(سیرتِ صحابیات ؓ) حضرت اُمِّ وَرقہ بنتِ عبداللہ ؓ (54) - فرید اللہ مروت

9 /

سیرت صحابیاتؓ

حضرت اُمِّ وَرقہ بِنتِ عبداللہؓ (54)


فرید اللہ مروت

 

اُمِّ ورقہ بنت عبداللہؓ قبیلہ انصار کی ایک صحابیہ تھیں۔ حضور اکرمﷺ ان پر بہت مہربان تھے اور کبھی کبھی ان کے گھر بھی تشریف لے جاتے تھے۔ آپ ﷺ نے آپؓ کی زندگی میں آپؓ کو شہادت کی بشارت دی اور ان کو شہیدہ کے لقب سے سرفراز فرمایا۔
نام و نسب:نام معلوم نہیں، اُمِ ورقہ کنیت تھی۔ باپ کا نام عبداللہ تھا اور جدِّ اعلیٰ کا نوفل۔ چنانچہ لوگ انہیں اُمِّ ورقہ بنتِ عبداللہؓ اور اُمّ ورقہ بنتِ نوفل دونوں طرح پکارتے تھے۔ حافظ ابنِ حجرؒ نے ’’اَلْاِصَابہ‘‘ میں ان کا سلسلۂ نسب اس طرح لکھا ہے:اُمِّ ورقہ بنتِ عبداللہ ؓ بن حارث بن عویمر بن نوفل۔
اسلام:ہجرتِ نَبَوی کے بعد شرفِ اسلام اور حضورﷺ کی بیعت سے بہرہ ور ہوئیں۔ اس کے بعد انہوں نے بڑے ذوق و شوق سے حضورﷺ سے قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ ابن اثیرؒ نے لکھا ہے کہ انہوں نے پورا قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔
شہادت کی تمنّا:غزوۂ بدر کی تیاری ہونے لگی تو انہوں نے حضورﷺ سے درخواست کی کہ مجھے بھی اس غزوہ میں اپنے ہمراہ لے چلیے، میں زخمیوں کی خدمت اور مریضوں کی دیکھ بھال کروں گی، شاید اللہ تعالیٰ مجھے راہِ حق میں شہید ہونے کی سعادت بخشے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ’’تم گھر ہی میں رہو، اللہ تعالیٰ تمہیں یہیں شہادت نصیب کرے گا۔‘‘ انہوں نے حضورﷺ کے ارشاد کی تکمیل کی اور غزوہ پر جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ آپؓ گھر میں بیٹھ کر مجاہدین کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگنے لگیں۔ ام ورقہؓ مسلمانوں کی کامیابی پر بڑی خوش ہوئیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
ذوقِ تلاوت:آپؓ قرآنِ پاک کی حافظہ اور بہترین قاریہ تھیں۔ آپؓ رات کے وقت گھر میں تلاوت کیا کرتی تھیں۔ حضرت عمر فاروقؓ جب رات کو گشت کرتے تو آپؓ کی تلاوتِ قرآن سماعت فرماتے تھے۔ سیدہ ام ورقہؓ اکثر و بیشتر اوقات ذکر الٰہی میں مصروف رہتیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ قرآن کے احکامات پر غور وفکر کرنے والی اور ان پر عمل پیرا ہونے والی خاتون تھیں۔
ذوقِ عبادت:عبادت سے بڑا شغف تھا۔ انہوں نے اپنے مکان کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا جہاں اور عورتیں بھی آکر نماز پڑھتی تھیں۔ ان کا شمار اپنے دور کی عالم فاضل خواتین میں ہوتا تھا۔ وہ اپنے دین اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بڑی مخلص تھیں۔ وہ اچھے اقوال و افعال کی دلدادہ اور تمام حالات میں ہر قسم کے شر سے نفرت کرنے والی خاتون تھیں۔ کثرتِ تلاوت اور کثرتِ عبادت نے سید اُم ورقہ ؓ کے دل کو چمکا دیا اور اسے رحمت، شفقت اور ہمدردی کا گہوارہ بنا دیا۔ وہ یہ خوبیاں ان مہاجر وانصار خواتین میں تقسیم کرتیں جو ان کے گھر تشریف لاتیں اور علمی مجالس میں شریک ہوتیں۔
آئو شہیدہ کے گھر چلیں:علّامہ ابن اثیرؒ نے اُسدُ الغابہ میں بیان کیا ہے کہ سرور عَالَمﷺ ان پر بے حد شفیق تھے۔ کبھی کبھی بعض صحابہ کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ’’آئو شہیدہ کے گھر چلیں۔‘‘
یہ سن کر سیدہ ام ورقہ ؓ کا دل خوش ہو جاتا اور اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھنے لگتیں۔
شہادتحافظ ابنِ حجرؒ کا بیان ہے کہ حضرت اُمّ ورقہؓ نے اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی سے وعدہ کیا کہ ’’میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔‘‘ ان بدبختوں نے جلد آزاد ہونے کے لیے ایک رات کو چادر سے اس نیک سیرت اور بلند کردار خاتون کا گلاگھونٹ دیا اور دونوں فرار ہو گئے۔یہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیںتھا کہ ایک دیانت دار، پرہیزگار، تمام لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کے ساتھ پیش آنے والی، روزے دار، عبادت گزار، شبِ زندہ دار، قرآن مجیدکی حافظہ، شفیق اور رحم دل کو اپنے بدبخت غلام اور کنیز کے گھنائو نے جرم کا نشانہ بننا پڑے گا۔ جن کے ساتھ وہ ہمیشہ حسن ِ سلوک سے پیش آئی۔
السمؤل نامی شاعر کہتا ہے:
اِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّئُوْمِ عَرْضُهٗ
فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيْهِ جَميْلُ

