عمل کے لحاظ سے کافر کون؟
(سورۃ الواقعہ کی آیات 75تا 82کی روشنی میں)
جامع مسجد شادمان ٹاؤن کراچی میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے04مار چ 2022ء کے خطابِ جمعہ کی تلخیص
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوت آیات کے بعد!
ہم سورۃالواقعہ کا مطالعہ کررہے ہیں۔زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی قسم اُٹھاکر قرآن کی عظمت کو بیان فرمایا:
{فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ (75)} ’’پس نہیں! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔‘‘
{وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ(76)} ’’اور یقیناً یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو!‘‘
{اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ (77)} ’’یقیناً یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔‘‘
آج جدید سائنس نے ان مقامات کا پتہ لگایا ہے جہاں ستارے اور کہکشائیں ڈوب کر فناہو جاتی ہیں لہٰذا آج کا انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ کتنی بڑی قسم ہے لیکن اتنی بڑی قسم اُٹھا کر اللہ تعالیٰ جس حقیقت کو بیان کر رہا ہے کیا اُس کی عظمت کا بھی ہمیں اندازہ ہے ؟ہم ایمان والے جو قرآن حکیم کو مانتے ہیں وہ غور کریں کہ ہمارے معمولات میں،ہماری ترجیحات میں قرآن حکیم کی کتنی اہمیت ہے ۔آگے فرمایا:
{فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ (78)}’’ایک چھپی ہوئی کتاب میں ۔‘‘
پوشیدہ سے مراد محفوظ کتاب ہے۔ قرآن حکیم میں اس کے لیے لوح محفوظ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ سورۃالبروج کے آخر میں ارشا د ہوتاہے :
{بَلْ ہُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ(21) فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (22)} ’’بلکہ یہ تو قرآن ہے بہت عزت والا ۔لوحِ محفوظ میں (نقش ہے)۔‘‘
یہ بات بھی معروف ہے کہ وہاں سے شبِ قدر کی رات اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلے آسمان پر نازل فرما دیا اور وہاں سے تھوڑا تھوڑا کرکے نبی اکرمﷺ پراس کانزول ہوا۔ البتہ یہ محفوظ کلام ہے ۔مشرکین مکہ الزام لگاتے تھے کہ یہ قرآن حکیم کہیں سے سیکھ کرلے آئے ہیںیاان کو کوئی کاہن وغیرہ سکھا دیتا ہے جس کے پاس شیاطین اور جنات آکر خبریں دیتے ہیں ۔یہاں بتایاجارہاہے کہ جوکلام محمد مصطفیٰ ﷺ پیش کررہے ہیں وہ ایسی محفوظ اور پوشیدہ جگہ پر ہے جہاں کوئی شیطان یا جن نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی قرآن میں کوئی ملاوٹ کر سکتا ہے ۔آگے فرمایا :
{لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ (79)}’’اسے چھو نہیں سکتے مگر وہی جو بالکل پاک ہیں۔‘‘
اس کی معروف اور رائج تفسیر یہ بیان کی گئی کہ لوح محفوظ تک صرف فرشتوں کی رسائی ممکن ہے اور وہ بھی اللہ کے حکم سے ہی وہاں جا سکتے ہیں ۔ یہاں فرشتوں کی پاکیزگی کی طرف اشارہ کیا گیا ۔ مُطَہَّرُوْنَ کے ذیل میںدوباتیں اور بھی اہل علم نے بیان فرمائیں ۔ایک فقہاء نے قرآن مجید کے آداب کے اعتبار سے مسئلہ بیان فرمایا کہ جب قرآن کو چھونا ہو تو باوضو ہوکر چھوا جائے ۔ ایک شخص بے وضو ہے اور وہ بغیر چھوئے تلاوت کرنا چاہتاہے تو تلاوت کرسکتاہے لیکن قرآن حکیم کو ہاتھ لگانے یاچھونے سے پہلے وضو کر لینا چاہیے ۔ البتہ جب غسل واجب ہو تو پھر تلاوت بھی نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح عورت بھی اپنے مخصوص ایام میں تلاوت نہیں کر سکتی۔ تیسری تعبیر یہ کی گئی کہ قرآن مجید سے ہدایت اور رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنے باطن کو پاک کیا جائے ۔ اپنے عقیدے کو درست کیا جائے اور اپنے اندر تقویٰ پیدا کیا جائے ۔ اگر دل پاک ہوں گے، باطن پاک ہوگاتوقرآن حکیم کے مضامین کوسمجھنا، قرآن سے راہنمائی لینا اور قرآن سے ہدایت کاحصول آسان ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کے فرائض منصبی کے ذیل میںقرآن حکیم چار باتیں بیان فرماتاہے اور چار ہی مرتبہ ان کاذکر قرآن حکیم میں آیاہے ۔ سورۃالجمعہ کی آیت2 میں بھی یہ بات آئی :
{ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ق}’’وہی تو ہے جس نے اٹھایا اُمیّین میں ایک رسول ان ہی میں سے‘جو ان کو پڑھ کر سناتا ہے اُس کی آیات اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے کتاب و حکمت کی۔‘‘
تلاوت کے ساتھ تزکیہ کا ذکربھی آیا۔یعنی اگر باطن پاک ہوتا رہے تو پھر ہدایت بھی ملتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ظاہر اور باطن کی پاکیزگی عطا فرمائے ۔ آگے فرمایا:
{تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(80) } ’’اس کا اتارا جانا ہے ربّ العالمین کی جانب سے۔‘‘(الواقعہ)
یہ مخلوق کاکلام نہیں جو محمدمصطفیٰﷺ پیش کررہے ہیں بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ان کوعطا ہواہے ۔ یہاں مشرکین کو جواب دیا جارہا ہے کہ تمہاراکیا خیال ہے کہ یہ کلام انہوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیاہے،معاذ اللہ ۔ پھر قرآن حکیم یہ چیلنج بھی ان لوگوں کے سامنے رکھتاہے کہ اگر تم یہ سمجھتے ہوکہ یہ کسی مخلوق کا کلام ہے تو پھر تم ایسی ایک سورت لے آؤ۔ عربی تمہاری اپنی زبان ہے اورتمہارا اہل زبان ہونے کا بھی دعویٰ ہے ،غیر عربوں کو تم عجمی (گونگے) کہتے ہو ۔ لہٰذا قرآن سے ملتی جلتی ایک سورت ہی لے آؤ جو کہ تم ہرگز نہیں لا سکتے ۔
یہ مشرکین اور کفار سے خطاب ہے جو قرآن کو نہیں مانتے تھے لیکن ہم بحیثیت مسلمان قرآن پر ایمان رکھتے ہیں ،ہم رب العالمین کواپناخالق،راز ق اورمالک مانتے ہیںتو کیااپناحاکم بھی مانتے ہیں کہ نہیں ؟قرآن مجید میں تو تین بار یہ حکم آیا ہے :
{ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ط}(یوسف :40)
’’اختیارِ مطلق تو صرف اللہ ہی کاہے۔‘‘
جب ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن حکیم پر بھی ایمان رکھتے ہیں تو اس کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بھی مانیں جو قرآن مجید میں اللہ ہمیں دیتا ہے ۔ اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے تابع کرنا بھی اس ایمان کا تقاضا ہے نہ کہ میری مرضی، میری مرضی کے نعرے لگائے جائیں ۔مسلمان تورب کی مرضی کاپابند ہے۔ اسلام کا مطلب ہی خود کو رب کے سامنے سرنڈر کر دینا ہے ۔ آگے فرمایا:
{اَفَبِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ (81)}’’تو کیا تم لوگ اس کتاب کے بارے میں مداہنت کر رہے ہو؟‘‘
