میں اسے حرام قرار دیا گیا ۔ لیکن جنت کی شراب ان تمام خرابیوں سے پاک ہوگی ۔
اللہ تعالیٰ جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے اپنے بندوں کو اس کا شوق دلاتاہے تاکہ اس کے بندے دنیا کی اس عارضی زندگی میں اس شوق میں رب کی بندگی اختیار کریں اور چند روزہ زندگی میں سرکشیوں اور نافرمانیوں سے باز رہیں۔ پھر دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جو لوگ دنیا میں اللہ کے دین کے لیے مصائب اٹھاتے ہیں ، مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ان کو قرآن ان جنتوں اور اس کی نعمتوں کا احساس دلاتاہے جو صلے کے طور پر ان کے لیے بنائی گئی ہیں تاکہ وہ اس دنیا میں ثابت قدم رہیں ، ایمان پر ڈٹے رہیں ۔ اسلام کے ابتدائی دور کا تصور کیجئے ۔ مکی دور صبرہی صبراور مصائب کادور تھا، مسلمانوں پر ظلم و ستم کا دور تھا اور اس دور میںآپ صحابہ کرامؓ کے ایمان کی اس کیفیت کو بھی تھوڑا سامحسوس کریں۔ سیدنایاسر، سیدہ سمیہ،سیدنابلال،سیدناخباب رضی اللہ عنہم اور کچھ دوسرے غلاموں اور کنیزوں کوذہن میں رکھیے جن پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے۔ حضرت یاسراور حضرت سمیہ i کوشہید کیاگیا ان کے رشتہ داروں کواللہ کے رسول ﷺ فرماتے تھے :
’’اے یاسر کے گھروالو! صبرکرنا تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے ۔‘‘
اللہ نے رسول اللہﷺ کو دنیاکی فتوحات عطا فرمائیں۔ بعد میں کسریٰ کے کنگن،روم کی فتح بھی ملی ہے۔ ادھر حضور ﷺ فرما رہے ہیںکہ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ حضورﷺ کے وہ عظیم صحابہ ؓ جنہوںنے مکی دور میں مشرکین کے ظلم و ستم کا سامنا کیا، شہادت کا رُتبہ پایا اور جنہوںنے مصائب برداشت کیے ، ان سب کو اگر کسی شے نے اس پر آمادہ کیاتوان کے ایمان اور یقین نے آمادہ کیا اور یہ ایمان ان کو قرآن کریم سے اور محمدرسول اللہﷺ کی تعلیم سے ملا۔حضرت سمیہ و یاسر ؓ کو شہید ہونے پر آمادہ کیا تو جنت کے شوق نے ۔ قرآن مکہ میں ان ایمان والوں کوایک اورعالم کی سیرکروا رہاتھا جس کے سامنے یہ دنیا مچھر کے پرسے بھی زیادہ حقیراور کمتر ہے ۔اللہ کی رضا مقصود ہو اور جنت کاشوق بھی رکھا جائے تواس دنیاکی ساری مشقتوں کوجھیلنا،مصائب کو برداشت کرنااللہ کے بندوں کے لیے بہت آسان ہوجاتاہے ۔ آگے فرمایا:
{وَفَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ} ’’اور میوے جو وہ پسند کریں گے۔‘‘
ہرایک کی اپنی پسند ہوتی ہے ۔ایک ہی ماں باپ کی اولاد میں سے کسی کو کوئی چیز پسند ہوتی ہے ، کسی کو کوئی چیز پسند ہوتی ہے ۔ اسی طرح جنتی جو چیز پسند کریں گے وہ انہیں وہاں میسر ہوگی ۔ ایک جگہ اللہ فرماتاہے :
{وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ e}(حٰم السجدہ)’’اور تمہارے لیے اس (جنت) میں وہ سب کچھ ہو گا جو تمہارے جی چاہیں گےاور تمہارے لیے اس میں وہ سب کچھ بھی ہو گا جو تم مانگو گے۔‘‘
اللہ کی جنتوں میں ہر ایک جنتی کی پسند کے مطابق نعمتوں کا انتظام ہوگا مگر شرط یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ کی چاہت پر عمل کرلو ، اُدھر تمہیں وہ ملے گا جو تم چاہو گے ۔ دنیا کی اس مختصر زندگی میں اللہ نے جس چیز سے منع کیا ہے اس سے باز آجاؤ ،بس تھوڑے سے عرصہ کے لیے میرا حکم مان لو ،آج اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی کے تابع کردو توپھرہمیشہ تمہاری مرضی چلے گی ، جوچاہو گے تمہیں ملے گا،جومانگو گے عطا ہوگا۔اتناپیارا سودا۔یہ سمجھ آجائے توبس وارے نیارے ہوجائیں ۔ تھوڑی سی زندگی میں اس کی مان لوہمیشہ کی زندگی میں تمہاری چاہت پرعمل ہوگا۔اللہ ہمیں یقین عطا فرمائے ۔آگے فرمایا:
{وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَO}’’اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں گے۔‘‘
مفسرین نے نقل کیاکہ کوئی پرندہ اڑتاہوا جا رہا ہوگا اور جنتی خواہش کرے گا کہ یہی پرندہ کھانے میں اس کے سامنے ہو تو چند لمحوں میں وہی پرندہ اس کے سامنے روسٹ شدہ حالت میں موجود ہوگا۔یعنی جو جنتی کی خواہش ہوگی وہ وہاں پوری ہوگی ۔ تبھی توجنت جنت ہے۔ جنت وہ ہے جس کاہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ احادیث کاحاصل کہ ادھربندہ اُڑتے ہوئے پرندے کو دیکھ رہاہے، اگلے لمحے اس کی خواہش کے مطابق روسٹ کیا ہوا اس کے سامنے پیش ہوگا ۔ اللہ اکبرکبیراً۔ اللہ ہمیں یقین عطا فرمائے۔صحابہ کرام jکو ان جنتوں کا یقین تھا تو وہ اپنی جانیں لٹا رہے تھے ۔ مگر اللہ کے رسول ﷺ نے کس کس طرح ترغیب دلائی۔ حضورﷺ فرماتے ہیں : عمر!تمہیں بتائوں نہرکوثر کاپانی دودھ سے زیادہ سفید ہوگا،برف سے زیادہ ٹھنڈا ہو گا، شہدسے زیادہ میٹھاہوگااور بڑے بڑے پرندے جن کی گردنیں اونٹوںجیسی ہوںگی، وہ اسے پی رہے ہوں گے۔ حضرت عمرh فرماتے ہیں یارسول اللہﷺ !کیاپیاری بات ہوگی،کیا خوبصورت منظر ہوگااورکتنے خوش قسمت پرندے ہوںگے۔اللہ کے رسولﷺ فرماتے ہیں کہ اے عمر!یہ سوچو کہ وہ کتنے خوش قسمت ہوںگے جوان پرندوں کاگوشت کھائیں گے ۔اگلی حدیث کم لوگوںنے سنی ہوگی۔ ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں۔ان کی مہمان نوازی مشہور ہے ۔وہ اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ جب فرشتے انسانی شکل میں آئے توان کے لیے بچھڑے کاگوشت روسٹ کرکے لائے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں اے میرے صحابہؓ ! تمہارا رب آج بھی جنت میں بیلوں کو چرا رہا ہے ، تیار کررہاہے اور جب جنتی جنت میں پہنچیں گے تواللہ تعالیٰ ان کو کھلائے گا۔ اللہ توسب کچھ تیار کیے بیٹھاہے لیکن ہم جنت میںجانے کے لیے تیارہیںیانہیں؟ یہ ہمیں سوچناچاہیے ۔
’’اے اللہ ! ہم تجھ سے جنت الفردوس کا سوال کرتے ہیں۔‘‘ہم بہت محروم ہوں گے اگر جنت نہ حاصل کر سکے۔ ہم بڑے بدنصیب نہ ہوجائیںاگر جنت سے محروم ہوگئے ۔ ہم تو اس دنیا میں کھوئے بیٹھے ہیں ، یہاں دل لگا لیا ہے ، اس دنیا کے حصول کے لیے بقیہ سارے علوم کھنگال رہے ہیں ، کیا ہمیں احساس ہے کہ دائمی زندگی اور اس کی جنتوں کے لیے ہمیں اللہ کا سچا کلام بھی پڑھنا چاہیے ؟ارشاد ہوتاہے :
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًاO} (النساء)’’اور اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہو گا؟‘‘
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًاO} (النساء)’’ اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا ہو سکتا ہے؟‘‘
کیااس سچے رب کے سچے کلام پرہمارا یقین ہے؟اگر یقین ہے توپھراس دنیا کی ساری شاہانہ چیزوں کی ہمارے لیے کوئی وقعت نہیںہونی چاہئیں ۔ہماری نظریں اللہ کی ان عالی شان جنتوں پر ہونی چاہئیں ۔ آج تھوڑی مشقت ہے، محنت ہے ، تکلیف ہے لیکن وہ ان نعمتوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو جنت میں ہمارا انتظار کر رہی ہیں ۔ ہم اس کاتصور نہیں کرسکتے۔اللہ ہم سب کواس کایقین عطا فرمائے اور ہمیںجنت کاشوق اور اس کی طلب عطا فرمائے ۔ آمین !
tanzeemdigitallibrary.com © 2026