(نوائے حق) طالبان کی اسلامی حکومت اور عالم اسلام - ابو کلیم نبی محسن

11 /

طالبان کی اسلامی حکومت اور عالم اسلام

ابو کلیم نبی محسن

 

عہد حاضر میں طالبان افغانستان نے نہ صرف جہاد کو زندہ کیابلکہ عالم کفر کے درندوں کی ناک رگڑوا کر افغانستان سے نکلنے پر مجبور کر دیا ۔ عالم اسلام کے ذمہ اسلامی نظام کے احیا کا جو قرض تھا اُس کو بھی چکا دیااور افغانستان میں اسلامی نظام کو نافذ کر دیا۔ اسلامی نظام کے احیا سے افغانستان سے قتل و غارتگری کا خاتمہ ہو گیا۔ لوگوں کو سستا انصاف اپنی گھر کی دہلیز پر ملتا ہے۔ طالبان کے اسلامی نظام سے عالم کفر پریشان ہے۔ بغیر کسی واضح دلیل کے فرعون وقت یعنی امریکہ نے بدمست ہاتھی کی طرح ملا محمد عمر مجاہد ؒ کی امارتِ اسلامیہ افغانستان پر چڑھائی کی تھی افغان طالبان اس کےخلاف ڈٹے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے امریکہ اور اس کے حواریین کو شرمناک شکست سے دو چار کیا اور نہتے طالبان کو سرخروئی عطا فرمائی۔ فاعتبروا يا أولي الألباب!
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
درحقیقت اس وقت پوری دنیا پر دجالی تہذیب مسلط ہے۔ اس دجالی تہذیب کی معیشت میں سود اور معاشرت میں بے پردگی اور سیاسی نظام میں سیکولر جمہوریت ہے۔ اس شیطانی تہذیب نے لوگوں کی عقل ماری ہے لوگ اس شیطانی تہذیب کے جھوٹی نگوں کے اسیر ہو گئے ہیں لیکن حقیقت میں یہ چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر کے مصداق ہے۔ اس شیطانی تہذیب نے اللہ تعالیٰ اور آخرت کا خیال لوگوں کے دل سے نکال دیا۔ طالبان نے اسلامی نظام نافذ کر کے اس شیطانی نظام کے نیو کلیئس پر وار کیا اور لوگوں پر واضح کر دیا کہ دنیا کا جو یہ نظم رواں دواں ہے اس نظم کے پیچھے اُس کے ناظم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات ہے جو سب سے بڑی حقیقت ہے۔ یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے چونکہ اسلامی نظام ایک فطری نظام ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لیے بنایا ہے۔ اس نظام کے نافذ ہونے سے عالم کفر سیخ پا ہے وہ اسلامی نظام کے احیا کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور طالبان کی جائز حکومت کے تسلیم کرنے کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے کہ طالبان عورتوںکو اپنے حقوق نہیں دیتے۔ اگر دیکھا جائے توسب سے بڑھ کر حقوق اسلام عورتوں کو دیتا ہے جبکہ مغرب نے عورتوں کے حقوق غصب کیے ہیں۔ مغرب نے مساوات مردوزن کی آڑ میں عورتوں پر دوہرا بوجھ ڈال دیا ہے عورت کو شمع محفل بنا دیا ان کو بے وقعت کر دیا، ان کی تکریم کو پامال کر دیا۔
لیکن اب دل تھام لیجئے کہ میری باری آئی! کے مصداق مجھ کو گلہ تم سے ہے، یورپ سے نہیں ہے۔ آج اگر طالبان نے اسلامی نظام کو نافذ کیا ہے تو اس کے استحکام اور نفاذ میں مدد کرنے کی بجائے ہم امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور اسلامی نظام کی راہ روکنے میں طاغوتی قوتوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اسی لیے خبر دار نہیں کیا تھا کہ ’’اے اہل ایمان! اگر تم ان لوگوں کا کہنا مانو گے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل واپس لے جائیں گے (مرتد کر کے) پھر تم بالکل نامراد ہو کے رہ جائو گے۔‘‘(آل عمران:149)
جب اوآئی سی کا افغانستان کے حوالے سے اجلاس ہوا تو اکثر لوگوں نے اس سے امیدیں وابستہ کی تھیں کہ شاید افغانستان کی اسلامی حکومت کو تسلیم کیا جائے گا لیکن حیرت اس وقت ہوئی جب افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا نکتہ ایجنڈے کا حصہ نہ تھا جو رنج وغم کے پہاڑ ٹوٹ جانے سے کم نہیں۔ ؎
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن
اگر ہم عالم اسلام پر نظر ڈالیں تو 57اسلامی ممالک بالکل 57قبریں نظر آرہی ہے اور قبریں نہ کسی کی سن سکتی ہیں اور نہ جواب دے سکتی ہیں۔ آخر افغان طالبان کی جائز حکومت کو تسلیم کرنے میں کیا شے مانع ہے؟ ہاں یہی چیز مانع ہے کہ امریکہ کا دبائو ہے لیکن اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو یاد ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا تو سب سے بڑھ کر قوت والی ذات ہے اللہ تعالیٰ کی۔ ذرا تاریخ پر نظر ڈالیں کہ فرعون ، نمرود، اور ہامان کا کیا حال ہوا؟ فرعون وقت امریکہ کے ساتھ طالبان نے کیا سلوک کیا۔ اب بھی وقت ہے ذرا سوچے اور اپنی روش تبدیل کریں اور طالبان کی جائز اسلامی حکومت کو تسلیم کریں اس طرح اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ہمارے شامل حال ہو جائے گی اور دنیوی و اُخروی ذلت سے بچ جائیں گے۔ ان شاء اللہ!
یہ ایک سجدہ جسے تُو گِراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!