مترفین کا انجام اور ہم
(سورۃ الواقعہ کی آیات 41تا45کی روشنی میں)
جامع مسجد شادمان ٹاؤن کراچی میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے28جنوری 2022ء کے خطابِ جمعہ کی تلخیص
خطبہ مسنونہ اور تلاوت آیات کے بعد!
آج ہم ان شاء اللہ سورۃ الواقعہ کی آیت 41 سے45 تک کا مطالعہ کریں گے ۔ اس سے قبل ہم نے اسی سورت میں مقربین اور اصحاب یمین کے بارے میں پڑھا اور ان کو جو نعمتیں ملیں گی ان کے بارے میں جانا ۔ آج ہم زیر مطالعہ آیات میں تیسرے گروہ یعنی اصحاب الشمال کے بارے میں جانیں گے ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کو روز محشر ان کے بائیں ہاتھ میں ان کا اعمال نامہ تھما دیا جائے گا جس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے اپناٹھکانہ جہنم کو بنا لیا ہے ۔ قرآن مجید کا مستقل اسلوب ہے کہ اس میں اہل جنت اور اہل جہنم کا ذکر ساتھ ساتھ ہوتاہے۔تربیت کے لیے دونوں اسلوب ضروری ہیں۔ یعنی کسی شے کا شوق پیدا کرکے کسی عمل کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور بُرے انجام کا خوف دلاکر کسی بات سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
جب امتحانات آتے ہیں تو ہم بھی اپنے بچوں کو کبھی ذرا میٹھے میٹھے انداز میں ترغیب وتشویق دلاتے ہیں اور کبھی ذرا ان کو آنکھیں بھی دکھانا پڑتی ہیں اور اس حوالے سے ہم بڑے فکر مند ہوتے ہیں۔ چنانچہ تمام دوسری سرگرمیوں کو امتحانات کے دنوں میں روک دیاجاتاہے چاہے وہ ٹی وی ہو،سمارٹ فون کا استعمال ہو،کرکٹ کامعاملہ ہویاسیروسیاحت کامعاملہ ہو، حتیٰ کہ ہم اس معاملے میں اتنے حساس ہیں کہ جب شادی بیاہ کے حوالے سے تاریخیں طے کی جاتی ہیں تویہ ضرور دیکھا جاتاہے کہ وہ ایام نہ ہوں جن میں بچوں کے امتحانات چل رہے ہیں ۔لیکن ذرا غور کریں گے کہ جس مستقل امتحان سے ہم گزر رہے ہیں اس کے حوالے سے ہم کتنے حساس ہیں؟ حالانکہ اصلاً اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ لہٰذا اس حوالے سے بھی اللہ تعالیٰ ہماری تربیت کے لیے دونوں اسلوب اپناتا ہے یعنی انعام کی تشویق بھی دلاتاہے اور سزا کا خوف بھی دلاتاہے ۔ جہنم حق ہے اور جنت بھی حق ہے ۔اکثر مکی سورتوں کا خاص موضوع انذار آخرت ہے ،آخرت کے حوالے سے لوگوں کو متنبہ کرنا، لوگوں کو توجہ دلانا ہے تاکہ روز قیامت کی جوابدہی کااحساس پیدا ہو،اس دن کے احتساب کا احساس پیدا ہو۔دنیا کے احتساب ناکام ہوسکتے ہیں لیکن ربِّ کائنات کے ہاں احتساب ناکام نہیں ہوگا۔ روز محشر ہر ایک اپنے ظاہروباطن کے ساتھ پیش ہوگا۔ جب لوگوں میں اعمال ، کردار اور اخلاق کے اعتبار سے بگاڑ پید ا ہو جائے توپھرڈراوے کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور یہ ڈراوا قرآن پاک کے آخری دوپاروں میں اور خصوصاً آخری پارے میں بہت زیادہ ہے ۔اس سورت میں بھی جہاں شروع میں اہل جنت کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر کے ترغیب و تشویق دلائی گئی وہاں اب جہنمیوں کا ذکر کرکے جہنم کے عذاب سے ڈرایا گیا ۔ فرمایا:
{وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ لا مَـآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ(41)} ’’اور بائیں والے !کیا (ہی برا) حال ہو گابائیں والوں کا!‘‘
یعنی روز محشرجن کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ انتہائی بدنصیب ہوں گے اور ان کے لیے سخت عذاب جہنم میں تیار ہوگا ۔ فرمایا:
{فِیْ سَمُوْمٍ وَّحَمِیْمٍ (42)} ’’وہ ہوں گے تیز لو اور کھولتے ہوئے پانی میں۔‘‘
جہنم میں آگ ہی آگ ہے لیکن وہاں بھی عذابوں کی مختلف کیفیات ہیں۔جب دنیا میں بھی شدید گرمی میں تیز لُو چلتی ہے تو لوگوں کا بُرا حال ہو جاتاہے ، ان کو شدید پیاس لگتی ہے ۔ تصور کیجئے جہنم کی گرمی اور جھلسا دینے والی لُو کا اور وہاں لوگوں کا کیا حال ہو گا ۔ دنیا میں ایک مرتبہ بندہ جل جائے گا تو ختم ہو جائے گا ۔ لیکن جہنم میں ایسا نہیں ہے ۔ اللہ رب العالمین کلام فرماتاہے کہ :
’’یقیناً جو لوگ ہماری آیات کا کفر کریںگے ایک وقت آئے گا کہ ہم انہیں آگ میں جھونک دیں گے۔اور جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ہم ان کو دوسری کھالیں بدل دیں گے‘تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔‘‘ (النساء:56)
سائنسی حقیقت یہ ہے کہPain receptors ہمارے جسم کے وہ خلیات ہیں جودرد کو محسوس کرتے ہیں، وہ کھال کے اندر ہوتے ہیں ۔ گوشت کے اندر نہیں ہوتے ۔تھائی لینڈ میں قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق ریسرچ کی گئی تو مان لیا گیا کہ قرآن برحق ہے ۔ الحمد للہ ۔ ریسرچ کرنے والا ایمان لے آیا ۔ بہرحال قرآن حکیم بتارہاہے کہ جہنم کی آگ میں جو لوگ ڈالے جائیں گے ، ان کی کھال جب ایک مرتبہ جل جائے گی توایسا نہیں کہ معاملہ ختم ہوجائے گا بلکہ ان کی کھالیں بدل دی جائیں گے اور یہ بار بار ہوگا تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ۔
((اللھم اجرنامن النار))اے اللہ !ہم سب کو آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔اس مقام پرفرمایا:
{فِیْ سَمُوْمٍ وَّحَمِیْمٍ (42)} ’’وہ ہوں گے تیز لو اور کھولتے ہوئے پانی میں۔‘‘
جہنم کی گرمی ، جھلساتی ہوئی تیز لو اور کھولتا ہوا پانی ، یہ انجام ہو گا ان نافرمانوں کا جو دنیا میں الکتاب کا انکار کرنے والے تھے ، ہدایت سے منہ موڑنے والے تھے ۔ سورۃ الحج میں آتاہے کہ کھولتا ہوا پانی اوپر سے ڈالا جائے گا اور وہ آنتوں کو کاٹتاہوا نیچے تک جائے گا لیکن اس کے باوجود موت نہیں آئے گی ۔ سورۃالاعلیٰ میں ارشاد ہوتاہے :
{ ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی(13)} ’’پھر نہ اس میں وہ مرے گا نہ زندہ رہے گا۔‘‘
استغفراللہ!آگے فرمایا:
{وَّظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ O}(الواقعہ:43) ’’اور کالے دھوئیں کے سائے میں۔‘‘
{لَّا بَارِدٍ وَّلَا کَرِیْمٍ O}(الواقعہ:44)’’نہ وہ ٹھنڈا ہو گا اور نہ ہی سکون بخش۔‘‘
