(زمانہ گواہ ہے) دہشت گردی کی نئی لہر اور ملکی مسائل کا حل - محمد رفیق چودھری

9 /

اگر پاکستان صحیح معنوںمیں اسلامی فلاحی ریاست بن جائے تویہاں عوام کو دینی اور دنیوی دونوں طرح کا فائدہ پہنچے گا :ایوب بیگ مرزا
دہشت گردی کی نئی لہر گریٹ گیم کا حصہ ہے جس کا مقصد سی پیک کے مقاصد کو سبوتاژ کرنا اور چین کا گھیراؤ ہے : رضاء الحق
دشمنوں نے سمجھ لیا ہے کہ پاکستان کو جنگی میدان میں پچھاڑنا مشکل ہے لہٰذا اب انہوں نے ففتھ جنریشن وار اور دہشت گردی کا سہارا لیاہے ۔: عظمت ممتاز ثاقب
دہشت گردوں کو فنڈنگ پہلے افغانستان میں بھارتی سفارتخانوں سے ہوتی تھی اب یورپ کے تین چار سفارتخانوں سے ہوتی ہے :جنرل (ر) امجد شعیب

 

دہشت گردی کی نئی لہر اور ملکی مسائل کا حل کے موضوعات پر

حالات حاضرہ کے منفرد پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال

 

میز بان :وسیم احمد

 

سوال:بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ ٹی ٹی پی کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کی ناکامی کا ردعمل ہے۔ آپ کے خیال میں دہشت گردی کی نئی لہر کے محرکات کیاہے ؟
رضاء الحق:اس وقت پاکستان تین سمتوں سے دہشت گردی کاسامنا کررہا ہے۔ ایک ایران بارڈر سے ، دوسرا افغان بارڈر سے ، تیسرا بھارت کی طرف سے ۔ جب افغانستان میں پاکستان مخالف حکومتیں تھیںتو اس وقت ٹی ٹی پی کو وہاں سے سہولت کاری مل جاتی تھی اور بھار ت بھی اس کی پشت پناہی کرتا تھا لیکن ٹی ٹی پی کا زیادہ اثر رسوخ پاک افغان بارڈر ایریا میں ہوتا تھا ۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ بھارت ملوث تھا جو علیحدگی پسند تنظیموں کی پشت پناہی کرتا تھا ۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعات جن میں کیچ میں دس فوجی جوان شہید ہوگئے ،پھر نوشگی اور پنجور کاواقعہ ہوا۔ان واقعات کے پیچھے بڑی پلاننگ معلوم ہوتی ہے کیونکہ بھارت دہشت گردوں کو ٹریننگ اور سہولیات دے رہا ہے ۔ اسی طرح پاک ایران بارڈر پر جنداللہ اور دوسرے دہشت گرد عناصر موجود ہیں جو ایران کے خلاف بھی کارروائیاں کرتے ہیں ۔ اسی بارڈر سے کلبھوشن یادیو کو بھی پکڑا گیا تھا جب ایران اور بھارت کی دوستی گہری تھی۔ اب پاکستان اور ایران کے بارڈر پرباڑ کاکام کافی حدتک مکمل ہوچکا ہے ۔وزیرداخلہ کی رپورٹ کے مطابق دوسوکلومیٹر کوچھوڑ کرباقی تمام بارڈر پرباڑ لگ چکی ہے۔ پاکستان نے جنداللہ کے لیڈر کوپکڑ کر ایران کے حوالے کیاتومخالفت سامنے آگئی لیکن اس سے بڑھ کر وہاں پر ایسے ایجنٹس اور سلیپرسیلز موجود ہوتے ہیں جوایکٹیویٹ کیے جاتے ہیں۔اس کو گریٹ گیم کے طور پر دیکھیں تو سی پیک کے خلاف اس وقت بہت سارے محاذ موجود ہیں۔ ایران تو اب سی پیک کاحصہ بن چکاہے اور تقریباً ساڑھے چارسو بلین ڈالرکا پراجیکٹ ایران اور چین مل کر چلا رہے ہیں لیکن انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل سی پیک کے مخالف ہیں ۔ چنانچہ وہ ان ایجنٹس اور سلیپر سیلز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں انڈیا کا رول بڑا کلیئر ہے، دوسرا گلوبل گیم ہے اور پھر ایران کے وہ علاقے جومکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں نہیں ہیں وہاں سے بھی لوگ آکر دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں اور پھر مقامی سہولت کار بھی موجود ہوتے ہیں ۔
