(زمانہ گواہ ہے) سانحہ مری اور ہمارا قومی طرز عمل - محمد رفیق چودھری

15 /

ہے توپھرایک مختلف طرززندگی پروان چڑھے گا ۔اگر یہ معلوم ہو کہ بعدا زموت ایک اور زندگی ہے اور مجھے اصل میں اس زندگی کے لیے کچھ کرناہے توپھرمفاد کاتصور مختلف ہوگا اور ہمارا طرزعمل بھی بدل جائے گا ۔ مغرب میں بہت ساری اچھی چیزیں ہیں لیکن وہ ا س لیے نہیںہیں کہ انہوں نے آخرت میں اس کافائدہ لیناہے ۔ دنیا میں اس کے بہت فائدے گنوائے گئے ہوتے ہیں،اتنی مراعات کا اعلان ہوتاہے کہ لوگ اس فائدے کے لیے قانون کو فالو کرتے ہیں ۔ لیکن جن لوگوں نے آخرت میں اجرکمانا ہوتا ہے ان کا طرزعمل اور ہوتاہے اور جنہوں نے دنیامیں ہی سب کچھ کرنا ہوتاہے ان کاطرزعمل اور ہوتاہے ۔ ہم نے دنیا میں مومن ہونے کادعویٰ کیاہے لیکن درحقیقت ہم نے مادیت پرستی کی زندگی اپنائی ہوئی ہے۔یعنی ہم ہرقسم کا فائدہ حاصل کرتے ہیں او ر حلال اورحرام کی تمیز کوخاطر میں نہیں لاتے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:لوگوں کے اوپر ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ کوئی شخص اس بات کی پروا نہیں کرے گاکہ جوآرہاہے وہ حلال ہے یاحرام ہے ۔ بس آناچاہیے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ زمانہ آچکاہے اور مجبوری کے موقع پر چونکہ زیادہ آنے کے امکانات ہوتے ہیں تو پھرہم مجبوری کا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
سوال: ایسامحسوس ہوتاہے کہ پاکستان سانحات کی سرزمین بن گئی ہے۔سانحہ جب رونما ہوجاتاہے توپھرہم خواب غفلت سے جاگتے ہیں ،حکومت بھی سرگرم ہوجاتی ہے ۔جیسے اس واقعہ پرفوری انکوائری کمیٹی بن گئی او ر اس نے فوری طورپر رپورٹ دے دی اور پندرہ لوگوں کو معطل کردیاگیا۔ لیکن اس کے بعد پھر اگلے سانحہ کاانتظار ہوتاہے ۔ ایسا کیوں ہوتاہے ؟
آصف حمید:اس میں کوئی شک نہیںکہ یہاں اتنے بڑے سانحات ہوئے لیکن ان کے ذمہ داروںکو کیفرکردار تک نہیں پہنچایاگیا۔ بے نظیربھٹو کاقتل ہوا، زرداری پانچ سال حکومت میں رہا لیکن قاتلوں کوپکڑ نہیں سکا۔پہلی قوموں پر جب عذاب آتے تھے تولوگ اس کو اہمیت نہیں دیتے تھے صرف کچھ لوگ اس سے سبق سیکھتے تھے کہ اللہ کی ناراضگی ہے۔یہ بنیادی طور پر ہمارے اعمال کاہی شاخسانہ ہے جو عذاب کی شکل میں ہمارے سامنے آرہاہے ۔کورونا وائرس جب آیا تواس کے بعد ایک ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس کاعلاج پلازمہ لگانے سے ممکن ہے توبہت سارے لوگوں نے لاکھوں روپے میں اپناپلازمہ بیچا۔ اسی طرح مری واقعہ میں بعض افراد نے لوگوں کی مجبوری کافائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے ناجائز پیسے لیے۔جب انسان میں ایمان بالآخرت نہیں ہوگاتووہ اس طرح کرے گا۔ شگرمافیا، آٹا مافیا وغیرہ سارے ہی ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے ۔جس کی جتنی ڈومین ہے وہ اس میں اتناہی’ مری والا‘ ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے فوری ایکشن لیالیکن اب دیکھنایہ ہے کہ وہ ایکشن کتناکارآمد رہتاہے آئندہ کے لیے ایسے سانحات کا سدباب کس طرح کیا جاتاہے ؟کسی بھی جگہ کوئی ہوٹل بنتاہے توپوری پلاننگ کے ساتھ بنتاہے کہ وہاں پارکنگ کی جگہ تیارکی جاتی ہے لیکن مری میں پارکنگ کی جگہوں پر لوگوں نے دوکانیں بنائی ہوئی ہیںلیکن ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیاجاتا کیونکہ ان سے ووٹ لینے ہوتے ہیں، وہاں کے سیاستدانوں کے مفادات ہوتے ہیں ۔ البتہ تھوڑی سی کارروائی دکھانی ہوتی ہے ۔چند سال پہلے کراچی میں فیکٹری میں آگ لگنے کاواقعہ ہوا تھا جہاں بہت سارے لوگ جل گئے تھے لیکن مجرمین کو کوئی سزا نہیں دی گئی ۔
