تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو یا ناکام، عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ بحیثیت مسلمان ہمارے لیے آئیڈیل نظام خلافت کا نظام ہے ۔حضور ﷺ
کے اُمتی ہونے کے ناطے ہمارا دینی فریضہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے اور ملک میں اللہ کے احکامات کو نافذ کریں : ایوب بیگ مرزا
پاکستان جیسی سکیورٹی سٹیٹ میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کسی صورت مناسب نہیں اور امریکہ کی مختلف ممالک کو کمزور کرنے
کے لیے رجیم چینج کرنے کی پوری تاریخ ہے : رضاء الحق
تحریک عدم اعتماد: توقعات اور امکانات کے موضوع پر
حالات حاضرہ کے منفرد پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال
میز بان :وسیم احمد
سوال:پی ڈی ایم کی قیادت نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی ہے ۔اس کے بعد حکومت اور اپوزیشن دونوں کاامتحان شروع ہوچکا ہے ۔ عمران خان بھی پُرامید ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن بھی پُرعزم ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے ۔ اس صورت حال میں یہ تحریک عدم اعتماد کیارخ اختیا رکرے گی ؟
ایوب بیگ مرزا:اس وقت آن پیپر حکومت کے ایوان میں تقریباً179 ارکان ہیں جبکہ اپوزیشن کے پاس 162 ارکان ہیں ۔ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کے لیے حکومت کو کچھ نہیں کرناہوتابلکہ سب کچھ اپوزیشن نے کرنا ہوتاہے اور اپوزیشن کو کامیابی کے لیے 172ارکان کی ضرورت ہے ۔ اگر172ارکان نے عدم اعتمام کے حق میں ووٹ دے دیا تو یہ تحریک کامیاب ہو جائے گی اور حکومت اور کابینہ فارغ ہو جائے گی ۔ عدم اعتماد کی تحریک کے طریقے کے مطابق اپوزیشن نے اسمبلی کے اجلاس کے لیے ریکوزیشن بھی پیش کردی ہے اور ساتھ تحریک عدم اعتماد بھی پیش کردی ہے ۔اب سپیکر آئین کے تحت پابند ہے کہ وہ14دن کے اندر اندر اسمبلی کااجلاس بلائے اوراجلاس بلانے کے تین دن بعد سے لے کر ساتویں دن کے اندر اندر سپیکر ووٹنگ کروائے گااور پھر فیصلہ ہوگا۔ ا س پرتین دن بحث بھی ہوگی ،وزیراعظم بھی بات کریں گے، اپوزیشن والے بھی بات کریں گے۔1997ء میں نواز شریف کے دورمیں آئین میں چودہویں ترمیم کے تحت دفعہ 63-A شامل کی گئی ۔ اس دفعہ کے مطابق ہرپارٹی کارکن اس بات کاپابندہے کہ وہ اپنی پارٹی ہی کو ووٹ دے گا، وہ اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتا،یعنی اب فلورکراسنگ نہیں ہو سکتی ۔ یہ ترمیم نواز شریف لائے تھے اورآج شاید یہی ترمیم ان کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے کہ اگر وہ پی ٹی آئی کے کچھ ارکان کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں تو ان کاووٹ تو شمار ہو جائے گا لیکن ان کاکیس سپیکرالیکشن کمیشن کوبھیج دے گاجوانہیں 90 دن کے اندر اندر ڈی سیٹ کردے گا۔ ہمارے ہاں اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کو توڑنا ہمارے سیاستدانوں کا وطیرہ ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں مہنگائی زیادہ ہے اورحکومت کی بھی ایسی کمزوریاں ہیں جن کو ارکان عذر بنا سکتے ہیں کہ ہم اس وجہ سے حکومت کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں۔اکثر تجزیہ نگاروں کی رائے میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس کی وجوہات میں ایک چودہویں ترمیم بھی ہے ۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اس معاملے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کابڑا رول ہوتاہے۔ صورت حال یہ ہے کہ سینٹ میںواضح اکثریت اپوزیشن کی ہے پھر بھی اس میں حکومت کے ووٹ پورے ہوجاتے ہیں اور اپوزیشن حکومت کی طرف سے بل پاس کروانے کی کوشش کو روکنے میں ناکام رہتی ہے ۔ اس چیز کو سامنے رکھیں تو جہاں اپوزیشن کی اکثریت نہیں ہے وہاں وہ کیسے کامیابی حاصل کرسکتی ہے ؟