دنیا میں دھوپ لگتی ہے، تپش محسوس ہوتی ہے تو انسان سایہ تلاش کرتاہے ۔ جہنم میں سائے ہوں گے مگر سیاہ اور تکلیف دہ دھویں کے ہوں گے ، ا ن میں کوئی راحت نہیں ہوگی، کوئی ٹھنڈک کامعاملہ نہیں ہوگابلکہ عذاب ہی عذاب ہوگا،کوئی راحت کاامکان نہیںہوگا ۔ اس عذاب میں نہ ہی کوئی وقفہ ہوگا اور نہ کسی دن ان کو چھٹی ملے گی ۔ یہ ہیں جہنم کے وہ عذاب جن سے اللہ آج ہمیں ڈرا رہا ہے تاکہ ہم صراط مستقیم پر آجائیں ۔
فلسفیوں کے ہاں ایک فلسفیانہ جہالت ہے کہ بس خدا نے کچھ ڈرایاہے، جیسے ہم بھی اپنے بچوں کو ڈراتے ہیںورنہ کوئی عذاب نہیں دے گا ۔ اناللہ واناالیہ راجعون! ایک جہالت جاہل قسم کے صوفیاء میں ہے ۔ صوفیاء اچھے بھی گزرے ہیں جونیک تھے ۔ لیکن جاہل صوفیا ء کے ہاں بھی یہ تصور ہے کہ بس یہ ڈراوا ساہے ۔ ان سے پوچھا جائے کہ کیا اللہ نے یہ قرآن مذاق میں اُتارا ہے ؟اللہ تعالیٰ تو قرآن میں فرماتا ہے :
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًا(122)} ’’ اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا ہو سکتا ہے؟‘‘(النساء)
اسی لیے نبی اکرمﷺ رات کی تنہائیوں میں جب نماز میں کھڑے ہوتے تھے تو اکثر دعا میں یہ الفاظ ہوتے ہیں :
((وجنۃ حق والنار حق)اے اللہ جنت بھی حق ہے بالفعل موجود ہے اور جہنم بھی حق ہے بالفعل موجود ہے ۔
آپﷺ کے اذکار میں سات مرتبہ یہ دعا ملتی ہے :
((اللھم اجرنی من النار))اے اللہ !مجھے آگ سے بچا۔
سات مرتبہ صبح وشام کے اوقات میں آپ ﷺ یہ دعا کرتے تھے ۔حالانکہ آپﷺ معصوم ہیں ،خطائوں سے پاک ہیں ،بخشے بخشائے ہیں اور ہم ان کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں ۔ اگر وہ اتنا اہتمام کرتے ہیں جہنم کی آگ سے بچنے کا توہم گناہگاروں کوکتنااہتمام کرناچاہیے ؟
آج ہماری ٹینشنز کی لسٹ میں جہنم سے بچ جانے والی ٹینشن کتنی ہے ؟ پہلے بھی ذکر آچکا ہے کہ امت کی ماں اماں عائشہ ؓ ایک مرتبہ روئیں، اللہ کے رسولﷺ فرماتے ہیں :کیوں روتی ہو؟وہ عرض کرتی ہیں یارسول اللہﷺ ! جہنم کی آگ کے خوف نے مجھے رلادیا۔ آ ج ہماری عورتیں اور مرد بھی روتے ہیں لیکن کس بات پر؟ گھرچھوٹا ہے، گاڑی پرانی ہے ، فلاں کے بچے مہنگے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں، ہمارے معمولی سکولوں میں پڑھ رہے ہیںیہ آج ہمارے رونے ہیں جبکہ محمدرسول اللہ ﷺ کے گھرانے کااصل مسئلہ کیا تھا جس کی سب سے زیادہ ٹینشن تھی ؟ صرف آخرت ۔ کیا آج ہمارے رونگھٹے بھی کھڑے ہوتے ہیں رز محشر کے خیال سے ؟لہٰذا اللہ ہمیں آج اسی لیے ڈرا رہا ہے کہ ہم کل کے دائمی اور دردناک عذاب سے خود کو بچا لیں ، اپنی اصلاح کر لیں ۔آخرت کے حساب کا خوف ہوگا تو بداعمال سے بچیں گے ، جہنم کی طرف لے جانے والی حرکتیں چھوڑیں گے۔
یہ ملک ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا لیکن آج یہاں ظلم و استحصال ہے ، قبضہ گیری ہے ، رشوت ہے ، کرپشن ہے ، مال حرام کا معاملہ ہے ، لوگوں کی جائیدادیں ہڑپ کرنے کامعاملہ ہے ، وراثت میں بہن بیٹیوں کوحصہ نہ دینے کا معاملہ ہے ، یتیم بچیوں اور بچوں کا مال ہڑپ کرجانے کامعاملہ ہے ، لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکرناجائز منافع کمانے کا معاملہ ہے ، اقتدار میں آکرپوری قوم کو لوٹنے کا معاملہ ہے ، فرانس کی رپورٹ کے مطابق کرپشن میں ہمارا 124واں نمبر ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کااشارہ ہے کہ ہمیںیوم الدین پر یقین نہیں ہے ۔ تبھی تویہ حرکتیں ہیں ۔نمازوں میں دہراکرجائیں اور وقت کا وزیراعظم بھی پڑھے :
