(زمانہ گواہ ہے) سانحہ مری اور ہمارا قومی طرز عمل - محمد رفیق چودھری

15 /

نبی اکرمﷺ کاطریقہ اختیار کرلیں ۔
آصف حمید:ذاتی مفاد کے کینوس کو اگرہم وسیع کرتے ہیں تومیرا سب سے بڑا ذاتی مفاد یہ ہے کہ میری آخرت میں نجات ہوجائے۔قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے :
{یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا}( التحریم:6)
’’اے اہل ایمان! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے‘‘
یہی اگر پیش نظر ہوجائے توہماری طرززندگی بدل جائے گی اور معاشرے کی اصلاح ہوجائے گی ۔
ڈاکٹر محمد حماد لکھوی: ہرانسان کا اختیار ہے۔ اگر انسان اپنے اختیار کے اندر ڈیلیور کررہاہے اور اسے فکر ہے کہ اس نے آخرت میں جواب دیناہے توپھر اس انسان کے آس پاس جولوگ ہیں ان کی فکر کرنا بھی اس کا ذاتی مفاد بن جائے گا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایاکہ جو شخص کسی کی غیرموجودگی میں اس کے لیے دعا کرتاہے تو فرشتہ اس کے لیے دعا کرتاہے کہ یااللہ یہ جواس کے لیے دعا کررہاہے اس کو بھی عطا فرما۔ گویاجب وہ کسی کے لیے دعا کررہاہے تواس میں بھی اس کی’ خودغرضی‘ شامل ہے۔ ایک یہودی کاجنازہ جارہا ہے توآپﷺ رورہے ہیں اور فرمایاکہ ایک اور شخص میرے ہاتھوں سے نکل کرجہنم میں چلا گیا میں اس کو روک نہیں سکا۔گویا نبی اکرمﷺ اس کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔لہٰذا نبی کریمﷺ نے جوتعلیمات دی ہیں ان میں ذاتی مفاد پوری قوم سے لے کر ملت کے مفاد تک پھیل جاتاہے ۔یہ توایک بہت شاندار ڈسپلن ہے جوشریعت اسلامی نے ہمیں دیا ہے ۔
سوال:دین اسلام کی سپرٹ یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو خود پر ترجیح دو۔یہ جذبہ ہم اپنی قوم میں کیسے اُبھار سکتے ہیں ؟
آصف حمید:اس کے دوپہلو ہیں ۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسلام کے اس نظریے کو ہرلیول کے اوپر بیان کیاجانا چاہیے ۔کیونکہ بے عملی کی ایک وجہ لاعلمی بھی ہوتی ہے ۔ اس کی آگاہی بہت ضروری ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ وہ شخص مومن نہیںجو اپنے بھائی کے لیے وہ چیز پسند کرے جو اپنے لیے نہیں کرتا ۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں نبی اکرمﷺ نےتین دفعہ دہرایا:
’’خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیںہے۔‘‘
صحابہؓ نے پوچھا:کون شخص ہے ؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’جس کے شر سے اُس کا پڑوسی محفوظ نہیں۔‘‘
پڑوسی کا مفہوم اپنے تئیں بہت اہم ہے۔ اس سے مُراد صرف ساتھ والا گھر نہیں ہے بلکہ دفتر کے ساتھی،سفر میں ساتھ سفر کرنے والا ،ساتھ دکان والا وغیرہ یہ سار ے پڑوسی کے زُمرے میں آتے ہیں ۔اگر کوئی پڑوسی کو اذیتیں دے رہاہے توا س کے مومن نہ ہونے کی قسمیں اللہ کے رسولﷺ نے کھائی ہیں ۔اس کے لیے کتنی بڑی وعید ہے۔ ہمارے میڈیا کو یہ چیزیں عوام کے ذہنوں میں بٹھانی چاہئیں ۔ جب سے کرونا آیا ہے تو پورا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیااس حوالے سے قوم کا رُخ تبدیل کرنے پر لگا ہوا ہے۔کیا یہی میڈیا اخلاقیات کو پروان چڑھانے کے لیے ایسی کوشش نہیں کر سکتا ؟ہمارے اصحاب حل وعقد کو سمجھنا چاہیے کہ اگرلوگوں کے اخلاق اچھے ہوں گے توملک کی ترقی گارنٹی شدہ ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر نیت ہو تو آگاہی پیدا کی جاسکتی ہے اورا گر آگاہی پیدا نہیں کی جارہی ہے تواس کامطلب ہے کہ بدنیتی موجود ہے ۔ لوگوں کوقرآن کی آیات اور احادیث کی روشنی میں اخلاقیات کی تعلیمات دی جانی چاہیے۔دوسرا پہلو قصاص کا ہے ۔شرعی سزائوں کانفاذ ہونا چاہیے ۔تیسری بات وہی کہ اہل لوگ ان عہدوں پرہوں گے تو وہ کام کریں گے ۔یہ ساری چیزیںایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہیں۔ ان سب کو عملی صورت دینا ہوگی ۔ بنی نوع انسان کو جہنم کی آگ سے بچاناسب سے بڑی خدمت ہے۔ اس کے لیے وہ نظام لایاجائے ۔ایسا نظام ہوگا تویہ ساری چیزیں ممکن ہوں گی ورنہ یہی چیزیں ہمارے لیے عذاب کا باعث بنتی رہیں گی ۔ عمران خان نے پوری نیک نیتی سے یہ نعرہ لگایا:
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُO}
’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔‘‘
لیکن کچھ نہیںکرسکا ۔ا س لیے کہ قوم تیار ہی نہیں تھی۔ جب تک پورانظام نہیں بدلے گااس وقت تک اصلاح ممکن نہیںہے ۔لہٰذا اس نظام کو بدلنے کی کوشش کرتے رہنا بھی’ ذاتی مفاد‘ ہے ۔ اگر میں اس کو ذاتی مفاد نہیں سمجھوں گاتومیں اس کے لیے کوشش ہی نہیں کروں گا۔ اگر نظام بدل گیاتواس میں سب کا فائدہ ہے اگر نہیں بدلا توکم ازکم میری کوشش اللہ کے ہاں رجسٹرڈ ہو گئی جومیری لیے نجات کاباعث ہوگی۔ان شاء اللہ! ہر شخص کوسوچناچاہیے کہ پہلے خود اسلام پرعمل پیرا ہو اور پھراسلام کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔
سوال:شاعر نے کہاہے :حادثے سے بڑ ا سانحہ یہ ہوالوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کے !سانحہ مری میں ہمارے لیے بحیثیت مسلمان اوربحیثیت پاکستانی کیاسبق پنہاں ہے ؟
ڈاکٹر محمد حماد لکھوی:اس میں بے شمار اسباق ہیں ۔ پاکستان کی98 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ لیکن جس میں دوباتیں موجود ہوں وہ مسلمان ہوتاہی نہیں۔ 1۔بدیانتی۔2۔جھوٹ
نبی اکرمﷺ نے فرمایاکہ مومن جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ ایک دوسری حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مومن کے اندر ہرخرابی ہوسکتی ہے لیکن بدیانتی اور جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ اگر ہماری ذات میں انفرادی طور پر اور معاشرے میں اجتماعی طو رپرجھوٹ اور بدیانتی موجود ہے تواس کامطلب ہے کہ ہمارا دعویٰ ٔایمان غلط ہے ۔ دوسری بات مری کے لوگوں نے جودوسروں کی مجبوری کافائدہ اٹھاکران کا استحصال کیاتواس حوالے سے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’جوکاروباری ہیں یہ سارے کے سارے فاسق وفاجر ہیں ۔ ‘‘
اور فجار کے لیے قرآن نے کہا ہے :
{وَّاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍO}(الانفطار:14)
’’اوریقیناً فاسق و فاجر جہنم میں ہوں گے۔‘‘
اب یہ نبی کریمﷺ کی کتنی سویپنگ سٹیٹمنٹ ہے ۔ اس کو سن کر توصحابہ کرام ؓلرز گئے ہوں گے ۔چنانچہ کسی صحابیؓ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ہوگا کہ یارسول اللہﷺ ! اللہ نے تجارت حلال نہیں کی ؟آپﷺ نے فرمایا:حلال توہے۔ لیکن یہ جہنمی کیوں ہوجاتے ہیں اس کی آپ ﷺ نے دووجوہات بیان فرمائیں ۔آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ (تاجر لوگ) جب بات کرتے ہیں توجھوٹ بولتے ہیں اور (خلافِ حقیقت) قسمیں اٹھاتے ہیں تویوں گناہگار ہوجاتے ہیں ۔‘‘ یعنی جھوٹ بولناا ور قسمیں اٹھانا یہ ان کوجہنمی بناتی ہیں۔اس کے برعکس دیانتداری اور سچ دو ایسی خوبیاں ہیں کہ ان کو اپنا کر جو تاجر تجارت کررہا ہے تو اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔‘‘
ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم مسلمان اپنے دعوے میں سچے ہوجائیں توسارے معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔
***