اگر ہم نے اسلام نافذ نہیں کیا تو ہم قومی سطح سے ہی نہیں بلکہ انسانی
سطح سے بھی گرتے چلے جائیں گے۔ہمارا دوبارہ عروج نظام اسلام کے نفاذ
سے مشروط ہے : ڈاکٹر محمد حماد لکھوی
اللہ نے حکم دیا ہے کہ امانتیں( عہدے اور ذمہ داریاں) اہل لوگوں کے سپرد
کرو ۔اگر ہم اس کے برعکس رویہ اختیار کرتے ہیں تو پھر خمیازے کے
طور پر ظلم ،ناانصافی اور تباہی معاشرے اور عوام کا مقدر ہوگی : آصف حمید
سانحہ مری اور ہمارا قومی طرز عمل …کے موضوع پر
حالات حاضرہ کے منفرد پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘
میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال
میز بان :وسیم احمد
سوال:ہماری حکومتیں سانحات کے حوالے سے بہت زیادہ غفلت کامظاہرہ کرتی ہیں۔چنددن پہلے مری میں واقعہ ہوا جس میں23قیمتی جانیںتلف ہوئی ہیں۔ اس واقعہ پرحکومتی طرزعمل کیسا تھا؟
ڈاکٹر محمد حماد لکھوی:قوموں کی نفسیات پروان چڑھنے میں دہائیاں لگتی ہیں۔ہماری قوم ایک ایسے نکتہ پرکھڑی ہے کہ ہم کسی چیز کی اونرشپ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں ، کسی چیز کو اپنانہیں سمجھتے۔ہماری ذمہ داری ہے ،ہمارا آفس ہے، ہمارا پورٹ فولیوہے ، ہماراملک ہے ،ہمارا ادارہ ہے لیکن ہم کسی کواپنا نہیں سمجھ رہے ہوتے۔اگر ہم اپناسمجھ رہے ہوں توہمارا رویہ مختلف ہو،جس گھرکو ہم اپناسمجھ رہے ہوتے ہیں وہاں ہم کبھی غفلت کامظاہرہ نہیں کرتے۔اگر ہم اس ملک کو اپنا گھر سمجھیں ،اس ملک کی اونرشپ لینے والے ہوںتو اس کے معاملے میں بھی کبھی غفلت نہ کریں ۔ در حقیقت حکومتی مشینری کا ہر ایک بندہ مری واقعہ کاذمہ دار ہے۔ اس ملک کاہرشہری بھی اس کاذمہ دارہے ۔اگر ملک میں کوئی سانحہ ہورہاہے تواس کوحل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ اس کاتعلق ہمارے ایمان سے بھی ہے ،ہمارے طرزعمل اور ہماری نفسیات سے بھی ہے ۔یہ صرف سادہ غفلت نہیںہے بلکہ ا س کاتعلق ایمان کے ساتھ بھی ہے ۔
سوال: قدرتی آفات سے تحفظ کی ذمہ داری کسی ادارے کی ہے یا پھر یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے یا پھرہمارے عوام لاوارث ہیں ؟
آصف حمید:قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے :
’’یقیناً اللہ انسانوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا‘بلکہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔‘‘(یونس:44)
اگر ہم مری واقعہ کاجائزہ لیں تو اس میں ہمارے طرزعمل اور ہماری سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ اگر حکومتی اہلکاروں کی بات کریں تواللہ تعالیٰ کاحکم ہے : ’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل ِامانت کے سپرد کرو۔‘‘ (النساء:58)
یعنی ذمہ داریاں ان لوگوں کو دی جائیں جو اس کے اہل ہوں ۔ جس پرہمارا اعتماد ہوگا توایسے ہی بندے کے پاس اپنی امانت رکھوائیں گے ۔اسی طرح یہ ذمہ داریاں اور یہ عہدے بھی امانت ہیں ۔ اگر یہ اہل لوگوں کے سپرد نہیں ہوں گے تواس طرح سب سے پہلے اللہ کاحکم توڑا جا رہاہے۔دوسرا یہ کہ اس طرح جو ظلم جنم لے گا اس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہوں گے ، اس کا نقصان بھی ہم بھگتیں گے ۔ اللہ توظلم نہیں کررہا، اُس نے حکم دے دیا کہ ذمہ داریاں اہل لوگوں کے سپرد کرو ۔ ہمارے ہاں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے سفارش اور رشوت کی بنیاد پر سرکاری عہدے ملازمتیں حاصل کرنا ۔ حکومتی اہلکاروں کے بارے میں کسی نے کہا تھاکہ یہ کچھ نہ کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں اور کچھ کرنے کے پیسے لیتے ہیں۔ الاماشاء اللہ! لہٰذا اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی سزا پھر پورے معاشرے اور عوام کو ملتی ہے ۔ یورپ اور امریکہ میں اس سے بڑے طوفان آتے ہیں لیکن کیونکہ وہاں امانتیں یعنی عہدے صحیح لوگوں کے سپرد کیے گئے ہوتےہیں لہٰذا وہ متاثرین کی بھرپور مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد حماد لکھوی:آفات پوری دنیا میں آتی ہیں او ر ہلاکتیں بھی ہوتی ہیںلیکن اصل میں دیکھا یہ جاتاہے کہ ذمہ داروں نے اپنا کردار ادا کیا یا نہیں کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قدرتی آفات کامقابلہ نہیں ہوسکتا لیکن اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ نااہل لوگوں کو مناصب دے دیے جائیں ۔ نبی اکرمﷺ کی حدیث ہے ۔ ایک دیہاتی بدونے آپﷺ سے سوال کیاتھا کہ قیامت کب آئے گی تو آپﷺ نے فرمایا:جب امانتیں ضائع ہوجائیں تب قیامت کا انتظار کرنا۔اس بدو نے پھرپوچھا:امانتیں ضائع ہونے کاکیامطلب ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا:’’جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کیے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرنا۔‘‘
اس کاایک معنی تویہ ہے کہ یہ قرب قیامت کی نشانی ہے کہ عہدے اور ذمہ داریاں نااہل لوگوں کے پاس آجائیں گی۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جب آپ کسی غلط آدمی کو غلط جگہ پربٹھادیںگے توپھر وہ جوکچھ کرے گاوہ قیامت ہی ہو گی ۔ یعنی اس سے قیامت ہی کی توقع رکھنا۔اب اگر کوئی شخصـ ڈپٹی کمشنر ہے یاکوئی دوسرے سرکاری عہدے پرفائز ہے اور وہ نااہل ہے تووہ جوکچھ بھی کرے گاتو اس کے نتیجے میں عوام کا اور معاشرے کا نقصان ہوگا چاہے قدرتی آفت آئے یانہ آئے۔
سوال: ہمارے ہاں عہدیدار کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔اس طرزعمل کے بارے میں آپ کیافرمائیں گے ؟
ڈاکٹر محمد حماد لکھوی:اس کاتعلق تصور حیات کے ساتھ ہے۔ انسان کا تصورزندگی درست ہو تو پھر انسان کے مفاد کاتصور تبدیل ہوجاتاہے ۔اگر تصور زندگی یہ ہوکہ موت تک کی زندگی ہے اس کے بعد کچھ نہیں
tanzeemdigitallibrary.com © 2026