الہدیٰ
نظامِ کائنات اور رات ودن کا بدلنا
سورۃ الفرقان کے آخری رکوع کی جن آیات کا مطالعہ اب ہم کرنے چلے ہیں( منتخب نصاب کے تیسرے حصّے کا دوسرا درس ان آیات کے حوالے سے ہے )ان میں بندئہ مؤمن کی تعمیر شدہ (mature)شخصیت و سیرت کے خصائص اور خدوخال کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ لیکن اس موضوع کو شروع کرنے سے پہلے رکوع کی ابتدائی دو آیات میں ایمان کے بارے میں قرآن حکیم کے فطری استدلال کا خلاصہ بیان ہوا ہے:
آیت 61{تَبٰرَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآئِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْہَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِیْرًاo} ’’بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں بُرج بنائے اور اس میں رکھ دیا ایک چراغ اور ایک روشن چاند۔‘‘
یہاں سورج کے لیے ’’سراج ‘‘یعنی چراغ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور چاند کو روشن بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک یہ حقیقت انسان کے علم میں آ چکی ہے کہ سورج کے اندر جلنے یا تحریق (combustion)کا عمل جاری ہے ‘جس کی وجہ سے وہ روشنی کے ساتھ ساتھ حرارت کا منبع بھی ہے‘ جبکہ چاند محض سورج کی روشنی کے انعطاف(reflection)کی وجہ سے روشن نظر آتا ہے اور اس میں کسی قسم کا عملِ تحریق نہیں پایا جاتا۔ اس کی سطح ہماری زمین کی سطح سے ملتی جلتی ہے۔ اب تو انسان خود چاند کی سطح کا عملی طور پر مشاہدہ بھی کر چکا ہے۔
آیت 62{وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًاo} ’’اور وہی ہے جس نے دن اور رات کو بنا دیا ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا‘ اُس کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکر گزار بننا چاہے۔‘‘
دن ‘ رات اور ان کا اُلٹ پھیر آیاتِ الٰہیہ میں سے ہیں اور آیاتِ الٰہیہ پر غور کرنے سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذات‘ اس کے علم اور اس کی قدرت و حکمت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ پھر جب انسان اللہ کی نعمتوں پر اُس کا شکر ادا کرتا ہے تو اسے کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ کی توحید ‘ ا س کی صنّاعی اور اس کی قدرت پر دلالت کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
فرمان نبوی
آگ کا عذاب
عَنْ سَمُرَۃَ ؓ قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ((مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى کَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ)) (رواہ المسلم)
حضرت سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’(قیامت کے دن)اہل دوزخ میں سے بعض کو ٹخنوں تک آگ جلائے گی اور بعض کو گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک اور بعض کو ہنسلی کی ہڈی تک۔‘‘
تشریح:اس حدیث میں قیامت کے دن سے اور دوزخ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے کیونکہ نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے ٹخنوں، گھٹنوں اور کمر تک آگ پہنچ رہی ہو گی اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کی گردن تک آگ پہنچ رہی ہو گی۔ چنانچہ عذاب کے لحاظ سے لوگ ایک دوسرے سے متفاوت ہوں گے اور ان کے مابین یہ تفاوت دنیا میں ان کے اعمال کے لحاظ سے ہو گا۔ ہم اللہ سے عافیت کے طلب گار ہیں۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026