اللہ کے سوا کسی پر بھروسا کی ضرورت نہیں
آیت ۵۸{وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہٖ ط} ’’اور آپؐ توکّل کیے رکھئے اُس زندئہ جاوید ہستی پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی‘ اور اُ س کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے۔‘‘
{وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرَا}(الفرقان:۸۵) ’’ اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔‘‘
کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے کرتوتوں کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہے۔ وہ اللہ جو الحیّ اور القیوم ہے ‘ اپنے بندوں کے حال پر ہر آن نظر رکھے ہوئے ہے ۔ ان لوگوں کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک بات جواب دہی کے لیے اُس کے ہاں ریکارڈ ہو رہی ہے۔ دوسری طرف اہل ِایمان کے نیک اعمال کی بھی ایک ایک تفصیل لکھی جا رہی ہے تا کہ انہیں ان کا بھر پور بدلہ دیا جا سکے۔
آیت ۵۹{نِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ج} ’’وہی کہ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اُن کے مابین ہے چھ دنوں میں‘ پھر وہ متمکن ہو گیا عرش پر۔‘‘
{اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِہٖ خَبِیْرًا} (الفرقان:۸۹)’’ وہ رحمٰن ہے! تو پوچھ لو اس کے بارے میں کسی خبر رکھنے والے سے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی صفات اور شان کے بارے میں جاننا چاہتے ہو تو کسی صاحب ِعلم سے پوچھو! جب کبھی انسان اپنے متعلق سوچتا ہے یا اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور کرتا ہے تو اُسے احساس ہوتا ہے کہ کوئی تو ہے جس نے اُسے پیدا کیا ہے‘ اس کائنات کو پیدا کیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے خالق کے بارے میں جاننا چاہتا ہے‘ اُس تک رسائی چاہتا ہے‘ اسے پانا چاہتا ہے۔ یہ سوچ اور یہ تجسس انسان کی فطرت کا تقاضا ہے ۔ انسانی فطرت کی اسی آواز کو کسی شاعر نے الفاظ کے قالب میں اس طرح ڈھالا ہے: ؎
مجھ کو ہے تیری جستجو‘ مجھ کو تری تلاش ہے
خالق مرے کہاںہے تُو؟ مجھ کو تری تلاش ہے!
فرمان نبوی
تواضع کی حقیقت
عَنْ عِیَاضِ بْنَ حِمَارٍرضی اللہ عنہ قَالَ قَالَرَسُوْلُ اللہِﷺ:(( اِنَّ اللّٰہَ اَوْحَی اِلَیَّ اَنْ تَوَا ضَعُوْا حَتّٰی لَا یَفْخَرَ اَحَدٌ عَلٰی اَحَدٍ وَّلَا یَبْغِیْ اَحَدٌ عَلٰی اَحَدٍ))( رواہ مسلم)
حضرت عیاض بن حماررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم عاجزی کرو اور منکسر المزاج بن کر رہو یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے، اپنی بڑائی نہ جتائے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے اور نہ کوئی کسی کا حق مارے۔ ‘‘
تشریح:اس حدیث میں تواضح اختیار کرنےکا حکم دیا گیا ہے یہ مومنوں کی اخلاقی صفات میں سےایک بہت بلند پایہ اخلاقی صفت ہے۔ ’’تواضع‘‘ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنے سے کم مرتبہ لوگوں کو حقیر نہ سمجھے اور ان پر زیادتی نہ کرے بلکہ ان سے برادرانہ برتائو کرے۔ذی مرتبہ لوگوں اور افرادِ حکومت کو سب سے زیادہ ’’تواضع‘‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ ریاست کے باشندوں کو امن اور اطمینان کی زندگی نصیب ہو۔ ہمیں چاہیے کہ لوگوں کے ساتھ انکساری سے پیش آئیں اور ایک دوسرے پر تفاخر و مباہات سے پرہیز کریں۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026