(اداریہ) پاکستان کےداخلی اور خارجی مسائل(قسط:19) - ایوب بیگ مرزا

4 /

اداریہ
ایوب بیگ مرزا
پاکستان کےداخلی اور خارجی مسائل(قسط:19)پاکستان کا معاشرہ

 

پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل کے حوالے سے مسلمانانِ پاکستان کے طرزِ بودوباش میں معاشرتی پہلو کی عمومی تصویر کشی گزشتہ قسط میں کی گئی تھی کہ کس طرح آزادی کے بعد مغربیت کے سامنے بحیثیت قوم ہماری مزاحمت دم توڑتی چلی گئی اور ہم نظریۂ اسلام کی عملی تعبیر کی طرف بڑھنے کی بجائے یعنی پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بجائے جس کے لیے جان و مال کی عظیم قربانیاں پیش کی گئی تھیں اور انسانی تاریخ کی عظیم ترین ہجرت ہوئی تھی ہم اپنے پرانے آقاؤں کی اُس تہذیب کو اپناتے چلے گئے بلکہ خود پر مسلط کر لی۔ جس کے بارے میں مصورِ پاکستان شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا ع اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
بہرحال اب ہم پاکستان کی معاشرت پر اثر انداز ہونے والے چند اہم واقعات اور محرکات کا تذکرہ کریں گے تاکہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ ہمارے معاشرے کو تباہی سے دو چار کرنے میں کس کا کتنا ہاتھ ہے۔ عائلی قوانین کے حوالےسے بعض سرکاری دستاویزات مثلاً شادی، طلاق کی رجسٹریشن وغیرہ تو فی نفسہٖ یقیناً بے ضرر ہیں، بلکہ دنیوی معاملات کو طے کرنے کے لیے سود مند ہیں۔ لیکن مرد کو ایک سے زائد شادی کرنے کے لیے کسی حکومتی مصالحتی ادارے کا یا پہلی بیوی یا بیویوں کی اجازت کا محتاج بنا دینایکسر خلاف شریعت ہے۔ اللہ تعالیٰ مرد کو ایک وقت میں چار بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے ایسی صورت میں کسی قانون سازی سے اللہ تعالیٰ کی فراہم کردہ اس اجازت کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنا لازماً خلافِ شریعت ہے۔العلیم اورالحکیم ہونا صرف اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ لہٰذا اُس نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت اپنے علم اور حکمت کی بنیاد پر دی ہے، لہٰذا اگر کوئی حکومت یا معاشرہ ایسی قانون سازی کرتا ہے جس سے مرد کا یہ اختیار مفلوج، منسوخ یا محدود ہوتا ہے تو یہ مالکِ کائنات کے خلاف کھلی بغاوت ہے، یہ ظلم ہے جو کسی صورت روا نہیں رکھا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک طرف مرد کو یہ اجازت تو دیتا ہے لیکن دوسری طرف خود قرآن پاک میں اور اپنے آخری رسول ﷺکی مبارک سیرت و سنت کے ذریعے مرد کی شخصیت کو ایسی اخلاقی تعلیم و تربیت سے مزین کرتا ہے کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی میں عدل کو بنیاد بنا کر توازن قائم کر سکے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ایک فوجی طالع آزمانے ایک منکر حدیث کی ذمہ داری لگائی کہ وہ عائلی قوانین ترتیب دے اور پھر اُس نے خود ڈکٹیٹر کی حیثیت سے اُنہیں زبردستی مسلمانوں پر مسلط کر دیا۔ یہ عائلی قوانین مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے علماء نے خلاف اسلام و شریعت قرار دے دئیے ۔ ان کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کروایا، لیکن یہ تقریباًساٹھ سال سے مسلمانانِ پاکستان پر مسلط ہیں اور بعد میں آنے والا کوئی بھی سول یا فوجی حکمران انہیں تبدیل نہ کر سکا۔ یہ عائلی قوانین خلاف شریعت ہیں اور کس قدر اسلام کے معاشرتی نظام سے متصادم ہیں اس کا علماء کرام تفصیل سے زبانی اور تحریری طور پر ذکر کر چکے ہیں اور ہم ہرگز اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس میں کمی بیشی کر سکیں۔ قارئین اس حوالے سے علماء کرام کے دیئے گئے فتاویٰ سے استفادہ کریں۔
