عارضی مشقت : دائمی شاہانہ زندگی
(سورۃ الواقعہ کی آیات 15تا 21کی روشنی میں)
جامع مسجد شادمان ٹاؤن کراچی میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے14جنوری 2022ء کے خطابِ جمعہ کی تلخیص
خطبہ مسنونہ اور تلاوت آیات کے بعد!
قرآن مجید کے سلسلہ وار مطالعہ کے ضمن میں ہم سورۃ الواقعہ کا مطالعہ کررہے ہیں۔اس سورت میں انسانوں کے ان تین گرہوں کا ذکر ہے جو روز قیامت وجود میں آئیں گے ۔ ان میں سے سابقون یعنی سبقت لے جانے والوں کے متعلق گزشتہ نشست میں بھی ہم نے مطالعہ کیا تھا۔اسی گروہ کو مقربین کا خطاب بھی دیا گیا ۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے بہت پسندیدہ لوگ ہوں گے اور اللہ اپنی جنتوں میں انہیں اپنے قرب سے سرفراز فرمائےگا ۔ انہی کے متعلق آگے فرمایا :
{عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ O مُّتَّکِئِیْنَ عَلَیْہَا مُتَقٰبِلِیْنَ O} ’’جڑائو تختوں پر‘ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔‘‘
سورۃالدھر میں ذکر آیا کہ اللہ تعالیٰ ہر جنتی کو بادشاہت عطا فرمائے گا۔ان کا رہن سہن بادشاہوں والا ہوگا ۔ ان کے لیے شاہانہ تخت ہوں گے جو ہیرے جواہرات، موتیوں اور سونے کی تاروں سے جڑے ہوں گے اور شاہانہ تختوں پر یہ جنتی ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔ یعنی انتہائی شاہانہ زندگی ہوگی ۔ اس دنیا میں آج ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ جنہیں اللہ نے مال و دولت اور اقتدار سے نوازا ہے وہ کس قدر شاہانہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ، عرب کے شیوخ کو تصور میں لائیں ، ان کے واش روم کے نلکے بھی سونے کے ہیں ، ان کی رہائش گاہیں ، سیر گاہیں اور شکار گاہیں ایسی ہیں جن کا ہم صرف تصور ہی کر سکتے ہیں البتہ یہ دنیا کا سامان سب اسی دنیا میں رہ جائے گا ۔ذرا تصور کیجئے کہ اس شاہانہ زندگی کا کیا عالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ اپنے مقربین کو جنت میں عطا فرمائے گا ۔ اس دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ ترین کوئی شے بھی جنت کی ادنی ٰ سے ادنیٰ چیز کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ حدیث مبارکہ میں ذکر ہے کہ :
((مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ)) (متفق علیہ)’’جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا گمان ہی گزرا۔‘‘
ذرا تصور میں لائیے کہ ا ن عرب شیوخ کے وہ عارضی گھر جن میں سال میں چند دن آکر قیام کرتے ہیں ان میں بھی انہوں نے سونے کے بیڈ اور سونے کے نلکے لگائے ہوئے ہیں اور ہر طرح کا سامان تعیش موجود ہے تو اللہ کی وہ جنتیں جو مقربین کے لیے اللہ نے بنائی ہیں ان کے اعلیٰ معیار اور سامان زیب و زینت کیا عالم ہوگا ۔ مفسرین نے کہا کہ ان کے تخت اور ان کے بیڈ بھی ایسے ہوں گے جن میں جواہرات لگے ہوئے ہوںگے،موتی لگے ہوئے ہوں گے،وہ سونے کے ہوں گےاور وہ ہیرے ،جواہرات اور سونا بھی دنیا کا نہیں ہوگا بلکہ جنت کا ہوگا ۔ ان عالی شان تختوں پر جنتی جن تکیوں سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے وہ بھی بہت عالی شان ہوں گے۔ اللہ ہمیں یقین عطا فرمائے۔اللہ نے شوق دلایاہے کہ جنت کاشوق رکھنا چاہیے لیکن یہ بھی ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ اگردنیا میں ہمیں محنت کے بغیر کچھ نہیں ملتا تو اتنی عالی شان جنتیں بغیر محنت کے کس طرح مل جائیں گی ۔ ان جنتوں کے لیے اس دنیا میں محنت کرنا پڑے گی ، جان اور مال کی قربانی دینا پڑے گی۔ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنا پڑے گی ۔ بجائے اس کے عرب شیوخ کی طرح ہم نے اس دنیا میں آرام و سکون اور تعیش کو اپنا مقصد بنا لیا ۔ اللہ کی جنت اتنی سستی نہیں ہے کہ ہمیں گھربیٹھے مل جائے گی۔اللہ کی جنت بہرحال مشقتوں سے گھری ہوئی ہے۔ ادھرمشقت ہے اور اُدھر آرام ہے ۔ ادھرمحنت ہے تو اُدھر ریلیکسڈموڈ ہوگا،تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔کبھی چہرہ سامنے رکھنے کے بجائے دائیں بائیں دیکھنا بڑی بے ادبی ، بدتہذیبی کی بات سمجھی جاتی تھی۔ آج کل توسمارٹ فون کی وجہ سے جوبے ادبی اور بدتمیزی کامظاہرہ ہوتاہے کہ کوئی ہاتھ ملارہاہے توسمارٹ فون پرمصروفیت چل رہی ہے ۔کوئی آپ کی طرف متوجہ بھی ہے تو سمارٹ فون سے نظریں نہیں ہٹا رہا ۔حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں کیساادب سکھایاہے؟صحابہؓ فرماتے تھے کہ جب ہم اللہ کے رسولﷺ سے ملتے توہمیں ایسا لگتاکہ حضور ﷺ کو شاید ہم سے زیادہ کوئی محبوب ہی نہیںتھا۔ یہ حضور ﷺ نے تعلیم دی ہے ،ادب سکھایاہے ۔ لیکن آج ہمارا حال یہ ہے کہ ماں باپ سامنے بیٹھے ہوئے ہیں اور بچے فون پرلگے ہوئے ہیں۔ ان کوبلانے کے لیے وائس کال کرنی پڑتی ہے۔اسی طرح شاگرد استاد کے سامنے بیٹھا ہے تو ادب کا تقاضا ہے کہ استاد کی جانب متوجہ رہا جائے ، کوئی مہمان ہے تو اس کو وقت دیا جائے لیکن ہمارے ہاںٹرینڈ چل پڑا ہے کہ اگلاہاتھ دے توہاتھ نہیں ملارہے،اگلاہم سے وقت لے کرآیاہے ہم دوسری طرف بیٹھے ہوئے سوشل میڈیا پر مصروف ہیں ۔ جنت میں اس طرح کی کوئی منفی سرگرمی نہیں ہوگی بلکہ جب جنتی ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے اکٹھے ہوں گے تو آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔ آگے فرمایا:
tanzeemdigitallibrary.com © 2026