سوال:اپوزیشن یہ کہہ رہی ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے ؟
ایوب بیگ مرزا: یہ اپوزیشن آج نہیں کہہ رہی بلکہ کئی ماہ سے کہہ رہی ہے اوراسی دوران سینٹ میں ایک قانون پاس ہواہے ۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے اس دعوے کے بعدیہ قانون منظور ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یقینا ًاسٹیبلشمنٹ ان کی حمایت کرے گی لیکن اس کاایک رخ ہمیشہ حکومت کے ساتھ ہوتاہے۔ کیونکہ فوج ہمیشہ حکومت کے ساتھ ہوتی ہے اوراسے ہونا بھی چاہیے البتہ اسے کوئی عملی کردار نہیں ادا کرنا چاہیے ۔ اسی طرح سابقہ حکومتوںمیں ترقیاتی کاموںکے نام پر ارکان اسمبلی کوفنڈز دیے جاتے تھے موجودہ حکومت میں اس طرح فنڈز نہیںدیے گئے ۔ پہلے پلاٹ اور سرمایہ بھی دیاجاتا تھا جوبے دریغ طریقے سے استعمال ہوتا تھاپھر ظاہر ہے گھپلے بھی ہوتے تھے لیکن اب یہ کام بھی نہیں ہو رہا۔ لیکن اب موجودہ حکومت کو بھی محسوس ہورہا ہے کہ ان لوگوں کے منہ میں کچھ ڈالے بغیر گزارہ نہیں ہے توانہوں نے بھی فنڈز دینے شروع کردیے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب حکومت نے ترقیاتی کام کروائے ہیں لیکن یہ حکومت میڈیا کے حوالے سے بہت کمزور حکومت ہے ۔ اعتماد کاووٹ لینا ہویاعدم اعتماد کاووٹ دیناہو تودونوں صورتوں میںووٹ پورے کرنے بہت مشکل ہوتے ہیں لیکن اگر ارکان اسمبلی اجلاس سے غیر حاضر ہوجائیں تواس میں ان کوپابند نہیں کیاجاسکتا۔
سوال:اگر حکومتی پارٹی سے کوئی گروپ علیحدہ ہو جاتا ہے توپھر کیاہوگا؟
ایوب بیگ مرزا:اگر کوئی گروپ علیحدہ ہوتاہے تواس کو الیکشن کمیشن سے اپنی پوزیشن الگ کروانی پڑے گی،اپنی سیٹیں الگ کروانی پڑیںگی۔ اس کے بغیر وہ فلورکراسنگ ہی کہلائے گی ۔البتہ اتحادی جماعتوں پر الگ ہونے میں کوئی پابندی نہیں ہے ۔ ق لیگ ،جی ڈی اے، ایم کیوایم میں سے جو چاہے وہ حکومت کے خلاف ووٹ دے سکتاہے ۔ البتہ جہانگیرترین اور علیم خان کے لوگوں پرپابندی ہوگی ۔میں سمجھتاہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے پروحکومت ہونے کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجائے گی۔ ہمارا ملک ایک سکیورٹی سٹیٹ ہے۔ دنیا میں جتنی بھی سکیورٹی سٹیٹس ہیں ان کی خارجہ پالیسی میں عسکری طاقت کاکلیدی رول ہوتاہے ان کے بغیر خارجہ پالیسی نہیں بنائی جاسکتی۔ اور ان کی مرضی کے بغیر کسی حکومت کونکال دینابڑا مشکل ہے ۔ ہمارے ہاں ماضی میں آج تک کوئی تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیںہوسکی اس لیے اس کے امکانات بھی کم ہیں۔
سوال:حکومت کا ٹینیور ختم ہونے کوتھااور اگلے الیکشن قریب تھے ان حالات میں تحریک عدم اعتماد لے کرآنا کیاملک وقوم کے مفاد میںہے ؟