سوال: کیا ذاتی مفاد صرف ہمارا قومی مسئلہ ہے یاکوئی عالمی مسئلہ بن گیا ہواہے ؟
ڈاکٹر محمد حماد لکھوی: شرعی لحاظ سے ذاتی مفاد من جملہ کوئی غلط چیز نہیں ہے۔کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اخلاقیات اور سماجی آداب کا خیال رکھنے کا حکم دیاہے اس میں آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ’’آپ کے جسم کا آپ کے اوپر حق ہے۔‘‘ پھرآپ ﷺ نے یہ بھی فرمایاکہ آپ خیرات کا سلسلہ اپنے رشتہ داروںسے شروع کریں ۔آپﷺ نے یہ بھی فرمایا: ’’جواپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے وہ شہید ہوتاہے ۔‘‘
اسی طرح اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہو جائے وہ شہید ہے۔ یعنی ذاتی مفاد کو ئی غلط چیز نہیں ہے ۔ لیکن ذاتی مفاد کا طریقہ کار حلال ہونا چاہیے حرام نہیں ہونا چاہیے ۔کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے فوری کارروائی کی ۔ قرآن کااصول تو یہ ہے کہ
{وَلَـکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَـتَّقُوْنَ}(البقرہ:179)
’’اور اے ہوشمندو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے‘ تاکہ تم بچ سکو۔‘‘
ایک کو سزاملتی ہے توپورے معاشرے کو زندگی ملتی ہے ۔ ہم وہ سزا نہیں دیتے۔ اس واقعہ میں23جانیں تلف ہوئی ہیں۔ اگراس کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے توپھرحکومت ان کو برطرف کیوں کررہی ہے ،کرنے کی ضرور ت نہیں ہے ۔ لیکن اگراس کاکوئی ذمہ دارہے توجوجانیں گئی ہیں ان کے بدلے میں اس کوبھی قرار واقعی سزا دی جائے ۔برطرف کرناکوئی سزا نہیںہے ۔اگر وہ ذمہ دارہے توذمہ داری کاتعین کیا جائے۔ غفلت کی سطح کا تعین کیاجائے ۔ کس کی کتنی غفلت ہے اور جتنی غفلت ہے اس قدر سزا دی جائے۔مثال کے طورپرکسی ضلع کے ایس ایس پی کویہ کہہ دیاجائے کہ اگر ضلع کے اندر کوئی ڈکیتی ہوگی توپرچہ تمہارے اوپر ہو گا تو ڈکیتیاں رک جائیں گی۔ یعنی اس کی ذمہ داری کوانشور کرنے کے لیے آپ کواس طرح کے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ۔ اگر چوری پرہاتھ نہیں کٹے گاتوچوری نہیں رکے گی ۔ اسی طرح قاتل کو موت کی سزا نہیں دیں گے توقتل نہیں رکیں گے ۔ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ پورے ملک میں لاقانونیت کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ملک میں شرعی سزائیں نافذ کردی جائیں۔ یہاں توشرعی سزائیں کیانافذ ہوں گی ہمارے قانون میں جوسزائیں ہیں وہ بھی نافذ نہیں ہورہیںاور ہمارا عدالتی ڈھانچہ مجرم کو سپورٹ کرتاہے اور جتنا بڑا مجرم ہے اس کو زیادہ سپورٹ کرتاہے البتہ چھوٹے مجرم پھنس جاتے ہیں۔ اس پورے نظام کوبہتر بنانے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے اور وہ نبوی طریقہ ہے۔ مدینہ میں جب ایک فاطمہ نامی عورت نے چوری کی تھی اور اس کی سفارش کی گئی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایاتھاکہ پہلی قومیں اسی لیے تباہ وبرباد ہوئیں کہ جب کوئی بڑا جرم کرتا تھاتواس کوچھوڑ دیاجاتا تھا۔ آپﷺ نے یہاں تک فرمایاکہ اگر(بالفرض) میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تومیں اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔ اس طرح کے Across the board فیصلے جب تک ہم نہیں کریں گے توہمارا معاشرہ روز بروز تباہی کی طرف جائے گا ہم اپنی قومی سطح سے ہی نہیں بلکہ انسانی سطح سے بھی دستبردار ہوتے جائیں گے ۔اگرواپس آناہے اورعروج حاصل کرنا ہے تواس کاایک ہی حل ہے کہ