سوال: پاکستان کے خارجہ تعلقات اور خارجہ پالیسی میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان اور اسلام دشمن طاقتیں پاکستان کے خلاف بہت متحرک ہوگئی ہیں کیادہشت گردی میں اضافہ کی یہ وجوہات تونہیں ہیں؟
ایوب بیگ مرزا:یہ بالکل درست ہے ۔ایک وقت تھا جب ہم امریکی کیمپ میں تھے بلکہ ہم امریکہ کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے ۔سیٹواور سینٹو کے ممبر تھے ۔ جولوگ یہ طعنہ دیتے تھے کہ پاکستان نے امریکہ کی غلامی کاقلادہ گردن میں پہنا ہواہے ایک لحاظ سے درست ہی کہتے تھے ۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت امریکہ کے قریب تھی بلکہ عسکری قیادت کے تعلقات امریکہ سے زیادہ تھے۔ روس کے خلاف سرد جنگ میں ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دیا ، اس دوران ہماری عسکری قیادت کے تعلقات امریکہ سے گہرے سے گہرے ہوتے گئے ، امریکہ بھی پاکستان پر ڈالروں کی بارش کرتا رہاجس سے سیاسی اور عسکری قیادت دونوں نے فائدے اٹھائے۔ چنانچہ پھر امریکہ کافی حدتک آگے بڑھ کر پاکستان کو ڈکٹیٹ کرنے لگا تھا جس کومحسوس کرتے ہوئے بالخصوص ہماری عسکری قیادت آہستہ آہستہ امریکہ سے اس انداز سے دور ہونا شروع ہوئی کہ امریکہ سے دوری بھی اختیار کی جائے لیکن کسی بھی سطح پرامریکہ کو اشتعال نہ دلایا جائے۔لیکن چونکہ ہم اس قابل تو تھے نہیں کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ۔ لہٰذا ہمارے لیے ایک ہی راستہ تھا کہ ہم امریکہ سے جان چھڑانے کے لیے چین کی مدد حاصل کریں ۔ اب گویا ہم امریکہ کی گود سے نکل کر چین کی گود میں جا چکے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ہماری معاشی کمزوری ہے اور کسی قدر عسکری سطح پر بھی اتنے خود کفیل نہیں ہوئے کہ بغیر کسی سہارے کے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں ۔ لہٰذ ا ہمیں چین کی سرپرستی قبول کرنی پڑی ۔ یہ کام پہلے عسکری سطح پرہوا اور پھر سیاسی سطح پربھی ہوا۔ امریکہ نے افغانستان پرحملہ کیاتھا توا س وقت مشرف نے ہمارے ہوائی اڈے دیے تھے لیکن کچھ عرصہ پہلے امریکہ نے اڈے مانگے تھے تو ہمارے وزیراعظم نے Absolutely Not کہہ کرصاف انکار کردیا۔ اسی طرح امریکہ نے عالمی جمہوریت کانفرنس منعقد کی تو پاکستان نے اس میں بھی شرکت کرنے سے انکار کر دیا ۔ اب بیجنگ ونٹر اولمپکس منعقد ہورہے ہیں اورامریکہ نے تمام دنیا کو ڈپلومیٹک طور پران کابائیکاٹ کرنے کو کہا ہے لیکن پاکستان کے وزیراعظم اس کی افتتاحی تقریب میں گئے ۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ پاکستان نے واضح طور پر اعلان کردیاہے کہ وہ امریکہ کے کیمپ میں نہیںہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں یعنی انڈیا اور اسرائیل کو پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے آگے بڑھایا ہے۔ اسی طرح ایران اگرچہ امریکہ سے دورہوا ہے اور چین کے قریب آیا ہے لیکن پاکستان کے قریب اتنا نہیں آیاجتنا آنا چاہیے تھا۔ لہٰذا اس بات کا امکان بھی باقی ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ایرانی اسٹیبلشمنٹ یا کم از کم کچھ تنظیمیں ملوث ہوں ۔ یہ حالیہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات ہیں ۔