رضاء الحق:اس تحریک کے نتیجے میں’’ جمہوریت کاحسن ‘‘نکھر کرہمارے سامنے آئے گا۔ یعنی خرید و فروخت کی منڈی لگے گی ۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف سے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروئے کارلائی جائیں گی ۔ جوارکان بکنا چاہ رہے ہوں گے ان کی بولی لگے گی۔ پھر سیاسی بلیک میلنگ کی جائے گی۔ ایک دوسرے کے ساتھ وعدے کیے جائیں گے کہ اتنی سیٹوں کے بدلے اتنی وزارتیں دی جائیں گی ۔ سیاسی رشوت بھی دی جائے گی۔ چودہویںترمیم کے ہوتے ہوئے فلور کراسنگ کی جائے گی کیونکہ آئین کی اہمیت ہمارے ہاں کتنی ہے ہم جانتے ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ عروج پرہوگی۔ وہ لوگ جو2014ء میںاُس وقت کی حکومت کے خلاف اس لیے کنٹینر پر چڑھ کر دھرنا دے رہے تھے کہ حکومت کرپشن میں ملوث ہے انہی لوگوں کی کرپشن بھی سامنے آئے گی ۔ پھر پی ٹی آئی کادعویٰ تھا کہ انصاف ہونا چاہیے ، ریاست مدینہ بنائیں گے وغیرہ لیکن ان ساڑھے تین سالوں میں پی ٹی آئی کی حکومت اپنے دعوئوں میں عملی طور پرناکام ہوئی ہے چنانچہ اب ان کا ایک نیابیانیہ ہوگا جووہ سامنے لے کر آئیں گے ۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیںجو کچھ دوسرے لوگوںکے گلے میں رسی ڈال کرکھینچ رہے تھے اوربعض بعض کا پیٹ پھاڑ رہے تھے لیکن اب وہ باہم شیر وشکر ہوں گے ۔ کچھ مذہبی سیاسی جماعتوں کے لوگ ہیںوہ بھی سب چیزوں کوچھوڑ کرجمہوریت کوہی اپناقبلہ بنالیںگے اوراس کے لیے ہرحد پار کریں گے ۔
پاکستان ایک سکیورٹی سٹیٹ ہے۔ حال ہی میں ہمیں دہشت گردی کی ایک نئی لہر کاسامنا کرنا پڑا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور افغان بارڈر سے دہشت گردوں کے خطرات ہیں ۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ افغانستان میں طالبان کاابھی مکمل کنٹرول نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس ابھی ٹرینڈ فورسز موجود نہیںہیں ۔ بہرحال ایک سکیورٹی سٹیٹ میں سیاسی ومعاشی انتشار کسی صورت مناسب نہیںہوتا۔چھوٹی جماعتوںکو معلوم ہوتاہے کہ جو بھی حکومت بنے گی اس میںہماری ضرورت ہوگی لہٰذا وہ اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔ حکومت کاٹینیور مکمل ہونے میں صرف سواسال رہتاہے اورا س دوران اس طرح کی تحریک لاناسیاسی طورپرمیچور نہ ہونے کی علامت ہے ۔ اس کامطلب ہے کہ پہلے دن سے ہم سیاسی نابالغ ہیں اور مستقبل میں سیاسی میچور ٹی لانا ہی نہیں چاہتے۔ پھرہمارے علاقائی اوربین الاقوامی معاملات ایسے ہیں بالخصوص روس یوکرائن جنگ کوسامنے رکھیں تو اس کے بعد امریکہ اوریورپ کاہمارے اوپر ایک پریشر ہے ۔ وہ معاشی پابندیاں لگاسکتے ہیں اور اس کے علاوہ ففتھ جنریشن وار جیسے دوسرے ذرائع استعمال میں لاکرہمیںنقصان پہنچا سکتے ہیں۔لہٰذا اس وقت عدم اعتماد کی تحریک ملک وقوم کے لیے سود مند نہیں ہے۔جہاں تک مغربی جمہوریت کا تعلق ہے تو تنظیم اسلامی اس کھیل کے حق میں ہی نہیں ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارے لیے آئیڈیل نظام خلافت کا نظام ہے ۔حضور ﷺ کے اُمتی ہونے کے ناطے ہمارا دینی فریضہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے اور ملک میں اللہ کے احکامات کو نافذ کریں ۔
ایوب بیگ مرزا:اگرچہ ہمارے اندر بڑی کوتاہیاں اور کمیاں ہیں لیکن پھر بھی تنظیم اسلامی جوکچھ کررہی ہے اس کا اصلاًتعلق پہلے اسلام سے پھرپاکستان سے ہے ۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایاکرتے تھے کہ موجودہ سیاسی نظام کی تبدیلیاں گائو آمدخررفت خرآمدگائورفت کے مصداق ہیں ۔ یعنی ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ حکومت میں کون آتاہے اور کون جاتاہے ۔ہمارا فوکس اسلام اور پاکستان ہے ۔اسلام آئے گاتوپاکستان خودبخود مستحکم اورمضبوط ہوگا۔