توجہ نہ دینا ، ترجیح نہ دینا ، سستی اور کاہلی دکھانا ، یہ سب مفاہیم مداہنت میں آتے ہیں ۔ یہاں خطاب تو مشرکین سے ہے جو قرآن کو نہیں مانتے اور اس کے احکام پر عمل پیرا نہیں ہوتے ۔ ہم تومسلمان ہیں، ہم بھی ذرا اپنے اندر جھانک کر دیکھیں، کیا ہم قرآن حکیم کے بارے میں مداہنت کامعاملہ نہیں کررہے ؟سستی، کاہلی،نظرانداز کرنا، پس پشت ڈالنا،توجہ نہ دینا،جدوجہد نہ کرنا،ترجیح نہ دینا، یہ سب خرابیاں ہمارے اندر بھی ہیں یا نہیں ؟آج ہم دنیا کے حصول کے لیے اپنے بچوں پر لاکھوں کروڑوں خرچ کرتے ہیں ، انہیں مہنگی سے مہنگی تعلیم دلواتے ہیں اور پھر لاکھوں روپے خرچ کرکے باہر کے ممالک میں بھیجتے ہیں ، کس لیے ؟ صرف اس لیے کہ دنیا کا مال و دولت حاصل ہو جائے ، ان کا مستقبل سنور جائے ۔ کیا ہم قرآن کی تعلیم پر بھی اتنا خرچ کرتے ہیں؟یہ دنیا کی زندگی تو چند دن کی ہے جبکہ آخرت دائمی ہے ۔ کیا ہمیں یہ فکر ہے کہ ہماری نسلوں کی آخرت سنور جائے ؟آخرت تو تب سنورے گی جب قرآن مجید پڑھیں گے اور اس میں اللہ تعالیٰ کے جو احکام ہیں ان پر عمل پیرا ہوں گے ۔ میڈیا دنیا بھر کی گندگی دکھاتا ہے ، کیا قرآن کی تعلیم اس کی ترجیحات میں شامل ہے ؟ تعلیمی اداروںمیں میتھ، فزکس، کیمسٹری پڑھانے والے کوکیسی بھاری بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں اور قرآن پڑھانے والے کوکتنی تنخواہ دی جاتی ہے ؟ گھرمیں آنے والے ٹیوٹر کوبعض لوگ دس ہزار روپے ایک مضمون کے دیتے ہیں لیکن قرآن پاک پڑھانے والے مولوی صاحب کو کیادیتے ہیں ؟ بعض علاقوں کے بچوں کی پاکٹ منی دس دس ہزارروپے ہے اور مسجد کے امام کی تنخواہ چھ سات ہزار روپے ہوتی ہے اور پھر اس قوم، امت کارونا ہے کہ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر ۔لیکن اپنے اندر بھی جھانک کر دیکھیں کہ ہم اللہ کے احکامات کو کتنی ترجیح دیتے ہیں؟رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سےکچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اسی کو ترک کرنے کے باعث کچھ کو ذلیل و خوار کر دے گا۔‘‘(صحیح مسلم)
امت کی زبوں حالی اورزوال کی بنیادی وجہ قرآن حکیم کوپس پشت ڈال دیناہے ۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اس امت کی ترجیحات میں اوّلین ترجیح قرآن مجیدکو قرار دیا تھا ۔ آپﷺ نے فرمایا :
((خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ))
اللہ کی ذات بڑی غیور ہے، اگر بندہ قرآن کوترجیح دے،قرآن کے ساتھ جڑے تو حدیث مبارکہ میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جوبندہ قرآن میں مشغول رہااور اللہ سے دعا نہ کرسکااللہ تعالیٰ اس شخص کومانگنے والوں سے بڑھ کربغیر مانگے عطافرمائے گا۔‘‘ ہم بھی غیرت وحمیت دین کامظاہرہ کریں،ہم بھی قرآن پاک کواپنے معاملات میں ترجیح دیں تواللہ کی رحمتوں اور برکتوںکو محسوس کریںگے۔ آج ہم معاشی، سیاسی اور معاشرتی اعتبارات سے مسائل کاشکار ہیںتو اس کی بنیادی وجہ الکتاب سے دوری ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے بارے میں فرماتا ہے :
’’اور اگر انہوں نے قائم کیا ہوتا تورات کو اور انجیل کو اور اس کو جو کچھ نازل کیا گیا تھا ان پر اِن کے رب کی طرف سے تو یہ کھاتے اپنے اوپر سے بھی اور اپنے قدموں کے نیچے سے بھی۔‘‘(المائدہ:66)
جس سرزمین پر اللہ کی کتاب کا نفاذ ہوتا ہے وہاں آسمان سے برکتیں نازل ہوتی ہیں اور زمین اناج اُگلتی ہے۔ آج الکتاب کی تکمیل شدہ اور فائنل شکل قرآن مجید ہے ۔ آج قرآن کوماننے والے قرآن کے احکام کانفاذ کریں تواللہ آسمان سے بھی برکتیںنازل فرمائے گا اور زمین سے نعمتیں عطا کرے گا ۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو پھر اللہ فرماتا ہے :