سوال:پاکستان نے حال ہی میں نیشنل سکیورٹی پالیسی کااعلان کیاہے۔ کیا یہ پالیسی درست سمت کی طرف ایک قدم ہے اور کیااس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا؟
رضاء الحق:نیشنل سکیورٹی پالیسی کاایک حصہ منظرعام پرلایاگیاہے جبکہ دوسرا حصہ ابھی تک ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا رہا ہے اور اس کے قلع قمع کے لیے پلاننگ بھی ضروری ہے لیکن چونکہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اس لیے جو بھی پالیسی بنے اس میں نظریۂ پاکستان کو مدنظر رکھا جانا چاہیے ۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو لوگوں میں تحفظات پیدا ہوں گے ۔ نیشنل سکیورٹی پالیسی میں بہت سی اچھی چیزیں موجود ہیں لیکن اسلام کو بطور سنٹر آف دی پالیسی نہیں رکھاگیایعنی اسلام کو اس میں مرکزی رول نہیں دیا جارہا ہے جوکہ پاکستان کے قیام کی بنیاد بھی ہے اور آئین کی بنیاد بھی وہی ہے۔بدقسمتی سے ہمار ے ہاں پالیسی میکرز کی اکثریت سیکولر اور لبرل طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ پالیسی سازی میں تمام سٹیک ہولڈرز کوآن بورڈ لیاجانا چاہیے لیکن ہمارے ہاں مذہبی جماعتوں، مدرسوں اور علماء کوسٹیک ہولڈرز میں شامل نہیں کیاجاتا۔ پھر نیشنل سکیورٹی پالیسی کو سیکرٹ ڈاکومنٹ نہیں رہنا چاہیے، کم از کم پارلیمنٹ یاعدلیہ کے سامنے تووہ آنا چاہے ۔ا سی طرح کے سیکرٹ معاملات بعد میں تباہی کا باعث بنتے ہیں۔جیسے امریکہ میں پیٹریاٹ ایکٹ بعد میں تباہی لے کر آیا۔ لوگوں کے حقوق غصب ہونا شروع ہو گئے۔یہ بھی شنید ہے کہ وائیلنٹ ایکسٹریمزم یاریڈیکلائزیشن جیسی اصطلاحات کے ساتھ کائونٹر وائیلنٹ ایکسٹریمزم پالیسی بھی لائی جارہی ہے ۔ یہ چیزیں برطانیہ اورا مریکہ میں کافی عرصہ پہلے اپنائی جاچکی ہیں ۔ ان کے ذریعے مسلمانوں کو ٹارگٹ کیاگیا ۔ اس طرح کی پالیسیوں سے یہاں نفرتیں بڑھیں گی۔ نیشنل سکیورٹی پالیسی یاوائیلنٹ extremism کے نام پرکائونٹر سٹریٹیجی لائی جارہی ہے جس میں مدارس، مساجد، علماء کرام کو زیادہ فوکس کیاجائے گاکہ علماء اور مذہبی تنظیمیں کوئی ایسی بات نہ کریں جوسیاسی اسلام کی طرف جاتی ہو۔یعنی اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ یہاں ماڈرن اسلام کے اوپر ہی فوکس رہنا چاہیے ۔پالیسی کے تحت اس بات کو تعلیمی نصاب کا بھی حصہ بنایا جائے گا کہ سیاسی اسلام کی بات کرنا وائیلنٹ extremismہے یا ریڈیکلائزیشن ہے۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہاں بھی اسلام سے دوری پیدا کرنے والا نظام لایا جارہا ہے کیونکہ اس کاinner core اسلامک نہیں ہے ۔ ہونا یہ چاہیے کہ اس کو اسلامک inner core میں تبدیل کرنے کے لیے سب کو آن بورڈ لیا جائے اور کسی کو مارجنلائز نہ کیاجائے تاکہ قومی یکجہتی ترقی کا باعث بنے اور ملک اسلامی نظام کے فروغ میں کامیاب ہوسکے ۔
