حضرت خولہ رضی اللہ عنہا بنت ازور
تاریخ اسلام کی ایک سرفروش مجاہدہ
فرید اللہ مروت
حضرت خولہ رضی اللہ عنہا ایک بہادر، جنگی صفات کی حامل مہاجر صحابیہ تھیں۔ شاعری کے فن میں بھی کمال حاصل تھا۔ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کی اپنی شخصیت بھی کسی تعارف کی محتاج نہ تھی لیکن ضرار رضی اللہ عنہ بن ازور کی بہن ہونے کی وجہ سے مزید شہرت ملی۔ آپؓ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو سعد سے تھا۔ بنو سعد قوم ہوازن کی شاخ ہے۔ یہ قبیلہ اپنی فصاحت میں مشہور تھا۔ حضور ﷺ نے اپنا بچپن اسی قبیلے میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزارا۔ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا ایک صاحب ِثروت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ عرب میں سب سے بڑی دولت اونٹ کے گلے تھے، حضرت ضرار رضی اللہ عنہ کے پاس ہزار اونٹوں کا گلہ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد تمام مال ودولت چھوڑ کر خالی ہاتھ آستان نبوی ؐ پر پہنچے۔ (اسد الغابہ، ابن اثیر، جلد5)
نام و نسب
نام خولہ، نسب نامہ یہ ہے:
خولہ بنت ازور بن اوس بن خذیمہ ربیعہ بن مالک بن ثعلبہ بن دودان بن اسد خزیمہ اسدی۔
جنگوں میں شرکت
تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے فتوح الشام کی سلسلہ وار جنگوں میں حصہ لیا۔ میدان ِ جنگ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا، فوجیوں کو پانی پلانا اور بوقت ضرورت مسلح ہو کر دشمن فوجوں کا مقابلہ کرنا ان کی شجاعت اور بہادری کی ناقابل ِ فراموش داستانیں ہیں۔
جنگ اجنادین میں شرکت
جنگ اجنادین کا فیصلہ کن معرکہ 13ھ بمطابق 634ء کو مسلمانوں اور فلسطین کے یونانی مدافعین کے درمیان مقام اجنادین پر پیش آیا۔
جنگ ہوتی تھی تو سارےدشمن اور فوجیں زرہ اور جنگی لباس پہن کر جنگ لڑتے تھے۔لیکن آفریں حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت ضرار رضی اللہ عنہ زرہ تو درکنار اپنا کرتا بھی اتار دیتے تھے۔
لمبے بال لہراتے چمکتے بدن کے ساتھ جب میدان میں اترتے تھے تو ان کے پیچھے دھول نظر آتی تھی اور ان کے آگے لاشیں۔ اتنی پھرتی، تیزی اور بہادری سے لڑتے تھے کہ دشمن کے صفیں چیر کر نکل جاتے تھے۔ ان کی بہادری پر بےشمار مرتبہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو تعریف کرنے اور انعام و کرام دینے پر مجبور کیا۔
دشمنوں میں وہ ننگے بدن والا کے نام سے مشہور تھے۔
رومیوں کے لاکھوں کی تعداد پر مشتمل لشکر سے جنگِ اجنادین جاری تھی۔ حضرت ضرار رضی اللہ عنہ حسب معمول میدان میں اترے اور صف آراء دشمن فوج پر طوفان کی طرح ٹوٹ پڑے۔ اتنی تیزی اور بہادری سے لڑے کہ لڑتے لڑتےدشمن فوج کی صفیں چیرتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر سے بچھڑ کر دشمن فوج کے درمیان تک پہنچ گئے۔ دشمن نے انہیں اپنے درمیان دیکھا تو ان کو نرغے میں لے کر بڑی مشکل سے قید کر لیا۔مسلمانوں تک بھی خبر پہنچ گئی کہ حضرت ضرار رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا گیا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کے بہادر نوجوانوں کا دستہ تیار کیا اور حضرت ضرار رضی اللہ عنہ کو آزاد کروانے کے لیے ہدایات وغیرہ دینے لگے۔
اتنے میں انہوں نے ایک نقاب پوش سوار کو دیکھا جو گرد اڑاتا دشمن کی فوج پر حملہ آور ہونے جا رہا ہے۔ اس سوار نے اتنی تند خوہی اور غضب ناکی سے حملہ کیا کہ اس کے سامنے سے دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ اس کے وار دیکھ کر اور شجاعت دیکھ کر عش عش کر اٹھے اور ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ سوار کون ہے؟ لیکن سب نے لاعلمی ظاہر کی کہ وہ نہیں جانتے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جوانوں کو اس سوار کی مدد کرنے کو کہا اور خود بھی مدد کرنے اس سوار کی جانب لپکے۔
گھمسان کی جنگ جاری تھی کبھی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس سوار کو نرغے سے نکلنے میں مدد کرتے اور کبھی وہ سوار حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی مدد کرتا۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ اس سوار کی بہادری سے متاثر ہو کر اس کے پاس گئے اور پوچھا کون ہو تم؟ اس سوار نے بجائے جواب دینے کے اپنا رخ موڑا اور دشمنوں پر جارحانہ حملے اور وار کرنے لگا موقع ملنے پر دوسری بار پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے سوار تو کون ہے؟ اس سوار نے پھر جواب دینے کی بجائے رخ بدل کر دشمن پر حملہ آور ہوا تیسری بار حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس سوار سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ اے بہادر تو کون ہے؟ تو نقاب کے پیچھے سے نسوانی آواز آئی کہ میں ضرار رضی اللہ عنہ کی بہن خولہؓ بنت ازور ہوں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک اپنے بھائی کو آزاد نہیں کروا لیتی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا تو کہنے لگی آپؓ نے منع کر دینا تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا آپ کو آنے کی کیا ضرورت تھی ہم تھے آزاد کروانے کے لیے تو حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ جب بھائیوں پر مصیبت آتی ہے تو بہنیں ہی آگے آیا کرتیں ہیں۔پھر مسلمانوں اور حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے مل کر حضرت ضرار رضی اللہ عنہ کو آزاد کروا کر دم لیا۔
