(الہدیٰ) خرچ میں میانہ روی : محتاجی سے تحفظ - ادارہ

4 /

الہٰدیٰ

خرچ میں میانہ روی : محتاجی سے تحفظ


آیت 67{وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا(67)} ’’اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ (ان کا معاملہ) اس کے بین بین معتدل ہوتا ہے۔‘‘
اگرچہ کسی بھی معاملے میں اعتدال قائم رکھنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے مگر اللہ کے ان بندوں کی سیرت ایسی پختہ (mature) ہوتی ہے کہ انہیں اپنے اخراجات کے اندر اعتدال اور تواز ن قائم رکھنے میں مشکل پیش نہیں آتی۔
آیت 68{وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللہِ اِلٰہًا اٰخَرَ} ’’اور وہ لوگ جو نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو ‘‘
{وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ ط} ’’اور نہ ہی قتل کرتے ہیں کسی جان کو جس کو اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ ‘اور نہ ہی کبھی وہ زنا کرتے ہیں‘‘
حق سے مراد یہاں وہ قانونی صورتیں ہیں جن صورتوں میں کسی انسان کی جان لی جا سکتی ہے‘ یعنی قتل کے بدلے قتل‘ مرتدکا قتل‘ حربی کافر کا قتل اور شادی شدہ زانی کا رجم۔
اس آیت میں تین کبیرہ گناہوں کا ذکر ہوا ہے : شرک‘ قتل ِنا حق اور زنا۔ شرک کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دو دفعہ فرما دیا کہ مشرک کو ہر گز معاف نہیں کیا جائے گا۔ اور قتل ایسا بھیانک گناہ اور جرم ہے جس سے تمدن کی جڑ کٹتی ہے ‘جبکہ زنا سے معاشرہ گندگی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء میں ایسے کبیرہ گناہوں سے بچنے والوں کے لیے چھوٹے گناہوں سے معافی کی خوشخبری سنائی ہے:{اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبٰٓئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا(31)} (النساء) ’’اگر تم لوگ بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزّت والی جگہ داخل کریں گے۔‘‘
{وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا(68)} ’’اور جو کوئی بھی یہ کام کرے گا وہ اس کی سزا کو حاصل کر کے رہے گا۔‘‘

درس حدیث

 

کسی کی نقل اتارنا

 

عَنْ عَائِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ :((مَااُحِبُّ اَنِّیْ حَکَیْتُ؎ اَحَدًا وَّاَنَّ لِیْ کَذَا وَکَذَا)) (رواہ الترمذی)حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں پسند نہ کروں گا کہ کسی کی نقل اتاروں ‘خواہ مجھے اتنا اور اتنا معاوضہ مل جائے۔ ‘‘
تشریح: زبان سے گالی گفتار‘ لعن طعن اور سخت کلامی یا پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنا تو سب سمجھدار لوگ براسمجھتے ہیں اور اس کو چھوڑ دینے کی نصیحت بھی کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ یہ باتیں باہمی میل جول کے لیے زہر قاتل ہیں۔ اس حدیث میں جس چیز سے منع فرمایا گیا ہے یہ ایذا رسانی ا ور غیبت کی بدترین شکل ہے۔ دوسروں کی نقلیں اتارنا خواہ تفریح طبع کے لیے ہو یا تضحیک اور رسوائی کے لیے، انتہائی مذموم اور انسانیت سے گری ہوئی بات ہے۔ اس سے نہ صرف دوسرے کی توہین ہوتی ہے بلکہ نقل اتارنے والا خود بھی اپنے آپ کو دوسروں کی نگاہوں میں گرا لیتا ہے۔