سوال:پاکستا ن کے سکیورٹی ادارے حالیہ دہشت گردی کی لہر کو ملک کے لیے کس قدر خطرناک تصور کرتے ہیں ؟
جنرل (ر) امجدشعیب:دہشت گردی کے جو واقعات ہورہے ہیں وہ لازماً ہمارے لیے پریشانی کا باعث ہیں کیونکہ کاروبارِ زندگی پُرامن ماحول میں چلتا ہے۔ جہاں دہشت گردی ہوتی ہے وہاں کاروبار زندگی میں رکاوٹیں آتی ہیں۔ خاص طورپرسی پیک کا منصوبہ ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس میں عالمی قوتیں ملوث ہیں ۔بھارت پاکستان کی اکانومی کو اچھا ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا۔دوسری طرف امریکہ کی چین کے ساتھ دشمنی ہے جس کی وجہ سے وہ چین کو رستہ نہیں دینا چاہتا۔ پھر گوادر ہے جو کل اگر بہت بڑی تجارتی بندرگاہ بنتی ہے تو خلیجی ریاستوں کے بزنس پربھی اثر پڑسکتاہے لہٰذا وہ بھی اس سے خائف ہیں ۔ اس صورتحال میں لگتا یہی ہے کہ دشمنوں کا منصوبہ طویل عرصہ تک ملک کو دہشت گردی میں مبتلا کرنا ہے ۔ اگر بلوچ قوم پرستوں کا مسئلہ ہوتا تو اس کا بہت بڑا حصہ ایران میں بھی ہے ۔وہاں بھی یہ دہشت گردی ہونی چاہیے لیکن وہاں نہیں ہے ۔ یعنی یہ سارا کھیل اِدھر ہی ہے اور اس کا واحد مقصد پاکستان اور سی پیک کو ٹارگٹ کرنا ہے اور بہت منظم انداز میںیہ سب ہورہا ہے ۔ دہشت گردوں کی ٹریننگ بھی زیادہ لگتی ہے اور ان کے پاس جدید قسم کے ہتھیار ہیں جورات کے اندھیرے میں بھی آپریٹ کرسکتے ہیں اس کے لیے بڑی مہارت چاہیے ہوتی ہے۔ اس لیے یہ زیادہ خطرناک لہر ثابت ہوسکتی ہے ۔
سوال:کہاجاتاہے کہ مقامی سہولت کاروں کی معاونت کے بغیرکسی ملک میں دہشت گردی ممکن نہیں ہوسکتی۔ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی میں سہولت کار کون ہو سکتا ہے ؟
جنرل (ر) امجدشعیب:تین لوگ ہیں جوباہر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان تینوں نے علیحدہ علیحدہ اپنی تنظیمیں بنائی ہوئی تھیں اور اب انہوں نے اتحاد کر لیا ہے ۔ ان میں ایک جاوید مینگل ہے ۔ دوسرا بگٹی قبیلے سے براہمداغ بگٹی ہے جوسوئزرلینڈ میں بیٹھاہے ۔ تیسرا ہرجار مری ہے جو انگلینڈ میں بیٹھاہے ۔ اب یہ لوگ جو باہر زندگی گزار رہے ہیں ان کے لیے تو ایک دن گزارنا بھی مشکل ہے جب تک باہر کی ایجنسیاں ان کو پیسے نہ دیں اور ان کو اتنا پیسہ چاہیے جو وہ آگے بھی دے سکیں ۔ ان کے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا کہ قبیلے کے لوگوں کو اس کام پہ لگادیں باقی انڈین ایجنٹس وغیرہ سنبھال لیتے ہیں۔پاک ایران بارڈر کے علاقے ان کو دستیاب ہوتے ہیں وہاں ان کی ٹریننگ ہوتی ہے۔بھارت کی ایران میں بڑی پہنچ ہے وہاں کی چاہ بہار بندرگاہ بھارت چلارہاہے۔ پھر ہمیں فنڈنگ وغیرہ کا پتا ہے پہلے افغانستان سے ہوتی تھی، اب یورپ کے تین چار سفارت خانے ہیں جہاں یہ فنڈنگ ہوتی ہے۔
سوال:پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ضرب عضب یا رد الفساد جیسا آپریشن ناگریز ہو چکاہے ؟