’’جب انسان کی عزت کو کمینگی داغ دارنہ کرے تو وہ جو چادر بھی زیب تن کرے گا، خوبصورت لگے گی۔‘‘
متنبی شاعر نے کہا ہے:
اِذَا اَنْتَ اَکْرَمْتَ الْکَرِیْمَ مَلَکْتَہٗ
وَاِذَا اَنْتَ اَکْرَمْتَ اللَّئِیْمَ تَمَرَّدَا

’’جب تم کسی شریف انسان کی عزت کرو گے تو تم اسے گرویدہ کر لوگے اورجب تم کسی کمینے انسان کی عزت کرو گے تو وہ اور زیادہ سرکش ہو جائے گا۔‘‘
صبح کو حضرت عمرفاروقؓ نے لوگوں سے کہا کہ آج خالہ اُمِّ ورقہؓ کے قرآن پڑھنے کی آواز نہیں آئی، معلوم نہیں ان کا کیا حال ہے؟ اس کے بعد حضرت اُمِّ ورقہؓ کے گھر گئے، دیکھا کہ مکان کے ایک گوشہ میں چادر میں لپٹی بے جان پڑی ہیں۔ سخت غمزدہ ہوئے اور فرمایا ’’اللہ کے رسولﷺ سچ فرمایا کرتے تھے کہ شہیدہ کے گھر چلو۔‘‘ اس کے بعد منبر پر تشریف لے گئے اور یہ خبر بیان کی۔
ملزمان کی گرفتاری اور سزائے موت:امیر المؤمنین نے غلام اور لونڈی دونوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ وہ گرفتار ہو کر آئے اور امیر المُؤمنین کے حکم کے مطابق انہیں اس بھیانک جرم کی پاداش میں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ اہلِ سِیَر نے لکھا ہے کہ یہ دونوں وہ پہلے مجرم تھے جن کو مدینہ منورہ میں سولی دی گئی۔
ابن ِسعدؒ کا بیان ہے کہ حضرت اُمِّ ورقہؓ نے حضورﷺ سے کچھ حدیثیں بھی روایت کی ہیں لیکن کسی دوسری کتاب میں ان کی روایتِ حدیث کا ذکر نہیں آیا۔
***