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ3}(الفاتحہ)’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔‘‘
اس سے پہلے ہم پڑھتے ہیں
{مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ3}(الفاتحہ)’’جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔‘‘
اور باہر جاکے ہماری حرکتیں وہ ہوتی ہیں جواللہ کی شریعت کے خلاف ہوں توان رویوں پرہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ بہرحال اگر محاسبہ سامنے نہیں ، اگر کل کی جوابدہی کااحساس نہیں تواعمال میں سارے بگاڑ نظرآتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ آگے فرمایا:
{اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ (45)}(الواقعہ)
’’یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) بڑے خوشحال تھے۔‘‘
مترفین وہ لوگ ہیں جن کو دنیا خوب ملی ہے ،دنیا کے وسائل ملے ہیں اور دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔وہ نفس کے غلام بنے ہوئے ہیں اور جو جی میں آتا ہے کرتے چلے جاتے ہیںچاہے اس میں اللہ کے احکامات کی کتنی ہی خلاف ورزی ہو،چاہے اللہ تعالیٰ کے کتنے ہی حقوق پامال ہوں،چاہے بندوں کے کتنے حقوق پامال ہوں،چاہے بندوں کے ساتھ کس قدر زیادتیاں ہوںلیکن مترفین ذاتی خواہشات کی پیروی میں رب کے احکامات کا مذاق اُڑارہے ہیں ۔ جبکہ جنت کا راستہ قرآن یہ بتاتا ہے :
’’اور جوکوئی ڈرتا رہا اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے (کے خیال) سے ‘اور اُس نے روکے رکھا اپنے نفس کو خواہشات سے۔تو یقیناًاُس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے۔‘‘ (النازعات:40،41)
لیکن مترفین معاشرے کی وہ اشرافیہ ہوتی ہے جو دولت کے نشے میں یہ بھول جاتی ہے کہ اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے ، جو آج ظلم اور ناانصافیاں کر رہے ہیں ان کا جواب بھی دینا ہے ۔ جبکہ اللہ کی کتاب بتاتی ہے :
{اِنَّمَآ اَمْوَالُــکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌط} (التغابن:15) ’’تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے امتحان ہیں۔‘‘
حدیث مبارک میں آیا،نبی مکرمﷺ نے فرمایاہے: قیامت کے دن بندے کے قدم اس کی جگہ سے ہٹ نہیں سکیں گے جب تک پانچ سوالوں کے جواب نہیں دے گا، جوانی کہاں صرف کی ، زندگی کن کاموں میں گزاری ، کہاں سے کمایا، کہاں خرچ کیا ، جتنا علم عطا کیا گیا اس کے مطابق کتنا عمل کیا ۔ یہ ہم سب کی زندگی کے اہم ترین سوالات ہیں ۔ مگر آج دجالی تہذیب ہے جس کی اٹھان وحی کے انکارپرہے اسی کے اثرات ہمارے معاشرے میں بھی نظر آجائیں گے۔جوڈریس کوڈ ایک کافرعورت کا ہے آج مسلمان معاشرے میں بھی وہ ڈریس کوڈ نظرآجائے گا۔ الاماشاء اللہ!
