متعلق گفتگو درج کی جارہی ہے…وفد کا ایک رکن کہتا ہے کہ ملاقات کے آخر میں میں نے جرأت کرکے عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب (علامہ اقبال ؒ) آپ کی تعلیمات نے ملت اسلامیہ میں نئی روح پھونک دی ہے ۔ ہم صدیوں سے خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے تھے ۔ آپ نے ہم کو جگایا ہے ۔ تہذیب نفس ، مکارمِ اخلاق، حسن عمل اور تکمیل انسانیت کے تمام اسرار و رموز سے آپ نے ہمیں آگاہ کردیا ہے ۔ لیکن ہم سب کو آپ سے یہ شکایت ضرور ہے کہ عملی طور پر آپ نے کوئی کام نہیں کیا …اس پر آپ (علامہ اقبال ؒ) نے فرمایا ’’ بیٹا کیا میرا یہ عمل تھوڑا ہے کہ میں نے آپ لوگوں کو گہری نیند سے جگا دیا ہے اور تمہارے سامنے کردار و عمل کا ایک راستہ تیار کرکے رکھ دیا ہے اب یہ تمہارا کام ہے کہ اس راستے پر چلو اور میری تعلیمات پر عمل کرو۔ میرا کام تمہیں درس دینا تھا آگے یہ تمہارا کام ہے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر مردانہ وار جہاد کرتے پھرو۔
دنیا میں آج تک کوئی ہستی پیدا نہیں ہوئی جس نے خود ہی ایک نظریہ قائم کیا ہو اور خود ہی اس پر عمل پیرا ہوکر اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا ہو۔ کیا تاریخ میں آپ کوئی ایسی نظیر پیش کرسکتے ہیں ؟ ایک لمحہ توقف کئے بغیر سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے اس مردِ باخدا نے فرمایا: ’’ ہاں البتہ ایک ایسی ہستی ضرور گزری ہے جس نے خود ہی ایک نظریہ پیش کیا اور خود ہی اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا ۔ جانتے ہو کہ وہ کون تھے ؟… وہ حضرت محمد ﷺ تھے۔ حوالہ از علامہ اقبال ؒ اور بلوچستان صفحہ 54 مصنف : ڈاکٹر انعام الحق کوثر
آخر میں ایک تأثر بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ کی یہ رائے ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کے مطالعہ فکر میں نہیں تھی ۔ اگر ایسا ہوتا تو ڈاکٹر اسرار ؒ ضرور علامہ اقبال ؒ کا حوالہ دیتے۔ یوں یہ حوالہ انقلاب کے حوالے سے ڈاکٹر اسرار احمد ؒ اور ڈاکٹر علامہ اقبالؒ میں فکری ہم آہنگی کا مکمل اور بھرپور عکاس ہے ۔ بقول شاعر ع ’’ متفق گردید را بوعلی بارائے من!