جنرل (ر) امجدشعیب:بلوچستان میں لگتا ہے کہ ہمیں اتنا بڑا نہ سہی لیکن بہرصورت کوئی منظم آپریشن کرنا پڑے گا۔اب دیکھنایہ ہے کہ اس کے لیے حالات موافق ہیں یا نہیں ۔ ایسا تونہیں کہ اس کے رزلٹ ہمیں اچھے نہ ملیں۔ یہ حکومت کو چاہیے کہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ایک آپریشن کیاجائے تاکہ ان علاقوں کی صفائی کی جا سکے ۔1973 ء میں بھی یہ مسئلہ سامنے آیا تھااور اس وقت بھی اسی طرح فارن فنڈنگ ہورہی تھی اور اس میں بھارت اور سوویت یونین ملوث تھے ۔ اس وقت بھی آپریشن کے ذریعے کنٹرول کیا گیا ۔
سوال: کیاپاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کا تعلق افغانستان سے جڑتاہے ؟
عظمت ممتاز ثاقب:اگر ہم خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کو دیکھیں توبہت گہرا تعلق ہے کیونکہ انڈیا اور امریکہ طالبان کے آنے کے بعد بھی اپنااثرورسوخ کسی نہ کسی حدتک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ایک طرف امریکہ کاایران،افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں پراثر بہت کم ہوگیا ہے دوسری طرف امریکہ کی ’’چائنہ گھیراؤ ‘‘ پالیسی کا تقاضا ہے کہ امریکہ اور بھارت اپنے تمام وسائل اس کو ناکام بنانے میں لگانے دیں ۔ نتیجتاً داعش، ٹی ٹی پی،بلوچ قوم پرست جماعتوں کو اسلحہ ، پیسہ اورانٹیلی جنس معلومات بھرپور طریقے سے فراہم کی جارہی ہیں اور بلوچ قوم پرستوں کوبین الاقوامی فورم دیے جارہے ہیں۔ انڈیا نے اپنے یہ عزائم کھلم کھلابیان بھی کردیے ہیں جس کی وجہ سے تینوں ہمسایہ ممالک کی کوششوں کے برعکس باجوڑ سے لے کر گوادر تک دہشت گرد کارروائیاں نئے مقصد کے لیے مزید بڑھ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے دشمنوں نے یہ دیکھ لیاہے کہ اس ملک کو جنگی میدان میں پچھاڑنا بہت مشکل ہے خاص طور پر چین کی مدد کے دوران ناممکن ہے ۔ چنانچہ اب انہوں نے ففتھ جنریشن وار اور دہشت گردی کا بھرپور سہارا لیاہے ۔وہ چاہتے ہیںکہ پاکستان کو معاشی طور پرکمزور رکھاجائے اور دوسری طرف دہشت گردی کے ذریعے سی پیک اور دوسرے ممالک کی سرمایہ کاری کو روکا جائے ۔ دشمن طاقتیں پاکستان اور چین دونوں کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں کیونکہ پاکستان، چین ،روس اورایران کا اتحاد بنتا ہوا نظر آرہا ہے اورا س اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ دہشت گردی کروائی جارہی ہے ۔ علاقائی دہشت گردی سے پنجہ آزمائی کے لیے ہمارے فوجی اور غیرفوجی پالیسی سازوں کو چند حقائق مدنظر رکھنے چاہئیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ میڈیا اورقومی مفکرین ایک طرز فکر اورپرسیپشن دیتے ہیںلیکن زمینی حقائق ان سے مختلف ہوتے ہیں ۔ مثلاً یہ سوچ کہ کابل میں طالبان کے آنے سے سرحدی دہشت گردی ختم ہوجائے گی۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ نہ ہمارے شمالی علاقے اور نہ بلوچ علاقے پچھلے اسی نوے سالوں سے پُرامن رہے۔ انگریزوں کے دور میں بھی پشتون قوم پرست اور بلوچ قوم پرست حکومتوں سے حالت جنگ میں رہے ۔باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک سرحد کے دونوں طرف چاہے ستر کی دہائی کاسردائود کازمانہ ہویاافغان کمیونسٹوں کایاطالبان کایہ علاقے کبھی مجاہدین کے زیرکنٹرول رہے نہ طالبان کے ۔یعنی افغان جنگجو گروپ آزاد جنگجو گروپ تھے اور مجاہدین کے ساتھ جنگی الحاق کرتے رہے ۔ پچھلے چندسالوں میں داعش نے خراسان اور کنڑ میں پوری کوشش کی کہ طالبان کو نکال کراپناکنٹرول سنبھال لیں۔ اب اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیسے پچھلے 20 سالوں میں پاکستان افغان طالبان اور امریکی رسہ کشی میں تذبذب کاشکار تھاوہی حالت اب افغان طالبان کی پاکستان اور ٹی ٹی پی کی رسہ کشی کے معاملے میںہے ۔
