(اداریہ) پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل (قسط:16) - ایوب بیگ مرزا

9 /

اداریہ
ایوب بیگ مرزاپاکستان کےداخلی اور خارجی مسائل(قسط:16)

پاکستانی معیشت کے خدوخال (انسدادِ سود کی جدوجہد-4)

 

یہ تحریرمرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کے ناظم اعلیٰ حافظ عاطف وحید صاحب، جو مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کے شعبہ تحقیق کے انچارج اور تنظیم اسلامی کے سینئر رفیق بھی ہیں، کے ایک حالیہ انٹرویو سے ماخوذ ہے۔ حافظ عاطف وحید 2014ء سے مختلف عدالتوں میں سود کے خلاف کیس میں تنظیم اسلامی کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُنھیں اِس منکر اعظم کے خلاف جدوجہد پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین! مرکزی شعبہ نشرواشاعت نےحافظ عاطف وحید صاحب کا یہ انٹرویو 2 فروری 2022ء کو ریکارڈ کیا تاکہ قارئین کے سامنے ربا کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے تنظیم اسلامی کا کردار بھی واضح ہو کر سامنے آ جائے اور قارئین جان لیں کہ سود نے پاکستان کی معیشت کو کس طرح تباہ و برباد کیا، حقیقت یہ ہے کہ ربا پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل کی جڑ اور بنیاد ہے۔
(گزشتہ سے پیوستہ)جب 2013ء میں ربا کے خلاف تنظیم اسلامی کی اپیل فیڈرل شریعت کورٹ میں admit ہوئی تو اس میںجماعت اسلامی کے لوگ بھی آگئے ۔اس لیے کہ اس وقت عدالت کی جانب سے اوپن دعوت دی گئی کہ جوشخص بھی اس کیس میں کورٹ کو assistکرنا چاہے وہ اپنے آپ کو ایک پیٹیشنر کے طور پر شامل کروا سکتاہے۔ اسلام آباد کے کچھ لوگ بھی اس میں شامل ہوئے۔ عدالت کی جانب سے جو 14سوالات دیے گئے تھے ، ان کے جوابات تنظیم اسلامی نے جمع کروا دیے ۔اس کے بعداکادکاسماعتیں ہوئیںجن کے نتیجے میں کورٹ یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ آیا ہم نے ’’ربا کی تعریف‘‘ سے سٹارٹ کرنا ہے اورپھر آگے بڑھنا ہے یاپھر پچھلے فیصلےمیںہونے والی ریمانڈ ججمنٹ کے contentions کوایڈریس کرنا ہے ۔ا س میں سب سے اہم Contention یہ تھی کہ کیایہ کورٹ اس کیس کو سننے کی اہل بھی ہے یانہیں ہے ۔ اس پرابتدا میں قیصر امام صاحب نے بڑے اچھے دلائل دیے لیکن درمیان میں پھر کچھ اور طرف کیس چلنا شروع ہوگیا۔ پھر 2014ء سے لے کر 2018ء تک سماعت میں طویل دورانیہ کے وقفے آنا شروع ہو گئے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کبھی کوئی چیف جسٹس ریٹائر ہو جاتا اور پھر نیا بنچ بننے میں وقت لگ جاتا ، پھر جب سماعت شروع ہوتی تو پتا چلتا کہ بنچ کے کسی اور ممبر کی ریٹائرمنٹ قریب آگئی ہے ۔اب تک کم از کم تین مرتبہ یہ بینچ ٹوٹ کے بناہے ۔آخری بینچ مئی 2020ء میں بناہے جس میں ڈاکٹر انور شاہ شامل ہوئے، جس کے مسکن زئی صاحب چیف ہیں۔ اس تین رکنی بنچ کے ذریعے گویا جو کم ازکم requirmentsہوتی ہیں وہ پوری کی گئیں ہیں ۔ آئین کی اصل سپرٹ کے مطابق یہ بنچ ابھی پورا نہیں ہے ۔ اس آخری بنچ میں گزشتہ ساری بحثیں اوپن ہیں ۔ jurisdictionکے مسئلے کو انہوں نے سب سے پہلے لیاہے۔ اس لیے کہ اس پرریمانڈ ججمنٹ میں بھی comments موجود تھے اور ہوسکتاہے کہ انہیں بھی آسانی کامعاملہ نظر آرہا ہوکہ اگر ہماری jurisdiction میں نہ آتا ہو تو ہم آسانی سے یہ معاملہ ہائرکورٹ کی طرف بھیج سکتے ہیں۔ تنظیم اسلامی کی طرف سے قیصر امام صاحب نے jurisdiction کے حوالے سے بہت اچھی بحثیں کیں۔2019ء میں انور منصوراٹارنی جنرل تھے انہوں نے واضح انداز میں تمام دلائل کے ساتھ یہ موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کی jurisdiction میں آتاہے ۔ لہٰذا ہم آپ کی jurisdiction کوچیلنج نہیں کرتے۔اس وقت سارے صوبوں کے اٹارنیز آئے ہوئے تھے، انہوں نے بھی یہی موقف اختیار کیا۔ صرف سٹیٹ بینک کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم اس jurisdiction کو تسلیم نہیں کرتے۔انہیں کہاگیا کہ آپ تحریری دلائل بھی دیں ۔انہوںنے بہت سار ا وقت لے کر اپنے تحریری دلائل بھی دے  دیے ۔ جب ان کے دلائل مکمل ہوئے اور ہم نے ان کاکائونٹر کرنے کی کوشش کی تونئے اٹارنی جنرل خالد جاوید کی طرف سے موقف سامنے آگیاکہ ہم اس jurisdiction کوتسلیم نہیں کرتے۔ ہم نے اعتراض اُٹھایا کہ حکومت کے پہلے اٹارنی جنرل تو jurisdiction تسلیم کر چکے ہیں اب حکومت اپنے موقف سے کیوں پھر رہی ہے۔ چنانچہ کورٹ نے اس مصلحت کے تحت نئے اٹارنی جنرل کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دے دی کہ بعدمیں کوئی اعتراض نہ اٹھے ۔لیکن نئے اٹارنی جنرل نے نئے دلائل نہیں دیے بلکہ وہ بار بار سلمان اکرم راجہ کو ہی آگے کر رہے ہیں کہ ہمارا موقف وہی ہے جو سلمان اکرم راجہ کا ہے ۔
ان کاموقف یہ ہے کہ چونکہ آئین میں اس کا تذکرہ پرنسپلز آف پالیسی میںآیا ہوا ہے اور پرنسپلز آف پالیسی کوئی justiciableپرنسپل نہیںہوتے بلکہ یہ گائیڈنگ پرنسپلز ہوتے ہیں۔لہٰذا اس کی بنیاد پر کورٹ کسی کوinstructionsنہیں دے سکتی کہ آپ یہ کریںبلکہ یہ حکومت کاکام ہے کہ وہ ربا کو اپنے طریقے سے ختم کرے اور اس کی جگہ نئی legislationکرے ۔
ان کا دوسرا موقف یہ ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ربا حلال ہے بلکہ بالفرض ہم مان بھی لیں کہ رباحرام ہے البتہ جہاں تک بینک انٹرسٹ کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ماضی کے عدالتی فیصلوں میں عدالت نے خود ہی اسلامک فنانس کو ’متعارف‘ کروایا ہے ۔ اس بنیاد پر ہم نے اسلامک فنانس کو پروموٹ کرنے کے لیے بڑی محنت اور کوشش کی ہے ۔ اس کے لیے ڈیپارٹمنٹس بن رہے ہیں ،اسلامک فنانس کے لیے breathing spaceکوہم بڑھارہے ہیں جس کی وجہ سے ہربنک اپنی اسلامک windowsاوپن کررہاہے اور بہت سے اسلامک بنکس کو اپنے activitiesکے لیے لائسنس بھی دیے ہیں اورہم پورے عالم اسلام میں اس مسئلے میں stand out کرتے ہیں، کسی جگہ اتناکا م نہیںہوا جتنا ہم نے کیا۔یہ سب آ پ کے ہی کہنے پر ہوا ورنہ اسلامک فنانس کی ضرورت کیاتھی۔لہٰذا یہ بات کہنا بند کر دیں کہ بنک انٹرسٹ رباہے۔
جہاں تک jurisdictionکامعاملہ ہے تواس پر جو دلائل سلمان اکرم راجہ نےدیے تھے انہی دلائل کی بنیاد پر اٹارنی جنرل کی طرف سے submissionمیں ایک تحریر آگئی تھی لیکن اس پراٹارنی جنرل کے سائن نہیںتھے ، کسی ڈپٹی کے سائن تھے ۔ تنظیم اسلامی نے اپنی طرف سے اس کابھی جواب submitکردیااورکہا کہ ان پوائنٹس کی بنیاد پر ان کے آرگومنٹ میںیہ کمزوریاں ہیں اور ان کے آرگومنٹس
Validنہیں ہیں۔ اسی دوران 2020ء میںاسی بینچ نے سات سوالات پرمبنی ایک نیاسوالنامہ بینکوں اور وزارت قانون اور دیگر سرکاری اداروں کو بھیجا ہے۔اس سوالنامہ میں پوچھا گیا ہے کہ حکومت نے اب تک اسلامی بینکاری میں کتنی پیش رفت کی ہے۔ دوسرایہ کہ اس کا ٹائم فریم کیاہونی چاہیے کہ مکمل ٹرانفسارمیشن کی سٹیج کا ہم اندازہ کرسکیں اور پھر پتا چلے کہ اتنے سالوں سے اسلامک بینکنگ پر جو کام ہورہا ہے اس کا نتیجہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ سرکاری اداروں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوسرے اسلامی ممالک کی رپورٹ بھی عدالت کو دیں کہ انہوں نے اسلامک بینکاری کی طرف کتنی پیش رفت کی ہے ۔ اس سوالنامہ کا جوا ب باربار سماعت کے سیشنز کے باوجود ابھی تک جمع نہیں کرایا گیا ۔ کبھی اٹارنی جنرل کی طرف سے جواب آجاتا ہے کہ ہم اس پر ابھی کام کررہے ہیں اور کبھی بینکوں کی طرف سے بات آتی ہے کہ ہم ابھی رپورٹ بنا رہے ہیں۔ اس طرح اس معاملے کو التویٰ میں ڈالا جارہا ہے ۔
جہاں تک jurisdictionکا مسئلہ ہے تو گمان یہی ہے کہ عدالت نے اس معاملہ پر اپنی تسلی کر لی ہے لیکن اس پر فیصلہ نہیں دے رہی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اگر انہوں نے ابھی فیصلہ دے دیا تو کئی دوسرے مسائل اٹھ کھڑے ہوں گے ، فیصلے کے خلاف اپیل ہو جائے گی اورپھر معاملہ کسی اور طرف چلا جائے گا ۔چنانچہ انہوں نے اس کے دلائل سارے اکٹھے کرلیے ہیں لیکن اپنافیصلہ محفوظ کرلیا۔ گویااس وقت جو وفاقی اداروںاوربنکوں کو یہ کہا جارہا ہے کہ وہ سات سوالوںکے جواب لائیں اور ان کی طرف سے جو دیر ہو رہی ہے اس پر کورٹ بڑی Rapid Successionمیں سماعت کی تاریخیںدے رہی ہے تاکہ ان پرپریشر بھی رہے اور حجت قائم ہوجائے کہ ہم نے آپ کو اپنے دلائل دینے کاکتنا موقع دیاہے ۔ اس سے وکلاء کویہ محسوس ہورہاہے کہ کورٹ صحیح ڈائریکشن میںجا رہی ہے اور سیریس ہے ۔ (جاری ہے)
***