وضع میں تم ہو نصاریٰ توتمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
ہماری شادی بیاہ اور غیروں کی شادی بیاہ میں کوئی فرق نظرآتاہے ؟الاماشاء اللہ!سوائے اس کے کہ وہاں چکر لگاکرپنڈت کچھ پڑھ دیتاہے اور ہمارے قرآن کی آیات کی تلاوت کروا دیتے ہیں ۔دنیا گلوبل ہوگئی ہے ۔ آج ہمارے رویے، ہمارا لائف سٹائل بھی غیروں جیسا ہوگیاہے ۔ بس دنیا مطلوب ومقصود ہے۔ قرآن جنہیں مترفین کہتا ہے وہی لوگ ہیں جو آخرت کو بھول چکے ہیں اور دنیا کے اللے تللوں میں، عیاشیوں میں گم ہیں ، غفلت میں مبتلا ہیں۔ حضرت سیدناعلی h فرماتے ہیں : ’’لوگو!آج تم سورہے ہوجب موت آئے گی تب تم جاگو گے ۔ ‘‘
آج اسلام کا صرف دعویٰ ہے،الاماشاء اللہ اور حرکتیں یہ ہیں تو روز محشر محمد رسول اللہ ﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں احساس عطا فرمائے ۔ آج اللہ ایسا فرمارہاہے توہمارا فرض ہے کہ اس کے تابع رہ کرزندگی بسرکریں تاکہ کل کالحاظ رکھ کرہم اپنے اعمال کی اصلاح کی کوشش کریں ۔ایک بندہ مومن دنیا کو عارضی سمجھے اور آخرت کو دائمی سمجھے، حلال میںکمائے جائز میں خرچ کرے کوئی مسئلہ نہیں ۔ کوئی بچاکررکھے گا توزیادہ سے زیادہ زکوٰۃ واجب ہوگی ۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر حلال حرام کی تمیز ختم ہوجائے ،اگر یہ سوچ بن جائے کہ جس طرح چاہو مال کو حاصل کرو،جس طرح چاہو اڑادو،غیروں کے طریقے پراڑاد دو،نمود ونمائش پراڑا دو، بس اسی میں لگے رہو ، مزید سے مزید کی تلاش میں اللہ کا حق فراموش کردیاجائے ،بندوں کی حق تلفی کردی جائے تو یہ طرزعمل مترفین والا ہے جو کہ بندے کو ناکامی کی طرف لے جاسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:
((لکل امۃ فتنہ وفتنۃ امتی المال))(مسلم)
مراد یہ ہے کہ ہر امت کی آزمائش کی جاتی ہے ۔ ہرامت کا کوئی فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ ایک اور روایت میں رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: قریب ہے کہ (گمراہ)قومیں تمہارے خلاف اس طرح یلغار کریں گی جس طرح کھانے والے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔کسی نے عرض کیا:اس روز ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایسا ہوگا؟آپؐ فرمایا:’’ نہیں ، بلکہ اس روز تم زیادہ ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ہو گے، اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دل میں وہن ڈال دے گا۔‘‘
کسی نے عرض کیا، اللہ کے رسولؐ وہن کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔ ‘‘
خلیجی جنگ1991ء میںہوئی مسلمانوں کے خلاف تیس ملک اکھٹے ہو گئے ، نائن الیون کے بعد افغانستان پر نیٹو کے پچاس ممالک نے چڑھائی کر دی ۔
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سارا عالم کفر ‘ الکفر ملۃ واحدہ کی طرح متحد و منظم کھڑا ہے ۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں اقوام تم پراس طرح حملہ آور ہوں گی جیسے دسترخوان پردعوت دی جاتی ہے اور یہ کب ہوگا جب تم میں دنیا کی محبت پیدا ہوجائے گی اور تمہارے اندر بہت سی خرابیاں پیدا ہوجائیں گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آج ہم سب اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم لوگ مرنے کو تیار ہیں؟کیا آخرت کے لیے ہماری کوئی تیاری ہے ؟اگر نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حدیث رسول ﷺ آج ہم پر صادق آرہی ہے اور ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !
***
tanzeemdigitallibrary.com © 2026