سوال:عمران خان کے موجودہ بیانیہ میں دوباتیں ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ اپوزیشن کے تمام راہنمائوں کو کرپٹ کہہ رہے ہیں ۔ دوسرا وہ کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کی اس تحریک کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہے ۔ دوسری طرف اپوزیشن نے بھی عمران حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ بنائی ہوئی ہے ۔ دونوں کے بیانیہ میں کس حد تک صداقت ہے ؟
ایوب بیگ مرزا:جہاں تک اس با ت کاتعلق ہے کہ اپوزیشن کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہے ۔ اگر ہم دوسری جنگ عظیم کے حالات کاجائزہ لیں توبعض باتیں بڑی واضح ہوکرسامنے آتی ہیں کہ جہاں جہاں بھی امریکہ کے مفادات کو زد پہنچی یاجس ملک نے بھی امریکہ سے منہ پھیرنے کی کوشش کی امریکہ نے وہاں کی رجیم تبدیل کرنے کے لیے سردھڑکی بازی لگادی۔ جب امریکہ اڈے مانگے تووزیراعظم عمران خان Absolutely Not کہے، سی آئی اے کا چیف آئے اور عمران خان اسے ملے ہی نہ، اسی طرح امریکی نائب وزیر خارجہ آئے تواسے ملاقات کاٹائم نہ دے۔ پھر امریکہ بڑے زور دار انداز میں جمہوریت کانفرنس کروائے اور اس میں پوری دنیا کو دعوت دے تو پاکستان جانے سے انکار کر دے ۔ پھرچین ونٹراولمپکس کے افتتاح میں بلاتاہے تو امریکہ کے روکنے کے باوجود پاکستان شرکت کرتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ امریکی پالیسی کے مطابق نہیں چلتے تو امریکہ آپ کو کیوں چلنے دے گا ؟ ہم عمران خان کے الزام کو نہیں مانتے لیکن ہم سکرین پردیکھتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے۔امریکہ نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کیاکیاتھا۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسراراحمدؒ تحریک نظام مصطفی (ﷺ) کواینٹی بھٹو تحریک کہتے تھے جوامریکہ نے چلوائی تھی ۔ بہرحال امریکہ جب کسی ملک سے ناراض ہوتاہے تووہ ہرقسم کے حربے استعمال کرتاہے۔ ا س میں میڈیا کا بھی بہت بڑا رول ہوتا ہے ۔ ہیلری کلنٹن کابیان آن ریکارڈ ہے کہ ہم نے پاکستانی میڈیا کوپچاس ہزار ڈالر دیے ہیں۔ یعنی امریکہ میڈیا کو پیسے دے کر وہ باتیں کہلواتاہے جو وہ چاہتا ہے ۔ پاکستان ایک سکیورٹی سٹیٹ ہے، اس کی جغرافیائی پوزیشن بہت اہم ہے ۔ اس وقت چین کے گھیرائو کے راستے میں پاکستان ایک دیوار بنا ہواہے جس کی وجہ سے امریکہ چین کا گھیرائو نہیں کرپارہا۔ لہٰذا پاکستان کی جوحکومت اس کے مطابق نہ ہوگی اس کووہ کبھی قبول نہیں کرے گا۔ اسی طرح معاشی حوالے سے ایک معتبرقومی اخبار بزنس ریکارڈکی خبر ہے کہ چین اور پاکستان مل کرایک سمری تیار کررہے ہیں جس میں چین پاکستان کو 21ارب ڈالر کی سہولت دے رہا ہے ۔ جس میں دس ارب ڈالرا سی طرح پاکستان کے خزانے میں رکھوا رہا ہے جس طرح تین ارب ڈالر سعودی عرب نے رکھوائے ہیں اور11ارب ڈالر کے ذریعے پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضہ کو ڈیفر کررہاہے اور یہ انتہائی کم شرح سود پر کر رہا ہے ۔یعنی اس بات کا امکان پیدا ہوگیا ہے کہ اگلے سال پاکستان آئی ایم ایف سے اگلاپروگرام نہیں لے گاجس کا مطلب واضح ہے کہ امریکہ کے چنگل سے نکلے گا۔لہٰذا امریکہ یہ سب کیسے برداشت کرے گا۔ بہرحال یہ حقائق ہیں جس کی وجہ سے امریکہ پاکستان میں موجودہ رجیم کو پسند نہیں کررہاہے ۔
سوال:عوام مہنگائی کی وجہ سے پس چکے ہیں ، پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی اہلیت پر بھی سوالات اُٹھ رہے ہیں ، اس وجہ سے بھی مسائل پیدا ہورہے ہیں ؟ حکومت کے اندرونی مسائل بھی ہیں ۔ کیا یہ سب گڈ گورننس کے مسائل نہیں ہیں؟ کیایہ مسائل موجودہ حکومت کوحل نہیں کرنے چاہیے تھے ؟