{وَمَنْ لَّــمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(44)} (المائدہ )’’اور جو اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔‘‘
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(45)} (المائدہ )’’ اور جو فیصلے نہیں کرتے اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق وہی تو ظالم ہیں۔‘‘
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(47)} (المائدہ )’’اور جو لوگ نہیں فیصلے کرتے اللہ کے اُتارے ہوئے احکامات و قوانین کے مطابق‘ وہی تو فاسق ہیں۔‘‘
اگر مسلمان طاقت رکھتاہے اورقرآن کے احکام کو نافذ نہیںکرتا توعملاًکفرکررہاہے ۔یہ خالق کائنات کے فتوے ہیں ۔ عوام الناس ہوں یاحکمران ہوںہم سب کافرض ہے کہ ہم پہلے اپنی ذات پر قرآنی احکامات کا نفاذ کریں ، پھر اپنے گھربار ، پھر اپنے ماحول معاشرے میں اس کے نفاذ کی کوشش اور جدوجہد کریں اورجن حکمرانوں کے پاس اختیار ہے اللہ ان سے بھی پوچھے گا کہ تم ایک نشست میں33بل پاس کروا لیتے تھے تو کیا تم سودکو ختم نہیں کروا سکتے تھے ؟بے حیائی کے طوفان کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟ کیا اللہ نہیں پوچھے گاکہ تمہیںاختیار ملا ،اقتدار ملاتو تم نے شریعت کونافذ کیوں نہ کیا؟تم نے ہماری عطا کردہ سزائوں کو نافذ کرنے کی کوشش کیوں نہ کی ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
’’تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہرایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔‘‘(صحیح مسلم)
اگر باپ ہے تواولاد کے بارے میںسوال ہوگا ۔ شوہر ہے توبیوی کے بارے میںسوال ہوگا،آقاہے توغلام کے بارے میں سوال ہوگااور حکمران ہے توعوام(رعایا) کے بارے میں سوال ہوگا ۔ آج اللہ نے عمل کاموقع دیا ہے کل اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ایک کافر ہے جو مانتا ہی نہیں اس کو بھی ان آیات کے ذریعے توجہ دلائی جارہی ہے اور ایک ہم ماننے والے ہیں ہم کو بھی توجہ دلائی جارہی ہے کہ قرآن کے حقوق پورے کریں ۔ آگے فرمایا:
{وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ(82)} ’’اور تم نے اپنا نصیب یہ ٹھہرا لیا ہے کہ تم اس کو جھٹلا رہے ہو!‘‘
تم نے جھٹلانے کی روش کو اپناوظیفہ بنارکھاہے ۔ امام رازی ؒ نے ایک رائے یہ بھی بیان کی کہ یہاں رزق سے مرادمعاش کامعاملہ ہے ۔ ان مشرکین مکہ کو پریشانی یہ تھی کہ ایک اللہ وحدہ لاشریک کی مانیں گے توہماری معیشت کابھٹہ بیٹھ جائے گا۔اسی لیے انہوں نے بیت اللہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ سارے عرب سے لوگ حج اور عمرے کے لیے آتے تھے ، وہ ان بتوں پر نذرانے چڑھاتے تھے جس سے مشرکین کو مال حاصل ہوتا تھا ۔ دوسری بات یہ تھی کہ باقی سارے عرب کے قافلے لُٹتے تھے لیکن قریش کے تجارتی قافلے محفوظ رہتے تھے کیونکہ لوگ بیت اللہ کی متولیت کی وجہ سے قریش کی عزت کرتے تھے ۔ لہٰذا قریش کے مشرک سردارکہتے تھے کہ اگر ان بتوںکو یہاں سے ہٹا دیا جائے توہم تومارے جائیں گے، چنانچہ ان لوگوںنے ڈٹ کرنبی اکرمﷺ کی مخالفت کا رویہ اختیا رکیا۔ یہ تووہ کافر تھے جن کو اپنی معیشت کے بیٹھ جانے کا اندیشہ تھا۔ آج مسلمان حکمرانوں کا عالم یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم شریعت کی بات کریں گے تو امریکہ ناراض ہوجائے گا۔ سوچنا چاہیے کہ کیا اللہ کے ساتھ غداری کرکے امریکہ ہم سے راضی ہوگیا؟ اللہ کے دین کے ساتھ غداری کرکے کیاہمارے ملکوں کے اندر دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں ؟ بقول شاعر ؎