سوال: بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کاہماری سیاسی اور عسکری قیادت کے فیصلوں سے کس حدتک تعلق ہے اور کیایہ وہاں کے عوام کااپنی محرومیوں پرردعمل تونہیں ہے ؟
عظمت ممتازثاقب :مختصراً عرض ہے کہ مسلسل محرومیاں انتہاپسند رویوں کوجنم دیتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ محرومیوں اس علاقے کی گزشتہ سوسالہ تاریخ کا حصہ ہیں یا قیام پاکستان کے بعد پالیسیوں کی وجہ سے ہیں؟تاریخی طور پر دیکھا جائے تو قلات کے خان ایران کے زیر اثر خود مختار بھی رہے اور مغلوں کے دور میں خود مختار بھی رہے پھر انیسویں اور بیسویں صدی میں انگریز حکومت کے زیرتسلط آگئے ۔وہاں ایک سیاسی ایجنٹ ہوتا تھا جو سیاسی انتظامی علاقائی سربراہ ہوتا تھااس کے زیرانتظام قلات،مکران،لسبیلہ،فاران ایک سٹیٹ کی طرح داخلی خودمختاری میںہوتے تھے۔تاریخ میں قلات ڈیرہ غازی خان سے لے کربندر عباس تک رہاہے۔ خان آف قلات انگریز کے دور میں بھی زیادہ سے زیادہ علاقائی خودمختاری کے لیے کوشش کرتے رہے ۔ پھر بلوچ ریاستوں نے 1947ء میں پاکستان سے الحاق کر لیا لیکن خان آف قلات 1948ء میں پاکستان کے ساتھ شامل ہوا۔ اس کے باوجود پہلی سرکشی ان کے بھائی نے کی ۔پھر دوسری سرکشی ایوب خان کے ون یونٹ کے خلاف 1949ء میںہوئی ۔تیسری سرکشی 1960ء سے 1969ء تک سوئی گیس کی رائلٹی کے حوالے سے کی گئی اور1969ء میں امن کامعاہدہ ہوگیا لیکن اس کے باوجود چوتھی سرکشی1970ء کی دہائی میںہوئی جب پسماندگی، معاشی عدم استحکام کو ایشو بنایاگیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء سے1977ء تک ملٹری آپریشن کرکے اس تحریک کو دبا دیا۔ پانچویں سرکشی 2005ء میں شروع ہوئی،اسی سال بگٹی قبائل نے مسلح سرکشی شروع کی اور2006ء میں نواب اکبربگٹی کوغار میں مار دیاگیا۔ پھر2017ء میں یہ سرکشی نیم مسلح انداز سے جاری رہی ۔ یعنی یہ سرکشی شروع سے چلی آرہی ہے۔ اس کی سرخیل بلوچ لبریشن آرمی ہے لیکن اس میں اور بھی تین چار قوم پرست جماعتیں شامل ہیں ۔ 2021ء میں وہاں دہشت گردی کے 81 واقعات ہوئے جن میں 136 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2022ء کے پہلے ماہ میں ہی تین حملے ہو چکے ہیںجن میں 14 سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔قوم پرستانہ دہشت گردی کوئی نئی چیز نہیںہے۔ ان واقعات کی ذمہ داری سیاسی وعسکری قیادت کے علاوہ بلوچ سرداروںپربھی آتی ہے۔ بلوچیوں کی ان محرومیوں کافائدہ قوم پرست جماعتیں تواٹھا رہی ہیںجبکہ حقیقت میں بلوچ عوام کی اکثریت نے کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا اور وہ دل وجان سے پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ورنہ اگر ساتھ دیتے توبنگلہ دیش والا حال ہوتا۔