(فتوح الشام ازتالیف علامہ محمد بن عمر الواقدی رحمۃ اللہ علیہ )
جنگ ِ یرموک میں شرکت
حضرت ضرار رضی اللہ عنہ والے واقعے کے کچھے ہی عرصہ بعد جنگ یرموک کا واقعہ پیش آیا۔یرموک دمشق کے قریب ایک میدان کا نام ہے جس میں 13ھ میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان جنگ ہوئی۔جنگ یرموک میں رومیوں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تھی، میدان جنگ میں ایک خیمے کے اندر مسلمان خواتین ٹھہری ہوئی تھیں، ان کے ذمے زخمیوں کی تیمارداری اور مرہم پٹی تھی، ان کو پانی پلانا ، شہیدوں کی قبریں کھودنا اور ان کے کفن کا انتظام کرنا۔ مجاہدین اسلام میدان جنگ میں لڑ رے تھے، رومی مسلمان خواتین کو اپنے خیمے میں تنہا پا کر ان کے خیمے پر حملہ آور ہوئے اور چاروں طرف سے ان کے خیمے کو گھیر لیا۔
اس اچانک حملے سے خواتین بے حد پریشان ہوئیں، چنانچہ ان سے نمٹنے کے لیے وہ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان سے کہا اب کیا کریں ۔ہمارے پاس ہتھیار بھی نہیں ہیں جو ان بزدلوں کا مقابلہ کریںاور اپنی عزت بچائیں۔
ہمت و شجاعت والی حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے ان سب کی ہمت بندھائی اور کہا’’بہنو! اللہ پر بھروسا رکھو وہی ہماری مدد کرے گا، ہمت سے کام لو،اگر ہمارے پاس ہتھیار نہیں تو کیا ہوا، آئو ان خیموں کے کھونٹے نکال لیں، اور اللہ کا نام لے کر ان بزدل کافروں پر حملہ کریں، انجام اس پر چھوڑ دیں، جس نے ہم کو پیدا کیا ہے۔‘‘
خواتین نے اس تجویز کو پسند کیا اور خیموں کے کھونٹے نکال کر اللہ کا نام لے کر رومیوں پر ٹوٹ پڑیں، حضرت رضی اللہ عنہا نہایت جرأت سے دشمنوں کے حملوں کو روک رہی تھیں اور ان پر حملے بھی کر رہی تھیں، ان کا ہر وار دشمن کے لیے اللہ کا عذاب ثابت ہو رہا تھا۔ ذرا سی دیر میں تیس رومی مرد خاک و خون میں تڑپ کر ہلاک ہوچکے تھے، یہ حالت دیکھ کر رومی دستے کے سردار کے اوسان خطا ہوگئے، اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’بزدلو! عورتوں سے پٹ رہے ہو ان سب کو چاروں طرف سے گھیرا تنگ کر کے پکڑ لو۔‘‘حضرت خولہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر اللہ کے حضور سربسجود ہو کر دعا کرتی ہیں’’ اے پروردگار ہماری حفاظت کر، ہم مظلوم ہیں، کمزور ہیں، تو طاقت والا ہے تیرے قبضے اور اختیار میں ہر چیز ہے ہمیں ان کافروں سے بچا، اپنی رحمت سے ہماری مدد فرما۔‘‘
حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہی ایک سمت سے نعرۂ تکبیر کا شور سنائی دیا۔ جب آپؓ نے سجدہ کرکے سر اٹھایا تو دیکھا کہ آپؓ کے بھائی حضرت ضرار رضی اللہ عنہ بن ازور اور حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ مجاہدین اسلام کے لشکر کے ہمراہ گھوڑوں کو سرپٹ دوڑاتے آرہے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی پوری شدت سے رومی کافروں پرحملہ کردیا۔ دشمنوں کے لیے مجاہدین کے وار سے بچنا مشکل ہوگیا۔ رومیوں نے جب یہ منظر دیکھا تو وہاں سے نکل بھاگنے ہی میں خیریت سمجھی اور فرار ہوگئے۔
(فتوح الشام از علامہ محمد بن عمر الواقدی رحمۃ اللہ علیہ )
وفات
خولہ رضی اللہ عنہا بنت ازور کی وفات خلافت عثمان کے آخری دور میں ہوئی۔ (ابن خلدون256 /2)
اسلام خون اور قربانیوں کے دریا میں تیر کر پہنچا ہے اس کی قدر کریں، جذبہ جہاد کو زندہ رکھیں کہ جب تک جہاد تھا مسلمان ہمیشہ غالب رہے جب جہاد چھوٹا تو مسلمانوں پر زوال آیا۔ کم از کم اپنے بچوں اور بچیوں کے نام ان اسلام کے ہیروز صحابہ اور صحابیات کے ناموں پر رکھیں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ ان کا نام کس کے نام پر ہے اور نام کا اثر شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔اور ان کی تربیت ایسے کریں کہ اسلام کا مستقبل روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
ہماری خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنا آئیڈیل ان صحابیات رضی اللہ عنہن کو بنائیںاور اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ اسلام کے نام پر اپنا سب کچھ لٹانے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!
***
tanzeemdigitallibrary.com © 2026