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہےآج ہمیں یہ پریشانی لاحق ہے کہ شریعت پرعمل کروں گا توپتا نہیں جاب کا مسئلہ نہ ہوجائے ،سودی لین چھوڑیں گے تو کاروبار کیسے چلے گا ؟ شریعت پر عمل کروں گا توایسا نہ ہوجائے ویسانہ ہوجائے ۔ رشوت چھوڑوں گا تو گزارہ کیسے چلے گا وغیرہ ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہمارا اللہ پر یقین ہے ؟ قرآن پر ایمان ہے ؟ اللہ تعالیٰ سورۃ القصص میں جواب دیتا ہے کہ پچھلوں کو دیکھوان کو اپنی معیشتوں پربڑا ناز تھا، قوم عاد وثمود،فرعون، شداد،نمرود، ہامان وغیرہ سب سرکشی پر مبنی پالیسیاں رکھتے تھے لیکن سب برباد ہوگئے ۔ کیاان کی معیشتیں ان کو بچاسکیں؟دنیا عارضی ہے ، آخرت کے لیے اپنے ساتھ کیا لے کر جاؤ گے ۔کفار کفر کرتے ہیں پھر بھی انہیں اللہ رزق دیتا ہے ، مشرکین شرک کرتے ہیں تب بھی اللہ انہیں رزق دیتا ہے ، ہم مسلمان اللہ کو ناراض کرتے رہے، پاکستان میں 75سال ہوگئے حکمرانوں اور اپوزیشن کے درمیان کرسی اور اقتدار کا کھیل جاری رہا۔ اس کے لیے انہوں نے سب کچھ کیا لیکن اللہ کا دین ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ۔ تب بھی اللہ دیتا رہا،کھلاتا رہا،پلاتا رہا،کیاجب اللہ کے حکم کو ماننے لگو گے تو اللہ تمہیں بھوکامارے گا؟ استغفر اللہ۔ خدارا !اس بات کو سمجھیں ۔
یاد رکھیے!جھٹلانادواعتبارات سے ہوتاہے ۔ایک زبان سے جھٹلانا ہوتا ہے جیسا کہ کفار قرآن کریم کواللہ کا کلام نہیں مانتے تھے ۔ ایک جھٹلاناعمل سے ہوتاہے ۔ آج امت مسلمہ کی اکثریت کے اعمال اور معاملات بتا رہے ہیں کہ یہ قرآن کو جھٹلا رہے ہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ان کے نزدیک قرآن کی اہمیت نہیںاو ر شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی کررہے ہوتے ہیں ۔ حدیث میں ہے : ’’جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی اس نے(گویا) کفر کیا۔‘‘(جامع ترمذی)
نماز کافرپرفرض نہیں ہے بلکہ مسلمان پرفرض ہے ۔کافر سے توایمان لانے کا تقاضا ہے ۔ا یمان لائے گا پھراعمال کاتقاضا ہوگا۔ لیکن مسلمان چونکہ کلمہ پڑھنے والا ہے لہٰذا بے نمازی کاجنازہ ہم پڑھتے ہیں لیکن نماز نہ پڑھنا عملاً کفرہے۔ ایک کافر عقیدے کے لحاظ سے ہوتا ہے اور ایک عمل کے لحاظ سے ہوتاہے ۔ آج ہمارے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں ، سیاست ، معیشت ، معاشرت ، عدالت ، ریاست کے معاملات میں اللہ کے احکامات پر عمل نہیں کیا جاتا ۔ یہ عملی تکذیب ہے ۔یہود نے تورا ت کو اللہ کاکلام مانا تھالیکن اس کے احکامات کو فراموش کیاتویہ عملاً تکذیب تھی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
’’مثال ان لوگوں کی جو حامل تورات بنائے گئے ‘ پھر وہ اس کے حامل ثابت نہ ہوئے ‘اُس گدھے کی سی (مثال) ہے جو اٹھائے ہوئے ہو کتابوں کا بوجھ۔بہت بری مثال ہے اس قوم کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔‘‘ (الجمعہ:5)
آج یہی خطرہ مسلمانوں کو بھی لاحق ہے ۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے اور دل سے قرآن پاک پریقین اور عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !
tanzeemdigitallibrary.com © 2026