{یَطُوْفُ عَلَیْہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ O}’’ ان پر گردش کر رہے ہوں گے وہ لڑکے جو سدا اسی طرح رہیں گے۔‘‘
مفسرین نے ایک رائے یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے جنتیوں کے لیے حوریں پیدا فرمائے گا اسی طرح خدمت کے لیے نوجوان خدمت گار بھی پیدا کرے گا جن کی عمریں ہمیشہ ایک جیسی رہیں گی ۔ ہمارے استاد ڈاکٹر اسراراحمدؒ اورکچھ علماء نے اس میں ایک نکتہ بیان کیاہے کہ ہم گھرانوں میں لڑکوںکو ملازم رکھتے ہیں۔ جیسے ہی وہ لڑکابڑا ہوتاجاتاہے اور پھرا یک سٹیج آتا ہے کہ اس کو گھر میں نہیں رکھاجاسکتا۔ جنت میں اس طرح کامسئلہ پیش نہیں آئے گا۔جوخدمت گار لڑکے ہوں گے وہ لڑکے ہی رہیںگے اوروہ مزاجوں سے واقف ہوں گے جس شے کی ضرورت ہوگی پیش کریں گے ۔آگے فرمایا:
{بِاَکْوَابٍ وَّاَبَارِیْقَ لا وَکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍO} ’’آبخورے‘ صراحیاں اور شرابِ خالص کے جام لیے ہوئے ۔‘‘
آبخور ے اورآفتابے ماضی کی قدیم اردو کے الفاظ ہیں۔آج کل ان کے لیے جدید الفاظ جگ ،گلاس ہیں۔ مفتی تقی عثمانی صاحب اوراس دور کے مترجمین نے جگ اور گلاس کاترجمہ کیاہے۔بہرحال یہ خدمت گار لڑکے خوبصورت صراحیوں اور دیدہ زیب گلاسوں میں خالص شراب پیش کریں گے لیکن وہ شراب صاف، شفاف ہوگی۔ جنت کی شراب کو شراب طہور کہاجاتا ہے۔ یعنی پاکیزہ شراب ۔ فرمایا :
{ لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْہَا وَلَا یُنْزِفُوْنَO}’’(اس سے) نہ تو ان کے سروں میں کوئی گرانی ہوگی اور نہ ہی وہ بہکیں گے۔‘‘
دنیا میں توشراب ام الخبائث ہے یعنی گندے کاموں کی جڑ اور بنیادہے اورصرف شراب ہی نہیں اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایاہے کہ ہرنشہ آور شے شریعت کے اندر حرام کی گئی۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:جس شے کی زیادہ مقدار نشہ پید اکرے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔ بعض لوگوں کاخیال ہے کہ جب آدمی نشے میں مست ہوجائے،تب حرام ہوتی ہے ۔ سیدھی بات یہ ہے کہ شریعت کے مسائل ہماری عقلوں سے حل نہیں ہوتے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو فرمادیا وہی اصل حکم ہے ۔ نشہ کا معاملہ شراب تک محدود نہیںہے بلکہ ہروہ شے جونشہ پیدا کرے اس کی حرمت کاحضورﷺ نے فرمادیا۔ آج کل توعصری تعلیمی اداروں میں پتا نہیں کتنے قسم کے نشے چل رہے ہیں اورہمارے بچوں اور بچیوں کی جوانیاں برباد ہورہی ہیں۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ اللہ دین سے جوڑے رکھے اور خوف خدا عطا فرمائے ۔ ہم نے بھی کوشش کرنی ہے اور ہمارے حکمران اور ذمہ داران بھی کوشش کریں کہ ان باتوں کو روکاجائے ۔اس طرح کے کام کرنے والوں کونہ لائسنس ایشو کیے جائیںاور نہ ان کو کوئی چھوٹ دی جائے۔اللہ فرماتاہے کہ جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان کو چھوڑ دینے میں تمہارا ہی فائدہ ہے ۔ آج رک جائے اس دنیا کی عارضی اور تھوڑی سی زندگی میں تو کل اپنی جنتوں میں حلال کرکے ایسے دوں گاکہ تم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ قرآن جنت کی شراب کو پاکیزہ شراب کہتا ہے ۔ جن صراحیوں اور جاموں میں یہ پیش کی جائے گی ان کا ذکر کرتا ہے ، اس کے فلیورز کاذکر کرتاہے ،اس کی نہروں کوجاری کرنے کا ذکر کرتاہے ،اس کے سرور کا ذکر کرتاہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ دنیا میں اس کو چھوڑ دو ، دنیا میں اس سے رک جاؤ ۔ اسی میں تمہارا امتحان بھی ہے اور اسی میں تمہارابھلا بھی ہے ۔ کتنی زندگیاںبرباد ہوتی ہیں ، اور کتنے جرائم نشے کی حالت میں سرزد ہوتے ہیں ، چاہے وہ زنا کے معاملات ہوں ، چاہے راز فاش کرنے کے معاملات ہوں ۔ کتنی طویل فہرست ہے اُن گناہوں کی جوایک شراب کے گندے عمل کی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں ۔ سورۃالمائدہ میں فرمایاگیاکہ یہ شیطان شراب اورجوئے کے ذریعے تمہارے اندر نفرتیں پیدا کرنا چاہتاہے،آپس میں لڑوانا چاہتاہے ، اخلاقیات سے دور کرناچاہتاہے ۔اسی لیے دنیا
tanzeemdigitallibrary.com © 2026