ایوب بیگ مرزا: اس میں کوئی شک نہیں کہ بیڈگورننس کا معاملہ ہے اور کرپشن بھی کنٹرول نہیں ہو سکی، نااہلی بھی اپنی جگہ پرہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان کا وزیراعظم بننے سے پہلے تیاری نہیں کی تھی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے ہر سطح پر، ہرادارے کے متعلق پوری تحقیق اور ورکنگ کی ہوئی ہے لیکن ان کے یہ دعوے غلط ثابت ہوئے ۔ وہ عوام کے اصل مسائل کو نہیں سمجھ سکے اور عوام کوا س سے تعلق نہیں ہوتاکہ خارجہ پالیسی ٹھیک جارہی ہے یا نہیں جارہی ، انہیں صرف اپنی روزی روٹی سے غرض ہوتی ہے ۔ اوپر سے کورونا کی مصیبت نے ساری دنیا کی معیشت کوتباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور ہماری معیشت بھی اس کی زد میں آئی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وباء کو ہماری حکومت نے اچھی طرح ڈیل کیا لیکن اس کے بعد کے معاشی مسائل سے نمٹنے میں ہماری حکومت ناکام رہی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی تودنیا بھرمیں بڑھی ہے ،پھرخام تیل بہت مہنگا ہوگیالیکن ان سب چیزوں کے بارے میں پہلے سے تیاری کرکے رکھنی چاہیے تھی ۔ اس حوالے سے کوئی ورکنگ ہوئی اورنہ ہی ماہرین کو اس کام پر لگایا گیا جس کی وجہ سے عوام میں موجودہ حکومت کی پوزیشن خراب ہوئی ۔ لہٰذا اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد اس بنیاد پر بھی پیش کی ہوگی کہ جن ارکان کواپنے حلقوں میں مسائل پیش آئے ہوں گے وہ ہمارا ساتھ دیں گے کیونکہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے عوام کو تکلیف ہوئی ہے ۔لہٰذا جب ایسے اراکین اپوزیشن کی طرف چلے جائیں گے توان کو دوسری پارٹی ٹکٹ دے گی اور وہ اپنے حلقوں میں کامیاب ہوں گے۔ لہٰذا اندرونی مسائل بھی اس تحریک کاپیش خیمہ بنے ۔
سوال:موجودہ صورت حال میں آپ کوروشنی کی کرن کہاں نظر آتی ہے اور تنظیم اسلامی کا آفیشل موقف کیاہے ؟
ایوب بیگ مرزا:تحریک عدم اعتماد پیش کرنا یقیناً اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہے لیکن اس میں دونوں فریق آئین اورقانون کو مدنظر رکھیں اور آئین وقانون کی خلاف ورزی نہ کریں ۔ ہمارے نزدیک یہ تحریک ناکام ہوتی ہے یاکامیاب ہوتی ہے اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گابلکہ ان جماعتوں کوہی فرق پڑے گاپاکستان کوکوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوگا۔ کیونکہ جن وجوہات کی وجہ سے حکومت ناکام ہوئی اپوزیشن بھی ان کے حل کے لیے اپناپلان نہیںدے سکی یعنی ان کے پاس بھی کوئی حل نہیں ہے۔ انہوں نے مہنگائی کا رونا رویا ہے لیکن پس پردہ ان کے ذاتی مفادات ہیں ۔ اقدار اور کرسی کا کھیل ہے ۔ لہٰذا اس تحریک کی کامیابی اورناکامی سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تنظیم اسلامی ان چیزوں کاحصہ نہیں ہے کیونکہ ان معاملات میں اسلام کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔ ہم اس پر تبصرہ ضرور کریں گے البتہ ہماری پہلی ترجیح اسلام ہے ۔میں کہتاہوں اگر حکومت کے جانے سے اسلام آتاہے تومیں دونوں ہاتھ اٹھاکرکہوں گاکہ حکومت چلی جائے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری دنیااور آخرت اسلام سے جڑی ہوئی ہے جتناہم اسلام سے دور چلے جائیں گے توہم دنیامیں ذلیل ورسوا ہی ہوں گے ۔ لہٰذا ہماری ایک ہی دعا ہے کہ کوئی ایسی صورت بن جائے کہ اسلام کا نظام ِ عدل اجتماعی نافذ ہو جائے ۔ ہماری دعا،محنت اورکوشش یہی ہے کہ کسی طرح اسلام کی طرف اس ملک کی پیش رفت ہوجائے ۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026