عائلی قوانین جیسے داخلی محرکات کی مزید تفصیل دینے سے پہلے ہم کچھ بیرونی محرکات اور عوامل کا ذکر کریں گے جو پاکستانی معاشرت پر اثرانداز ہوئے ۔ عورت کو اپنے حقوق سے آشنا کرا نے کے نام پر طاغوتی قوتوں نے دجالی ایجنڈے کے تحت کچھ بین الاقوامی کا نفرنسیں منعقد کیں اور بظاہر ان کا مقصد عورت کے مسائل کو حل کرنا بتایا گیا ۔ ان میں پہلی کانفرنس 1975ء میں ہوئی۔ دو سری کانفرنس Mexicoمیں منعقد ہوئی جس میں 67ممالک نے حصہ لیا۔تیسری کانفرنس 1985 ء میں نیرو بی میں ہوئی جس میں 130ملک شریک ہوئے ۔ اس کے بعد 1994ء میں قاہرہ کانفرنس ہوئی ۔ اور 1995 ء میں Beijingمیں وہ کانفرنس منعقد ہوئی جس نے دنیا کی عورت کو بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن دیا، جسے BPFAکہا جاتا ہے۔اور اس کانفرنس میں دنیا بھر سے تیس ہزار سے زا ئد خوا تین نے شر کت کی ۔ 2000 ءمیں نیویارک میں عورتوں کی عا لمی کانفرنس اقوامِ متحدہ کے خصوصی اجلاس کے طور پر منعقد کی گئی جس میں این جی اوز نے بہت بڑی تعداد میں شر کت کی اور دستا ویزکی تیا ری پر بھرپور طور پر اثر انداز ہوئیں ۔اسے بیجنگ پلس فائیو(B+5)کا نام دیا گیا اور2005ء میں بیجنگ کانفرنس کی دسویں سا لگرہ کوB+10کا نام دیا گیا اور پاکستان میں بھی اسے بھرپور انداز میں منایا گیا ۔
اس بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن کے 12مخصوص میدان کار ہیں جو عورت کی تمام زندگی کا احاطہ کر تے ہیں۔اُس میں تعلیم، صحت، غربت، انسانی حقوق، ذرائع ابلاغ، ماحول معیشت، ادا رہ جا تی نظا م، مسلح جا رحیت، فیصلہ سازی میں شمولیت اورتشدد کے مو ضوعات شامل ہیں۔ اور ہرسال حکومتیں اس کی پابند ہیں کہ عورت کے لیے اس حوالے سے جو کام ہو چکے ہیں اور جو ابھی با قی ہیں اور جو حکمتِ عملی تر تیب دی جا تی ہے، اُس کی ایک جا مع رپورٹ اقوامِ متحدہ کو پیش کرے۔گویا خوشنما نعروں کی آڑ میں مغربی اور دجالی تہذیب کو ہمارے معاشرے پر مسلط کرنے اور شعائر اسلام سے دوری پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔
پاکستانی معاشرت اور معاشرتی اقدار کو تلپٹ کرنے میں کچھ بین الاقوامی معاہدات نے بھی کلیدی رول ادا کیا ۔ان میں سے سب سے خوفناک حملہ 1979ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پاس کیے جانے والا سیڈا CEDAWةمعاہدہ ہے جومخفف ہے :
''Convention on the Elimination of All Forms of Discrimination Against Women ''
اسے 3دسمبر 1981ء میں قانونی حیثیت دی گئی اور آج پاکستان سمیت دنیا کے 181 ممالک اس کو منظور اور لاگو کر چکے ہیں ۔ پاکستان نے 1996ء میں اس کو منظور کیا ۔ حیرت کا مقام ہے کہ جن مٹھی بھر ممالک نے اسے منظور اور لاگو نہیں کیا ان میں سے ایک دنیا میں خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار خود امریکہ ہے ۔ سیڈا کی 16 بنیادی شقوں کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس کے ذریعے معاشرتی خاص طور پر خاندانی نظام کو تباہ کرنا مقصود ہے ۔ ظاہری طور پر سیڈا کی شقات جو بھی ہوں لیکن پس پردہ ان کے مقاصدبہت واضح ہیں جن کی ایک اجمالی فہرست درج ذیل ہے :
1۔ عورتیں مردوں کی طرح ہوتی ہیں۔ 2۔ مرد کو تعدّد ازدواج کی اجازت نہیں ہے۔ 3۔ بچوں کے نام ان کی ماؤں کے نام پر رکھے جائیں۔ 4۔ عورت کی عدت نہیں۔ 5۔ مرد کو عورت پر سرپرستی حاصل نہیں ہے اور باپ کو اپنی بیٹیوں کی سرپرستی کا کوئی حق نہیں۔ 6۔ مرد اور عورت کی میراث ایک ہے۔ 7۔ ایک مرد اپنے جیسے مرد سے شادی کر سکتا ہے، ایک عورت اپنے جیسی عورت سے شادی کر سکتی ہے۔ 8۔خواتین کو اسقاطِ حمل کا حق حاصل ہے۔ 9۔میاں بیوی دونوں کے لیے شادی سے باہر جنسی تعلقات کوئی جرم نہیں ہیں ۔ 10۔ عورت جس سے چاہے تعلق قائم کرے اور جب چاہے جدا ہو جائے، اور جب چاہے دوبارہ جڑ جائے۔ 11۔ شادی کی عمر اٹھارہ سال کے بعد ہے۔وغیرہم
بہرحال جو ملک یا معاشرہ اسلام سے وابستہ ہونے کے باوجود ان مغربی دجالی قوانین اور نظریات کے ساتھ کھڑا ہونا اور اس کا دفاع کرنا چاہتا ہے اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کر رہا ہے اور اس کی کتاب اور اس کے رسول ﷺکی سنت کا انکار کررہا ہے۔ جس کے دنیوی اور اُخروی لحاظ سے بدترین نتائج برآمد ہوں گے۔ (جاری ہے)