سوال: دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی بقاء وسلامتی اور خوشحال کاانحصار کس حقیقی فارمولے میںہے ؟
ایوب بیگ مرزا: میں سمجھتاہوں کہ ہمیں بحیثیت مجموعی اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔یقیناً ہمیں مادی ترقی کی بھی ضرورت ہے اگر اس کی طرف توجہ نہیں دیں گے تو پیچھے رہ جائیں گے اور نہ دین اسلام نے ہمیں مادی ترقی سے روکا ہے۔ مسلمان کی جدوجہد کی تین جہتیں ہیں۔ایک یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے لیے جدوجہد کرے۔ دوسری یہ کہ وہ اپنے ملک اور قوم کے لیے جدوجہد کرے،تیسری یہ کہ وہ اپنی روحانی اور دینی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اللہ اور رسول ﷺ سے تعلق کے حوالے سے جدوجہد کرے۔پاکستان کامعاملہ یہ ہے کہ یہاںدنیا اور دین آپس میںجڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان نظریہ اسلام کی بنیاد پرقائم ہوا۔اگر پاکستان اس نظریہ پر عمل پیرا ہوتا ہے تواس کی مادی ترقی بھی ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی جدوجہد کوناکام نہیں کرتا۔ جہاں تک ذاتی جدوجہد کاتعلق ہے توپاکستان میں عوام نے ذاتی جدوجہد بہت کی ہے جس کانتیجہ یہ ہے کہ آج لوگوں کے پاس بڑی بڑی کاریں ہیں،بزنس ہیں۔ یعنی ہم نے ذاتی سطح پر کوشش کی تواللہ نے ہمیں ذاتی سطح پر انعام دے دیا۔ جن ملکوںنے ملک وقوم کومدنظر رکھ کرجدوجہد کی انہوں نے قومی سطح پر ترقی کی۔ اس حوالے سے امریکہ اور یورپ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ لیکن تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم جس نظریہ اسلام کی بنیاد پر ایک ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اس حوالے سے ہماری جدوجہد صفر ہے۔ اگر ایک دوفیصد جدوجہد کسی نے کی ہے تواس کی کیاحیثیت ہے ؟ حالانکہ ہماری دینی وروحانی کوششوں نے ہمیں مادی فوائدبھی دینے تھے۔ اگر پاکستان صحیح معنوںمیں اسلامی فلاحی ریاست بن جائے تولوگوںکودینی واُخروی فائدہ تولازماً ہو گا کیونکہ آپ اللہ اور رسولﷺ کادیا ہوا مشن کوپورا کرتے ہیںتوآپ کی آخرت سنورے گی لیکن کافی حدتک ا س بات کی بھی گارنٹی ہے کہ آپ کی دنیا بھی ترقی کرے گی ۔ اس لیے کہ پاکستان جدید دور کا واحد ملک ہے جو دین کے نام پرقائم ہوا جب ہم اس طر ف کوشش کریں گے تویہاں استحکام پیدا ہوگا۔مثال کے طور پر اسلامی فلاحی ریاست سود ختم کردیتی ہے اور انوسٹمنٹ اوردوسرے اسلامی ذرائع سے کاروبار کرنے کے لیے ترغیب وتشویق دلاتی ہے توکھربوں کافائدہ ہوگا۔ جواس سود کی لعنت میںپھنسے ہوئے ہیں وہ اس سے نکل آئیں گے ۔اگر ریاست اس سود کی لعنت ختم کرتی ہے توایک شہری کے لیے اس سے بچنا کتنا آسان ہوگا۔ لہٰذا پاکستان نے اگر دنیو ی طو رپر بھی ترقی کرنی ہے تواس کو اپنا رجحان دین کی طرف کرنا چاہیے ۔ تب ہم آخرت میںبھی کامیاب ہوں گے اور دنیامیں بھی بہتری آئے گی،ہم دشمنوں کامقابلہ کرسکیں گے ،ہماری سلامتی کی ضمانت بھی مل جائے گی، ہمارے ملک میں امن وامان قائم ہوگا۔ یہی ہماری ترقی کا اصل فارمولا ہے۔
***